Daily Taqat

وہ جو کہتا تھا کہ کچھ نہیں ہوتا‘اب وہ روتا ہے چپ نہیں ہوتا

وطنِ عزیز کے اکثریتی شہریوں کی مرضی اور منشا کے تحت ہی یہ حکومت معرضِ عمل میں آئی ہے۔عمران خان وزیر اعظم بنے ہیں تو زور ،زبردستی اور آمریت کے بَل پر نہیں بنے ہیں۔ پاکستانیوں کے ایک کروڑ 68لاکھ ووٹ لے کر آئینِ پاکستان کی ساری مبادیات پوری کرکے لاتعداد پاکستانیوں کی آرزوؤں اور آدرشوں کے تحت اُنہوں نے اقتدار سنبھالا ہے۔جس عوام نے اُنہیں اقتدار کی کرسی پر براجمان کیا ہے، اُسی عوام کی یہ خواہش اور تمنا بھی ہے کہ اُن کا منتخب اور چنیدہ حکمران کامیابیوں سے ہمکنار ہو ۔ وہ ملک کے اندر اور بیرونِ ملک عزت و احترام کی نگاہ سے ہر فورم پر دیکھا جائے۔ اُس کی عزت دراصل ملک ِ پاکستان کی عزت ہے۔ مشاہدے میں مگر یہ بات بار بار آرہی ہے کہ پاکستان کے اندر بعض شکست خوردہ قوتیں اور اُن کے حالی موالی عناصر کو عمران خان کی نَومنتخب حکومت ہضم نہیں ہورہی۔ ابھی اس حکومت کو چھ ہفتے ہُوئے ہیں مگر اس کی غلطیاں ایسے پکڑی اور اُچکی جارہی ہیں جیسے خان کی حکومت کو شروع ہُوئے چھ سال گزر گئے ہوں۔ کئی اطراف سے حملے کئے جارہے ہیں اور یہ حملے اخلاقی اور اصولی نہیں بلکہ اوچھے ہتھکنڈے کہے جائیں گے اور کہے جارہے ہیں۔ قوموں اور حکومتوں کی زندگیوں میں چھ سات ہفتے کی حکمرانی کوئی حیثیت نہیں رکھتی لیکن سابقہ حکمران طبقہ پی ٹی آئی حکومت پر یوں پِل پڑا ہے جیسے وہ راتوں رات حکومت کا تختہ اُلٹ دے گا۔ حکومت کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے ، افواہیں پھیلانے اور جھوٹ کو فروغ دینے میں نون لیگ ہراول دستے کا کردار ادا کررہی ہے۔ یہاں تک تو خیر قابلِ برداشت تھا لیکن اب نونیوں نے پی ٹی آئی حکومت کے خلاف باقاعدہ سازشوں کو پروان چڑھانے کی راہ بھی اپنا لی ۔ یاد رکھا جائے یہ راہ براہِ راست ملک کے عدم استحکام اور عوام دشمنی کی طرف جاتی ہے۔ اِس ملک دشمنی اور حکومت سے عناد کا باقاعدہ اظہار نون لیگ کے ایک سینئر رکن رانا مشہود نے کیا ہے۔ رانا مشہود سابق وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کے وزیر بھی رہے ہیں۔ اُن کی کئی غیر اخلاقی اور غیر قانونی حرکات نے سابق خادمِ اعلیٰ کو بھی نادم کئے رکھا لیکن ڈھٹائی کا یہ عالم تھا کہ اُنہیں وزارت سے چند دنوں کے لئے فارغ کرکے پھر وزیر بنا دیا گیا تھا۔ اس سے عوام کو یہ پیغام پہنچا تھا کہ سابق خادمِ اعلیٰ صاحب کو اپنی کابینہ میں اِسی طرح کے کرپٹ بندے ہی وارا کھاتے ہیں۔ ہم توقع رکھ سکتے ہیں کہ ایسا شخص کسی مخصوص مفاد کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ وہ اپنی سیاسی قیادت کے اشارے پر کوئی بھی کام انجام دینے کے لئے تیار ہو سکتا ہے ۔ کیونکہ ایسا شخص نہ تو اخلاق رکھتا ہے اور نہ اصول اور نہ ہی وہ کسی قاعدے قانون کا پابند ہوتا ہے۔ اِسی رانا مشہود کی طرف سے جب یہ درفنطنی چھوڑی گئی کہ ”ہمارے (یعنی نون لیگ) تمام معاملات اسٹیبلشمنٹ سے طے پا گئے ہیں۔ عوام دیکھیں گے کہ آئندہ دو ماہ کے دوران پنجاب میں پھر نون لیگ کی حکومت ہو گی اور میاں شہباز شریف وزیر اعلیٰ ہوں گے ‘ ‘ تو کسی کو کوئی حیرت نہیں ہُوئی۔ رانا مشہود نے مزید دریدہ دہنی یوں کی:”جو لوگ عمران خان اور پی ٹی آئی کو اقتدار میں لائے، اُنہوں نے چار پانچ ہفتوں کے دوران ہی یہ جان لیا ہے کہ یہ لوگ حکومت کرنے اور حکومت چلانے کے سرے سے قابل ہی نہیں ہیں۔ اِنہیں تو گھوڑا سمجھا گیا تھا لیکن یہ تو خچر نکلے۔” ایک اخبار نویس ہونے کی حیثیت میں ہمیں افسوس ہے کہ یہی الفاظ ہمارے اخبارات میں شائع ہُوئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہماری صحافتی اخلاقیات یہ اجازت دیتی ہے کہ ہم ایسے الفاظ شائع کریں؟ کیا کوئی بھی شخص اگر کوئی بھی بیہودہ اور غیر اخلاقی بیان داغ دے تو کیا ہمارے اخبارات اُسے من وعن شائع کرنے کے پابند ہیں؟ کیا ہماری صحافتی اخلاقیات کہیں گھاس چرنے چلی گئی ہے؟افسوس تو رانا مشہود کی ذہنی حالت پر بھی ہے جنہوں نے ایسے الفاظ ادا کرنے کی جرأت کی۔ اور اگر ایسے بدتمیزی اور بیہودگی پر مشتمل الفاظ کا جواب ہمارے وزیراطلاعات فواد چودھری اپنے مخصوص اسلوب میں دیتے ہیں تو پھر نون لیگ کو خاص طور پر تکلیف کیوں ہوتی ہے؟ نون لیگ کے سینیٹر مشاہد اللہ خان پھر سینیٹ کے فلور پر احتجاج میں کیوں چیختے ہُوئے سنائی دیتے ہیں؟ کیوں منہ سے کف اڑاتے ہیں؟ہم سمجھتے ہیں اور ہمیں حق الیقین ہے کہ رانا مشہود نے جان بوجھ کر اسٹیبلشمنٹ پر گند اچھالا ہے۔یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ اُنہوں نے اپنی قیادت کو اعتماد میںلے کر ہی ، اُنہی کے اشارے پر ایسا پُر خطر بیان دیا ہے۔ اِس مقصد کے ساتھ کہ اسٹیبلشمنٹ کو بدنام کیا جائے اور دُنیا کو بتایا جائے کہ پاکستان میں حکومت بنانے اور بگاڑنے میں واقعی اسٹیبلشمنٹ ہی کا کردار ہے۔ رانا مشہود کا یہ بیان معمولی اور بے ضرر نہیں ہے۔ اُنہوں نے ایک تیر سے دو شکار کرنے کی ناکام کوشش کی ہے۔ بیک وقت پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کو بدنام کرنے کی قابلِ مذمت کوشش۔ ہمارے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں اس کی خوب بازگشت سنائی دی گئی ہے۔شائد رانا مشہود اور اُن کے سرپرستوں کا مقصودو مطلوب بھی یہی تھا۔ ہمارے میڈیا میں خیر سے ابھی تک ایسے بہت سے عناصر موجود ہیں جو مالی مفادات کے دباؤ میں آکر نون لیگ، نواز شریف اور سابقہ راج دلاری کے حق میں ترانے گاتے اور قومی اداروں کی حرمت کو بٹّہ لگانے کی کمینی کوششیں کرتے رہتے ہیں۔ حکومت ایسے عناصر کے خلاف ابھی کوئی کارروائی نہیں کررہی اور اسے حکومت کی کمزوری پر محمول کیا جارہا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ رانا مشہود کے نہائت غیر معقول اور ملک دشمن بیان کی بروقت خبر لے کر اور اس کی مذمت کرکے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے مستحسن اقدام کیا ہے۔ بعض احباب کا کہنا ہے کہ رانا مشہود کا مذکورہ بیان اتنا نا معقول تھا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کو اس کا جواب ہی نہیں دینا چاہئے تھا۔ ہم بوجوہ اس نقطہ نظر سے اتفاق نہیں کر سکتے۔اسلئے کہ اگر اس بیان پر افواجِ پاکستان کے ترجمان ادارے کی طرف سے مصلحت انگیز خاموشی اختیار کی جاتی تو اس کے من پسندمطالب اخذ کئے جا سکتے تھے، اور یہ عمل مستقبل میں کئی دیگرسیاسی گروہوں کو بھی شہ دینے کے مترادف ہوتا ۔ پنجاب کے سابق صوبائی وزیر کایہ بیان جس انداز میںسامنے لایا گیا ہے ، اِسے صرف ایک شخص کی کارروائی نہیں کہا جا سکتا۔ رانا مشہود نے اگرچہ بعد ازاں ”تردید” کرتے ہُوئے کہا کہ ”ان کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر نشر کیا گیا” لیکن یار لوگ جانتے ہیں کہ رانا موصوف یہ بیان بھی دے کر بلف گیم کھیل رہے ہیں۔ جب یہ گیم ہاتھوں سے نکلتی ہُوئی محسوس ہُوئی تو گونگلوؤں سے مٹّی جھاڑنے کے مصداق، نون لیگ کی طرف سے بیان آ گیا کہ ”رانا مشہود کے غیر ذمہ دار بیان کی اساس پر اُن کی پارٹی رکنیت معطل کر دی گئی ہے” اور یہ کہ” اُن کا بیان ذاتی ہے، پارٹی سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے ، اُنہیں شو کاز نوٹس دے دیا گیا ہے۔” حقیقت میں یہ روٹین کی لن ترانیاں ہیں۔ عوام یہ منافقتیں خوب سمجھتے ہیں اور انہیں تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں۔پنجاب کے صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان کا یہ بیان درست لگتا ہے کہ رانا مشہود نے یہ کام اپنی قیادت کے مشورے سے کیا ہے۔ہمیں باوثوق ذرائع سے معلوم ہے کہ رانا مشہود کا یہ متنازع انٹرویو چلانے کے لئے نونیوں کو کتنی محنت کرنا پڑی ہے، اسلئے اِس سے صرفِ نظر نہیں کیا جا سکتا۔اِس سازشی بیان کو اگر ہم ”پاکستان عوامی تحریک” کے سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈا پور کے تازہ ترین بیان کے ساتھ ملا کر پڑھیں تو مزید کئی گتھیاں سلجھانے میں مدد ملتی ہے۔ رانا مشہود کے بیا ن سے دو دن پہلے خرم نواز گنڈا پور نے ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہُوئے انکشاف کیا کہ ”2014ء کے مشہور اسلام آبادی دھرنے سے قبل لندن میں ڈاکٹر طاہر القادری، چودھری پرویز الٰہی و چودھری شجاعت حسین اور عمران خان کی ملاقات ہُوئی تھی۔ اس میں طے پایا تھا کہ کس طرح اسلام آباد میں دھرنا دے کر نواز شریف حکومت کا تختہ اُلٹنا ہے۔”اس انکشاف سے میڈیا اور سیاست میں ایک بھونچال سا آ گیا، خاص طور پر اسلئے کہ مبینہ لندن پلان کی ہمیشہ عمران خان، طاہر القادری اور چودھری برادران سختی سے تردید کرتے رہے ہیں ۔ اب ”گھر” کے بھیدی نے لنکا ڈھادی ہے تو اِس سے ڈاکٹر طاہر القادری وغیرہ نے تو خیر کیا شرمندہ ہونا تھا، اصل شرمندگی اور ندامت پی ٹی آئی اور عمران خان کو اُٹھانا پڑی ہے۔ گویا پی ٹی آئی حکومت اور وزیر اعظم عمران خان کے اقتدار کو بلڈوز کرنے اور زک پہنچانے کے لئے چاروں اطراف سے یلغار ہو رہی ہے۔ لوگ سوال کررہے ہیں کہ ڈاکٹر طاہر القادری کے ایک معتمد کی طرف سے یہ ضرررساںحرکت کیوں کی گئی ہے؟ راز دانِ درونِ پردہ کا کہنا ہے کہ ”پاکستان عوامی تحریک” بھی مقتدر پی ٹی آئی سے ”اپنا حصہ” مانگ رہی ہے کہ قادری صاحب کی جماعت نے دھرنے میں خان صاحب کا بھرپور ساتھ دیا تھا اور مولانا طاہر القادری نے پی ٹی آئی والوں کو اپنا ”کزن” بھی قرار دیا تھا۔ اب ”کزن” اقتدار میں حصہ دینے سے انکاری ہیں تو گنڈا پوری بم چلا دیا گیا ہے۔ رانا ثناء اللہ کے گرد بھی گھیرا تنگ کئے جانے کی خبریں گردش میں ہیں۔ اس کے باوجود اگر ڈاکٹر طاہر القادری کی پارٹی کے سب سے سینئر عہدیدار کی طرف سے وزیر اعظم کو نادم کرنے کے لئے یہ اقدام کیا گیا ہے تو اِس پر دکھ، رنج اور افسوس کا اظہار ہی کیا جا سکتا ہے۔اِنّا للہ ہی پڑھا جا سکتا ہے۔عمران خان اقتدار میں آتے ہی دشمنوں اور مخالفین میں گھِر گئے ہیں لیکن اُن کی ہمت کو شاباش دینی چاہئے کہ مردانہ وار آگے بڑھ رہے ہیں ۔ اُن کا قافلہ رُک رہا ہے نہ تھم رہا ہے ۔ نہ وہ مخالفین کے منفی پروپیگنڈہ سے پریشان ہوتے ہیں۔ یہی منظر دراصل پی ٹی آئی کے مخالفین کے پیٹ میں مروڑ ڈال رہا ہے۔ اور وہ فرسٹریشن میں آ کرکبھی خاتونِ اول کی بیٹی کو ہدف بناتے ہیں اور کبھی ملیکہ بخاری کو وزیر اعظم کے مشیر زلفی بخاری کی ہمشیرہ بنا کر اُسے جعلی عہدے دینے کی بے بنیاد خبریں چلاتے ہیں۔ہماری تربیت اور اخلاق اس کی قطعی اجازت نہیں دیتا۔کیا زمانے میں پنپنے کو یہی باتیں رہ گئی ہیں؟ اور جب جعلسازوں کو آئینہ دکھایا جاتا ہے تو ڈھیٹ بن جاتے ہیں اور شرمندہ بھی نہیں ہوتے۔نقاب پہنے یہ جعلساز دراصل پریشر گروپ بن کر حکومت کو اپنے دباؤ میں لانا چاہتے ہیں تاکہ احتساب کے شکنجے میں جکڑے سابق نونی حکمرانوں کی جان چھڑائی جا سکے لیکن یہ گلو خلاصی ہو گی نہیں کہ ان کے قومی گناہ اور جرائم ہی اتنے قبیح اور کبیرہ ہیںکہ اِن کی جان کبھی چھوٹنی نہیں چاہئے ، تاآنکہ احتساب کا عمل اپنے صحیح انجام کو پہنچ جائے۔اب تو سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف بھی نیب کی تحویل میں آگئے ہیں دیکھتے ہیں ان کے ساتھ کیا ہوتا ہے’اب تو عوام بھی کہتے سنے گئے ہیں۔
وہ جو کہتا تھا کہ کچھ نہیں ہوتا
اب وہ روتا ہے چپ نہیں ہوتا
سابق نااہل اور سزایافتہ مجرم وزیر اعظم نواز شریف بھی بڑے دنوں بعد گویا ہُوئے ہیں اور ارشاد فرمایا ہے کہ ”مجھے دھمکی آمیز مشورے دئیے جاتے رہے ہیں۔” لیکن موصوف نے یہ نہیں بتایا کہ کون یہ ”دھمکی آمیز مشورے” دیتا تھا ؟ بس مبہم سی بات کرکے رہ گئے ہیںتاکہ عوام کے دلوں میں شبہات کو فروغ دیا جا سکے۔ جو شخص عدالت کی طرف سے باقاعدہ مجرم ٹھہرا دیا جائے ، بھلا اُس کی ابہام بھری باتوں پر کون یقین کرے گا؟ اور کیوں کرے گا؟نون لیگ کے تنخواہ دار پریشر گروپس یہ بھی چاہتے ہیں کہ سابق نااہل وزیر اعظم کے مفرور سمدھی کی بھی جان چھوٹ جائے لیکن ایسا اب ہوگا نہیں۔ عدالت کی طرف سے اُن کی بقیہ جائیداد نیلام کرنے اور اُن کے بینک اکاؤنٹس میں رکھے پیسے بحقِ سرکار قرق کرنے کے احکامات جاری ہو چکے ہیں۔ یہ مفرور سمدھی اتنا سرکش اور ڈھیٹ واقع ہُوا ہے کہ عدالت کے بار بار بلانے کے باوجود حاضر نہ ہُوا۔ اسحق ڈار لندن میں براجمان ہے اور بہانے خوری کرکے جیل کی سزاؤں سے بھاگ رہا ہے۔”نیب” کی طرف سے اُس کے منقولہ و غیر منقولہ اثاثوں پر ریاست کا قبضہ ہے ۔ ثابت ہو چکا ہے کہ اُس نے اپنے معلوم ذرائع سے بڑھ کر اثاثے بنائے ۔ بتایا گیا ہے کہ اقتدار میں رہ کر اُس نے اپنے اثاثوں میں91فیصد اضافہ کیا۔مفرور اسحق ڈار مبینہ طور پرگلبرگ تین لاہور میں ایک بڑے گھر کا مالک،لاہور کی الفلاح ہاؤسنگ سوسائٹی میں تین پلاٹ، اسلام آباد میں تین ایکڑ زمین، اسلام آباد کے پارلیمنٹری انکلیو میں دو کنال کا پلاٹ،اسلام آباد میں سینیٹ کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی میںایک پلاٹ، اسلام آباد ہی میں دو کنال چھ مرلے پر مشتمل ایک اور پلاٹ اور چھ لگژری گاڑیوں کا مالک ہے۔ اب ان جائیدادوں کو نیلام کیا جائے گا تو ڈار ”صاحب” کے ہوش ٹھکانے آ جائیں گے۔ حیرانی کی بات ہے کہ موصوف نے شرمندہ ہونے کی بجائے کہا ہے کہ ”میرا یہ مال تو یتیموں اور مسکینوں کے لئے تھا۔”حقیقت یہ ہے کہ اس شخص نے ملک کو لُوٹ کر پاکستانیوں کو یتیم اور مسکین بنانے کا عملی کردار ادا کیا ہے۔ آج عمران خان کی حکومت خالی خزانے کا ماتم کررہی ہے تو اس کا صرف ذمہ دار یہی شخص ہے جسے سابق نااہل اور مجرم وزیر اعظم کا سمدھی ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔رازدانِ درونِ پردہ کا کہنا ہے کہ اسحق ڈار کی مذکورہ جائیداد تو ”ٹِپ آف آئس برگ” ہے، اصل اور وڈی جائیداد تو مبینہ طور پر ہائی رائز پلازوں کی شکل میں دبئی میں ہے جو اس شخص کے بیٹوں کے نام ہے۔اور یہ بیٹے بھی اِن جائیدادوں کی منی ٹریل دینے میں ناکام رہے ہیں۔ اسحق ڈار نے پاکستان کے دو نجی ٹی ویوں کی مدد سے خود کو بے گناہ اور معصوم ثابت کرنے کی کوشش بھی کی ہے لیکن یہ کوشش ناکام ہو گئی ہے۔ ہمارے میڈیا پر بھی حیرانی ہے جو اس قسم کے مجرمانہ ذہنیت رکھنے اور لُوٹ مار کرنے والوں کو ٹی ویوں پر لاتے ہیں اور اُن کے انٹرویو نشر کرتے ہیں۔ پیسے میں دراصل بڑی طاقت ہے جو بعض اوقات ٹی وی کی لہروں کی شکل میں اپنا کام دکھاتا ہے۔لیکن سابق مقتدر مجرموں کے ڈسے پاکستانی اِن لہروں کی حقیقت پوری طرح جان چکے ہیں۔اللہ تعالیٰ سلامت رکھے عزت مآب چیف جسٹس جناب ثاقب نثار صاحب کو جن کی بدولت قومی اثاثوںپر ڈاکے ڈالنے والوں، لینڈ مافیا ، ناجائز منافع خوروں ، پاکستانی سرزمین کے نیچے چھپے قدرتی ذرائع کو لُوٹنے والوںاور غریبوں کے دشمنوں پر دہشت اور خوف طاری ہے۔ عدالتِ عظمیٰ کی طرف سے بنائی گئی فضا ہی میں اسحق ڈار ایسے قومی مجرم آج کیفرِ کردار کو پہنچتے نظر آ رہے ہیں۔ اللہ کرے یہ سلسلہ کبھی نہ تھمنے پائے۔ اُن سے بڑی اُمیدیں وابستہ کر لی گئی ہیں۔ کہیں انصاف اور دستگیری نظر آ رہی ہے تو یہ اُن کے دَم سے ہے۔ آج پورے ملک میں لینڈ مافیا ، سرکاری و نجی زمینوں پر قابضین اور تجاوزات کے خلاف جو بلا امتیاز آپریشن ہوتے نظر آ رہے ہیں، یہ سب چیف جج صاحب کے احکامات کی بدولت ہے۔ یہ آپریشن ہورہے ہیں تو ہمیں ریاست کی رِٹ بھی نظر آ رہی ہے جو نونیوں کی حکومت کے دوران لُٹیروں کے اثرورسوخ کے پاؤں تلے کہیں دَب کر رہ گئی تھی۔ اِن آپریشنوں کی دہشت سے منشا بم ایسے سماج دشمن اور لینڈ مافیاز کے سرغنہ سر منہ لپیٹ کر فرار ہو چکے ہیں۔ قانون مگر اُن کے تعاقب میں ہے۔ ایک دن ڈھونڈ ہی نکالے گا۔ پنجاب اور مرکز میں پی ٹی آئی کی حکومتوں کو بھی شاباش کہ وہ بھی تجاوزات کے خلاف ہونے والے آپریشنوں میں کسی کی سفارش کو خاطر میں نہیں لارہی ہیں۔وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور اسلام آباد میں وزیر مملکت برائے داخلہ شہر یار خان آفریدی نے قابضین اور تجاوز کنندگان کے خلاف آپریشنوں میں کسی دباؤ کی پرواہ نہیں کی ہے۔ پی ٹی آئی کے ایک لاہوری ایم این اے کو لینڈ مافیا مجرموں کی سفارش کرنے کی پاداش میں سپریم کورٹ کی طرف سے جو سخت جھاڑ پڑی ہے، اس سرزنش نے باقیوں کے دماغ بھی درست کر دئیے ہیں۔ تجاوزات کے خلاف آپریشن کرکے اسلام آباد میں 20 ارب روپے کی سرکاری زمین واگزار کروالی گئی ہے۔ لاہور، فیصل آباد، گوجرانوالہ، ملتان، بہاولپور ایسے بڑے شہروں میں بھی تجاوزات کے نیچے سے اربوں کھربوں روپے کی جائیداد سامنے لائی گئی ہے۔ یہ دراصل پی ٹی آ ئی حکومت کی طرف سے قانون کی حاکمیت کا عملی اعلان ہے۔ ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ سی ڈی اے اور ایل ڈی اے وغیرہ کے اُن سرکاری افسران پر بھی ہاتھ ڈالا جائے جن کی موجودگی اور سرپرستی میں یہ تجاوزات معرضِ عمل میں آئیں۔ اُن سرکاری افسران کو بھی کٹہرے میں لایا جائے جنہوں نے جانتے بوجھتے ہُوئے ان ناجائز تجاوزات کو پانی، گیس اور بجلی کے کنکشن دئیے اور اپنی جیبیں گرم کر لیں۔ جس فرد یا گروہ نے سرکاری زمینوں پر قبضے کرکے ناجائز طور پر اُنہیں جعلسازی سے آگے فروخت کیا یا کرائے پر چڑھایا، اُنہیں سامنے لایا جانا چاہئے اور اُن کے پیٹ سے لُوٹی گئی رقوم برآمد کرکے متاثرین کے حوالے کی جائیں۔ ہمیں اُمید ہے کہ جلد ایسے عناصر کی بھی باری آنے والی ہے۔ انشاء اللہ!!
نوٹ : کالم اپنے اختتام کو پہنچا ہی تھا کہ ایک افسوسناک اور دل شکن خبر آ گئی ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ایک تقریر میں کہا ہے کہ” سعودی حکمران شاہ سلمان امریکی مدد کے بغیر دو ہفتے بھی اقتدار میں نہیں رہ سکتے ۔ مَیں نے سعودی حکمران سے کہا: بادشاہ، ہم آ پ کے ملک کی حفاظت کرتے ہیں، آپ کو اپنی (یعنی امریکی) فوجوں کے اخراجات برداشت کرنے چاہئیں۔”امریکی صدر کا یہ بیان محض بیان نہیں بلکہ خادم الحرمین الشریفین کی سراسر توہین ہے۔ امریکی صدر جتنا بیہودہ اور بدتمیز ہے، یہ بیان بھی اُس کے کردار کا عین عکاس ہے۔ اِس بیان نے دراصل سعودی عرب کی دفاعی کمزوریوں کو عیاں کیا ہے اور عالمِ اسلام کو بھی آئینہ دکھایا ہے۔ اگر سعودی عرب خود اور پورا عالمِ اسلام فوجی، اسلحی اور عسکری اعتبار سے طاقتور ہوتا تو کیا یہ ممکن تھا کہ غیر مسلم ملک کا یہ سربراہ ایسی بے شرمی اور سفارتی آداب کے منافی دھمکی ایک مسلمان ملک کو دے سکتا ؟ ہر گز نہیں۔ حیرانی کی بات ہے کہ ابھی تک سعودی عرب کی طرف سے اس دھمکی کا کوئی جواب نہیں آیا۔ سعودی عرب میں مسلمانوں کے دومقدس ترین مقامات ہیں جن پر ہماری جانیں بھی قربان ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ امریکہ کو یہ دھمکی دینے کی اسلئے بھی جرأت ہُوئی ہے کہ ہم مسلمانوں نے اللہ کے حکم کے تحت اللہ کی رسّی کو مضبوطی سے تھامنے سے انکار کررکھا ہے۔ اسلامی ممالک کے درمیان اتحاد ہے نہ اتفاق۔اللہ پاک نے سعودی عرب کو تیل کی شکل میں بے تحاشہ دولت سے نوازا لیکن افسوس سعودی عرب اپنے دفاع کی طرف توجہ نہ دے سکا ۔ اسرائیل ، سعودی عرب کا تقریباً ہمسایہ ہے اور رقبے کے اعتبار سے سعودیہ سے کہیں چھوٹا لیکن اسرائیل نے ایسی دفاعی صلاحیتیں حاصل کررکھی ہیں کہ پورا مشرقِ وسطیٰ اُس کی طرف آنکھ اُٹھا کر نہیں دیکھ سکتا۔ کاش، سعودی عرب نے بھی ایسی صلاحیتیںحاصل کی ہوتیں تو امریکی صدر کو ایسی دریدہ دہنی کرنے کی جسارت نہ ہوتی۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »