Daily Taqat

سینٹ انتخابات کےلئے حکومت اور اپوزیشن کی تڑپتی خواہشات!

سینٹ انتخابات کےلئے حکومت اور اپوزیشن کی تڑپتی خواہشات!

چنگھاڑتی مہنگائی ، خوفناک بے روزگاری اور ماےوس کن سےاسی موسم مں اعلان کر دےا گےا ہے کہ پاکستان کے اےوانِ بالا ےعنی سےنےٹ کی 48نشستوں کے انتخابات3مارچ2021ءکو منعقد ہوں گے ۔امےدوار اپنی درخواستےں دھڑا دھڑ جمع کروا رہے ہےں۔ فائنل امےدواروں کی فہرست کا اعلان 23 فروری 2021ءکو ہوگا ۔ جوڑ توڑ بھی عروج پر ہے اور” منڈی “ بھی خوب گرم ہے۔ کسی سےانے کی طرف سے بجا کہا گےا ہے کہ سےنےٹ کے ان انتخابات مےں وزےر اعظم عمران خان فتح حاصل کرنے کےلئے جتنی دوڑ دھوپ کررہے ہےں ، اگر اس دوڑ دھوپ کا اےک چوتھائی حصہ بھی پاکستان کے کرلاتے عوام کے دکھوں کو کم کرنے ، بے روزگاری کے گراف کو نےچے لانے اور سےاست مےں استحکام پےدا کرنے مےں صَرف کرتے تو عوام کو کئی مصائب اور مسائل کے جہنموں سے نجات مل سکتی تھی ۔ لےکن عوام کے مصائب کم کرنا ےا اُن کے دکھوں مےں کمی لانا شائد وزےر اعظم عمران خان اور پی ٹی آئی کی حکومت کی ترجےحات مےں شامل ہی نہےں ہے ۔ عوام دکھے دلوں سے ےہ مناظر دےکھتے ہےں کہ وزےر اعظم صاحب اپنے جلسوں اور پرےس برےفنگز مےں اپوزےشن کو تو خوب لتاڑتے ہےں اور بر ملا گھسا پٹا اعلان کرتے سنائی دےتے ہےں کہ مَےں اپوزےشن کو اےن آراو نہےں دوں گا لےکن وزےر اعظم کے کسی جلسے ےا پرےس برےفنگ مےں عوام کو درپےش سنگےن مسائل حل کرنے ےا مہنگائی کو کنٹرول کرنے ےا تعلےم ےافتہ نوجوانوں کو روزگار دلانے کی بات نہےں ہوتی ۔ گوےا ےہ موضوعات ان کی سےاسی ڈائری ہی مےں شامل نہےں ہےں اور نہ ہی اُن کا دردِ سر ۔ وہ تو سنگےن لہجے مےں ےہاں تک کہہ چکے ہےں کہ ”اگر عوام کا پندرہ بےس ہزار روپے کی تنخواہ مےں گزارا نہےں ہوتا تو مَےں کےا کروں؟۔“اےسے حکمران سے بھلا عوام کےا اُمےد رکھ سکتے ہےں ؟اےسے بے رحم موسم مےں عوام اگر حکومت کے خلاف احتجاج کرنے کی جسارت کرتے ہےں تو حکومت اُنہےں لاٹھےوں اور سلاخوں سے تشدد کا نشانہ بناتی ہے ۔ ےہ تازہ سفاک نظارہ ہم نے ابھی 10 فروری 2021ءکو اسلام آباد مےں ملاحظہ کےا ہے جب سرکاری ملازمےن تنخواہوں مےں اضافے کےلئے احتجاج کررہے تھے ۔ اسلام آباد کی پولےس نے اپنے حکمرانوں کے حکم پر مظاہرےن پر آنسو گےس کے سےنکڑوں شےلز پھےنکے ۔ سارے اسلام آباد پر ان شےلوں کے مسموم دھوئےں سے بادل چھا گئے ۔ پولےس نے مظاہرےن کو بے رحم تشدد کا نشانہ بناےا ۔ لاتعداد سرکاری ملازمےن کو گرفتار کر کے حوالاتوں مےں ٹھونس دےا ۔ اور ےہ تشدد وہ حکومت کررہی تھی جو خود نواز شرےف کی حکومت کے خلاف اسلام آباد مےں 120دنوں سے زائد عرصے تک احتجاج اور مظاہرے کرتی رہی ۔ حقےقت ےہ ہے کہ دس فروری کو وزےر داخلہ شےخ رشےد احمد نے سرکاری ملازمےن پر جو تشدد کےا ، اس نے حکومت کا سر شرم سے جھکا دےا ہے ۔ اس واقعہ کو عوام کبھی فراموش نہےں کر سکے گی ۔ وفاقی ملازمےن کی تنخواہےں تو 25فےصد بطورِ اےڈہاک بڑھانے پر حکومت مجبور ہو ہی گئی ہے لےکن کےا ہی اچھا ہوتا کہ حکومت تشدد کا شرمناک اقدام نہ کرتی ۔ لگتا ےہ ہے کہ حکومت نے تشدد کو اپنا ٹرےڈ مارک بنا لےا ہے ۔ اس سلسلے مےں نون لےگ کے اےک نماےاں رہنما ، عطاءاللہ تارڑ،کی 12فروری کوگرفتاری اور پھر رہائی پنجاب حکومت کے کردار پر سوالےہ نشان لگا گئی ہے ۔عطاءاللہ تارڑ اور اُن کے کئی نون لےگی ساتھےوں کو وزےر آباد سے اُس وقت گرفتار کےا گےا جب وہ نون لےگی امےدوار کے ضمنی انتخاب کےلئے کمپےن کررہے تھے ۔ اس گرفتاری پر نون لےگ کی سبھی چھوٹی بڑی قےادت نے سخت ردِ عمل دےا ہے ۔ پنجاب کی پی ٹی آئی حکومت نے ےہ اقدام کرکے اچھی مثال قائم نہےں کی ہے ۔ رواداری کو اےک دھچکا لگاےا گےا ہے ۔ اےسا نہ ہوتا تو بہتر تھا ۔حقےقت ےہ ہے کہ حکومت کے کندھوں پر ضمنی انتخابات ، سےنےٹ کے انتخابات اور26مارچ کو پی ڈی اےم کا لانگ مارچ بھاری بوجھ بن گےا ہے ۔ ےقےناً اس سے حکومت خلجان اور پرےشانی کا شکار ہے ۔ لےکن اسے صبر کا مظاہرہ کرنا چاہئے ۔ ضمنی انتخابات مےں حکومت فتح حاصل کرنے کی کوشش مےں ہے ۔ اس ضمن مےں وزےر اعظم کے مشےر خاص برائے امورِ نوجوانان عثمان ڈار کا استعفیٰ قابلِ زکر واقعہ ہے ۔ عثمان ڈار نے اس بارے ےہ کہا ہے کہ مَےں نے اپنے عہدے سے استعفیٰ اسلئے دےا ہے کہ سےالکوٹ مےں ہونے والے ضمنی انتخاب مےں پوری توجہ دے سکوں اور حکومتی امےدوار کی فتح ےقےنی بنا سکوں ۔ سےنےٹ کے انتخابات کے شور مےں ضمنی انتخابات کےلئے وزےر اعظم کے مشےر کا استعفیٰ اےک بڑی خبر ہے ۔ ممکن ہے کہ عثمان ڈار کو دوبارہ ےہ عہدہ دے دےا جائے ، جےسا کہ وفاقی وزےر قانون (فروغ نسےم) نے کئی بار اپنے عہدے سے استعفیٰ دےا اور وزےر اعظم صاحب نے کئی بار اُنہےں وفاقی وزےر قانون بنا دےا ۔ سےاست کے اس گھن چکر مےں سےنےٹ کے انتخابات سر پر ہےں ۔ اس سلسلے مےںحکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے سینیٹ انتخابات کے لیے 13 اُمیدواروں کے نام فائنل کرلیے ہےں۔ اس ضمن مےں سب سے پہلے وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے سینیٹ کے لیے پی ٹی آئی اُمیدواروں کے ناموں کا اعلان سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر سلسلہ وار ٹوئٹس میں کیا۔انہوں نے بتایا :” اسلام آباد سے سینیٹ کی نشست کے لیے فوزیہ ارشد اور وزیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ پی ٹی آئی کے انتخابی اُمیدوار ہوں گے۔ پنجاب سے سیف اللہ نیازی، ڈاکٹر زرقا اور بیرسٹر علی ظفر کو انتخابی اُمیدوار چنا گیا ہے جبکہ باقی ناموں کا اعلان بعد میں ہوگا۔اسی طرح سندھ سے وفاقی وزیر آبی وسائل فیصل واوڈا سینیٹ کا الیکشن لڑیں گے اور ٹیکنو کریٹ نشست پر سیف اللہ ابڑو تحریک انصاف کے اُمیدوار ہوں گے جبکہ بلوچستان سے عبدالقادر کا نام فائنل کیا گیا ہے۔دوسری جانب خیبر پختونخوا سے موجودہ سینیٹر اور وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز، معاون خصوصی برائے تخفیف غربت ثانیہ نشتر،محسن عزیز، دوست محمد اور فرزانہ کا نام حتمی فہرست میں شامل کیا گیا ہے باقی اُمیدواروں کے ناموں کا اعلان بعد میں کیا جائے گا“۔خیال رہے کہ دیگر سیاسی جماعتوں کے برعکس پی ٹی آئی نے آئندہ سینیٹ انتخابات کے لیے پارٹی ٹکٹ کے خواہش مند افراد سے باقاعدہ درخواستیں طلب نہیں کی تھیں۔اس ضمن میں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے بتایا تھا :” اس حقیقت کے باوجود کہ ہم نے خواہش مند اُمیدواروں سے درخواستیں وصول نہیں کیں، پارلیمانی بورڈ کے اراکین کے ٹیلی فونز پر ٹکٹس کے لیے پیغامات اور درخواستوں کا سیلاب آیا ہوا تھا۔ اس کے علاوہ پارٹی کی سینئر قیادت بشمول وزیراعظم عمران خان نچلی سطح پر پارٹی کارکنان کو جانتے تھے۔انہوں نے امکان ظاہر کیا تھا کہ وہ ایسے لوگوں میں سے کچھ کو ٹکٹس دینے کا کہہ سکتے ہیں جنہوں نے پارٹی ٹکٹ کے لیے درخواست تک نہیں کی لیکن قیادت سمجھتی ہے کہ یہ سینیٹ کے لیے بہترین شخص ہے“۔ سےنےٹ کے انتخابات مےں متوقع امےدواروں مےں سب سے حےران کن نام کراچی سے تعلق رکھنے والے فےصل واوڈا ہےں ۔ وہ وفاقی وزےر بھی ہےں اور پی ٹی آئی کے اےم اےن اے بھی۔ان کی رکنےت کے خلاف چونکہ نون لےگ نے عدالت مےں کےس دائر کررکھا ہے ، اسلئے اس خدشے کے پےشِ نظر کہ ممکن ہے وہاں سے واوڈا صاحب اپنا مقدمہ ہار جائےں، اسلئے سےنےٹ مےں بھی اُن کےلئے گنجائش پےدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ وہ وزےر اعظم کے پےارے دلارے وزےر بھی ہےں اور معتمد دوست بھی ۔ خان صاحب اتنے قرےبی دوست کو بے ےارومددگار تو نہےں چھوڑ سکتے ، اسلئے اُن کی متوقع نااہلی سے پہلے ہی اُنہےں اےڈجسٹ کرنے کی کوششےں بروئے کار لائی گئی ہےں ۔پی ٹی آئی کے بعد پےپلز پارٹی نے بھی سےنےٹ کےلئے اپنے زےادہ تر امےدواروں کے ناموں کا اعلان کر دےا ہے ۔اس ضمن مےںبلاول ہا ¶س کراچی سے جاری اعلامئے کے مطابق: سندھ سے پی پی پی کے اُمیدواروں میں جام مہتاب ڈاہر، تاج حیدر، سلیم مانڈوی والا، شیری رحمٰن، شہادت اعوان، ٹیکنوکریٹ کی نشست پر فاروق نائیک، شہادت اعوان اور کریم خواجہ شامل ہیں۔سندھ سے خواتین کی نشستوں پر پلوشہ خان، خیرالنسا مغل اور رخسانہ شاہ کورنگ کے طور پر پی پی پی کی اُمیدوار ہوں گی۔پی پی پی نے پنجاب اور خیبر پختونخوا سے ایک ایک اُمیدوار کو میدان میں لانے کا اعلان کیا ہے۔پنجاب سے جنرل نشست کے لیے عظیم الحق منہاس پی پی پی کے اُمیدوار ہوں گے جبکہ فرحت اللہ بابر خیبر پختونخوا سے پی ڈی ایم کے مشترکہ اُمیدوار ہوں گے۔پی پی پی نے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کا نام اسلام آباد سے پی ڈی ایم کے مشترکہ اُمیدوار کے طور پر تجویز کیا ہے۔پےپلز پارٹی کے امےدواروں مےں سب سے حےران کن نام جناب سےد ےوسف رضا گےلانی کا ہے ۔ وہ اپنے دَور ِ اقتدار مےں عدالت کے زرےعے حکومت سے نکالے گئے تھے ۔ لےکن اس کے باوجود پارٹی سے اُن کی وابستگی اور محبت کم نہ ہو سکی ۔ پےپلز پارٹی کی سےنئر ترےن قےادت نے بھی اُن کی وابستگی اور قربانےوں کا احترام کےا ہے ۔ عدالتِ عظمیٰ نے اُنہےں اسلئے اقتدار سے نکال باہر کےا تھا کہ گےلانی صاحب نے اپنے صدر کے خلاف اےک خاص خط لکھنے سے صاف انکار کر دےا تھا ۔ اور ےوں وزےر اعظم گےلانی نے اپنی وزارتِ عظمیٰ اپنے لےڈر ، صدر آصف علی زرداری، پر قربان کر دی تھی ۔ 2018ءکے انتخابات مےں گےلانی صاحب نے اسی لئے حصہ بھی نہےں لےا تھا کہ عدالت کا فےصلہ اُن کے خلاف آ چکا تھا ۔ پی ڈی اےم کی تشکےل کے بعد سےد ےوسف رضا گےلانی نے سےاست مےں اہم کردار ادا کےا ہے ۔ ملتان مےں ہونے والے پی ڈی اےم کے جلسے مےں اُن کے دونوں صاحبزادگان نے پنجاب پولےس کا تشدد بھی ہنسی خوشی برداشت کےا اور پی ڈی اےم کا جلسہ بھرپور انداز مےں کامےاب کروا کر دکھا دےا ۔ بلا شبہ اس جلسے کی کامےابی کا سہرا ےوسف رضا گےلانی اور اُن کے صاحبزادگان کے سر باندھا گےا ۔ اور اب پےپلز پارٹی نے گےلانی صاحب کا نام اسلام آباد سے سےنےٹ کےلئے پےش کرکے دراصل اُن کی خدمات اور قربانےوں کا صلہ دےنے کی عملی کوشش کی ہے لےکن دےکھنا ےہ ہے کہ وہ مارچ 2021ءکے پہلے ہفتے مےں ہونے والے سےنےٹ کے انتخابات مےں کامےاب بھی ہوتے ہےں ےا نہےں ۔فرحت اللہ بابر کا نام پےش کےا جانا بھی مستحسن ہے کہ وہ پاکستان پےپلز پارٹی کے پرانے کارکن، تجربہ کار سےاستدان اور نماےاں دانشور ہےں ۔ ماضی قرےب مےں جب سےد ےوسف رضا گےلانی وزےر اعظم اور صدرِ پاکستان آصف علی زرداری تھے ، فرحت اللہ بابر صدرِ پاکستان کے خاص الخاص مشےر تھے ۔ شےری رحمن بھی سابق دور مےں سےنےٹر بھی رہی ہےں اور وفاقی وزےر اطلاعات بھی ۔ وہ پےپلز پارٹی کا سرماےہ ہےں ۔ شےری رحمن بے نظےر بھٹو کی معتمد بھی رہی ہےں اور اُنہےں آصف زرداری صاحب و بلاول بھٹو زرداری کا اعتماد بھی حاصل ہے۔ پی ٹی آئی اور پےپلز پارٹی کے بعد نون لےگ نے بھی سےنےٹ کےلئے اپنے کئی امےدواروں کا اعلان کر دےا ہے ۔ اس اعلان مےں ابھی پنجاب کے امےدواروں کی فہرست نماےاں ہے ۔نون لےگ کی ترجمان مریم اورنگزیب نے اس ضمن مےں ےوں بےان جاری کےا ہے:”پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی بورڈ نے سینیٹ میں پارٹی ٹکٹ کے لیے 5 رہنماوں کے ناموں کی منظوری دے دی ہے۔ جنرل نشستوں پر پرویز رشید، مشاہداللہ خان اور پروفیسر ساجد میر اور ٹیکنو کریٹ کی سیٹ پراعظم نذیر تارڑ ایڈووکیٹ کو پارٹی کا ٹکٹ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ خواتین کی نشست پر بیرسٹر سعدیہ عباسی کو پارٹی ٹکٹ دینے کا فیصلہ ہوا ہے ۔ خیبرپختونخوا کی مقامی تنظیم صوبے سے سینٹ میں پارٹی ٹکٹ دینے کا فیصلہ خود کرے گی۔“اس اعلان مےں خاص بات ےہ ہے کہ پروفےسر ساجد مےر صاحب ( جو جمےعتِ اہلِ حدےث کے سربراہ ہےں) پانچوےں بار نون لےگ کی حمائت سے سےنےٹر بنےں گے ۔ وہ نواز شرےف کے معتمدِ خاص ہےں ۔ مقابلہ کانٹے کا ہے ۔ اسٹےبلشمنٹ بھی سےنےٹ کے انتخابات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے ۔ سوشل مےڈےا نے بھی اپنے انداز مےں اُدھم مچا رکھا ہے ۔ دےکھتے ہےں فتح کا پرچم کس کے ہاتھ لگتا ہے !!


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »