Daily Taqat

صحافیوں کیخلاف مجوزہ قانون ، صحافیوں کی مخالفت اور علی گیلانی کی رحلت

جب سے موجودہ حکومت معرضِ عمل میں آئی ہے، پاکستان بھر کے صحافیوں اور صحافت کے ساتھ اس کا اِٹ کھڑکا جاری ہے ۔ پی ٹی آئی کی مرکزی حکومت کے اقدامات سے صاف طور پر مسلسل یوں محسوس ہورہا ہے جیسے اس حکومت کو پاکستان کے میڈیا سے سخت بَیر ہے ۔اس کا آغاز اس حکومت کے اولین وزیر اطلاعات نے کیا تھا۔ بعد ازاں کئی بار مرکزی وزیر اطلاعات کی تبدیلیاں عمل میں لائی گئی ہیں لیکن صحافیوں کے خلاف حکومتی اقدامات کا پرنالہ وہیں کا وہیں ہے ۔ اب تو اس میں یوں بھی شدت آئی ہے کہ مبینہ طور پر حکومت پاکستان میڈیا اور صحافیوں کی مشکیں کسنے کیلئے پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی(PMDA) کے نام سے ایک نیا قانون سامنے لانے کی تیاریاں کررہی ہے ۔ اس اتھارٹی کا کوئی مستند مسودہ ابھی تک صحافیوں کے سامنے نہیں لایا گیا ہے لیکن سوشل میڈیا کے توسط سے اس بارے جو باتیں سامنے آ رہی ہیں ، وہ خاصی ڈرا دینے والی ہیں ؛ چنانچہ ملک بھر کے صحافیوں کی طرف سے بجا طور پر مطالبہ کیا جارہا ہے کہ پی ایم ڈی اے کا مسودہ سامنے لایا جائے ۔ اس دوران سی پی این ای اور اے پی این ایس بھی اس مجوزہ قانون کو متفقہ طور پر مسترد کر چکی ہیں ۔آئے روز اس مجوزہ اتھارٹی کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے کئے جا رہے ہیں ۔ صحافی اس کیخلاف اپنے شدید تحفظات کا اظہار کررہے ہیں ۔ اپوزیشن جماعتیں بھی پی ایم ڈی اے کے خلاف بیانات دے چکی ہیں ۔ اسی حوالے سے میاں شہباز شریف ، محترمہ مریم نواز ، بلاول بھٹو زرداری اور مولانا فضل الرحمن بھی کہہ چکے ہیں کہ پی ایم ڈی اے کو کسی طور بھی منظور اور قبول نہیں کیا جائیگا۔ حکومت کو شائد تنازعات میں اُلجھنے کا شوق ہے ۔ حکومت پہلے ہی انتخابی اصلاحات اور الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے حوالے سے اپوزیشن کے غیض و غضب کا نشانہ بنی ہُوئی ہے ۔ اوپر سے اس حکومت نے صحافیوں کے خلاف مبینہ ظالمانہ اور استحصالی اتھارٹی کا دروازہ کھول دیا ہے ۔صحافیوں کے خلاف مجوزہ کالے قانون (PMDA)کے خلاف پاکستان بھر کے پریس کلبوں کا ایک نمائندہ اجلاس اور مظاہرہ 2ستمبر2021ء کوہُوا ہے۔ پاکستان بھر کے پریس کلبوں نے پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو ”میڈیائی مارشل لا” قرار دیتے ہوے یکسر مسترد کر دیا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران جبری برطرف صحافیوں کو بحال، تنخواہوں، مراعات اور واجبات کی فوری ادائیگی، صحافیوں کو اغوا،تشدد، گھروں میں گھس کر مارنے والوں کی گرفتاری، صحافیوں کے بند پروگراموں اور آف ائیر کو بحال کیا جائے۔ راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس کے زیر اہتمام آزادی صحافت ویبنار سے سینئر صحافی نصرت جاوید، سینئر اینکر حامد میر، مطیع اللہ جان، آر آئی یو جے کی پریس فریڈم ایکشن کمیٹی کے چیرمین افضل بٹ، پی ایف یو جے کی سیکرٹری جنرل فوزیہ شاہد، مظہر عباس، ممبر ایف ای سی، راجہ شفیق، کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی، لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری، کوئٹہ پریس کلب کے صدر عبدالخالق رند، ایبٹ آباد پریس کلب کے صدر سردار نوید انجم، سابق صدر شاہد چودھری، سنٹرل پریس کلب مظفر آباد آزاد کشمیر کے صدر سجاد میر، گلگت پریس کلب کے صدر خورشید احمد، نیشنل پریس کلب کے صدر شکیل انجم، سیکرٹری انور رضا،سابق صدر طارق چودھری، سابق سیکرٹری فنانس جہانگیر منہاس، آر آئی یو جے کے صدر عامر سجاد سید، جنرل سیکرٹری طارق ورک، سابق صدر مبارک زیب خان، علی رضا علوی، سابق جنرل سیکرٹری بلال ڈار، سابق فنانس سیکرٹری اصغر چودھری، پارلیمانی رپورٹرز ایسو سی ایشن کے چیئرمین واک آؤٹ کمیٹی نیّر علی،گوجرانوالہ یونین آف جرنلسٹس کے جنرل سیکرٹری عادل اکرم، سابق صدر راجہ حبیب سینئرصحافیوں نعیم محبوب، عامر بٹ، روبینہ شاہین ودیگر نے خطاب کیا اورحکومت پر زور دیا کہ وہ میڈیا ورکرز اور عامل صحافیوں کا درد رکھتی ہے تو 2017 ء کے میڈیا معاشی بحران کے دوران جبری برطرف ہونے والے صحافیوں کو بحال کرانے، معاشی بحران کے نام پر مالکان کی طرف سے تنخواہوں سے کاٹی گئی رقم بقایا جات کی مد میں واپس دلانے میں مدد کرے، الیکٹرانک میڈیا کے ملازمین کو تحفظ فراہم کرنے اور سروس سٹرکچر کا ڈھانچہ تشکیل دینے کیلئے قانون سازی کرے، اخباری ملازمین کو فوری انصاف فراہم کرنے کیلئے پہلے سے قائم آئی ٹی این ای کے چیرمین کا تقرر کرنے کے ساتھ ساتھ علاقائی ٹربیونلز بھی قائم کئے جائیں۔ صحافیوں پر حملوں اور اغوا کے ملزمان گرفتار کئے جائیں اور اصول پسندی کی بنیاد پر ٹی وی چینلز کے مِسنگ اینکر پرسن کو بحال کیا جائے۔ پریس فریڈم ایکشن کمیٹی کے چیئرمین افضل بٹ نے کہا :” پاکستان میڈیا ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے خلاف آر آئی یو جے کی تحریک قومی تحریک بنتی جا رہی ہے میں نے اپنی زندگی میں ایسی تحریک نہیں دیکھی،ہمارا میڈیا مالکان سے کوئی رابطہ نہیں، ہمارا پہلا ہی مطالبہ مالکان کے خلاف ہے”۔ پی ایف یو جے کے سابق سیکرٹری جنرل مظہر عباس نے کہا :” پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو رکوانے کیلئے تمام یونین آف جرنلسٹس اور جنرل ایسوسی ایشنز کا اجلاس کراچی میں بلایا جائے جس میں متفقہ لائحہ عمل طے کیا جائے”۔کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی نے کہا کہ میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی پر قومی ڈایئلاگ ہونا چاہیے جس میں صحافتی تنظیموں کے علاوہ میڈیا مالکان کی تنظیموں اور مزدور یونینز کو بھی شامل کرنا چاہیے ،حکومت کو چاہیے کہ مجوزہ میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا حتمی مسودہ ہمیں فراہم کریں کیونکہ سوشل میڈیا پر بہت سے مسودے گردش کر رہے ہیں۔لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری نے کہا کہ موجودہ حکومت کے دور میں ہزاروں صحافی بے روزگار ہوئے ہیں، دوسری طرف تین سال کے دوران مہنگائی اتنی بڑھ گئی ہے کہ ملک اور عوام کا بیڑا غرق ہو گیا ہے، اس وقت میڈیا انڈسٹری کا برا حال ہے،میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا جو مسودہ ہمیں ملا اسے پڑھ کر یہ سمجھ نہیں آتا کہ اس میں ورکرز کے لیے کیا ہے ؟سینئر صحافی حامد میر نے کہا کہ آر آئی یو جے اور پی ایف یو جے جو فیصلہ کرے گی میں ساتھ ہوں اور آر آئی یو جے کی قیادت کے حکم کے مطابق 13ستمبر کو پارلیمنٹ کے باہر ٹاک شو کروں گا۔مطیع اللہ جان نے کہا کہ جب صدر پاکستان پارلیمنٹ میں اپنا خطاب کر رہے ہوں گے تو دنیا کو پیغام جائے گا کہ ملک کے صحافیوں نے اپنے حقوق کے لیے پارلیمنٹ کے باہر دھرنا دے رکھا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اپوزیشن صدرِ پاکستان کی تقریر کے دوران پارلیمنٹ سے واک آؤٹ کر کے صحافیوں کے دھرنے میں شرکت کرے۔ سابق سیکرٹری آر آئی یو جے بلال ڈار نے کہا کہ حکومت کو بتا دینا چاہتے ہیں کہ یہ ہمارا آخری دھرنا نہیں ہے اگر پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا بل واپس نہ لیا تو احتجاج جاری رہے گا۔گلگت پریس کلب کے صدر خورشید احمد نے کہا کہ اگر موجودہ حکومت صحافت کو ریاست کا چوتھا ستون مانتی تو اس طرح سے صحافیوں کو دیوار سے نہ لگایا جاتا، پارلیمنٹ کے باہردھر نے میں گلگت کے صحافی بھر پور شرکت کریں گے۔نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے صدر شکیل انجم نے کہا کہ صحافیوں کے حقوق کے لئے پارلیمنٹ کے باہر دھرنا حکومت کی توقعات سے کہیں زیادہ کامیاب ہو گا۔سیکرٹری نیشنل پریس کلب انور رضا نے کہا کہ پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے خلاف 12 اور 13 ستمبر کی درمیانی رات پارلیمنٹ کے باہر دھرنا دے کر گزاریں گے۔ ممبر ایف ای سی عادل اکرم نے کہا کہ پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے خلاف تمام یونیز کو ساتھ لیکر چلنا چاہیے ۔ایبٹ آباد پریس کلب کے صدر نوید انجم نے کہا کہ ہزارہ ڈویژن کے صحافی دھرنے میں بھرپور طریقے سے شرکت کریں گے۔ممبر ایف ای سی مبارک زیب خان نے کہا کہ پاکستان بھر سے جو صحافی جبری برطرفیوں کا شکار ہوئے ہیں، ان کا ڈیٹا اکھٹا کیا جانا چاہیے اور جو صورتحال نظر آرہی ہے ہماری تحریک کامیاب ہو چکی ہے۔ راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس کے جنرل سیکرٹری طارق علی ورک نے آر آئی یو جے کے دھرنے کے حوالے سے اب تک کیے گئے اقدامات پر بریفنگ دی اور کہا کہ سوشل میڈیا پر میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی(PMDA) کے حوالے سے جو مسودہ گردش کر رہا ہے اس کو وفاقی وزیر برائے اطلاعات نشریات تسلیم نہیں کرتے اور کوئی بھی بل جب تک اسمبلی پیش نہیں ہوتا تب تک اس کی کوئی حیثیت نہیں لیکن پھر بھی ہمیں اس مسودے کے حوالے سے جو خدشات ہیں ہم ان کا بھرپور طریقے سے اظہار کر رہے ہیں۔ صدر آر آئی یو جے عامر سجاد سید نے کہا کہ ہمارے ساتھی مخلص ہیں جس کی وجہ سے پتہ چل رہا ہے کہ اسلام آباد میں کوئی دھرنا دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے ویبینار میں موجود تمام صحافیوں کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں اپنا قیمتی وقت ہمارے ویبینار کے لیے نکالا۔ پی آر آئی واک آؤٹ کمیٹی کی چیئرپرسن نیئر علی نے کہا کہ ہم آر آئی یو جے کے ساتھ ہیں اور احتجاجی دھرنے میں پارلیمنٹ کے اندر اپنا کردار ادا کریں گے۔آر آئی یو جے کی ایگزیکٹو ممبر روبینہ شاہین،سابق فنانس سیکرٹری آر آئی یو جے اصغرچوہدری،نعیم محبوب،عامر بٹ،ناصر خٹک ودیگر صحافیوں نے بھی اس موقع پر خطاب کیا۔ اس اجلاس کے مندرجات سے بھرپور اندازہ ہورہا ہے کہ صحافیوں کے خلاف حکومت کا زیر ترتیب مجوزہ کالا قانون(PMDA) پاکستان بھر کی صحافتی برادری کی طرف سے مسترد کر دیا گیا ہے ۔
سید علی گیلانی صاحب کی رحلت : مقبوضہ کشمیر کے ممتاز ترین حریت پسند رہنما اور مجاہد جناب سید علی گیلانی یکم ستمبر2021ء کو اپنے خالق و مالک سے جا ملے ۔ پاکستان ، بھارت اور دنیا بھر میں بسنے والے کشمیری گیلانی صاحب کی وفات پر نہائت غمگین ہیں ۔ علی گیلانی صاحب کی عمربانوے سال تھی ۔ وہ عرصہ دراز سے علیل تھے لیکن اُن کی سیاسی ، فکری اور آزادی کیلئے تمام سرگرمیاں جاری تھیں ۔ جب سے بھارتی اسٹیبلشمنٹ نے مقبوضہ کشمیر کی بھارتی آئین میں دی گئی خصوصی حیثیت کا ظالمانہ خاتمہ کیا ہے ، گیلانی صاحب مسلسل بھارت کے خلاف سراپا احتجاج تھے ۔ اُن کی سرگرمیوں کو روکنے اور محدود تر کرنے کیلئے بھارتی سامراج نے اُنہیں اُن کے گھر کے اندر ہی نظر بند کررکھا تھا۔ یہ نظر بندی دراصل سخت قید ہی تھی اور گیلانی صاحب ایسے علیل اور بزرگ ہستی کیلئے تو مزیدپُر آزمائش بھی ۔ اس ٹارچر اور زیادتی کے باوجود گیلانی صاحب کے پائے استقامت میں کوئی فرق آیا نہ کوئی تزلزل ۔ وہ پہلے بھی کئی مرتبہ بھارتی قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر چکے تھے ۔ سید علی گیلانی صاحب مرحوم مقبوضہ کشمیر میں بیٹھ کر پاکستان کی نظریاتی جنگ بھی لڑتے تھے ۔ وہ کشمیر کے ہی سپاہی نہیں تھے، پاکستان کے بھی سپاہی تھے ۔ وہ کھل کر کشمیر کو پاکستان کا حصہ بنانے کی بات کرتے رہے ۔ بھارتی استبداد ، ظلم اور قبضے کے خلاف اُن کی آواز کبھی نہ دبائی جا سکی ۔ اللہ نے مگر اُن کی قسمت میں آزادی کشمیر کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا نہیں لکھا تھا ، اگرچہ اُن کی ساری زندگی آزادی کشمیر کی جنگ کرتے گزر گئی ۔ وہ پاکستان ، قائد اعظم اور علامہ اقبال کے عاشقِ صادق بھی تھے ۔ اُن کی وفات کشمیریوں اور مسئلہ کشمیر کیلئے تو نقصان دہ ہے ہی ، پاکستان کے لئے بھی ایک عظیم نقصان ہے ۔ اُن کی وفات پر پاکستان نے ایک دن کیلئے اور آزاد کشمیر نے تین دن کا سرکاری سوگ منایا ہے ۔ پاکستان میں کئی جگہ اُن کی غائبانہ نمازِ جنازہ بھی ادا کی گئی ہے ۔ صدرِ پاکستان، وزیر اعظم پاکستان اور پاکستان کے سپہ سالار نے اُن کی وفات پر افسوس اور دکھ کا اظہار بھی کیا ہے اور اُن کی مغفرت کیلئے دعائیں بھی کی ہیں ۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ پاکستانی عوام کی بھی محبوب شخصیت تھے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ سید علی گیلانی صاحب مرحوم و مغفور کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور اُن کی تمام خطائیں معاف فرما دے ۔ آمین ۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »