Daily Taqat

شبِ انتظار کی کشمکش میں نہ پوچھ کیسے سحر ہوئی

عمومی طور پر دیکھا گیا ہے کہ انتخابات کے نتیجے میں جب کوئی نئی سیاسی جماعت اقتدار کے تخت پر براجمان ہوتی ہے تو سابقہ مقتدر پارٹی کو سخت دھچکا پہنچتا ہے۔ اقتدار کسے عزیز نہیں؟ اور کون سا ایسا سیاستدان ہے جو اقتدار کے ایوانوں سے نکل کرخوشی خوشی حزبِ اختلاف کی سیٹوں پر بیٹھنا پسند کرتا ہے؟ ہمارے ہاں تو اس حوالے سے تاریخ بڑی ہی افسوسناک ہے ۔ جمہوری معاشروں میں مگر اس تبدیلی کو خوش دلی سے قبول کیا جاتا ہے اور سابقہ مقتدر جماعتیں اپنے نئے حکمرانوں کی رہبری اور رہنمائی کے فرائض بھی انجام دیتی ہیں ۔ مقصد یہ ہوتا ہے کہ ملک کے عوام، معیشت اور سیاسی روایات کو کوئی گزند اور نقصان نہ پہنچ سکے۔ ہمارے ہاں مگر بدقسمتی سے اُلٹی ہی گنگا بہہ رہی ہے۔ انتخابات کے نتیجے میں شکست خوردہ سیاسی جماعتیں نَومنتخب حکمرانوں اور نئی حکومت کی راہ میں ہر قسم کی اور ہر ممکنہ رکاوٹیں ڈالنے کی کوشش کرتی ہیں۔ یہ انتقامی جذبہ اسقدر قوی اور غالب ہے کہ قومی مفادات اور ملک کی سلامتی کو بھی داؤ پر لگانے سے گریز نہیں کیا جاتا۔ ہماری ہر سیاسی جماعت اور ہمارا ہر حکمران خود کو بادشاہ بنا کر تادیر اقتدار کے ایوانوں میں رہنے کے خواب دیکھتا رہتا ہے۔اس خواہش نے ہمارے ہاں بڑی تباہیوں کو جنم دیا ہے۔ جمہوری لبادے میں بادشاہ بننے کی یہ ناقابلِ رشک خواہش ہی تھی جس نے ذوالفقار علی بھٹو ایسے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور تجربہ کار سیاستدان کو انتخابات میں دھاندلی کرنے پر مجبور کیا۔ اس اقدام نے جو نتائج دکھائے ، وہ ہم سب دیکھ چکے ہیں اور یہ سب اب ہماری سیاسی اور اقتداری تاریخ کا حصہ ہے۔ لیکن کہا جاتا ہے کہ تاریخ کا سبق یہ ہے کہ تاریخ سے کوئی سبق نہیں لیتا۔ ہماری موجودہ اپوزیشن سے وابستہ سیاستدان بھی جمہوری قبا میں غیر جمہوری ہتھکنڈے اختیار کرکے برسرِ اقتدار پارٹی اور حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی راہ پر چل پڑے ہیں۔ اور واقعہ یہ ہے کہ ملک بھر میں اسے تحسین اور تعریف کی نظر سے نہیں بلکہ ناپسندیدگی اور نفرت کی نظر سے دیکھا جارہا ہے۔ تقریباً تین ماہ قبل جونہی عمران خان اور پی ٹی آئی نے اقتدار کی لگام ہاتھ میں لی، حکومت کے خلاف زبان درازیاں شروع ہو گئی تھیں۔ پیپلز پارٹی کے منتخب رکن قومی اسمبلی بلاول بھٹو زرداری نے حلف اُٹھاتے ہی نہائت بیہودہ اور ناشائستہ لہجے میں جب عمران خان کو ”الیکٹڈ پرائم منسٹر” کہا تو ملک بھر میں اس لہجے کو سخت ناپسند کیا گیا تھا۔ اس انداز اور اسلوب ہی سے واضح ہو گیا تھا کہ پیپلز پارٹی آئندہ ایام میں اسمبلی کے اندر اور اسمبلی سے باہر کیا گُل کھلانا چاہتی ہے اور اس کے دل میں کیا کیا خبث بھرا ہے۔ اس میں تو کوئی شک ہے ہی نہیں کہ پیپلز پارٹی اور نون لیگ نے اپنے اپنے عہدِ اقتدار میں اس ملک اور اس ملک کے غریب اور بے بس عوام کو لُوٹنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ ان دونوں جماعتوں کے نام نہاد اکابرین نے اپنی لُوٹ مار سے ملک کے منہ پر کالک ملی ہے۔ ہمیں ساری دُنیا کے سامنے بے اعتبار کیا گیا ہے۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ اگر آزاد حکومتی ادارے ان لُٹیروں کی باز پرس کرتے ہیں، اُنہیں نیب اور دیگر عدالتوں کے رُوبرو لایا جاتا ہے تو یہی لُٹیرے اور ڈاکو واویلا مچاتے ہُوئے کہتے ہیں: ہمارے خلاف انتقامی کارروائیاں ہو رہی ہیں اور یہ کہ جمہوریت خطرے میں پڑ گئی ہے۔ آج جن سنگین مقدمات کے تحت اور جن شرمناک بدعنوانی کے کیسوں میں نون لیگی اور پیپلز پارٹی قیادت کو عدالتوں اور نیب کے کٹہروں میں بار بار حاضر ہونا پڑ رہا ہے، اِن میں سے ایک مقدمہ بھی پی ٹی آئی کی موجودہ مرکزی حکومت کے تحت نہیں بنایا گیا ہے اور نہ ہی عمران خان حکومت نے ”نیب” کے سربراہ کومنتخب کرنے میں کوئی کردار ادا کیا تھا۔ یوں کرپشن کے مقدمات کی کڑکی میں بُری طرح پھنسے آصف زرداری اور نواز شریف وغیرہ کا یہ کہنا ہی بنیادی طور پر جھوٹ پر مبنی ہے کہ پی ٹی آئی حکومت اُن سے سیاسی انتقام لے رہی ہے۔ ہاں یہ درست ہے کہ عمران خان صرف اِسی نعرے اور دعوے پر انتخاب میں کامیاب ہُوئے ہیں کہ اقتدار میں آ کر کرپٹ ٹولے سے لُوٹی گئی رقوم واپس لے کر قوم کے خزانے میں ڈالوں گا۔ اور ابھی تو عمران خان نے کوئی قدم اُٹھایا ہی نہیں ہے کہ پہلے ہی ان دونوں کی چیخیں آسمان تک بلند ہو رہی ہیں۔ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جب عمران حکومت کی طرف سے ان لُٹیروں کا حساب شروع ہوگا تو زرداری اور شریف خاندانوں کے بدعنوانوں کی حالت کیا ہوگی؟ایسے میں اگر وزیر اطلاعات چودھری فواد قومی اسمبلی یا سینیٹ کے فلورز پر کھڑے ہو کر غیر مبہم الفاظ میں شریفوں اور زرداریوں کو ”لُٹیرے” اور ”ڈاکو” کے نام سے یاد کرتے ہیں تو یہ لوگ اور ان کے حالی موالی بُرا مان جاتے ہیں۔ اُن کے خلاف احتجاج کیا جاتا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ چور کو چور نہ کہا جائے تو کس نام سے پکارا جائے؟ دراصل زرداری وغیرہ کو کچھ کچھ اُمید تھی کہ نئی حکومت کے دوران اُن کے کرتوتوں پر پردہ پڑا رہے گا اور کرپشن کہانیاں ماضی کا قصہ قرار دے کر بھلا دی جائیں گی اور یوں اُن کا اُلّو سیدھا ہی رہے گا اور وہ تادیب اور سزا سے بھی بچیں رہیں گے۔ لیکن اللہ کی گرفت تو بڑی مضبوط ہُوا کرتی ہے۔ پی ٹی آئی کی حکومت تو شائد زرداری کے مالی جرائم سے در گزر کر ہی لیتی لیکن ایک عدالت آسمان پر بھی لگی رہتی ہے ۔ اچانک ہی سندھ کے بینکوں اور دیگر ذرائع سے نامعلوم اکاؤنٹس کے نام پر 35ارب ڈالر کی منی لانڈرنگ کی ہوشربا اور تہلکہ خیز خبر سامنے آگئی ۔ اس خبر کے مرکزی کردار مبینہ طور پر آصف زرداری، اُن کی ہمشیرہ محترمہ فریال تالپور اور اُن کے کئی فرنٹ مین بتائے گئے ۔ تب سے سابق صدرِ پاکستان اور حالیہ رکن قومی اسمبلی آصف زرداری ایک نئی افتاد کا شکار ہیں اور آئے روز عدالتوں اور پیشیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ اُنہیں اُمید تھی کہ جلد ہی اُن کی جان چھوٹ جائے گی لیکن ایسا نہیں ہورہا ہے تو اب وہ حکومت کو بلیک میل کرنے اور دھمکیاں دینے پر اُتر آئے ہیں۔مگر اُن پر واضح رہنا چاہئے کہ عمران خان جس مٹی کا بنا ہے ، وہ بلیک میلنگ میں نہیں آ سکتی۔ اداروں کی اینٹ سے اینٹ بجانے کا دعویٰ کرنے والے آصف زرداری نے چند روز پہلے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں جب یہ اعلان کیا کہ” پی ٹی آئی سے حکومت نہیں چل رہی ” اور یہ کہ ”ساری حزبِ اختلاف کو متحد ہو کر عمران خان کے خلاف اسمبلی میں قرار داد لانی چاہئے” اور یہ کہ”نواز شریف نے ہم سے بہت زیادتیاں تو کی تھیں لیکن اُن سے ناراضی مستقل نہیں ہے” تو یہ اعلانات پی ٹی آئی کے مخالفین کے دلوں میں ایک نئی اُمنگ پیدا کرنے اور اُمید کا ایک نیا چراغ جلانے کا باعث بنا ہے۔ خاص طور پر نواز شریف اور نون لیگ کی تو بانچھیں کھِل گئی ہیں۔ ایک محاورے کے مطابق: بلّی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا ہے!!انتخابات میں بُری طرح شکست کھانے والے مولانا فضل الرحمن بھی نہال ہو گئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مثلّث کے یہ تینوں ضلعے مجرم ہیں۔ قوم کے اجتماعی مجرم۔ زرداری نے خوشی خوشی مولانا کے گھر جا کر ملاقات بھی کی ہے اور شنید ہے کہ اس ملاقات میں مولانا ”صاحب” نے نواز شریف کا ایک اہم پیغام بھی آصف زرداری کو پیش کیا ہے ، یہی کہ نواز شریف آگے بڑھ کر آپ سے مصافحہ کرنے کے شدید خواہشمند ہیں۔ نواز شریف نے براہِ راست تو ابھی تک اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے لیکن اپنی پارٹی کی ترجمان مریم اورنگزیب کی زبانی یہ ضرور کہلوایا ہے کہ نون لیگ میں پارٹی سطح پر اس بارے سنجیدگی سے غور ہو رہا ہے۔ مولانا فضل الرحمن تو اتنے بے قرار ہیں کہ اُن کی طرف سے بین السطور یہ اعلان بھی کر دیا گیا ہے کہ 31اکتوبر2018ء کو عمران خان حکومت کے خلاف قرار داد سامنے لائی جائی گی۔ اس پر وزیر اطلاعات نے ترنت جواب دیتے ہُوئے کہا ہے کہ” زرداری کے پاس ووٹ نہیں صرف نوٹ رہ گئے ہیں، قرار دادوں سے کچھ نہیں ہوگا۔”اس ایک جملے ہی میںنوجوان وزیر اطلاعات نے مخالفین اور سازشیوں کا پھلکا اڑا دیا ہے۔ سوال یہ کہ مبینہ طور پر یہ قرار داد کیا اپنی نوعیت میں وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کے مترادف ہو گی؟ پہلے تو ہم یہ کہیں گے کہ اب جبکہ حکومت کو آئے 100دن بھی نہیں ہُوئے، حزبِ اختلاف کی طرف سے کسی ایسی قرار داد کا لانا پرلے درجے کی حماقت اورغیر دانشمندی ہو گی۔ یہ ملک کی سلامتی اور استحکام کو بلڈوز بھی کر سکتی ہے۔ ٹھیک ہے ناکامی اور شکست نے مولانا فضل الرحمن کے حواس مختل کررکھے ہیں اور وہ پاگل پَن میں کوئی بھی قدم اُٹھا سکتے ہیں لیکن یاد رکھا جائے ناکامی اور نئی شکست اُن کا مقدر بنے گی۔ دوسری اہم بات ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اس ضمن میں کوئی بھی قرار داد سامنے لانے کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ حزبِ اختلاف کے خلاف سخت عوامی ردِ عمل سامنے آئے گا۔ پاکستان کے بائیس کروڑ عوام خان کی حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ یہ درست ہے کہ پی ٹی آئی کی مرکزی حکومت اتحادیوں کے نخروں کے سہارے کھڑی ہے لیکن یہ اتحادی ہر گز یہ نہیں چاہیں گے کہ اِن نازک حالات میں عمران خان کو نادم کر دیا جائے۔ ہم بخوبی سمجھتے ہیں کہ یہ سارا کھڑاگ محض اسلئے رچایا جارہا ہے کہ خانصاحب کی حکومت پر اتنا دباؤ ڈالا جائے کہ یہ حکومت اور متعلقہ خاص ادارے نواز شریف اور زرداری کی اربوں کی کرپشن اور سنگین عدالتی مقدمات سے صرفِ نظر کرکے اُنہیں کسی نئے این آر او کے تحفے سے نواز دیا جائے ۔ ایسا ہونا مگر ناممکن ہے۔ عنوانات سے عیاں ہے کہ اِس بار ان ملزمان کی جان چھوٹنے والی نہیں ہے۔نواز شریف، آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمن تینوں ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر ،اور یکجا ہو کر اور بیک زبان یوں غزل سرا ہونا چاہتے ہیں: آ ملیں گے سینہ چاکانِ چمن سے سینہ چاک۔لیکن ہمیں اُمیدِ واثق ہے کہ یہ دامن چاک اور سینہ چاک مثلث کامیاب نہیں ہو سکے گی۔یہ گٹھ جوڑ اپنے باطن میں گہری منافقت رکھتا ہے ، اسلئے حکومتی ایوانوں میں اطمینان ہی کی لہر محسوس کی جارہی ہے۔ نواز شریف کی طرف سے اداروں پر دباؤ ڈالنے کی کوششیں بہرحال مسلسل جاری ہیں۔ حال ہی میں نون لیگ کے رہنما نہال ہاشمی نے ایک بار پھر اداروں کے خلاف جس دریدہ دہنی کا مظاہرہ کیا ہے، اسے اِنہی قابلِ مذمت کوششوں کا حصہ سمجھنا چاہئے۔ نہال ہاشمی انتہائی ڈھٹائی سے افواجِ پاکستان پر حملہ آور ہُوئے ہیں۔ اُنہیں پہلے بھی عدالت کی طرف سے گستاخی کی سزا مل چکی ہے لیکن وہ باز نہیں آرہے۔ اس کا کیا مطلب لیا جائے؟ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر ”نیب” کا ادارہ اور افسران پوری تندہی کے ساتھ کرپٹ عناصر اور قوم کے ملزموں کے خلاف بروئے کار آئے ہوتے تو آج شریفوں اور زرداریوں کو پھر اپنے پاؤں پھیلانے کا موقع نہ ملا ہوتا۔ نیب نے یقینا بیشمار غفلتوں کا مظاہرہ کیا ہے ۔ 23اکتوبر2018ء کو سپریم کورٹ نے بھی ”نیب” کی غفلتوں اور کاہلیوں کی بجا طور گرفت بھی کی ہے اور سرزنش بھی۔ ”پلی بار گیننگ ” کے لالچ نے ”نیب” کے اعصاب کو متاثر کیا ہے ۔ ”نیب” کے بارے میں سپریم کورٹ کے یہ الفاظ قابلِ غور ہیں:” نیب نے کرنا کچھ نہیں لیکن سب کو عذاب میں ڈال رکھا ہے” اور یہ کہ”نیب سیاست زدہ کیوں ہورہا ہے ؟ کچھ مقدمات میں پورا زور لگاتا ہے اور کچھ کو پوچھتا تک نہیں۔” یہ الفاظ حقیقت کی نشاندہی کررہے ہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ اگر ”نیب” مضبوط بنیادوں پر کھڑی ہوتی تو مجرم قرار دئیے گئے نواز شریف، مریم نواز اور صفدر اعوان کی سزائیں کبھی معطل نہ ہو تیں۔ یوں لگتا ہے کہ ”نیب” کے ساتھ اب ایف بی آر والے بھی مل گئے ہیں ۔ 24اکتوبر کو یہ چنگھاڑتی ہُوئی خبر تمام اخبارات کی زینت بنی ہے :” ایف بی آر کا ایف آئی اے کو بیرونِ ملک اثاثے رکھنے والوں کی معلومات دینے سے انکار۔” اس خبر کی تفصیلات بڑی ہی حوصلہ شکن ہیں۔ اور اگر حالات ایسے ہی رہے تو عمران خان کی حکومت اُن مجرم عناصر کو کیفرِ کردار تک کیسے پہنچا سکے گی جو ملک کا پیسہ لُوٹ کر بیرونِ ملک اثاثے بناتے رہے؟ کیا پی ٹی آئی حکومت کے سارے دعوے دھرے کے دھرے رہ جائیں گے؟ہم صمیمِ قلب سے سمجھتے ہیں کہ ایسا ہر گز نہیں ہوگا اور نہ ہی وزیر اعظم کسی کو ایسا کرنے ہی دیں گے۔اُنہوں نے کرپٹ عناصر سے نمٹنے کا جو عہد اپنے عوام سے کررکھا ہے ، وہ اسے پورا کریں گے اور سب مجرمین اُنہی کے دَور میں کیفرِ کردار کو پہنچیں گے ۔ انشاء اللہ۔ ہمارے ساتھ پاکستان کی اکثریتی عوام بھی عمران خان کی نیت اور کمٹمنٹ پر گہرا یقین اور ایمان رکھتی ہے۔ عمران خان نے 24اکتوبر کی شام قوم سے جو تازہ خطاب کیا ہے، اس میں بھی اُنہوں نے واضح الفاظ میں قوم کو یقین دلایا ہے کہ کرپٹ گروہوں ، عناصر اور افراد کو کسی بھی شکل میں چھوڑا نہیں جائے گا۔ خانصاحب کا یہ اعلان قوم کے دل کی آواز ہے کہ یہ سب لوگ جو اُن کی حکومت کے خلاف سازشیں کررہے ہیں ، دراصل دباؤ ڈال کر اُن سے این آر او لینا چاہتے ہیں تاکہ اُن کے جرائم کا خاتمہ ہو سکے لیکن ”مَیں انہیں این آر او ہر گز نہیں دو ں گا، چاہے یہ ڈی چوک میں میرے خلاف دھرنا دے دیں ، چاہے یہ اسمبلیوں میں اُدھم مچا لیں، چاہے یہ پنجاب اسمبلی میں شور مچا لیں۔”ہم سمجھتے ہیں کہ اپنی کمٹمنٹ کے ساتھ یہ غیر مبہم اعلان کرکے وزیر اعظم نے ایک بار پھر قوم کا دل بھی جیت لیا ہے اور ان کا اعتماد بھی حاصل کیا ہے۔یہ کہنا مبالغہ نہیں ہوگا کہ وزیر اعظم کے اس تازہ ترین اظہارئیے اور بیانئے سے ملک بھر کے ظاہری اور خفی مخالفین اور کرپٹ عناصر کے دلوں پر لرزہ طاری ہے ۔ ان بدعنوانوں اور لُٹیروں کو کہیں بھی جائے پناہ نہیں ملے گی۔ جناب وزیر اعظم عمران خان کو یہ تازہ اعلان اُس وقت کرنا پڑا ہے جب وہ سعودی عرب کے دوسرے دَورے سے واپس وطن آئے ہیں۔ یہ دَورہ اپنے مقاصد اور خواہشات کے اعتبار سے نہائت کامیاب ٹھہرا ہے۔ پچھلے حکمرانوں اور مقتدرین نے اس ملک کے ساتھ جو کھلواڑ کیا اور اسے اربوں ڈالر کے قرضوں کی دلدل میں پھنسا کر جس طرح روانہ ہُوئے ہیں، اب قوم اور ملک کو اس چنگل سے نجات دلانے کیلئے عمران خان کو اِدھر اُدھر بھاگنا پڑ رہا ہے تاکہ کہیں سے مالی امداد حاصل کرکے ڈوبتی کشتی کو کنارے لگایا جائے۔ لُٹیرے اور اُن کی اولادیں تو اپنے مال کے ساتھ لندن، دبئی اور پیرس میں آرام کررہے ہیں لیکن پاکستان کو دلدل سے نکالنے کیلئے اب عمران خان کو تو ہاتھ پاؤں ہلانے ہی ہیں۔ ایٹمی پاکستان کی عزت کا بھی سوال ہے؛ چنانچہ وزیر اعظم پاکستان کو بھاگم بھاگ خادم الحرمین الشریفین کی دعوت پر سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض جانا پڑا ہے جہاں ولئی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی نگرانی میں سہ روزہ عالمی سرمایہ کاری کانفرنس کااہتمام کیا گیا تھا۔ اس عالمی کانفرنس میں ہمارے نَو منتخب وزیر اعظم عمران خان کی تقریر نہائت شاندار تھی۔ اُنہوں نے بعد ازاں بھری مجلس میںکئی سوالوں کے جواب جس اعتماد کے ساتھ دئیے، سامعین عش عش کر اُٹھے ۔ پاکستانی عوام کو بھی مسرت ملی ہے کہ اُن کا منتخب وزیر اعظم پورے قد کے ساتھ کسی بھی عالمی فورم میں کھڑے ہو کر جرأت اور وقار کے ساتھ کسی بھی موضوع پر بات بھی کر سکتا ہے اور فی البدیہہ مشکل سوالوں کے جواب بھی دے سکتا ہے۔ اُسے جواب دینے کے لئے کسی کی لکھی چِٹ پڑھنے کی احتیاج نہیں ہے۔ عمران خان کی ریاض میں اس شاندار پرفارمنس کی گونج ساری دُنیا میں سنائی دی گئی ہے۔ عرب میڈیا میں اس کے خوب چرچے ہُوئے ہیں۔ سعودی میڈیا بھی خانصاحب کے خطاب کی تعریف کرتا پایا گیا ہے۔ یہی دعوت دراصل سعودی فرمانروا جناب شاہ سلمان بن عبد العزیزاور سعودی ولئی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے مفصل ملاقاتوں کا سبب بھی بنی ہے۔ ان ملاقاتوں کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ سعودی محترم بادشاہ کی جانب سے پاکستان کو 6ارب ڈالر سے زائد کا امدادی پیکیج میسر آ گیا ہے۔ یہ دراصل وزیر اعظم عمران خان کی کامیاب شخصیت اور شاندار ڈپلومیسی کا بھی اعجاز ہے۔ اس شاہی اعانت کا فوری نتیجہ یہ نکلے گا کہ پاکستان شدید مالی دباؤ سے آزاد بھی ہو جائے گا اور کم از کم اگلے ایک سال کے لئے پاکستان کو تیل کی درآمد کے لئے ڈیڑھ ارب ڈالر کی ادائیگی کی فکر بھی نہیں رہے گی۔ سعودی پیکیج سے پاکستان کو درپیش بیلنس آف پیمنٹ کا بحران بھی ٹَل گیا ہے۔ گویا یہ امداد عمران خان کے لئے زبردست ریلیف اور کشائش کا باعث بنی ہے۔ سعودی عرب کا شکریہ کہ اُس نے عین شدید ضرورت کے وقت پاکستان کی دستگیری کی ہے۔ اس موقع پر ہمیں فارسی کی ایک کہاوت یاد آ گئی ہے: دوست آن باشد کہ گیرد دستِ دوست، در پریشان حالی و در ماندگی!!یعنی اصل دوست تو وہی ہے جو پریشانی اور آزمائش کے موقع پر دوست کا ہاتھ تھام لے۔ مالی پریشانیوں میں گھرے پاکستان کا ہاتھ تھام کر سعودی عرب نے اصلی اور کھرے دوست ہونے کا ثبوت فراہم کیا ہے۔ یہ دراصل سچے اور کھرے دل والے عمران خان کو اللہ کی طرف سے غیبی امداد بھی ملی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اللہ کریم اس عظیم اور بے لوث شخص سے ایٹمی پاکستان کیلئے کوئی بڑا کام لینا چاہتا ہے۔یہ سعودی امدادی پیکج درحقیقت ایک معجزہ بھی ہے ۔ اور اس امر کا ثبوت بھی کہ ہمیں عمران خان سے ہتھیلی پر سرسوں جمانے کے مطالبے سے پرہیز کرنا چاہئے۔ ہمیں صبر کے ساتھ عمران خان کی صلاحیتوں کو بروئے کار آنے کیلئے اُنہیں وقت دینا چاہئے۔ تب ہی اُن کی انتظامی صلاحیتوں کے جوہر کھل سکیں گے۔ اور جو لوگ بے صبری کا مظاہرہ کرتے ہُوئے اُن سے کسی جادو ئی طاقت سے سارے مسائل چٹکی بجا کر حل کرنے کی توقع لگائے بیٹھے ہیں، خود سے بھی زیادتی کررہے ہیں اور وزیر اعظم کے ساتھ بھی۔ وہ چند دنوں میں ملائشیا بھی جارہے ہیں اور اگلے ماہ کے پہلے ہفتے چین بھی پہنچ رہے ہیں۔چین بے چینی سے ہمارے وزیر اعظم کا منتظر ہے۔ اُمید کی جارہی ہے کہ وہاں سے بھی پاکستان کو مالی امداد دئیے جانے کی کوئی سبیل نکل آئے گی ۔متحدہ عرب امارات سے بھی معاملات چل رہے ہیں۔ وزیر اطلاعات نے مثبت نتائج نکلنے کی نوید سنائی ہے۔ اور اگر ایسا ہُوا تو ممکن ہے پاکستان کو آئی ایم ایف کے پاس نہ ہی جانا پڑے اور اگر بہ امرِمجبوری جانابھی پڑے گا تو پاکستان قرضہ لیتے وقت آئی ایم ایف کی ظالمانہ شرائط تسلیم نہیں کرے گا کہ ہمارے حکام بارگیننگ کی پوزیشن میں ہوں گے۔فی الحال تازہ ترین سعودی امدادی پیکج کی اساس پر پاکستان کے مالی معاملات پر فوری طور پر نہائت اچھے اثرات مرتّب ہُوئے ہیں۔ ایک ہی دن میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے لمبی چھلانگ لگائی ہے اور اس کا انڈیکس 39271پر آ گیا ۔ ماہرینِ معیشت کے نزدیک یہ واقعہ مثالی ہے اور موجودہ حکومت کے بہتر مستقبل کی نشاندہی کرتا ہے۔ روپے کی قیمت مستحکم ہُوئی ہے۔ ابھی آئندہ ایام میں مزید بہتری کے آثار سامنے آئیں گے ۔ انشاء اللہ۔ پاکستانی معیشت کو یک دم جو تازہ آکسیجن ملی ہے، نون لیگئے اور پیپلئے مایوس ہُوئے ہیں۔ اُن کی ذہنیت پر ہمیں افسوس ہے۔ یہ دُنیا کی غالباً واحد اپوزیشن ہے جو ملک کی بہتر معاشی صورتحال پر غمگین ہو رہی ہے۔ اس سے بڑی بدبختی اور کیا ہو سکتی ہے؟ نون لیگ نے مطالبہ کیا ہے کہ سعودی عرب سے حاصل کردہ تازہ مالی پیکیج کے بدلے عمران خان نے سعودیوں کی جن شرائط کو تسلیم کیا ہے، وہ سامنے لائی جائیں۔سادہ سی بات تو یہ ہے کہ اس ضمن میں ہمارے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی جب یہ کہتے ہیں کہ ”سعودی پیکج غیر مشروط ہے ” تو شرفا ء کی طرح ہم سب کو ان الفاظ پر یقین کر لینا چاہئے۔ لیکن نون لیگ بیچاری کے اپنے مسائل ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ یہ پارٹی کس منہ سے یہ مطالبہ کر سکتی ہے؟ کیا اِس نے خود آج تک قوم کے سامنے وہ شرائط رکھی ہیں جن شرائط کے تحت دونوں شریف برادران نے لاہور کی اورنج ٹرین کے لئے اربوں ڈالر کا قرضہ لیا تھا؟ ان لوگوں کی اپنی حرکتیں اتنی مشکوک رہی ہیں کہ ایک عدالت کے پوچھنے پر بھی اورنج ٹرین کے لئے حاصل کردہ غیر ملکی قرضوں کی تفصیلات اور شرائط سامنے نہیں لائے تھے۔ سات سال تک سعودی عرب کی شاہی روٹیاں توڑنے والے اقتدار میں آکر قوم کو ہمیشہ دھوکے اور اندھیرے میں رکھتے رہے۔ اب انہیں قوم کا غم ستانے لگا ہے۔ عوام کی تو توقع ہے کہ اب حکمران ان کے دن پھیریں گے لیکن حکمران مخالفوں نے تو ابھی سے حکمرانوں کے سامنے دیواریں کھڑی کرنی شروع کر دی ہیں۔اب تو عوام اپوزیشن کو کوستے نظر آ رہے ہیں اور کہتے سنے گئے ہیں کہ!
شبِ انتظار کی کشمکش میں نہ پوچھ کیسے سحر ہوئی
کبھی اک چراغ جلا دیا کبھی اک چراغ بجھا دیا؟


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »