Latest news

توڑ اُس دستِ جفا کیش کو یا رَبّ جس نے ،رُوحِ آزادی کشمیر کو پا مال کیا!!

اللہ پاک کا بے حدشکر ہے کہ ملک بھر میں یومِ عاشور امن اور خیریت سے گزر گیا۔ کہیں بھی کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا نہ کسی جگہ نقصِ امن کا کوئی سانحہ رپورٹ ہُوا ۔ سید الشہدا سیدنا حضرت امام حسین کی عظیم الشان اور بے مثال شہادت اور جدوجہد کو ہم سب پاکستانی یکساں محبت و احترام سے ہر سال عاشورئہ محرم میں خراجِ تحسین و عقیدت پیش کرتے ہیں ۔ نواسئہ رسول ۖکی یاد میں ہم سب کے دل ملول اور افسردہ ہوتے ہیں لیکن ہم ساتھ ہی اُن کے بے مثال کردار اور لاثانی جدوجہد سے یہ سبق بھی لیتے ہیں کہ کس طرح طاغوتی اور آمرانہ قوتوں کا مقابلہ کرتے ہُوئے حق سچ کا علَم بلند کیا جاتا ہے ۔

سیدنا امام حسین نے اسلام کی سر بلندی کیلئے اپنے پاکیزہ خون سے ایسی قابلِ فخر داستان رقم کی جس کی مثال ا نسانی تاریخ میں نہیں ملتی ۔ بد قسمتی سے پچھلے کچھ برسوں کے دوران پاکستان ، اسلام اور ملتِ اسلامیہ کے دشمن خاص طور پر یومِ عاشور کے موقع پر دہشت گردی کی وارداتیں کرتے رہے ہیں تاکہ پاکستان میں فرقہ پرستی اور فرقہ واریت کی آگ بھڑکائی جا سکے ۔ اللہ کا شکر ہے کہ ہماری سیکورٹی فورسز اور انٹیلی جنس اداروں نے بڑی محنت اور کمٹمنٹ سے مفسد اور سازشی عناصر کا قلع قمع بھی کیا ہے اور اس کے راستے میں مضبوط بند بھی باندھے ہیں ۔ اس انسداد کے لئے ہمیں قومی سطح پر بھاری قربانیاں اور قیمت ادا کرنا پڑی ہے لیکن الحمد للہ اس کوشش میں ہم کامیابی سے ہمکنار ہُوئے ۔

اب حفظِ ماتقدم کے تحت ، اس بار بھی یومِ عاشور کے موقع پر پورے ملک میں افواجِ پاکستان ، رینجرز اور پولیس پوری طرح الرٹ رہی تاکہ کسی بھی ناگہانی صورتحال سے سختی سے اور فوری طور پر نمٹا جا سکے ۔ یہ دیکھ کر مگر دل افسردہ اور غمگین ہے کہ یومِ عاشور کے موقع پر بھی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض اور غاصب فوجوں اور اداروں نے اہلِ کشمیر کو غمِ حسین کی یاد منانے کی اجازت دی نہ جلسے جلوس نکالنے کا موقع فراہم کیا۔ ہر جگہ سخت کرفیو نے زندگی محصور اور مجبور بنائے رکھی ۔ اگر کسی جگہ موقع پا کر کشمیری عزاداروں نے سیدنا حضرت حسین کی یاد میں جلوس کی شکل میں باہر نکلنے کی جرأت و جسارت کی بھی تو بھارتی فوجوں نے اُن پر تشدد کی انتہا کر دی ۔ کشمیریوں پران تازہ مظالم اور تشدد کی خون رنگ داستانوں کی بازگشت عالمی میڈیا کے توسط سے ساری دُنیا میں سنائی دے رہی ہے اور بھارت کے خلاف اس کا ردِ عمل بھی سامنے آرہا ہے ۔

افسوس مگر یہ ہے کہ عالمی قوتیں پوری طاقت کے ساتھ بھارت کے خلاف بروئے کار نہیں آ رہیں ۔ شائد یہی وجہ ہے کہ بھارتی اسٹیبلشمنٹ کے کانوں پر عالمی میڈیا کی مذمتیں اور ردِ عمل کے باوصف جُوں تک نہیں رینگ رہی ۔ اس سے بھارت کو کشمیریوں پر مزید ظلم توڑنے کیلئے ہلہ شیری مل رہی ہے ۔لیکن کشمیر کے حوالے سے عالمی رائے عامہ پھر بھی بھارت کے خلاف ہی استوار ہو رہی ہے ۔ مثال کے طور پر 10ستمبر 2019ء کو اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کی کمشنر میڈم مشیل بیشلے نے کھل کر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جبر اور استبداد کے خاتمے کی بات کی ہے ۔ اس بیان سے کشمیریوں کے لئے کچھ ریلیف پیدا ہونے کی سبیل پیدا ہوئی ہے ۔ جنیوا میں واقع اپنے ہیڈ کوارٹر میں میڈم مشیل بیشلے نے اقوامِ متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل کے 42ویں سیشن سے خطاب کرتے ہُوئے کہا:” بھارت فوری طور پر مقبوضہ کشمیر میں کرفیو میں نرمی کرے اور کشمیریوں کو بنیادی سہولتوں تک رسائی بھی دے۔”اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق مشیل بیشلے نے جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس سے خطاب میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدامات سے انسانی حقوق متاثر ہونے پر تشویش کا بھی اظہار کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا :” مقبوضہ کشمیر میں انٹرنیٹ اور ذرائع مواصلات معطل ہیں،اخبارات بند ہیں، پرامن مظاہروں پر پابندی ہے اور سیاسی رہنماؤں کو پا بندِ سلاسل کردیا گیا ہے جو ایک افسوسناک اقدام ہے اور انسانی حقوق کے منافی عمل بھی۔ کشمیر کے مستقبل سے متعلق ہر فیصلے میں کشمیریوں کو شامل کیا جائے۔”اقوام متحدہ کی کمشنر نے بھارتی ریاست آسام میں مسلمانوں سمیت 19 لاکھ سے زائد افراد کی شہریت منسوخ کرنے پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اس ضمن میں مشیل بیشلے نے کہا :” آسام میں 19 لاکھ افراد کی شہریت کی منسوخی نے غیر یقینی اور پریشانی کو جنم دیا، بھارت شہریت منسوخی کیخلاف اپیلوں کے دوران قانونی ضابطوں پر عملدرآمد یقینی بنائے اور متاثرہ افراد کو ملک بدر یا قید نہ کرے۔”بھارت کو یو این او کی کمشنر برائے انسانی حقوق کے اس تازہ بیان سے بڑی مرچیں لگی ہیں لیکن وہ خود کو اب بے بس پاتا ہے ۔ دیکھا جائے تو یہ بیان دراصل کشمیریوں کیلئے پاکستانی سفارتی کوششوں کی بہترین کامیابی ہے ۔ شائد یہی وجہ ہے کہ ہمارے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی اس بارے میں کہا ہے کہ” کشمیر پر اقوامِ متحدہ کی کمشنر برائے ہیومن رائٹس کا بیان حوصلہ افزا ہے ، ہم عرصہ دراز سے جو کہتے آ رہے تھے ، ہیومن رائٹس کونسل کے اجلاس میں بھی اسی کا اظہار ہُوا ہے ۔ ”لیکن سچی بات تو یہ ہے کہ ہم تو اس سے آگے بڑھ کر اقوامِ متحدہ سے کشمیریوں کی دستگیری کرنے کی توقع رکھتے ہیں ۔ کشمیری بھارتی استبداد میں جس ظلم اور کرب سے گزررہے ہیں ، اس کے پیشِ نظر لازم ہے کہ کشمیریوں پر ڈھائی جانے والی متعدد بھارتی قیامتوں کا جلد خاتمہ ہو ۔ شائد اسی اُمید کے پس منظر میں اقوامِ متحدہ میں پاکستانی سفیر محترمہ ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے بھی اپنے ایک بیان میں یہی کہا کہ ” کشمیر پر بیان بازی کافی نہیں ہے، اقوام متحدہ عملی سطح پر بھی کشمیریوں کیلئے کچھ کرکے دکھائے ۔”لیکن لگتا یہ ہے کہ اقوامِ متحدہ کچھ بھی نہیں کرے گا ۔ وہ اُسی طرح مظلوم کشمیریوں کا تماشہ دیکھتا رہے گا جس طرح اُس نے میانمار ، عراق، لیبیا ، شام اور افغانستان میں مسلمانوں کو برباد ہوتے دیکھا ہے اور ان جنگوں میں ہمیشہ طاقتور مغربیوں کا ساتھ دیا ہے ۔ دکھ کی بات مگر یہ بھی ہے کہ عالمِ اسلام کے مسائل حل کرنے کیلئے مسلمان ملکوں کی تنظیم ”او آئی سی” بھی کشمیریوں کے لئے کچھ بھی نہیں کر پارہی ۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تیسری بار بھی بھارت کو مسئلہ کشمیر پر ثالثی کا پیغام دیا ہے لیکن بھارت کی ہٹ دھرمی اپنی جگہ قائم ہے ۔ امریکی فوج( سینٹکام) کے سربراہ جنرل کینتھ میکنز بھی چند دن پہلے پاکستان آئے اور سپہ سالارِ پاکستان جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملے ، مبینہ طور پر کشمیر بحران پر بھی بات ہُوئی لیکن کوئی اطمینان بخش صورتحال سامنے نہیں آسکی ہے ۔ کشمیر میں بدستور بھارتی فوجوں اور دیگر قاہر سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں انسانی حقوق کی پامالی جاری ہے ۔ ہمارے وزیر اعظم عمران خان نے بھی اسی لئے مطالبہ کیا ہے کہ کشمیر پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کیلئے کمیشن بنایا جائے ۔ مطالبہ تو اپنی جگہ درست ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کمیشن بنائے گا کونق؟ مقبوضہ کشمیر پر بھارت جو مظالم ڈھا رہا ہے ، ہم تو بے بسی میں

محض علامہ اقبال کی زبان میں بس اب یہی بددعا کر سکتے ہیں :
توڑ اُس دستِ جفاکیش کو یا رَب ، جس نے
رُوحِ آزادیِ کشمیر کو پامال کیا

شومئی قسمت سے خطے کے حالات دن بدن دگرگوں ہوتے جارہے ہیں ۔ پاکستان کا خیال تھا کہ افغانستان میں امریکی فوجوں کے نکلنے اور افغان طالبان و امریکیوں کے درمیان امن کے کسی معاہدے کے طے پا جانے کے بعد پاکستان کے مغرب میں امن و چَین کی ہوائیں چلنا شروع ہو جائیں گی اور ہماری مغربی سرحدیں بھی محفوظ ہو جائیں گی ۔ توقع تو خوب تھی لیکن اب امریکی صدر نے اچانک طالبان سے مذاکرات معطل کرنے کا اعلان کرکے فی الحال ہماری توقعات پر پانی پھیر دیا ہے ۔ مسئلہ کشمیر کے بعد ایک نیا بحران پیدا ہو گیا ہے ۔ امریکی صدر مسٹر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ افغان طالبان نے کابل میں خود کش حملہ کرکے ہمارا ایک فوجی قتل کیا ہے اور یوں اُنہوں نے مذاکرات میں اپنی بالادستی قائم کرنے کی کوشش کی ہے، مَیں ایسا نہیں ہونے دُوں گا، اسلئے مذاکرات منسوخ کرتا ہُوں ۔ یہ اہم مذاکرات امریکہ میں ( کیمپ ڈیوڈ میں) ہونے والے تھے اور انہیں آخری راؤنڈ سمجھا جارہا تھا ۔ واضح رہے کہ کیمپ ڈیوڈ ہی وہ امریکی جگہ ہے جہاں ایک سابق امریکی صدر نے کئی مذاکرات کے بعد فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان صلح کروائی تھی اور اس میں یاسر عرفات بنیادی کردار ادا کررہے تھے اور اسی بنیاد پر عرفات مرحوم کو امن نوبل انعام کا نصف بھی ملا تھا ( دوسرا نصف حصہ اسرائیلی وزیر اعظم کو ملا تھا)اب اِسی کیمپ ڈیوڈ میںافغان طالبان اور افغان حکام کے درمیان ان مذاکرات کی تدبیر بھی امریکی صدر کی اپنی اسکیم تھی کہ وہ ایک طرف افغان طالبان سے مل رہے تھے اور دوسری طرف افغان حکومت کے نمائندگان سے ۔ یہ سب خفیہ انداز میں ہورہا تھا۔ غصے اور فرسٹریشن میں مگر ٹرمپ صاحب نے مذاکرات ہی معطل کر دئیے ہیں ، یہ کہہ کر کہ ”یہ اسکیم بھی میری تھی اور مَیں ہی اسے منسوخ کررہا ہُوں ۔” واقعہ یہ ہے کہ اس اعلان سے پاکستان اور افغانستان میں مایوسی کے اندھیرے سے پھیل گئے ہیں ، البتہ بھارت خوش ہے کہ افغانستان میں امن بھارتی مفاد میں نہیں ہے ۔ بھارت سمجھتا ہے کہ افغانستان میں امن آئے گا تو پاکستان سُکھی ہوگا جبکہ بھارت کو پاکستان کا سُکھ اور امن مرغوب نہیں ہے ؛ چنانچہ امریکی صدر کے اس اعلان کے پس منظر میں ہم بھارت کی مسرت اور خوشی واضح طور پر ملاحظہ کر سکتے ہیں ۔

امریکی صدر کے اس اعلان کے پیش منظر میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ قابلِ اعتبار ہی نہیں ہیں ۔ وہ پَل میں ماشہ ہوتے ہیں اور پَل میں تولہ ۔ اُنہوں نے تو اپنے مشیر قومی سلامتی جان بولٹن کو بھی11ستمبر کو فارغ کر دیا ہے جو کہ امریکی اسٹیبلشمنٹ کا ایک نہائت اہم مہرہ تھا۔ کہا جارہا ہے کہ ایسا امریکی صدر جب تنازع کشمیر کے حوالے سے اپنی ثالثی کی پیشکش کرتا ہے تو کیا اُس پر اعتماد اور اعتبار کیا جا سکتا ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں ہوگا کہ یہ آدمی کشمیر پر ثالثی کے نام پر پاکستان کو بیچ منجدھار چھوڑ کر چلا جائے اور مسئلہ کشمیر سلجھنے کی بجائے مزید اُلجھ کر رہ جائے ؟ پاکستان کو ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا پڑ رہا ہے ۔ متنوع بحرانوں سے نکلنے کیلئے یہ کوئی آسان مہم نہیں ہے ۔ اطمینان بخش بات بہرحال یہ ہے کہ عمران خان کی حکومت اور ہماری ملٹری اسٹیبلشمنٹ ایک ہی صفحے پر ہیں ۔ یکمشت اور یکجہت ہیں ۔اتحادو یگانگت کی یہ صورت دشمنانِ پاکستان کیلئے سیسہ پلائی دیوار کی مانند ہے ۔

دو دن پہلے چینی وزیر خارجہ وانگ ژی کا بیک وقت وزیر اعظم عمران خان اور جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کرنا بھی اس امر کا مظہر ہے کہ ہماری منتخب حکومت اور عسکری قیادت مل جل کر درپیش بحرانوں کے حل کیلئے کوشاں ہے ۔ کشمیر کے ریفرنس میں یہ بھی پاکستان کی سفارتی کامیابی ہے کہ پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں 50ملکوں کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین صورتحال پر مشترکہ اعلامیہ پیش کر دیا ہے ۔ یہ اہم پیشرفت اسلئے بھی قابلِ ذکر ہے کہ کشمیر کے تازہ بحران میں پاکستان اور اہلِ کشمیر کو دُنیا کے چار درجن سے زائد ممالک کی حمائت حاصل ہو گئی ہے ۔ یہ پیشرفت دراصل بھارتی شکست ہے ۔ بھارت اب کسی بھی عالمی فورم پر کم ازکم یہ نہیں کہہ سکتا کہ مسئلہ کشمیر اُس کا نجی اور اندرونی معاملہ ہے ۔ پچاس ملکوں کی حمائت سے یہ مسئلہ اب انٹر نیشنلائز ہو گیا ہے اور بھارت کی عالمی تنہائیاں بڑھ گئی ہیں ۔ پانچ اگست کا بھارتی فیصلہ اب اُس کے گلے کی پھانس بن رہا ہے ۔اُسے لینے کے دینے پڑ رہے ہیں ۔

بھارت پر مزید دباؤ بڑھانے کے لئے وزیر اعظم جناب عمران خان نے 13ستمبر بروز جمعة المبارک آزاد کشمیر میں مقبوضہ کشمیر سے یکجہتی کے اظہار کیلئے ایک شاندار جلسہ کیا ہے اور ایک بار پھر کھل کر کشمیریوں سے اپنی کمٹمنٹ اور محبت کا کھلا اظہار کیا ہے ۔ یہ پیغام مقبوضہ کشمیر کے محبوس شہریوں کے لئے روشنی اور اُمید کا پیغام بنا ہے اور دُنیا کو بھی یہ پیغام ملا ے کہ حالات خواہ کیسے ہی کیوں نہ ہوں ، پاکستان اپنے کشمیری بھائیوں کی اخلاقی اعانت و حمائت سے دستکش نہیں ہوگا۔ہم سمجھتے ہیں کہ یہ اقدام دراصل وزیر اعظم کی طرف سے اُس وعدے کا اعادہ ہے جس میں جناب عمران خان واشگاف لفظوں میں کہہ چکے ہیں کہ مَیں دُنیا بھر میں کشمیر کا سفیر بن کر دکھاؤں گا۔بھارت کو اسی اسلوب میں سبق سکھایا جا سکتا ہے ، شرط بس یہ ہے کہ ہماری کوششوں میں تسلسل اور کمٹمنٹ کا عنصر واضح رہے۔ بھارت کو منہ کی کھانا پڑے گی ۔ انشاء اللہ۔وزیر اعظم عمران خان کئی ممالک سے اِسی ضمن میں رابطے میں ہیں ۔اور اب تو بھارت اس بات سے بھی خلجان کا شکار کہ پاکستان تسلسل سے کہہ رہا کہ بھارت سے مذاکرات نہیں ہوں گے کیونکہ بھارت سے بات چیت کا کوئی فائدہ نہیں ہے ۔ چین بھی اس کوشش میں پاکستان کے ہمدوش ہے ۔ باعث ِمسرت بات یہ بھی ہے کہ چین نے حال ہی میں ”سی پیک ” منصوبے کے تحت 1.7ارب ڈالر کی مزید سرمایہ کاری کی ہے ۔

یہ نئی سرمایہ کاری پاکستان میں بجلی کی ترسیل بہتر بنانے کیلئے استعمال ہو گی ۔ یہ حقائق اپنی جگہ لیکن ہمیں سمجھ نہیں آ رہی ہے کہ آخر ہماری اپوزیشن کو کشمیر کا بحران کیوں نظر نہیں آ رہا؟ اپوزیشن لیڈر شپ آخر اپنی دھن میں مگن صرف خانصاحب کی حکومت کو گرانے کے خواب کیوں دیکھ رہی ہے ؟ وہ اسلام آباد پر چڑھائی کرکے لاک ڈاؤن کے اعلانات کررہی ہے ۔ یہ رویہ ناقابلِ فہم ہے ۔ مولانا فضل الرحمن کی ضد کوئی اور چن نہ چڑھا دے ۔ہم سمجھتے ہیں کہ اپوزیشن کا یہ رویہ ملک کو انتشار میں مبتلا کرنے اور افتراق کو فروغ دینے کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ یہ وقت تو اتحاد و یگانگت دکھانے کا ہے تاکہ اپنے ازلی دشمن بھارت پر نفسیاتی اعتبار سے بھی دھاک بٹھائی جا سکے اور اُسے یہ اجتماعی پیغام بھیجا جا سکے کہ وہ پاکستان کیخلاف کوئی ایڈونچر کرنے سے باز رہے ۔ افسوس مگر یہ ہے کہ آزمائش کے ان لمحات میں اپوزیشن کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہُوا ہے ۔ یہ آنکھیں نہیں کھلیں گی تو قوم اس جرم کو کبھی معاف نہیں کرے گی ۔ ہم یہاں یہ بھی واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اپوزیشن سے حکومت گرنے والی نہیں ہے ۔ اپوزیشن کی صفوں کے اندر عدم اتفاق نے جڑ پکڑ لی ہے ۔

اس کارن اپوزیشن میں دراڑیں پھیل رہی ہیں ۔ اسکا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ بلاول بھٹو زرداری نے مولانا فضل الرحمن کو جھنڈی دکھاتے ہُوئے صاف کہہ دیا ہے کہ وہ اسلام آباد کے مجوزہ لاک ڈاؤن میں مولانا صاحب کے ساتھ شریک نہیں ہوں گے ۔

بلاول بھٹو نے مولانا موصوف سے راہیں جدا کرکے دانشمندی کا ثبوت دیا ہے ۔ یوں اپوزیشن کا ایک بازو ٹوٹ گیا ہے ۔ ایسے میں وہ اسلام آباد کا خاک محاصرہ کرے گی ؛ چنانچہ وزیر اعظم کی مشیر برائے اطلاعات محترمہ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے تبصرہ کرتے ہُوئے بالکل بجا کہا ہے :” مولانا صاحب ، بلاول بھٹو کے اعلان کا مطلب یہ ہے کہ جاگدے رہنا ، ساڈے تے نہ رہنا۔”مولانا فضل الرحمن کو اب بھی ہوا کے بدلتے تیور سمجھ لینے چاہئیں۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.