Daily Taqat

سانحہ سیالکوٹ، گوادر کی ”حق دو تحریک” اور منی بجٹ کا خوف !

یہ مملکتِ خداداد کی بدقسمتی ہی ہے کہ آئے روز پاکستان میں کوئی نہ کوئی ایسا سنگین ہنگامہ برپا ہو جاتا ہے جو وطنِ عزیز کے نام کو بٹہ لگانے کے مترادف ثابت ہو تا ہے ۔ ابھی چند ہفتے قبل ”ٹی ایل پی” کے احتجاجات اور مطالبات سے پورا ملک گونج رہا تھا ۔ ٹی ایل پی کے احتجاجات سے ملک اور عوام کو جو بے پناہ نْقصان پہنچا ہے ، اس کا ازالہ بھی شائد کبھی نہ ہو سکے ۔ ان احتجاجات کے دوران کئی جانیں ضائع ہو گئیں ۔ پنجاب پولیس کے نصف درجن سے زائد جوان اور افسر بھی جان کی بازی ہار گئے ۔ خدا خدا کرکے اس ہنگامے کو ٹھنڈا کیا گیا ہے تو اب 4دسمبر2021ء کو پنجاب کے ضلع سیالکوٹ میں ایک ایسا انسانی سانحہ رُونما ہُوا ہے جس نے پاکستان ، پاکستان کے 22کروڑ عوام اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی جمہوری حکومت کا سر شرم سے جھکا دیا ہے ۔ سیالکوٹ کی ایک فیکٹری میں کام کرنے والے سری لنکن مینجر(پریانتھا کمارا) کی پُر اسرار اور افسوسناک موت کی گونج ساری دنیا میں سنائی دی گئی ہے ۔مبینہ توہین کے واقعہ کی اساس پر جنم لینے والے اس واقعہ میں سری لنکن شہری ، پریانتھا کمارا، کو مشتعل ہجوم نے تشدد کرکے ہلاک کر ڈالا اور بعد ازاں اُس کی لاش کو بھی جلا دیا گیا۔ اس سانحہ کی بازگشت سے پورا پاکستان لرز اُٹھا ہے ۔ بھارت نے موقع غنیمت جان کر پاکستان کے خلاف بڑا گھناؤنا پروپیگنڈہ کیا ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے عوام کی اکثریت اور حکومتی افراد نے اس سانحہ کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے ۔ مبینہ طور پر اس سانحہ میں ملوث مرکزی مبینہ ملزم کے ساتھ ایک سو افراد کی گرفتاریوں کی خبریں بھی گردش میں ہیں ۔پاکستان ایک امن پسند ملک ہے اور یہاں کے عوام کی کثریت بھی امن سے محبت کرتی ہے ۔ مگر چند شر پسند عناصر ایسے بھی ہیں جن کی سازشوں اور اقدامات سے پاکستان کے امن پسند چہرے کو بٹہ لگ جاتا ہے ۔ یہ بد قسمتی ہے۔ پاکستان نے سری لنکا حکومت سے وعدہ کیا ہے کہ ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کی جائیگی اور اُنہیں قرار واقعی سزائیں بھی دی جائیں گی ۔ اللہ کرے ایسا ہی ہو ۔ سیالکوٹ کا سانحہ ایک ایسے وقت میں ظہورپذیر ہُوا ہے جب بلوچستان میں ”گوادر کو حق دو تحریک” بھی شدت سے اُٹھ چکی ہے ۔ اس تحریک کی آواز دُور تک سنائی دے رہی ہے ۔بلوچستان کے ساحلی شہر اور چین پاکستان اکنامک کوریڈور (سی پیک) کے مرکز گوادر میں گذشتہ 18 روز سے زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد ‘گوادر کو حق دو’ تحریک کے تحت دھرنا دیے بیٹھے ہیں اور مطالبات تسلیم نہ ہونے پر صوبے کے دیگر علاقوں میں بھی احتجاج کیا جا رہا ہے۔احتجاج کرنے والے یہ افراد ماہی گیروں کی آزادانہ سمندر تک رسائی، کوسٹ گارڈ کی طرف سے تنگ کرنے، گاڑیوں کو پکڑنے اور سرحد پر کاروبار کی بندش کا خاتمہ چاہتے ہیں۔دھرنے کے منتظمین سے حکومتی وزرا کے مذاکرات کے متعدد دَور ہوچکے ہیں اور بعض مطالبات کی منظوری کے نوٹیفکیشن بھی فراہم کیے گیے، تاہم ابھی تک منتظمین ان دعوؤں سے مطمئن نظر نہیں آتے، یہی وجہ ہے کہ دھرنا اب بھی جاری ہے۔دھرنے کے مرکزی رہنما مولانا ہدایت الرحمان نے اعلان کیا ہے کہ اب وہ کسی صوبائی وزیر سے مذاکرات نہیں کریں گے۔ اب وہ صرف وزیراعلیٰ بلوچستان قدوس بزنجو، چیف سیکرٹری اورکورکمانڈر بلوچستان سے ہی بات چیت کریں گے۔انہوں نے3دسمبر کو دھرنے سے خطاب میں کہا :”آج کوسٹل ہائی وے اور گوادر، پنجگور سمیت گوادر کے دیگر علاقوں میں احتجاج ہو رہا ہے۔ کوسٹل ہائی وے بلاک ہے جبکہ گوادر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال ہے۔حکومتی مذاکراتی کمیٹی چار نوٹیفکیشن سامنے لائی لیکن ان پر عمل درآمد نہیں کروا سکی۔ رات کو ہونے والے مذاکرات میں سرحدی معاملات کے حوالے سے ہمارے مطالبے پر ایک ہفتے اور دیگر معاملات پر تین ماہ کی مہلت طلب کی گئی۔ اب ہم کوئی مہلت نہیں دیں گے۔ دھرنا جاری رہے گا۔ہم پورے مکران میں سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں کی رپورٹ جاری کریں گے۔ ہمارے بڑے مطالبات پر سو فیصد عملدرآمد ہونے تک ہم دھرنا ختم نہیں کریں گے۔”احتجاج میں گوادر کے ایکسپریس وے کو بھی بند کرنے کا فیصلہ شامل تھا، تاہم گذشتہ رات حکومتی کمیٹی سے مذاکرات کے بعد مولانا ہدایت الرحمان نے دھرنے کو بتایا تھا کہ یہ فیصلہ واپس لے لیا گیا ہے، تاہم دوسرا اعلان برقرار ہے۔رات گئے ہونے والے مذاکرات جو صوبائی وزیر ظہوربلیدی کی قیادت میں وفد نے کیے، کے دوران مظاہرین کے مطالبات کے حوالے سے موقف سامنے رکھا گیا تھا۔اس حوالے سے مولانا ہدایت الرحمان نے رات گئے دھرنے کے شرکا کو بتایا تھا کہ حکومتی وفد سے بات چیت کے دوران انہوں نے مطالبات کے حوالے سے اپنی کارکردگی سے آگاہ کیا۔ان کا کہنا تھا کہ حکومتی وفد نے یقین دلایا ہے کہ آج کوسٹ گارڈ کی طرف سے پکڑی جانے والی تمام گاڑیوں کو چھوڑ دیا جائے گا جبکہ کسٹم حکام تحویل میں لی گئی لانچوں کو بھی واپس کردیں گے۔مولانا ہدایت نے بتایا :” حکومتی وفد نے سرحدی امور کے حوالے سے دو ہفتوں کا وقت طلب کیا ہے۔اس حوالے سے اپنے لائحہ عمل کے حوالے سے مشاورت کے بعد جواب دیں گے، جس کے لیے اپنے تمام دوستوں جن میں کیچ اور پنجگور کے ساتھی بھی شامل ہیں، سے مشاورت کی جائے گی”۔اس سے قبل مولانا ہدایت الرحمان سے مذاکرات کرنے والے حکومتی وفد میں شامل صوبائی وزیر ظہور بلیدی نے کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا :” مولانا کے اکثر مطالبات پر عمل ہوگیا ہے۔غیرقانونی ٹرالنگ، سرحد پر ٹوکن سسٹم، سکیورٹی چیک پوسٹوں کے حوالے سے ہم پہلے سے کام کررہے ہیں اور شراب خانوں کو بھی بند کردیا گیا ہے۔حکومت اس معاملے میں سنجیدہ ہے۔ کچھ مطالبات کے حوالے سے قانون سازی کی ضرورت ہے، جس کے لیے ہمیں مزید وقت چاہیے۔”دوسری جانب مولانا ہدایت الرحمان نے دھرنے سے خطاب میں کہا کہ’ ‘ہم کسی بھی زبانی معاہدے پر یقین نہیں کریں گے۔ جو بھی ہوگا اس کے لیے باقاعدہ دستاویزات بنیں گی۔ تاہم اگر معاہدوں کے بعد بھی کسی بلوچ کو مکران میں تنگ کیا گیا تو ہمارا حکومت سے معاہدہ کالعدم ہوجائیگا۔”ادھر گوادر کے سماجی کارکن اور شہر میں تبدیلیوں پر نظر رکھنے والے ناصر رحیم سہرابی سمجھتے ہیں کہ یہ دھرنا شہریوں کی آواز اور ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے پر سامنے آیا ہے۔ناصر سہرابی کا کہنا ہے:’ ‘مولانا ہدایت الرحمان ان مطالبات کے لیے ہر جگہ یہ بات کر رہے تھے۔ انہیں بعض لوگ پہلے حیثیت نہیں دیتے تھے، لیکن اب وہ سمجھتے ہیں کہ وہ ہی ان کی آواز کو بہتر طریقے سے بلند کرنے والے شخص ہیں۔لوگوں نے سمجھ لیا ہے کہ ترقی کے جو نعرے لگائے گئے، وہ سب ان کے مسائل کے حل کی بجائے رو بنے ہیں، جس سے وہ مایوسی کا شکار ہوگئے تھے۔”سوال یہ ہے کہ دھرنے میں ماہی گیر کیوں شریک ہیں؟ اس سوال کے کئی جواب ہیں:ناصر سہرابی کے مطابق گوادر میں اکثر لوگوں کا روزگار ماہی گیری سے وابستہ ہے، جن کو مختلف قسم کے مسائل کا سامنا ہے، جن میں سمندری راستوں کی بندش اور غیر قانونی ٹرالنگ شامل ہے۔ ماہی گیروں کا اہم مسئلہ جو کئی سالوں سے چلا آرہا ہے، وہ غیر قانونی ٹرالنگ ہے۔ جس سے ان کا روزگار چھن رہا ہے اور وہ سمندر سے خالی ہاتھ لوٹ رہے ہیں۔ کیوں کہ غیر قانونی ٹرالنگ کرنے والے ان کی تمام مچھلیوں کا شکار کرلیتے ہیں۔بقول ناصر: ”یہی وہ مسائل ہیں، جنہوں نے ان ماہی گیروں کو دھرنے میں شرکت پر مجبور کیا اور وہ سمجھتے ہیں کہ مولانا ہدایت ہی ان کے دیرینہ مسائل کا حل نکال سکتے ہیں۔ماہی گیروں کو سمندر کی طرف جانے کے دوران سکیورٹی اہلکاروں کی طرف سے کاغذات چیک کرنے اور شناختی کارڈ دکھانے کی وجہ سے بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ چوں کہ ان کے شکار کا کوئی مخصوص وقت نہیں اس لیے وہ چاہتے ہیں کہ اس مسئلے سے انہیں نجات ملے۔یہ تحریک ایک دن کی نہیں بلکہ گذشتہ چار سے پانچ ماہ سے جاری ہے، جو اپنی بات کو سختی سے پیش کرتے رہے اور آخرکار انہوں نے دھرنے کا فیصلہ کیا۔ اب لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ ان کے مسائل کا حل بھی اسی تحریک کے باعث نکلے گا”۔ سوال یہ بھی ہے کہ کیا یہ وقتی تحریک ثابت ہوگی؟بلوچستان میں دھرنے اور احتجاج اکثر اوقات ہوتے رہتے ہیں۔ کیا یہ دھرنا بھی وقتی ہوگا؟ اس سوال پر ناصر سہرابی کا کہنا ہے کہ’ ‘پہلی بات تو یہ ہے کہ مولانا ہدایت الرحمان کا تعلق جماعت اسلامی سے ہے جو ایک منظم جماعت ہے۔ دوسری بات وہ عرصے سے سیاست کر رہے ہیں۔ اس وجہ سے میں نہیں سمجھتا کہ یہ وقتی ثابت ہوگی۔ گوادر کے عوام سیاسی جماعتوں سے بھی مایوس ہوچکے ہیں، جو شاید سخت حالات اور دباؤ کے باعث ان کے مطالبات کے حق میں کھل کر سامنے نہیں آئے۔یہ تحریک جہاں ایک طرف عوام کی پذیرائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوچکی ہے، وہیں یہ مستقبل میں یہاں پر سیاست کرنے والی جماعتوں کے لیے بھی خطرے کا باعث ہے، جنہیں انتخابات کے دوران سخت صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔”ایک سلگتا ہُوا سوال یہ بھی ہے کہ اس تحریک کوعوام کی کتنی حمایت ہے؟ناصر سہرابی کے مطابق:” اس دھرنے کو عوامی حمایت بھی حاصل ہے۔ عام آدمی کی رائے میں دھرنا درست سمت میں کام کر رہا ہے، تاہم بعض سیاسی کارکن سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر کوئی جماعت اس طرح کے دھرنے دے یا جلسہ کرے تو اس کے ساتھ سختی سے نمٹا جاتا ہے، لیکن مولانا ہدایت کو کیوں کچھ نہیں کہا جاتا۔”گوادر میں جاری ”حق دو تحریک” کا ایک نمایاں ترین عنصر یہ بھی ہے کہ اس میں پہلی باربلوچ خواتین کثیر تعداد میں شریک ہیں ۔’گوادر کو حق دو’ تحریک کے تحت دھرنے کی حمایت میں گذشتہ دنوں ایک بڑی ریلی نکالی گئی تھی، جس میں صرف خواتین شامل تھیں۔ کیا یہ واقعی تبدیلی کی علامت ہے؟ اس سوال پر ناصر سہرابی کا کہنا ہے کہ مکران میں خواتین ہمیشہ سے متحرک رہی ہیں اور وہ بعض معاملات میں احتجاج ریکارڈ کرواتی رہی ہیں۔انہوں نے مزید کہا: ”تاہم گوادر کی ریلی اس حوالے سے منفرد اور مختلف ہے کہ ایک تو یہ نہ صرف مکران بلکہ شاید بلوچستان کی تاریخ کی سب سے بڑی ریلی تھی، جس میں ایک اندازے کے مطابق چار سے پانچ ہزار خواتین نے شرکت کی۔’اس وقت دھرنے کے شرکا سے حکومتی وفد کے مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔ مولانا ہدایت الرحمان بھی کہہ چکے ہیں کہ وہ مذاکرات سے انکاری نہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ دھرنا ختم کرنے کے حوالے سے وہ اس وقت کوئی فیصلہ کریں گے، جب ان کے مطالبات پر عمل ہوتا دکھائی گا۔گوادر کو پاکستان کی جدید اسٹریٹجک تاریخ میں اہم مقام حاصل ہونے جا رہا ہے ۔ کئی غیر ملکی ادارے نہیں چاہتے کہ گوادر ترقی کی راہ پر گامزن ہو ۔ یوں اس پس منظر میں گوادر میں احتجاج کناں شہریوں کو احتیاط کے ساتھ دشمنانِ پاکستان پر بھی نظر رکھنا ہو گی ۔ پاکستان رواں لمحوں میں جن معاشی خطرات میں گھرا نظر آ رہا ہے ، ایسے میں تو ہم سب کو بہت احتیاط کا مظاہرہ کرنا چاہئے ۔ مہنگائی نے عوام کا جینا دُو بھر کررکھا ہے ۔ اور اوپر سے وزیر خزانہ ( مشیر خزانہ) شوکت ترین عوام کو یہ کہہ کر ڈراوا دے رہے ہیں کہ اگلے ایک ہفتے کے اندر اندر نیا منی بجٹ آ رہا ہے ۔ اور ساتھ ہی موصوف یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ نئی مہنگائی نہیں ہو گی ۔ بھلا یہ کیسے ممکن ہے ؟ اس مبینہ اور متوقع منی بجٹ کے خلاف احتجاج کرتے ہُوئے پوری اپوزیشن بیک زبان کہہ رہی ہے کہ نئی مہنگائی کا ایک نیا طوفان آ نے والا ہے ۔ نیا منی بجٹ یقیناً عوام کی زندگیوں میں نئی تلخیاں گھول دے گا۔ حکومت نے پہلے ہی تسلیم کیا ہے کہ مہنگائی 18فیصد سے بھی تجاوز کر گئی ہے ۔ یہ مہنگائی پورے جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ پاکستان میں پائی جا رہی ہے ۔ اور ابھی تو حکومت پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی ”نوید” بھی سنا رہی ہے ۔ حکومت کہاں تک عوام کاخون چوسنا چاہتی ہے ؟ گورنر پنجاب چودھری محمد سرور نے لندن میں حکومتِ پاکستان کی معاشی پالیسیوں کے خلاف جو بیان داغا ہے ، اس کی بازگشت سے بھی عمران خان صاحب کی حکومت کو سخت نقصان پہنچا ہے ۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »