وزیر اعظم کا نیا اُمید افزا اعلان اور مولانا فضل الرحمن کی یلغار

لیجئے، وزیر اعظم جناب عمران خان کا ایک وعدہ تقریباً ایفا ہُوا چاہتا ہے ۔ اقتدار کے سنگھاسن پر بیٹھنے سے قبل پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان پورے پاکستان میں اعلان کرتے رہے ہیں کہ اقتدار میں آنے کے بعد وہ نوجوانوں کو ایک کروڑ ملازمتیں اور بغیر گھر شہریوں کو 50لاکھ مکان بنا کر دیں گے ۔ اقتدار میں آتے ہی اُنہوں نے یہی اعلان پھر پوری توانائی اور اچھی نیت سے دہرایا ۔ دو سال گزر گئے ہیں لیکن یہ دونوں اعلانات شرمندئہ تعبیرنہیں ہو سکے تھے ۔ مقتدر پارٹی اور عمران خان کے سیاسی و سماجی حریف میڈیا میں خانصاحب کے بارے میں اسی بنیاد پر طنزو تعریض کے تیر چلاتے تھے کہ کہاں گئے آپکے یہ دونوں وعدے ؟ لوگوں کو لولی پاپ دیتے ہُوئے حکومت نے پچھلے دو برسوں میں کئی بار اس حوالے سے کسی زمین کے اعلان بھی کئے لیکن عمل کے محاز پر کچھ بھی سامنے نہ آسکا تھا ۔ اس حوالے سے لندن سے خانصاحب کے ایک انیل مسرت نامی دوست بھی پاکستان تشریف لائے اور کہا گیا کہ یہ صاحب وزیر اعظم کے پچاس لاکھ گھروں کے منصوبے کو عملی جامہ پہنائیں گے ۔ یہ غلغلہ بھی چند دن تک سنائی دیا گیا ۔ موصوف کی فوٹوز بھی میڈیا اور اخبارات میں شائع اور نشر ہوتی رہیں لیکن اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی ۔ مسرت صاحب سے پاکستانیوں کو کوئی مسرت نہ مل سکی ۔ بعض اطراف سے اس پُر اسرار شخص بارے کچھ اشتباہات کا اظہار بھی کیا گیا۔اُس کی ذات کے ڈانڈے بھارت سے بھی ملانے کی کوشش ہُوئی تھی ۔لیکن اب اس دم توڑتی اُمید میں پھر سے روشنی کی ایک کرن جاگی ہے ۔ گذشتہ روز ( 11جولائی 2020ئ) کو وزیر اعظم عمران خان صاحب نے جو اعلان فرمایا ہے، اس سے یہ اُمید پیدا ہُوئی ہے کہ وزیر اعظم اپنے کئے گئے وعدوں کو بھولے نہیں ہیں ۔ اس تازہ ترین اعلان کے مطابق : ملک میں پہلے مرحلے پر ایک لاکھ مکان تعمیر کئے جائیں گے ۔ اس ہاؤسنگ سیکٹر کیلئے وزیر اعظم نے کچھ مراعات کا اعلان بھی کیا ہے ۔ مثال کے طور پر :30ارب روپے کی سبسڈی کا اعلان کیا گیا ہے ۔ اس کے تحت پہلے ایک لاکھ گھروں کی تعمیر کیلئے تین لاکھ کی سبسڈی دی جائے گی ، پانچ مرلہ مکان کی خریداری پر بینک سے حاصل کئے گئے قرضے پر پانچ فیصد اور دس مرلہ مکان کی خریداری پر دس فیصد مارک اپ یعنی شرح سود لیا جائے گا۔ مطلب یہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں سود سے نجات ابھی ممکن نہیں ہے ۔بہرحال ، اس اعلان کا اہم ترین حصہ یہ ہے کہ” نیا پاکستان ہاؤسنگ پراجیکٹ” کے تحت بننے والے ان مکانات کو خریدنے والوں سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ اُنہوں نے پیسے کہاں سے اور کیونکر حاصل کئے ہیں ۔ یہ بھی دراصل وزیر اعظم کی طرف سے ایک اور یو ٹرن ہی ہے ۔ ان سہولتوں اور حکومت کی طرف سے اعلان کردہ ”مراعات” سے 31دسمبر2020ء تک مستفید ہُوا جا سکے گا۔ کہنے کو یہ اعلان واقعی معنوں میں بہت پُر کشش ہے لیکن اس کے ساتھ ہی کئی سوالات بھی جڑے ہُوئے ہیں ۔ مثال کے طور پر(١) ابھی تک پانچ اور دس مرلہ مکانوں کی اصل قیمت کا تعین نہیں کیا گیا ہے (٢) یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ شرح سود کتنے برسوں میں ادا کرنا ہوگا (٣) اور جو لوگ پہلے بھی حکومتی اعلان سے متاثر ہو کر مکانوں کے حصول کیلئے سو سو روپے کے فارم حاصل کرکے اور انہیں پُر کرنے کی بھاری فیس ادا کرچکے ہیں ، اُن کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا (٤) یہ امر بھی واضح نہیں کیا گیا کہ پاکستان میں وہ سرمایہ دار جو پہلے ہی کئی کئی مکانوں کے مالک ہیں ، اُنہیں اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کی قطعی اجازت نہیں ہو گی (٥) پاکستان بھر کی اخبار نویس برادری جسے اس حکومت نے کچل کررکھ دیا ہے ، اُس کیلئے نئے سرکاری مکانوں کی خریداری میں کوئی سہولت نہیں دی گئی ہے ۔ اس ضمن میں یہ عرض کیا جانا از بس ضروری ہے کہ پاکستان بھر میں تعمیر ہونے والی جرنلسٹ کالونیوں میں جو صحافی پہلے ہی پلاٹ حاصل کر چکے ہیں ، اُنکا راستہ بھی کیسے روکا جائیگا۔ واقعہ یہ ہے کہ وزیر اعظم نے ”نیا پاکستان ہاؤسنگ پراجیکٹ” کا اعلان کرکے ایک مستحسن اور مناسب قدم اٹھایاہے ۔ ہماری گزارش یہ ہے کہ اس اچھے پروگرام کو کرپشن اور سیاہ کاری سے آلودہ نہیں ہونا چاہئے ۔ اس غرض کیلئے وزیر اعظم کو خود اپنی نگرانی میں ایک ٹاسک فورس بنانی چاہئے جو اس پراجیکٹ کی شفافیت پر گہری نظر رکھے ۔ اس طرف نگاہ رکھنا اسلئے بھی از حد ضروری ہے کہ پہلے ہی وزیر اعظم کے دائیں بائیں موجود کچھ شخصیات مبینہ کرپشن کی مرتکب ہُوئی ہیں ۔ انہوں نے وزیر اعظم کے اپنے شفاف کردار کو داغدار کرنے کی مذموم کوشش کی ہے اور حیرت ہے کہ ابھی تک ان میں سے کسی ایک کو بھی قرار واقعی سزا نہیں دی جا سکی ہے ۔ مثال کے طور پر شوگر اور آٹا سکینڈل میں ملوث کئی طاقتور شخصیات ۔ اور وہ پی ٹی آئی کا سابقہ وزیر بھی سزا سے صاف بچ گیا ہے جس پر جان بچانے والی ادویات راتوں رات مہنگی کرنے اور بھاری کرپشن کے مرتکب ہونے کا الزام لگا تھا ۔ وزیر اعظم نے بس اُسے یہ ”سزا” دی کہ کابینہ سے نکال دیا لیکن وہ آدمی وزارت چھننے کے باوجود ابھی تک وزیر اعظم کے آس پاس دندنا رہا ہے ۔ وزیر اعظم کا قرب رکھنے والا ملزم جہانگیر ترین بھی ملک سے فرار ہو کر لندن کی ٹھنڈی ہواؤں سے لطف اندوز ہورہا ہے ۔ اور یوں اُس میںاور مجرم نواز شریف میں حقیقی معنوں میں کوئی فرق نہیں رہا ۔اس سارے پس منظر میں لازم ہو جاتا ہے کہ ملک بھر میں غریبوں کیلئے مجوزہ طور پر بنائے جانے والے مکانات کے اس اعلان شدہ پراجیکٹ کو کرپشن اور بد عنوانی سے محفوظ اور پاک رکھا جائے ۔ اگرچہ یہ کام مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں ہے ۔ وزیر اعظم صاحب اگر چاہیں تو اسے کرپشن کے داغ سے بچانے میں کماحقہ کامیاب ہو سکتے ہیں ۔ ہماری طرف سے بہرحال جناب وزیر اعظم کو اس عظیم اور مستحسن پراجیکٹ کے حوالے سے پیشگی مبارکباد اور بہت سی دعائیں بھی ۔ اگر یہ منصوبہ وعدوں اور کاغذوں کے حصار سے نکل کر واقعیت شکل اختیار کرتا ہے تو اس سے وزیر اعظم کی شوبھا اور عزت میں اضافہ ہوگا۔ حکومت کا اعتبار بھی بڑھے گا اور اعتماد بھی ۔ پی ٹی آئی کی حکومت کے اعتبار اور اعتماد کو دھچکا اور زک پہنچانے کیلئے حریف قوتیں بھی پوری طاقت سے بروئے کار ہیں ۔ اس کے کئی مظاہر ہم گذشتہ ہفتے قومی اسمبلی کے اجلاس میں ملاحظہ کر چکے ہیں ۔ حزبِ اختلاف اور حزبِ اقتدار ایک دوسرے پر جس طرح جھپٹے ہیں اور ایک دوسرے کے خلاف جو زبان استعمال کی گئی ہے ، ہم نے یہ سب دیکھا اور عوام نے اپنے کانوں کو ہاتھ لگایا ہے ۔ اپوزیشن کا تو کام ہی یہ ہے کہ حکومت کی نااہلیاں اور نالائقیاں عوام کے سامنے لائیں لیکن حکومتی بینچ تو صبر سے کام لیتے ہیں لیکن یہاں تو معاملات بالکل اُلٹ دکھائی دئیے ہیں ۔ حکومتی بنچوں کی طرف سے سندھ حکومت کے خلاف جو زبان استعمال کی گئی ، اسے پسندیدہ نہیں کہا جا سکتا ۔ اس کا جوابی وار پھر یوں آیا ہے کہ سندھ حکومت کے ایک وزیر نے پلٹ کر یہ الزام لگایا ہے کہ ”پی ٹی آئی بھارتی اور اسرائیلی فنڈز سے بنائی گئی ۔” مرکزی حکومت اور مرکزی وزرا نے سندھ حکومت اور وزیر اعلیٰ سندھ کو دیوار سے لگانے کی جو غیر مستحسن مہمات شروع کررکھی ہیں ، اس کا نتیجہ لامحالہ یہی نکلنا تھا۔ پی ٹی آئی کی مرکزی حکومت کے سندھ حکومت پر الزامات کی بوچھاڑ کا یہ نتیجہ بھی نکلا ہے کہ بلاول بھٹو، آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمن کی قربتیں بڑھ گئی ہیں ۔ مولانا فضل الرحمن ایک طرف بلوچستان میں مرکزی حکومت کی اتحادی صوبائی حکومت کو گرانے کی کوشش کررہے ہیں اور دوسری طرف وہ عمران خان کی مرکزی حکومت پر یلغار کررہے ہیں ۔ کوئی دن ایسا نہیں جاتا جب مولانا فضل الرحمن اپنے نئے اتحادی پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت کے ساتھ مل کر عمران خان پر یلغار نہیں کرتے ۔ یقیناً ان حملوں سے خانصاحب کی حکومت کو نقصان پہنچ رہا ہے ۔ سندھ حکومت ردِ عمل کا شکار ہو کر وفاقی حکومت سے مطلوبہ تعاون کرنے سے دانستہ گریزاں ہے ۔ یوں فریقین میں دُوریاں اور مزاحمتیں پیدا ہو رہی ہیں ۔ اس کا نقصان پاکستان کو پہنچ رہا ہے ۔ مثال کے طور پر: مبینہ طور پر مرکزی حکومت اٹھارویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ میں کچھ تبدیلیوں کی خواہاں ہے ۔ سندھ حکومت اور اپوزیشن اس بارے سخت رویہ اپنائے ہُوئے ہے۔ اپوزیشن کے اس روئیے کو نرم اور ملائم کرنے کیلئے خانصاحب کی حکومت بھی حکمت اور دانائی سے کام نہیں لے رہی ۔ نتیجہ اس کا یہ نکل رہا ہے کہ دو دن پہلے کراچی میں مولانا فضل الرحمن اور سندھ حکومت کی قیادت میں مشورہ اور ملاقاتیں ہُوئی ہیں جن میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مولانا موصوف اور سندھ حکومت اٹھارویں ترمیم میں کسی بھی تبدیلی بارے سخت مزاحمت کریں گے ۔ اگر یہ مزاحمت عملی شکل اختیار کرتی ہے تو اس سے اسٹیبلشمنٹ کے بھی کچھ اغراض و مقاصد کو دھچکا لگنے کے خدشات موجود ہیں ۔ اٹھارویں ترمیم میں مجوزہ تبدیلیوں بارے کے پی کے میں کئی نامور سیاسی شخصیات بھی علی الاعلان مخالفت کرتی نظر آرہی ہیں ۔ ہم سمجھتے ہیںکہ کشاکش کے اس ماحول کو حکومت اور اپوزیشن حکمت اور باہمی مشورے سے ، ملک کے حق میں ، ہموار کر سکتے ہیں ۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ حکومتی شخصیات کی طرف سے یہ تاثر عام ہو چکا ہے کہ اُنہوں نے اپوزیشن سے ذاتی دشمنیاں مول لی ہیں ۔ یہ تاثر بہت خطرناک ہے ۔ اسے بہر حال دُور کیا جانا چاہئے ۔خاص طور پر اس ماحول میں جبکہ قاف لیگ کے مرکزی صدر اور سابق وزیر اعظم پاکستان چودھری شجاعت حسین نے بھی کچھ انکشافات کئے ہیں ۔ یہ انکشافات اس حوالے سے خاص اہمیت کے حامل ہیں جب چند ماہ قبل اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمن صاحب کی قیادت میں کئی مذہبی جماعتوں نے عمران خان کی حکومت کے خلاف دھرنا دے دیا تھا۔ مبینہ طور پر اس دھرنے کو چودھری شجاعت حسین اور پنجاب اسمبلی کے اسپیکر چودھری پرویز الٰہی نے کچھ ضمانتوں کے تحت مولانا فضل الرحمن کو دھرنا اٹھانے پر مائل اور قائل کیا تھا ۔ چودھری شجاعت حسین کا اگلے روز یہ کہنا کہ ” فضل الرحمن کے دھرنے میں کچھ لوگ عمران خان کی حکومت کے خلاف دھاوا بولنے کے حامی تھے” ایک بڑا انکشاف ہے ۔ اس پر ردِ عمل دیتے ہُوئے جے یو آئی (ایف) کے ایک نمایاں رہنما مولانا حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ ” چودھری شجاعت حسین صاحب پورا سچ بتائیں۔” عوام بحرحال یہ جاننا چاہیں گے کہ پورا سچ کیا ہے ؟ اور اس سچ کو بولنے میں قاف لیگ کے صدر گریز پا کیوں ہیں ؟ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے ۔ ملک کا سیاسی ماحول مجموعی طور پرتناؤ کا شکار ہو چکا ہے ۔ اپوزیشن اور حکومت کے درمیان عدم تعاون روز بروز بڑھ رہا ہے ۔ کورونا وائرس کی وبا کے سامنے حکومت نے ویسے بھی گھٹنے ٹیک رکھے ہیں ۔ پنجاب میں سرکاری ہسپتالوں کے ڈاکٹروں میں سے چار درجن سے زائد سینئر ڈاکٹرز حکومتی رویوں اور سہولتوں کے فقدان کے پیشِ نظر مستعفی ہو چکے ہیں اور پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد صاحبہ نے حسبِ معمول اس بارے چپ سادھ رکھی ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ان ڈاکٹروں کا استعفیٰ دراصل وزیر صحت پنجاب اور وزیر اعلیٰ پنجاب کی حکومتی ناکامی ہے ۔ حیرانی کی بات یہ بھی ہے کہ مستعفی ہونے والے ڈاکٹروں کو منانے اور واپس لانے کیلئے بھی پنجاب حکومت نے کوئی راہِ عمل نہیں اپنایا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے ایک نجی ٹی وی کو وعدے کے باوجود انٹرویو نہ دے کر جس طرح پورے پنجاب کی کرکری کروائی ہے ، یہ ایک الگ افسوسناک داستان ہے ۔




اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.