Daily Taqat

سینیٹ کے انتخابات کا غلغلہ اور پی ڈی ایم کا آئندہ کا لائحہ عمل

وطنِ عزیز میں مہنگائی اورانتہا درجے کی بے روزگاری نے جہاں عوام کی کمر توڑ رکھی ہے ، وہاں اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان ملک و سماج سے مایوس ہوتے جارہے ہیں ۔ بے روزگار تعلیم یافتہ نوجوانوں میں شدید قسم کی مایوسی کسی نئے طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے ۔ حکومت کے وزیر منصوبہ بندی، اسد عمر، نے اگلے روز خود تسلیم کیا ہے کہ گزشتہ سال، ڈیڑھ سال کے دوران دو کروڑ پاکستانی بے روزگار ہوئے ہیں ۔ اگر اس سرکاری بیان پر بھی یقین کر لیا جائے تو یہ صورتحال خاصی الارمنگ خیال کی جانی چاہئے مگر حکومت کو اس کی کوئی پروا ہے نہ فکر ۔ حکومت کو عوامی بہبود اور عوام کے بھلے کی کوئی فکر نہیں ہے ۔ عمران خان کو آجکل اگر کوئی فکر اور پریشانی لاحق ہے تو بس یہ ہے کہ وہ کسی طریقے سے پاکستانی سینیٹ ( ایوانِ بالا) کے انتخابات جیت جائیں ۔ اس خواہش اور تمنا کو عملی جامہ پہنانے کیلئے عمران خان اور اُن کے سنگی ساتھی شب وروز ایک کئے ہوئے ہیں ۔ اُن کی بھاگ دوڑ قابلِ دید ہے ۔ سینیٹ کے ان انتخابات میں نون لیگ اور پیپلز پارٹی ،جو پی ڈی ایم کے بنیادی ارکان ہیں ، بھی دوڑیں لگا رہے ہیں ۔ یہ دوڑیں اسلئے قابلِ افسوس ہیں کہ پی ڈی ایم نے اجتماعی طور پر سینیٹ کے انتخابات میں حصہ لینے سے انکار کررکھا تھا ۔ وہ تو عمران خان کی حکومت گرانے جا رہے تھے ۔ مگر ادھر سے منہ کی کھانے کے بعد اب ڈھٹائی سے سینیٹ کے انتخابات میں حصہ لینے جا رہے ہیں ۔ اور جب پی ڈی ایم کے لیڈروں سے اس یو ٹرن بارے متوجہ کیا جاتا ہے تووہ شرمندہ ہونے کی بجائے اس بارے اپنی تاویلیں پیش کرنا شروع کر دیتے ہیں ۔ مثال کے طور پر پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمن کا نجی ٹی وی ( آج) کی اینکر محترمہ عاصمہ شیرازی کو دیا گیا تازہ ترین انٹرویو ۔ مولاناصاحب نے اس یو ٹرن پر نادم ہونے کی بجائے اُلٹا ارشاد فرمایا ہے کہ ”یہ ہماری اسٹریٹجی ہے۔ ہم سینیٹ کے انتخابات کو صرف پی ٹی آئی کیلئے کھلا چھوڑ نہیں سکتے ۔ کیونکہ ہمارے حصہ نہ لینے سے سینیٹ پھر ناہلوں سے بھر جائے گا۔” عجب تماشہ ہے ۔ حیرانی کی بات ہے کہ پی ڈی ایم کے سربراہ عوام میں اپنی نامقبولیت کا الزام بھی میڈیا کے سر تھوپنے کی کوشش کرتے ہیں ۔اطلاعات یہ ہیں کہ سینیٹ کے انتخابات کیلئے کاغذاتِ نامزدگی کا اجرا شروع ہو چکا ہے ۔ انتخابات کا شیڈول باقاعدہ11فروری کو شروع کیا جائے گا۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے اعلان کے مطابق، امیدواروں کو کاغذاتِ نامزدگی جمع کرواتے وقت پارٹی ٹکٹ منسلک کرنا ہوگا جبکہ آزاد امیدواروں کے لئے یہ شرط لازمی نہیں ہے ۔ اسلام آباد کیلئے دو نشستیں ہوں گی ۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ انتخابی اخراجات کی حد صرف پندرہ لاکھ روپے ہوگی لیکن ہم نے دیکھا ہے کہ جب سینیٹ کا رَن پڑتا ہے تو پندرہ لاکھ روپے کی شرط ہوا میں اُڑ کر رہ جاتی ہے ۔بولیاں لگتی ہیں اور جو زیادہ بولی دیتا ہے ، مبینہ طور پر وہی کامیاب ٹھہرتا ہے ۔یہ انتہائی شرمناک واقعہ ہے ۔ پچھلے سینیٹ انتخابات میں مبینہ طور پر ایسا ہوتا رہا ہے لیکن کسی کو بھی اس بارے حیا نہیں آئی ۔ نہ بولیاں لگانے والوں کو اور نہ ہی اُنہیں جن کی بولیاں لگیں ۔ ایسے میں ہم کیسے اور کیونکر یہ توقع رکھ سکتے ہیں کہ ایوانِ بالا کے یہ ارکان قوم اور ملک کے مفادات میں کوئی قدم اٹھا سکیں گے ۔ ناممکن ۔ سینیٹ کے انتخابات میں پیسہ چلنے کی بازگشت ہماری عدالتوں کے ایوانوں تک بھی پہنچی ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان اسی لئے چاہتے ہیں کہ سینیٹ کے انتخابات سیکرٹ بیلٹ سے نہ ہوں تاکہ رشوت خوری کا بازار بند کیا جا سکے ۔ خان صاحب چاہتے ہیں کہ سینیٹ کے الیکشن اوپن بیلٹ پر کروائے جائیں ۔ اپنی اسی خواہش کو عملی جامہ پہنانے کیلئے چند دن پہلے عمران خان کے وزیر قانون جناب فروغ نسیم نے سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ کے زریعے کروانے کیلئے قومی اسمبلی میں آئین کی 26ویں ترمیم کا بل پیش کر دیا ۔ اپوزیشن نے اس پر سخت احتجاج کیا ۔ سنا گیا ہے کہ اپوزیشن نے ایجنڈے کی کاپیاں تک پھاڑ ڈالیں ۔حکومت سینیٹ کے انتخابات اوپن بیلٹ کے زریعے کروانے کا کیس عدالت میں بھی لے جا چکی ہے ۔اپوزیشن نے حکومت کی اس ترمیم کی شدید مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان اپنے دوستوں کو سینیٹ میں لانے کیلئے یہ سارے حربے بروئے کار لا رہے ہیں ۔ یہ الزام لگاتے ہوئے قومی اسمبلی میں سب سے توانا آواز نون لیگ کے ایم این اے جناب احسن اقبال کی سامنے آئی ہے ۔وزیر اعظم صاحب بجا طور پر یہ کہتے ہوئے سنائی دے رہے ہیں کہ ہم چاہتے ہیں کہ سینیٹ کیلئے ٹکٹ میرٹ پر دئیے جائیں تاکہ سینیٹ کے انتخابات میں پیسہ نہ چلے ۔ بات تو اُن کی اصولی طور پر درست ہے لیکن دوسری طرف اُن کے مخالفین بجا طور پر یہ کہتے ہیں کہ عمران خان نے جب حالیہ ایام میں اپنے ایم این ایزکو پچاس پچاس کروڑ روپے کے ترقیاتی فنڈز فراہم کرنے کا جو حیران کن اعلان کیا ہے ، یہ بھی دراصل ایک قسم کی رشوت ہی ہے تاکہ سینیٹ کے انتخابات کے دوران اپنے ارکانِ اسمبلی کو ادھر اُدھر ”بھٹکنے” سے بچایا جا سکے ۔ عوام اور سیاسی مخالفین کی طرف سے خاص طور پر یہ بات اسلئے بھی کہی جارہی ہے کہ عمران خان ماضی میں خود بھی ارکانِ قومی اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز دینے کی شدید مخالفت کرتے رہے ہیں ۔ وہ کہا کرتے تھے کہ یہ کام ( ترقیاتی کام کروانا)تو بلدیاتی اداروں کا ہے ۔ اب مگر مجبوراً عمران خان کو بھی وہی راستہ اختیار کرنا پڑا ہے جو اُن سے قبل کے حکمران کرتے رہے تھے ۔ گویا عمران خان بھی اقتدار کی نمک کی کان میں پہنچ کر خود بھی ”نمک” بن گئے ہیں ۔ اسی سلسلے میں ایک معروف کارٹونسٹ نے ایک طنزیہ کارٹون بنایا ہے جس میں شرارتی لکیروں کی زبانی دکھایا گیا ہے کہ عمران خان صاحب بھینسوں کے ایک باڑے میں بندھی بھینسوں کے آگے چارہ ڈال رہے ہیں ۔ یہ چارہ پاکستانی روپوں کی شکل میں ہے اور بھینسوں کے اوپر لکھا ہے : ارکانِ اسمبلی ۔ اگر یہ ”چارہ” اپنا اثر دکھا جاتا ہے تو یقیناً عمران خان سینیٹ کے ان انتخابات میں کامیاب و کامران ٹھہریں گے ۔ شائد یہی وہ یقین ہے جس کے تحت عمران خان ہمیں یہ کہتے سنائی دے رہے ہیں کہ ” سینیٹ کے الیکشن میں ہماری پارٹی ہی اکثریتی طور پر جیتے گی ۔” لیکن یہ بات بھی یاد رکھنے والی ہے کہ سپریم کورٹ نے بھی وزیر اعظم کی جانب سے ارکان اسمبلی کو فنڈز دینے کا نوٹس لے لیا ہے ۔بہرحال سینیٹ میں بالا دستی حاصل کرنے کیلئے عمران خان کی طرف سے بھی جوڑ توڑ بھرپور طریقے سے جاری ہے ۔ اُنہوں نے قاف لیگ کے کامل علی آغا کو سینیٹ کی نشست دلانے کی جو پکی یقین دہانی کروائی ہے ، یہ اس امر کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ اقدام کرکے دراصل عمران خان نے قاف لیگ کے چودھری برادران کی طاقت بھی تسلیم کی ہے اور یہ بھی کہ وہ جنہیں ایک آنکھ دیکھنے کیلئے تیار نہیں تھے ، اب مجبوری کے عالم میں اُنہیں اپنے ساتھ ملائے رکھنے کی تدبیریں کررہے ہیں ۔ دراصل یہی ہماری سیاست ہے جس میں وعدے، اصول اور سچائی کو کوئی اہمیت حاصل نہیں ہے ۔عمران خان تو چودھری پرویز الٰہی کے ایم این اے صاحبزادے ، مونس الٰہی ، کے بارے میں جو رائے رکھتے رہے ہیں ، یہ حقیقت کسی کی آنکھ سے اوجھل نہیں ہے ۔ عمران خان اپنے اتحادیوں کو ساتھ رکھنے کی جو تدبیریں اختیار کررہے ہیں ، اُن سے عیاں ہورہا ہے کہ وہ اپنے کئی قریبی ساتھی سینیٹ میں لانے میں کامیاب ہو جائیں گے ۔ مثلاً: عبدالحفیظ شیخ، شہزاد اکبر، زلفی بخاری، ثانیہ نشتر، عبدالرزاق داؤد، بابر اعوان، سیف اللہ نیازی، ڈاکٹر زرقا، نیلوفر بختیار وغیرہ ۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ وزیر اطلاعات جناب شبلی فرازایک بار پھر سینیٹ کے رکن بنا دئیے جائیں گے ، مگر اس کیلئے عمران خان کی خاص نظرِ کرم چاہئے ہوگی ۔ امید ہے کہ شبلی فراز صاحب اپنے باس کی یہ نظرِ کرم حاصل کر ہی لیں گے کہ وہ ابھی تک وزیر اعظم کی گڈ بکس میں شامل ہیں۔ سینیٹ کے انتخابات اسقدر اہم اور حساس ہیں کہ پی ڈی ایم کے4فروری2021ء کو اسلام آباد میں ہونے والے سربراہی اجلاس میں بھی اس کی بازگشت سنائی دی گئی ۔ پی ڈی ایم کے اس اجلاس کا بڑے دنوں سے انتظار تھا ۔ کہا جارہا تھا کہ اس میں بعض ایسے فیصلے بھی ہو سکتے ہیں جو عمران خان کی حکومت کو ہلا سکتے ہیں ۔ پی ڈی ایم ویسے تو اپنے پہلے مرحلے میں ناکام ہو چکی ہے کہ اس نے نہ تو اسمبلیوں سے استعفے دئیے ہیں اور نہ ہی 31جنوری کی ڈیڈ لائن تک عمران خان حکومت سے مستعفی ہوئے ہیں جیسا کہ پی ڈی ایم نے مطالبہ کررکھا تھا ۔ اکتیس جنوری گزر گئی مگر کچھ بھی نہ ہوا ۔ اس عمل سے پی ڈی ایم کو خاصا دھچکا لگا ہے ۔ اور اب کہا جارہا تھا کہ 4فروری کو ہونے والے پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس میں کوئی بڑا بریک تھرو ہوگا ۔ اس اجلاس میں مولانا فضل الرحمن، مریم نواز شریف اور بلاول بھٹو زرداری بھی شریک ہوئے اور دیگر آٹھ جماعتوں کے سربراہ یا اُن کے نمائندگان بھی ۔ یہ اجلاس پانچ گھنٹے جاری رہا لیکن پانچ گھنٹوں کے بعد پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے جو پُر ہجوم پریس کانفرنس کی ، وہ دراصل کھودا پہاڑ اور نکلا چوہا کے مترادف ثابت ہوا ۔ پی ڈی ایم کے سربراہ نے جو اعلانات کئے ، اُن میں مرکزی اور اہم ترین بس ایک ہی تھا اور وہ یہ کہ پی ڈی ایم 26مارچ2021ء کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرے گی ۔ بقول اُن کے، پورے ملک سے لوگ اس لانگ مارچ میں شریک ہوں گے ۔ باقی اعلانات تو محض خانہ پُری ہی تھے ۔ سننے والے حیران رہ گئے ہیں کہ اگر یہی اعلان کرنا تھا تو اس کیلئے مسلسل پانچ گھنٹے اجلاس جاری رکھنے کی کیا ضرورت تھی ؟ اس اجلاس سے لندن میں بیٹھے ( بلکہ مفرور) میاں نواز شریف نے جو تقریر فرمائی ، وہ بھی دراصل محض گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنے کے برابر ہی تھی ۔ میاں صاحب کے لہجے میں جان تھی نہ کوئی کھنک ۔ وہ خاصی حد تک کمپرومائزڈ محسوس کئے گئے ۔لوگ تو اس انتظار میں تھے کہ پی ڈی ایم کے اس سربراہی اجلاس میں دو اعلان تو ضرور ہی کئے جائیں گے ۔ ایک تو یہ کہ اپنے وعدے کے مطابق پی ڈی ایم اسمبلیوں سے کب استعفے دے گی اور دوسرا یہ کہ پی ڈی ایم وزیر اعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کس تاریخ کو لا رہی ہے ؟؟ لیکن ان دونوں باتوں میں سے ایک بھی بات سامنے نہ آ سکی ۔ اور جب اس بارے میں صحافیوں نے پی ڈی ایم کے صدر سے سوالات کئے تو اُنہوں نے پھیکی سی ہنسی کے ساتھ اسے ٹالنے پر فوقیت دی ۔ گویا پی ڈی ایم کا یہ سربراہی اجلاس ٹھس ہی ثابت ہوا ہے ۔ پیپلز پارٹی ( جو پی ڈی ایم کی ایک اہم رکن ہے ) کی طرف سے تو یہ اعلانات بلند آہنگ سے کئے جارہے تھے کہ اسمبلیوں سے مستعفی ہونے سے کہیں بہتر اور موثر یہ بات ہے کہ وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائی جائے ۔ معلوم ہوتا تھا کہ اس بارے میں آصف علی زرداری نے نواز شریف کو بھی اپنا ہمنوا بنا لیا ہے لیکن اب یہ کھلا ہے کہ اجلاس میں اس بارے تو سرے سے بات ہی نہیں ہوئی ہے ۔ اب ایسے گیارہ جماعتی حکومت مخالف اتحاد سے بھلا عوام کیا توقعات وابستہ کر سکتے ہیں؟ کہا جا سکتا ہے کہ پی ڈی ایم نے عوام کو مایوس ہی کیا ہے ۔ پی ڈی ایم کے بارے میں پیدا ہونے والا یہ منفی اور شکست خوردہ تاثر درحقیقت پی ٹی آئی اور عمران خان کی حکومت کی سیاسی فتح ہے ۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »