Daily Taqat

سیلاب کی تباہ کاریاں، عمران خان کی فارن فنڈنگ اور چودھری پرویز الٰہی کی فتح

مون سون کی بے پناہ بارشوں نے جہاں زرعی زمینوں اور موسم کو فائدہ پہنچایا ہے ، خشک سالی ختم ہُوئی ہے ، وہیں ان بارشوں نے ملک کے کئی حصوں میں تباہیاں پھیلا دی ہیں ۔ اب تک ان سیلابی تباہ کاریوں کے نتیجے میں ملک بھر میں 200افراد کے جاں بحق ہونے کی خبریں آ چکی ہیں ۔ وفاقی حکومت نے جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کیلئے دس لاکھ روپے اور سیلاب زدگان خاندانوں کے لئے پانچ لاکھ روپے فی خاندان مالی امداد دینے کا اعلان کیا ہے ۔ اللہ کرے وزیر اعظم شہباز شریف اپنے کہے پر جلد از جلد عمل بھی کر دیں ۔ دیکھا گیا ہے کہ ہمارے حکمران عوام سے کئے گئے وعدے جلد بھول بھی جاتے ہیں ، جیسا کہ عمران خان نے وزیر اعظم بن کر عوام سے کئے گئے اپنے سارے وعدے بھلا دئیے ۔ نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اب جبکہ برطانوی اخبار ”فنانشل ٹائمز” نے عمران خان بارے ایک تہلکہ خیز رپورٹ شائع کی ہے تو خان صاحب کے سبھی مخالفین نے خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا ہے ۔ سچی بات یہ ہے کہ ”فنانشل ٹائمز” کے تحقیق نگار رپورٹر، سائمن کلارک، نے بڑی محنت اور احتیاط کے ساتھ یہ عمران مخالف رپورٹ تیار کی ہے ۔ اس رپورٹ نے خان صاحب اور پی ٹی آئی کی مقبولیت کے قلعے میں شگاف ڈال دیا ہے ۔ نون لیگ اور اتحادی حکومت عمران خان اور پی ٹی آئی کو پریس کانفرنسوں میں چیلنج کررہی ہے کہ اگر برطانوی اخبار کی رپورٹ حقائق پر مبنی نہیں ہے تو عمران خان اور اُن کے حواری ”فنانشل ٹائمز” پر ہتک عزت کا مقدمہ دائر کرکے کروڑوں پونڈز کما سکتے ہیں ۔ ایسی ہمت ابھی تک مگر خان صاحب بوجوہ نہیں دکھا سکے ۔ اس منظر سے ساری دال ہی کالی نظر آ رہی ہے ۔ فارن فنڈنگ کے حوالے سے عمران مخالف یہ رپورٹ ایسے ایام میں سامنے آئی ہے جب چودھری پرویز الٰہی صاحب عدالتی فیصلے کے نتیجے میں وزیر اعلیٰ پنجاب بننے میں کامیاب ہوچکے ہیں اور جب چودھری خاندان میں تقسیم اور پھوٹ پڑ چکی ہے ۔ اس تقسیم کی بڑی وجہ یہ ہے کہ چوہدری شجاعت حسین کا خاندان حکومتی اتحادیوں کی حمایت کر رہا ہے جبکہ چوہدری پرویز الٰہی نے اپنی امیدیں پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ وابستہ کر لی ہیں۔پاکستان کی سیاست میں کئی دہائیوں تک اہم کردار ادا کرنے والے گجرات کے چوہدری خاندان میں اختلافات شدت اختیار کر چکے ہیں۔ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ چوہدری خاندان میں انتشار کی وجہ سے پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ کی ایک اہم حامی جماعت ،مسلم لیگ قاف ،بھی دو حصوں میں تقسیم ہو چکی ہے۔ ان کے بقول لگتا یوں ہے کہ اگلے عام انتخابات میں اسی خاندان کے افراد ہی آمنے سامنے ہوں گے۔چوہدری فیملی کے قریبی ذرائع بتاتے ہیں کہ اس خاندان کے کچھ خیر خواہوں نے سیاسی رقابتوں کے ہاتھوں تباہ ہوتی ہوئی خاندانی وحدت کو بچانے کے لئے بہت کوششیں کیں لیکن وہ کارگر ثابت نہ ہو سکیں۔ ایک سینئر تجزیہ نگار نے بتایا کہ چوہدری خاندان کے اختلافات ان کے لئے بھی بہت دکھ اور تکلیف کا باعث ہیں۔ان کے بقول پرویز الٰہی، چوہدری شجاعت سے کچھ عرصہ پہلے ملنے گئے تھے ،انہوں نے چوہدری شجاعت سے کہا تھا کہ وہ ان کے والد کی طرح ہیں۔ اور چوہدری شجاعت نے بھی چوہدری پرویز الٰہی کے لئے خیرسگالی کے جذبات کا اظہار کیا تھا۔ لیکن حمزہ شہباز کی حمایت میں لکھے جانے والے چوہدری شجاعت کے خط کے بعد اب لگتا ہے کہ حالات پوائینٹ آف نو ریٹرن تک پہنچ گئے ہیں۔ شنید ہے کہ پنجاب اسمبلی میں وزیراعلیٰ کے انتخاب والے دن جب مونس الٰہی، چوہدری شجاعت سے ملنے گئے تو انہیں چوہدری شجاعت نے مشورہ دیا کہ جیسے تم میرے ساتھ احترام سے بات کر رہے ہو،اس طرح اپنے بھائی (درحقیقت کزن) چوہدری سالک سے بھی بات کر لو لیکن اس وقت تک شاید دیر ہو چکی تھی ۔چوہدری خاندان کی باہمی رنجشیں بہت سے لوگوں کے لئے شدید حیرانگی کا باعث ہیں۔ آج سے کچھ عرصہ پہلے تک کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ رنجشیں خاندان کو اس حال تک پہنچا دیں گی۔چوہدری خاندان کی تاریخ پر نگاہ رکھنے والے ماہرین بتاتے ہیں کہ چوہدری ظہور الٰہی سیاست میں زیادہ دلچسپی رکھتے تھے اور وہ اپنی وضعداری، معاملہ فہمی اور مہمان نوازی کے لئے بہت معروف تھے دوسری طرف ان کے بھائی چوہدری منظور الٰہی کی دلچسپی کاروباری امور کی طرف زیادہ تھی۔ طبیعت کے فرق کے باوجود دونوں بھائیوں نے ساری زندگی ایک دوسرے کا خیال رکھا اور کبھی ایک دوسرے کو شکایت کا موقعہ نہیں دیا۔پرویز الٰہی، چوہدری منظور الٰہی کے بیٹے ہیں اور شجاعت حسین کے کزن ہیں۔ پچھلی چار پانچ دہائیوں میں چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الٰہی نے بھی خاندانی قربت اور وفا شعاری کی اسی روایت کو آگے بڑھایا۔ لیکن جب معاملات بچوں کے ہاتھوں میں آئے تو ان میں بزرگوں جیسی قربت پیدا نہ ہو سکی۔ ایک تجزیہ نگار کے بقول چوہدری شجاعت کے بچے اپنے آپ کو چوہدری ظہور الٰہی کی خاندانی میراث کا حقیقی وارث سمجھتے ہیں اور اس میراث کے تمام ثمرات کو پرویز الٰہی اور مونس الٰہی کی طرف جاتا ہوا دیکھنا انہیں قبول نہیں ہے۔ ان کو مونس الٰہی کے فیصلوں کا چوہدری پرویز الہٰی کے ذریعے باقی تمام خاندان پر نفاذ بھی پسند نہیں۔ اس لئے ان میں بھی ایک طرح کا ردعمل پیدا ہوگیا ہے۔ ”کئی بار خاندان کی عزت بچانے کے لئے چوہدری خاندان کے بڑوں نے اپنے خاندانی اختلافات کی تردید بھی کی لیکن اب ان کے بچے جوان ہو گئے ہیں۔ اور وہ اپنی باتوں پر اصرار کرنے لگ گئے ہیں۔ ان کے سامنے بزرگوں کی ایک نہ چل سکی۔”چوہدری خاندان میں بہت قریبی رشہ داری ہے، چوہدری پرویز الٰہی کی بہن چوہدری شجاعت کی اہلیہ ہیں اور چوہدری شجاعت حسین کی ہمشیرہ چوہدری پرویز الٰہی کی اہلیہ ہیں۔ حالیہ اختلافات کی شدت نے اس خاندان کو بہت دکھ دیا ہے۔ کچھ فیملی ممبرز میں بول چال بھی نہیں ہے۔ وہ وضعداری جو چوہدری فیملی کے بزرگ دشمنوں کے ساتھ بھی نبھاتے تھے، اب وہ ان کے اپنے خاندان میں بھی باقی نہیں رہی۔ چوہدری پرویز الٰہی کے حامی اور چوہدری شجاعت کے بھائی چوہدری وجاہت حسین نے چوہدری شجاعت کے بیٹے چوہدری سالک پر الزام لگایا ہے کہ وہ زرداری سے ڈالر مانگ رہے ہیں۔ رہی سہی کسر چوہدری شجاعت حسین کے گھر کے باہر ہونے والے قاف لیگ کے احتجاجی مظاہروں میں لگنے والے نعروں اور چوہدری شجاعت کے خلاف انٹرنیٹ پر چلوائی جانے والی پوسٹوں نے پوری کر دی ہے۔ایک واقفِ حال بتاتے ہیں کہ چوہدریوں کے خاندان میں حالات کافی عرصے سے خراب تھے لیکن وہ اتنی شدت سے منظر عام پر نہیں آئے تھے۔ ان کے بقول سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے موقعے پر اس خاندان میں تقسیم بہت واضح ہوگئی۔ ان کے بقول چوہدریوں کا گھر پاکستان کی سیاست کا مرکز بنا ہوا تھا۔ سارے بڑے لیڈر یہاں آکر چوہدریوں کی حمایت کے متمنی تھے۔ شہباز شریف بھی چودہ سالوں بعد چل کر ان کے گھر گئے۔ پی ڈی ایم نے چوہدری پرویز الٰہی کو پنجاب میں چیف منسٹر بنانے کا اعلان بھی کر دیا پھر طاقتور حلقوں کو خیال آیا کہ پرویز الٰہی ادھر چلے گئے تو عمران خان اکیلے رہ جائیں گے اور طاقت کا توازن درست نہیں رہے گا سو ایک بہت اہم شخصیت کی ٹیلی فون کال آئی اور پرویز الٰہی جنہوں نے چند ہی دن پہلے ایک انٹرویو میں عمران خان کے خلاف توہین آمیز خیالات کا اظہار کیا تھا وہ عمران خان کے پاس چلے گئے۔ شجاعت فیملی نے اپنے عہد کا پاس کیا، یوں دونوں کی راہیں جدا ہو گئیں۔”قدرت نے چوہدریوں کی سیاست کو بڑی کامیابیوں سے نوازا تھا۔ پاکستان کی وزارت عظمی، پنجاب کی وزارت اعلیٰ اور کئی وفاقی و صوبائی وزارتیں اس گھر کے حصے میں آئیں۔ کئی ترقیاتی منصوبے چوہدریوں نے مکمل کروائے۔ پاکستان میں چوہدریوں کی سیاست وضعداری، معاملہ فہمی، رواداری اور مہمان نوازی کے رنگ بھی لئے ہوئے تھی۔ ایک تجزیہ نگار کے بقول: زیڈ اے بھٹو مخالف نو ستاروں کی تحریک کے دوران سارے پیسے ،سارے دسترخوان اور سارے انتظامات چوہدری ظہور الٰہی کے ذمے تھے۔ انہوں نے کبھی اس کا ذکر بھی کسی سے نہیں کیا۔یہ بھی یاد رکھنا چاہیئے پچھلی کچھ دہائیوں میں چوہدریوں نے اپنی سیاست کو اسٹیبلشمنٹ کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لئے استعمال کیا۔ پرویز الٰہی نے کہا تھا کہ وہ جنرل مشرف کو دس مرتبہ بھی وردی میں صدر بنوانے کو تیار ہیں۔ چوہدری مونس الٰہی زندگی میں کامیابی حاصل کرنے اور سیاست میں آگے جانے کے لئے بہت زیادہ پرجوش ہیں جبکہ چوہدری سالک کا مزاج دھیما اور وضعدارانہ سا ہے۔ یہ دونوں اپنے اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے سرگرداں ہیں۔ لیکن ان کے الفاظ میں اب ان کی سیاست کا آخری دور ہے۔ عمران خان اور پی ٹی آئی کے تعاون سے پرویز الٰہی پنجاب کے وزیراعلیٰ تو بن گئے ہیں لیکن انہیں پی ٹی آئی کا مزاج قبول نہیں کررہا۔ گجرات پانی میں ڈوبا ہوا ہے۔ وہاں لوگوں کو کوئی پوچھنے والا نہیں۔ اب وہاں بھی قاف لیگ پی ٹی آئی کی مدد کے بغیر الیکشن نہیں جیت سکے گی۔تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ جماعتیں خاندان کی بنیاد پر بننی چاہیئں نہ چلنی چاہیئں۔ سیاسی جماعتوں کو پروفیشنل اور سیاسی انداز میں ہی کام کرنا چاہئیے۔ کچھ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ چوہدری خاندان کے بعد اب اگلی باری شریف خاندان کی ہو سکتی ہے جہاں مریم نواز اور حمزہ شہباز کے اختلافات میڈیا کی خبروں کا حصہ بنتے رہے ہیں۔پاکستان کا اہم میڈیا بھی گجرات کے چودھریوں کی خاندانی و سیاسی تقسیم پر اظہارِ خیال کررہا ہے ۔ مثال کے طور پرجولائی 2022ء کے تیسرے ہفتے گجرات میں چودھریوں کی سیاست بارے ایک انگریزی معاصر نے یوں اظہارِ خیال کیا: ”چونکہ گزشتہ ایک دہائی سے گجرات میں پارٹی امور پر پرویز الٰہی کیمپ کا راج ہے، اس لیے پارٹی کے مقامی عہدیداروں میں سے کسی نے بھی مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چودھری شجاعت حسین کے مسلم لیگ نون کے حمزہ شہباز کی امیدواری کی حمایت کرنے والے خط کے حق میں بات نہیں کی۔تاہم چودھری شجاعت اور ان کے حواریوں کو گجرات میں اپنے خاندان کے روایتی حریفوں کے کیمپوں سے کچھ نئے اتحادی مل سکتے ہیں کیونکہ گجرات کے نوابزادہ، کائرہ اور پگانوالا خاندانوں سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کے کچھ رہنماؤں نے حمزہ شہباز کے لیے شجاعت حسین کی حمایت کی تعریف کی ہے۔دوسری جانب پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ق) کے کارکنوں نے پارٹی سربراہ اور ڈپٹی اسپیکر کی جانب سے مسلم لیگ (ق) کے ووٹ منسوخ کرنے کے فیصلے کے خلاف مظاہرے کیے۔مسلم لیگ (ق) کے کچھ کارکنوں نے گجرات کے چوہدریوں کی رہائش گاہ ظہور الہٰی ہاؤس کے سامنے احتجاج بھی کیا اور پارٹی سربراہ اور وفاقی کابینہ کے رکن ان کے بیٹے سالک حسین کے خلاف نعرے بازی کی۔اگرچہ چوہدری شجاعت حسین نے 2008 میں پی پی پی کے چوہدری احمد مختار (مرحوم) کے ہاتھوں شکست کھانے کے بعد اپنے آبائی حلقے گجرات سٹی این اے 69 سے کوئی الیکشن نہیں لڑا، تاہم ان کے بڑے بیٹے شافع حسین اگلے عام انتخابات میں اس شہر سے الیکشن لڑنے کے لیے لابنگ کر رہے ہیں۔البتہ سالک حسین چکوال کی ایک قومی اسمبلی کی نشست سے اس وقت ضمنی انتخاب جیت گئے تھے جب پرویز الہٰی نے گجرات اور چکوال اضلاع سے جیتی ہوئی قومی اسمبلی کی دونوں نشستیں چھوڑ دی تھیں، تاکہ وہ (کنجاہ) گجرات سے اپنی پنجاب اسمبلی کی نشست برقرار رکھیں۔پرویز الہٰی نے گزشتہ دو انتخابات این اے 69 سے لڑے تھے جو اب ان کے بیٹے مونس الہٰی کے پاس ہے۔بنیادی طور پر این اے 69 وہ حلقہ ہے جہاں مرحوم چوہدری ظہور الہٰی اور پھر ان کے بیٹے چوہدری شجاعت حسین نے 1970 سے الیکشن لڑا تھا اور اب پرویز الہٰی اور مونس الہٰی یہاں خاندانی سیاست کی قیادت کر رہے ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ سابق وفاقی وزیر چوہدری احمد مختار اور چوہدری احمد سعید گجرات کے پگانوالا خاندان اور سروس گروپ 2013 تک اس حلقے میں چوہدریوں کے اہم سیاسی حریف رہے تھے۔تاہم ظہور الہٰی کو شکست دینے والے سابق ایم این اے میاں مشتاق حسین پگانوالا کی موت اور پھر احمد مختار اور احمد سعید کے انتقال نے چوہدریوں کے حریف کیمپوں کو کمزور کر دیا تھا۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سالک حسین اور شافع حسین کے آبائی شہر سے انتخابی سیاست کرنے کی صورت میں شجاعت کیمپ کو گجرات میں پرانے دشمنوں کی حمایت حاصل ہو سکتی ہے جبکہ پرویز کیمپ کو پہلے ہی مسلم لیگ (ق) اور تحریک انصاف کی بیشتر شخصیات کی حمایت حاصل ہے۔کچھ لوگ گجرات کے آئندہ انتخابات میں کزن بمقابلہ کزن مقابلے کے قوی امکانات دیکھ رہے ہیں۔وزیراعظم کے مشیر قمر زمان کائرہ، پیپلز پارٹی کی سابق ایم این اے ثمینہ پگانوالا اور مسلم لیگ (ن) کے ضلعی صدر طاہر الملک، گجرات میونسپل کارپوریشن کے سابق میئر حاجی ناصر محمود اور سابق ایم پی اے سٹی سے مسلم لیگ (ن) کے حاجی عمران ظفر نے مسلم لیگ (ق) کے سربراہ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے ملک کو بحران سے بچانے کے لیے ایک دانشمندانہ قدم قرار دیا ہے۔دیکھنے والی بات یہ ہے کہ چودھری شجاعت حسین کے خاندانی و سیاسی حریف، چودھری پرویز الٰہی کے عدالت کی طاقت سے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد گجرات میں چودھریوں کی سیاست کیا رُخ اختیار کرتی ہے ؟ بظاہر تو اِس وقت تک سارے سیاسی حالات چودھری پرویز الٰہی اور اُن کے پُر جوش صاحبزادے چودھری مونس الٰہی کے حق اور موافقت میں ہیں ۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »