شریف برادران اور نون لیگ کے ”ماڑے” دن شروع ہو چکے ہیں؟

آج 25اکتوبر2020ء ہے ۔اور آج رقبے کے اعتبار سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ، بلوچستان، میں حکومت مخالف اتحاد”پی ڈی ایم” کا جلسہ بھی ہورہا ہے ۔ اس جلسے کا مقام بلوچستان کا دارالحکومت کوئٹہ ہے ۔ یہ جلسہ ”پی ڈی ایم ” یعنی ”پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ” کا تیسرا باقاعدہ جلسہ ہے ۔ اس سے قبل پنجاب کے شہر گوجرانوالہ اور سندھ کے دارالحکومت کراچی میں پی ڈی ایم کے دو جلسے ہو چکے ہیں ۔ ان دونوں جلسوں کی بازگشت ابھی تک فضاؤں میں گونج رہی ہے ۔ گوجرانوالہ جلسے میں نون لیگ کے قائد نواز شریف نے اپنے خطاب میں بعض ایسی باتیں کہہ ڈالیں جن سے پاکستان کے اکثریتی محبِ وطن عوام کو اتفاق نہیں ہے ۔ نواز شریف نے اپنے مذکورہ خطاب میں نام لے کر ہماری محبِ وطن اسٹیبلشمنٹ کے بارے میں متنازع باتیں کہہ ڈالیں ۔ اس سے ناراضی کی لہر اُٹھی ۔ اسی لہر کا نتیجہ تھا کہ جب پی ڈی ایم نے کراچی میں جلسہ کیا تو نون لیگ کی نائب صدر محترمہ مریم نواز شریف اور اُن کے شوہر محمد صفدر اعوان نے قائد اعظم کے مزار پر بعض ایسے نعرے لگائے کہ انہی کی پاداش میں صفدر صاحب کیسوں میں نامزد کئے گئے اور دھر لئے گئے ۔ وہ اب ضمانت پر رہا تو ہو چکے ہیں لیکن اپنے پیچھے ایک داستان بھی چھوڑ گئے ہیں ۔ آج پی ڈی ایم والے کوئٹہ میں جلسہ کررہے ہیں تو فضا میں عجب ہلچل اور خلفشار ہے ۔ نواز شریف پر نئے ریفرنس دائر کر دئیے گئے ہیں ۔ اور حکومتی سطح پر نواز شریف کو لندن سے ڈی پورٹ کروا کر پاکستان لانے کی کوششیں تیز تر کر دی گئی ہیں ۔ اس حوالے سے کچھ وارنٹس بھی اخبارات میں شائع کرنے کا سرکاری اہتمام کیا گیا ہے ۔ نواز شریف کہہ تو رہے ہیں کہ اُنہیں ان اقدامات سے اب کوئی ڈرا نہیں سکتا لیکن یہ تو نواز شریف اور شریف خاندان ہی دل سے جانتا ہے کہ حکومتی یلغار سے وہ کتنے اور کہاں تک گھبرائے ہُوئے ہیں ۔ وزیر اعظم عمران خان تو پوری طرح مفرور نواز شریف کے تعاقب میں ہیں ۔خانصاحب نے23اکتوبر2020ء کو ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہُوئے صاف الفاظ میں کہا ہے کہ ”ضرورت پڑی تو نواز شریف کو خود لندن سے پاکستان لاؤ ںگا اور جیل میں ڈالوں گا۔ برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن سے بھی بات کروں گا کہ نواز شریف کو پاکستان کے حوالے کیا جائے ۔” واقعہ یہ ہے کہ نواز شریف اور پورے شریف خاندان اور نون لیگ کے ماڑے دن شروع ہو چکے ہیں ۔ ان کا ذمہ دار بنیادی طور پر خود شریف خاندان ہی ہے ۔ ویسے تو نون لیگ کے”ماڑے” دن اُسی روز شروع ہو گئے تھے جس روز نواز شریف کو نااہل قرار دے کر اقتدار سے رخصت کر دیا گیا تھا اور شاہد خاقان عباسی نے بطورِ وزیر اعظم اُن کی جگہ سنبھالی تھی ۔ یہ دن مزید گمبھیر ہوتے چلے گئے جب نواز شریف بھی جیل بھیج دئیے گئے اور محترمہ مریم نواز بھی ۔ پی ٹی آئی اقتدار میں آئی تو کئی سینئر نون لیگی سیاستدان، جو وفاقی وزیر بھی رہ چکے تھے، مختلف الزامات کے تحت حوالہ زنداں کئے گئے ۔ مثال کے طور پر: خواجہ سعد رفیق، خواجہ سلمان رفیق،شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال، رانا ثناء اللہ وغیرہ۔ احتسابی ادارے نے ان شخصیات کو پسِ دیوارِ زنداں بھیجنے میں اپنا طاقتور کردار ادا کیا تھا۔اب مذکورہ سبھی افراد مختلف ضمانتوں کے تحت جیلوں سے باہر ہیں ۔ خیال کیا گیا تھا کہ قید و بندکی شدید آزمائشوں سے یہ ٹوٹ کر بکھر جائیں گے اور اپنے قائد، میاں محمد نواز شریف، کا ساتھ چھوڑ دیں گے ۔ ایسا مگر ہُوا نہیں ۔ یہ استقلال مقتدرین کیلئے حیرت خیز ہے ۔ پنجاب میں نون لیگ کو کمزور اور اس کے ”ماڑے” دنوں میں اضافہ کرنے کیلئے ایک اور چال چلی گئی۔ پنجاب اسمبلی کے نصف درجن سے زائد منتخب نون لیگی ارکان مرکزِ گریز قوت کا شکار ہو گئے ۔ انہوں نے پنجاب کے وزیر اعلیٰ، عثمان بزدار صاحب، سے ملاقاتیں بھی کیں ۔ اس دوران تین باتیں زبان زدِ عام ہُوئیں لیکن تینوں ہی غلط ثابت ہُوئیں:(١) یہ کہ پنجاب اسمبلی میں مزید نون لیگی ارکان اپنے قائدکا ساتھ چھوڑ دیں گے ، لیکن ایسا ابھی تک نہیں ہو سکا(٢) یہ کہ پنجاب اسمبلی میں نون لیگ کا فارورڈ بلاک بنے گا۔ لیکن ابھی تک نہیں بن سکا(٣) یہ کہ عثمان بزدار سے ملاقاتیں کرنے والے (باغی) نون لیگی ارکان کو نون لیگ کی طرف سے سخت وارننگ یا شو کاز نوٹس دئیے جائیں گے یا اُنہیں پارٹی ہی سے فارغ کر دیا جائیگا، ایساہوا تو ضرور مگر کسی باغی نون لیگی کو ابھی تک پارٹی سے نکالا نہیں جا سکا ۔ بس لپ سروس ضرور کر دی گئی ۔ شائد نون لیگی قیادت کو اپنی داخلی کمزوریوں اور خارجی دباؤ کا ادراک و احساس ہو گیا ہے ۔نون لیگ کے ”ماڑے” دن ابھی اپنے اختتام کو نہیں پہنچے۔ یہ ابھی جاری ہیں ۔20ستمبر2020ء کو اسلام آباد میں حکومت مخالف منعقد ہونے والی”اے پی سی” یوں تو ٹھس ہی رہی لیکن دو اقدامات نے اس کی کچھ ”لاج” رکھ لی: (١) اے پی سی کا متفقہ اعلامیہ (٢) اے پی سی سے میاں نواز شریف کی 53منٹ کو محیط تقریر۔ اس کی بازگشت ابھی تک چاروں اُور سنائی دے رہی ہے ۔ نواز شریف کے بھڑکتے تقریری الفاظ سے بے پناہ اختلاف کرنے والے بھی کم نہیں ہیں اور اتفاق کرنے والوں کو شمار کرنا بھی ناممکن ۔ اس تقریر کے کئی معنی نکالے گئے ہیں ۔ حکومتی حلقوں اور ان حلقوں کے وابستگان نے نواز شریف کے الفاظ کو اُنہی پر پلٹنے کی پوری تکنیکی سعی کی ہے ۔ نواز شریف کے تقریری بیانئے سے اختلاف کرنے والوں کی جانب سے نون لیگ کے ”ماڑے” دنوں میں اضافہ کرنے کی کوششیں اب بھی جاری ہیں ۔ابھی تک بقول شخصے، نون لیگ سے کوئی ”شین لیگ” یا ”میم لیگ” تو برآمد نہیں ہو سکی ہے لیکن نون لیگ کے اندر سے کہیں کہیں سے نواز شریف سے عدم اتفاق کرنے کی ہلکی ہلکی آوازیں اُٹھی ہیں ۔ شرقپور شریف سے نون لیگ کے معروف منتخب رکنِ پنجاب اسمبلی، میاں جمیل احمد شرقپوری، کی واضح آواز ان میں سے ایک ہے ۔ میاں جمیل صاحب اور اُن کا خانوادہ ایک زمانے میں نون لیگ اور میاں نواز شریف کے سچے عشاق میں شمار ہوتا تھا ۔ جب سے مگر نون لیگ کے ”ماڑے” دن شروع ہُوئے ہیں ، جمیل احمد شرقپوری صاحب کے پاؤں تلے سے وفاداری کی زمین تیزی سے کھسکتی نظر آئی ہے ۔ وہ پنجاب اسمبلی کے اُن نون لیگی ارکان میں سے ایک ہیںجو اپنی پارٹی ڈسپلن سے انحراف کرتے ہُوئے مبینہ طور پر وزیر اعلیٰ پنجاب کو اپنی محبتوں کا یقین دلا چکے ہیں ۔نون لیگی ایم پی اے میاں جمیل احمد شرقپوری نے نواز شریف کی 20ستمبر کے خطاب سے واضح الفاظ میں اختلاف اور ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہُوئے میڈیا میں جگہ بنائی ہے ۔ اُنہوں نے لندن میں فروکش اپنے قائد کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ اُن کے اختلاف سے قیافے لگانے والوں نے یہ اندازہ لگایا ہے کہ” نون لیگی ہی اپنے قائد(نواز شریف)کو پارٹی سے فارغ کر دیں گے۔” اور یوں نون لیگ لخت لخت ہو جائیگی ۔ ستمبر2020ء کے آخری ہفتے میں میاں جمیل شرقپوری سے منسوب یہ الفاظ میڈیا کی زینت بنے :” نواز شریف کی تقریر قومی مفاد کے خلاف تھی۔ نون لیگی قیادت نے اے پی سی کے فورم اور سوشل میڈیا کے ذریعے بھارت اور مودی کی زبان بولی۔ مجھ سمیت تمام محبِ وطن پاکستانی اس منفی مؤقف سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہیں۔اداروں کے خلاف نوازشریف کے مؤقف کی مَیں تائید نہیں کروں گا”۔ اس بیان کے ایک روز بعد اُنہوں نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا:” قائد(نواز شریف) سے ایسی کمزور بات نہیں ہونی چاہیے تھی۔ اُن کی بات سے دل دُکھا۔اے پی سی میں نواز شریف کی فوج مخالف تقریر قومی مفاد کیخلاف ہے۔انہوں نے جذبات میں آکر ایسی باتیں کیں۔ اُن سے کہوں گا جذبات میں آکر قومی اداروں کو نشانہ مت بنائیں۔اُن ایسی شخصیت سے ایسی بات نہیں ہونی چاہیے تھی”۔ اس تنقید پرمسلم لیگ (ن) پنجاب کے جنرل سیکرٹری، اویس لغاری، نے پارٹی کے صوبائی صدر، راناثنا اللہ، کی ہدایت پر جلیل احمد شرقپوری کی رکنیت معطل کرتے ہوئے ایک ہفتے میں جواب طلب کیا۔ جلیل شرقپوری کو بھیجے گئے نوٹس میں کہا گیا تھاکہ” پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی قطعا ً قابلِ قبول نہیں۔ جلیل شرقپوری ایک ہفتے میں وضاحت پیش کریں”۔اس حوالے سے پارٹی کے صوبائی صدر، رانا ثنا اللہ، کا کہنا تھا :” جلیل احمد شرقپوری کے جواب نہ دینے پر پارٹی الیکشن کمیشن سے رابطہ کرے گی اور انہیں اسمبلی نشست سے ڈی سیٹ کرانے کے لئے ریفرنس دائر کرے گی”۔اس پر میاں جلیل شرقپوری کی طرف سے جواب آیا کہ” ابھی مجھے کسی قسم کا شوکاز نوٹس نہیں ملا۔ جب نوٹس ملے گا تو اس کا ضروری جواب دوں گا۔ پارٹی رکنیت معطل کرنے کا بھی مجھے علم نہیں”۔نون لیگ نے میاں جلیل شرقپوری کو نوٹس تو ضرور بھیجا مگر اس کا نتیجہ ابھی تک صفر ہی ہے ۔ دوسری جانب دیکھا جائے توپی ٹی آئی قیادت نون لیگی میاں جلیل اور دیگر نصف درجن باغی نون لیگی ارکان صوبائی اسمبلی کی ”بغاوت” سے خوش ہے ۔ پنجاب کے وزیر اطلاعات ، فیض الحسن چوہان، نے مسرت سے یوںگرہ لگائی :” 50نون لیگی ایم پی اے میاں جلیل شرقپوری کے ہمنوا بن چکے ہیں۔” کئی دن گزر چکے ہیں مگر ابھی تک میاں جلیل کی طرف سے کوئی جواب سامنے آیا ہے نہ اویس لغاری کا نوٹس بنام میاں شرقپوری اپنی کوئی عوامی جھلک دکھا سکا ہے ۔ نون لیگ کو چاہنے والے اس منظر سے مایوس ہیں ۔ ابھی یہ ”مایوسی” کم نہ ہُوئی تھی کہ نون لیگ کے صدر، میاں شہباز شریف، نے لاہور کے چند اینکروں اور سینئر اخبار نویسوں کو اپنے ہاں دعوت دی ۔ اس ”دعوت” کی جو باتیں سامنے آئی ہیں ، اُن کے تو یہی معنی اخذ کئے گئے ہیں کہ برادرِ خورد بوجوہ یا اپنے مزاج کے عین مطابق ابھی ”مفاہمت” کے تار سے محبوبانہ بندھے ہُوئے ہیں ۔ اُن کے تازہ بیانئے سے نواز شریف کے تقریری موقف سے کچھ کچھ اختلاف کی بُو آ رہی ہے ۔ شائد چھوٹے میاں صاحب ”ماڑے” دنوں سے گبھرا گئے ہیں جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے ۔ اِن پُر آزمائش ایام میں ایک معروف نون لیگی رہنما، طلال چودھری، کے حوالے سے ایک نیا اور پُر اسرار ”ڈرامہ” ظہور پذیر ہُوا تو نون لیگی مخالف قوتوں کو وار اور حملہ کرنے کا نیا بہانہ اورموقع میسر آیا ہے ۔ کوئی بات تو ہے جس کی طلال چودھری کی طرف سے ابھی تک پردہ داری کی جارہی ہے حالانکہ اب تو خاصے دن گزر چکے ہیں۔” تنظیم سازی” کے دعوے سے نون لیگی رہنما نے اپنی پارٹی کی کوئی خدمت نہیں کی ہے ۔ کسی سیانے نے شائد درست ہی کہا تھا: ماڑے دنوں کا سورج طلوع ہوتا ہے تو غروب ہونے کا نام ہی نہیں لیتا۔ تو یہ سورج ابھی غروب یوں بھی نہیں ہورہا ہے کہ شہباز شریف جیل بھیجے جا چکے ہیں اور اُنہیں عام قیدیوں کی طرح بی کلاس دی گئی ہے ۔ شہباز شریف نے تو کبھی اس زندگی کا خواب بھی نہیں دیکھا تھا؛ چنانچہ وہ اس بھیانک خواب سے نکلنے کیلئے ہاتھ پاؤں بھی مارتے دکھائی دے رہے ہیں ۔ مثال کے طور پر 22اکتوبر2020ء کو یہ خبر سامنے آئی ہے کہ ”کچھ خاص نون لیگی” جیل میں خفیہ طور پر شہباز شریف سے ملے ہیں ۔ سنا ہے کہ ”کسی” کی سفارش پر وہ جیل پہنچے اور حوالہ زنداں شہباز شریف سے کچھ خاص باتیں کی ہیں ۔ اس ملاقات کا بظاہر مطلب یہ بھی ہے کہ شہباز شریف ماڑے دنوں سے نجات پانے کے شدید خواہاں ہیں لیکن اس ”خبر”کا منفی پہلو یہ سامنے آیا ہے کہ مبینہ طور پر لندن میں بیٹھے نواز شریف نے شہباز شریف اور اُن سے ملنے والے سینئر تین نون لیگی رہنماؤں سے سخت ناراضی کا اظہار کیا ہے ۔ اس ملاقات کا سب سے مزیدار پہلو یہ ہے کہ نواز شریف اسلئے ناراض ہیں کہ” جب مَیں نے واضح الفاظ میں کہہ رکھا ہے کہ ”کسی” سے نہیں ملنا تو پھر ”کسی” سے مل کر شہباز شریف سے کیوں ملاقات کی گئی ”؟گویا نون لیگی قیادت اندر خانے ”کسی” سے خفیہ طور پر ملنے کی پرانی عادتوں سے باز نہیں آ رہی لیکن بظاہر عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکی جارہی ہے کہ نون لیگ خالصتاً ”عوامی جذبوں” کی ترجمانی کررہی ہے ۔ تازہ ملاقات نے نواز شریف اور نون لیگ کے ”اخلاص” کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے ۔
نوٹ : ابھی کالم اختتام کو پہنچا ہی تھا کہ خبر آگئی کہ سپریم کورٹ نے محترم جسٹس فائز عیسیٰ کے حق میں فیصلہ سنا دیا ہے ۔ دونوں مذکورہ فیصلے شاندار اور مستحسن ہیں ۔ جسٹس فائز عیسیٰ کے حق میں آنے والے فیصلے سے ملک پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے ۔ہم بجا طور پر اپنی عدالتِ عظمیٰ پر فخر کر سکتے ہیں۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.