Daily Taqat

صادق سنجرانی کی کامیابی ، گیلانی و حیدری کی ناکامی اور پولیس کی زیادتیاں

لیجئے جی چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخابات کاعمل بھی مکمل ہو گیا ۔ اس لحاظ سے 12مارچ کا دن بڑا تاریخ ساز دن تھا۔ سینیٹ کے عام انتخابات تین مارچ کو مکمل ہونے کے بعد ، جس میں اسلام آباد سے حکومتی اُمیدوار ( حفیظ شیخ) ناکام ہو گیا تھا، حکومت بہت متحرک ہو گئی تھی ۔ فریقین کا بہت زور لگ رہا تھا ۔ حکومت کی طرف سے صادق سنجرانی چیئرمین اور مرزا محمد آفریدی ڈپٹی چیئرمین کا انتخاب لڑنے کیلئے میدان میں اترے تھے ۔ دوسری طرف پی ڈی ایم اتحاد کی طرف سے سید یوسف رضا گیلانی چیئرمین اور مولانا عبدالغفور حیدری ڈپٹی چیئرمین کے عہدے کیلئے حکومت کے مقابل کھڑے تھے ۔ عددی اعتبار سے اپوزیشن کے ووٹ ، حکومتی اتحاد کے ووٹوں سے زیادہ تھے ۔ لیکن حکومت کا دعویٰ تھا کہ وہ یہ معرکہ جیت کر دکھائے گی ۔ اس سلسلے میں بہت سے طوفان میدانِ سیاست میں اُٹھے اور ہمارا بہت کچھ اپنے ساتھ بہا کر لے گئے ۔ سینیٹ کے چیئرمین کے انتخابات سے ایک شام پہلے میاں محمد نواز شریف کے میسج نے بھی تھرتھلی مچائے رکھی اور نون لیگ کے رکن قومی اسمبلی شاہد خاقان عباسی اور سینیٹر حافظ عبدالکریم کی پریس کانفرنس نے بھی طوفان اٹھائے رکھا ۔ مذکورہ تینوں افراد نے ہمارے بعض سیکورٹی اداروں پر اپنے اپنے لحاظ سے الزامات لگائے ۔ ان الزامات کی کبھی تصدیق تو نہیں ہو سکے گی لیکن ان الزامات کی گونج ساری دنیا میں سنائی دی گئی ۔ بھارت نے تو اس پر ٹاک شوز کا انعقاد کیا ۔ رہی سہی کسر مریم نواز کی ایک ٹویٹ نے پوری کر دی ۔ اس میں بھی الزامات کا طومار چھپا تھا ۔ پھر چیئرمین سینیٹ کے انتخاب والے دن سینیٹ کی عمارت کے اندر پولنگ بوتھ کے اندر خفیہ کیمروں کا انکشاف کر دیا گیا ۔ اس پر بھی بے حد شور مچا لیکن کسی کے خلاف تاحال کارروائی نہیں کی جا سکی ہے ۔ بس باتیں بہت ہیں ۔ ان حالات میں سینیٹ کے چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین کے انتخابات مکمل ہوئے ہیں ۔ یہ انتخابات خاصے ہنگاہ خیز رہے ۔ ان کی بازگشت ابھی تک پورے ملک میں سنائی دے رہی ہے ۔ بہرحال انتخابات بارہ مارچ کی سہ پہر ہوئے تو ان کے نتائج شام پانچ بجے کے بعد سامنے آ گئے ۔ کُل ووٹ 98کاسٹ کئے گئے ۔ حکومتی امیدوار صادق سنجرانی کو 48 ووٹ ملے جبکہ سید یوسف رضا گیلانی کو 42ووٹ حاصل ہوئے ۔ گیلانی کے سات ووٹ مسترد کر دئیے گئے ۔ اس بنیاد پر کہ اُن پر ووٹ کاسٹ کرنے والوں نے غلط جگہ پر نشان لگایا تھا ۔ یوں صادق سنجرانی جیت سے ہمکنار ہوئے اور وہ پھر سے چیئرمین سینیٹ بن گئے ۔ اس پر سینیٹ میں خوب خوشی سے ڈیسک بجائے گئے ۔جبکہ مسترد شدہ ووٹوں کی بنیادوں پر بھی خاصا ہنگامہ برپا رہا ۔ اپوزیشن والے انہی مسترد شدہ ووٹوں کی بنیاد پر اپنا مقدمہ عدالت میں لے جانے کا بھی عندیہ دے رہی ہے ۔ اس میں کوئی حرج بھی نہیں ہے کہ سب جانتے ہیں کہ وہاں سے بھی کیا نتیجہ نکلے گا۔ صادق سنجرانی تو پہلے بھی سینیٹ کے چیئرمین تھے ۔ اُنہیں پچھلی بار جس طرح چیئرمین بنایا گیا تھا، سب جانتے ہیں ۔ اس بارے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حال ہی میں جو انکشاف کیا ہے ، یہ ہم سب کیلئے چونکا دینے والا ہے ۔ لیکن ہماری سیاست میں یہ سب چلتا ہے ۔ چنانچہ ان شرمناک حقائق کے سامنے آنے سے کسی کو کوئی تکلیف بھی نہیں ہو رہی ہے ۔ گویا سب چلتا ہے ۔ ہماری سیاست اور سیاست کار بہت بے حس ہو گئے ہیں ۔ اس کے مناظر سینیٹ کے چیئرمین کے ان انتخابات میں بھی کھل کر سامنے آئے ہیں ۔ صادق سنجرانی کی کامیابی کے بعد ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا انتخاب ہوا ۔ اس میں بھی حکومتی اُمیدوار جیت گیا ۔ یوں سابق فاٹا سے نَومنتخب سینیٹر مرزا محمد آفریدی ڈپٹی چیئرمین منتخب ہو گئے ۔ اُنہوں نے 54ووٹ لئے جبکہ اُن کے مدِ مقابل پی ڈی ایم کے مولانا عبدالغفور حیدری نے 44ووٹ حاصل کئے ۔ اور یوں10ووٹوں سے مولانا صاحب بھی ہار گئے ۔ اس شکست سے پی ڈی ایم کی صفوں میں ماتم ہورہا ہے۔ ویسے تو صفِ ماتم پورے ملک میں بچھی ہے ۔ کہیں مہنگائی اور بے روزگاری نے لوگوں کو ماتم کرنے پر مجبور کررکھا ہے اور کہیں پولیس کے مظالم نے عوام کو آنسو بہانے پر مجبور کر دیا ہے ۔ پولیس کے مظالم اور زیادتیاں پورے ملک میں پھیلی ہوئی ہیں ۔ یہ مظالم متنوع ہیں ۔ پولیس کا نام خوف کی علامت بن چکا ہے ۔8مارچ 2021ء کو یہ اندوہناک خبر آئی کہ ڈومیل( بنوں) سے پشاور آ کر این ٹی ایس کا ٹیسٹ دینے والا نوجوان ، مبشر، مبینہ طور پر ”پولیس مقابلے” میں مار ڈالا گیا ہے ۔شنید ہے کہ ذمہ دار 2 رائیڈر پولیس والوں کو اس ضمن میں گرفتار کیا گیا تو اُنہوں نے کہا:” مجبوری میں یہ اقدام کیا گیا جو غلط تھا۔” نوجوانوں پر پولیس کی زیادتیاں روز بروز بڑھتی جا رہی ہیں۔ 2021ء کے طلوع ہوتے ہی پولیس، خصوصاً پنجاب پولیس ،کے حوالے سے کئی ایسے واقعات ظہور پذیر ہُوئے ہیں کہ اس ادارے بارے کئی سوالات نے پھر سراُٹھایا ہے ۔ اصول ، قانون کی کتاب اور زبان میں پولیس کے وجود اور فرائض میں عوام کی خدمت اور دستگیری کو مرکزی مقام حاصل ہے ۔ زمینی حقائق مگر اس کے برعکس ہیں ۔گذشتہ اڑھائی برسوں میں پنجاب میں تقریباً نصف درجن بار پنجاب پولیس کے سربراہان تبدیل کئے جا چکے ہیں۔ ہمارے حکمرانوں نے پچھلے سال کے آخری مہینوں میں لاہور پولیس کیلئے ایک ایسا سینئر افسر تعینات کیاجس کے بارے میں کئی تحفظات تھے لیکن اس کے باوصف اُنہیں لاہور کا سی سی پی او مقرر کر دیا گیا ۔ ان صاحب نے یہ عہدہ سنبھالتے ہی اعلان کیا:” مَیں صرف تین ماہ کے اندر اندر لاہور پولیس کو NYPD( نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ )بنا دوں گا”۔ تین کیا ، چار مہینے گزر گئے لیکن یہ سی سی پی او صاحب اپنے کئے گئے وعدے کا عشرِ عشیر بھی پورا نہ کر سکے ۔ اس دوران موصوف کے بارے میں کئی داستانیں بھی گردش کرتی رہیں ۔ یہ سی سی پی او صاحب اپنی پولیس ہی کیلئے بھاری بوجھ بن گئے ۔ اُنہوں نے عوام بیچاروں کی خدمت کیا کرنی تھی، اُلٹا وہ سینئر اور جونئیرپولیس افسروں اور ماتحتوں سے اُلجھتے رہے ۔یوں پولیس کو سدھارنے کا خواب ، خواب ہی رہا۔ چوتھا مہینہ گزرا نہیں تھا کہ یہ صاحب اپنے عہدے سے فارغ کر دئیے گئے ۔نئے سال کے آغاز میں ملک بھر کے جن پولیس افسروں کی ترقیاں ہُوئی ہیں ، یہ صاحب اس فہرست میں بھی شامل نہیں تھے ۔ گویاوفاقی حکومت نے بھی اُن کی اہلیت اور قابلیت پر عدم اعتماد کر دیا۔یہ ایسا واقعہ نہیں ہے جس پر ہم سب فخر کر سکیں ۔ ہم عوام پولیس کو اپنا سمجھتے ہیں لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ پولیس ہم عوام کو اپنا نہیں سمجھتی ۔ نئے سال کے آغاز ہی میں پنجاب پولیس کی ایک خاتون افسر نے اپنے ہی ادارے کے بارے میں جو اظہارِ خیال کیا ہے، یہ بھی اس امر کا مظہر ہے کہ پولیس میں بگاڑ کہاں تک پہنچ چکا ہے ۔5جنوری 2021ء کو سامنے آنے والی ایک خبر کے مطابق:”ایس پی اینٹی رائٹ فورس پنجاب کی خاتون آفیسرکا ایک ٹویٹ سامنے آیا جس میں انہوں نے اپنے جذبات کااظہارکیا اور محکمے کی بہتری کے حوالے سے موجودہ مسائل اور سفارش کلچرکوختم کرنے پررائے دی۔ پنجاب پولیس کی خاتون ایس پی ( جوپولیس ٹریننگ کالج میں ایس پی ٹریننگ تعینات ہیں) نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کہا کہ ذاتی پسند، ناپسند پر ٹرانسفر اور پوسٹنگ محکمے کو برباد کر رہی ہے،پسند نا پسند کی بنیاد پر افسروں کا کیریئر بھی متاثر کیا جا رہا ہے۔ افسوس، اس بات کو چھپانے کے لیے کرپشن اور کام نہ کرنے کا الزام لگا دیا جاتا۔ مذکورہ ایس پی صاحبہ نے ایک نجی ٹی وی چینل کو بھی پولیس بارے کئی حقائق سے آگاہ کیا”۔ابھی چند دن پہلے لاہور کی غالب مارکیٹ میں پولیس اہلکاروں نے دو مزدور بہن بھائیوں سے جو بد سلوکی کی ہے ، لاہور پولیس کے افسران اس پر بھی خاموش ہیں ۔اگر آئی جی پنجاب کی نظروں سے مذکورہ خاتون ایس پی صاحبہ کا ٹویٹ گزرا ہو تو اُنہیں اس شکائت کی روشنی میں اپنی ماتحت پولیس کے مجموعی کردار کا ازسرِ نَو جائزہ لینا چاہئے ۔ ملکی الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں پولیس کے رویوں اور ”حسنِ سلوک” پر بے حد شکایات نشر اور شائع ہو رہی ہیں لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ پولیس افسران اور ذمہ داران ہمیشہ چکنے گھڑے ثابت ہوئے ہیں ۔ہماری معزز عدالتیں بھی پولیس کے اس کردار سے سخت نالاں ہیں ۔ نئے سال 2021ء چڑھتے ہی کرک ( کے پی کے) میں ایک ہندو مندر اور سمادھی کو مسمار کرنے کا جو واقعہ رُونما ہُوا ہے ، اس پر وطنِ عزیز کی ہندو برادری بجا طور پر شکوہ کناں تو ہے ہی، ہماری عدالتِ عظمیٰ بھی سخت افسوس اور دکھ کا اظہار کرتی پائی گئی ہے ۔ 6جنوری2021ء کے اخبارات میں ایک خبر یوں شائع ہُوئی :”چیف جسٹس ، عزت مآب گلزار احمد، نے کرک میں مندر نذرِآتش کرنے کے واقعہ پر ریمارکس دیتے ہُوئے کہا کہ اس واقعہ سے دُنیا بھر میں پاکستان کی بدنامی ہُوئی ہے ۔ تین رکنی بنچ کے ایک معزز رکن ، جناب جسٹس اعجاز الاحسن، نے عدالت میں موجود کے پی کے پولیس کے سربراہ سے استفسار کیا کہ مندر مذکور کے ساتھ پولیس کی چوکی موجود ہے تو پھر یہ واقعہ کیوں اور کیسے پیش آیا؟ پولیس، مندر کو نقصان پہنچانے والوں کو کیوں نہ روک سکی ؟ پولیس افسر نے جب یہ کہا کہ ایس پی اور ڈی ایس پی سمیت 92اہلکاروں کو (غفلت برتنے پر) معطل کیا گیا ہے تو چیف جسٹس صاحب نے ریمارکس دئیے کہ پولیس اہلکاروں کو معطل کرنا کافی نہیں ہے ۔”شنید ہے کہ عدالتِ عظمیٰ کے حکم پر مندر کو شدید گزند پہنچانے والوں کو گرفتار بھی کیا گیا ہے اور عدالتی حکم پر اُن سے مسماری کا جرمانہ بھی وصول کیا جائیگا لیکن مقامی عوام بیک زبان کہتے پائے گئے ہیں کہ اگر متعلقہ پولیس اہلکار جانفشانی سے اپنے فرائض انجام دیتے تو یہ سانحہ جنم ہی نہیں لے سکتا تھا لیکن پولیس بادشاہ ہے۔ اسے کون سمجھائے ؟بعض اوقات عوام میں سے کوئی پولیس کو سمجھانے اور اسے راہِ راست پر لانے کیلئے اُٹھے تو سمجھانے والوں ہی کو دھر لیا جاتا ہے ۔ واقعہ یہ ہے کہ پولیس میں منتقم مزاج عناصر نے بھی اس باعزت ادارے کو نقصان پہنچایا ہے ۔سابق ائر مارشل، اصغر خان، نے اپنی کتاب میں وطنِ عزیز کے ایک صوبے کا نام لکھ کر تو یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ وہاں ماضی قریب میں جرائم پیشہ افراد کو پولیس میں بھرتی کیا گیا۔ 9مارچ2021ء کو خبر آئی کہ سندھ کی ایک یونیورسٹی کا طالبعلم، عرفان جتوئی، مبینہ طور پر پولیس حراست میں نے قتل کر دیا گیا ہے۔اس پر مقامی پولیس کی طرف سے کہا گیا کہ طالبعلم مذکور کئی مقدمات میں ماخوز تھا اور وہ پولیس مقابلے میں مارا گیا ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان نے بھی 16 جنوری 2021ء کو ایک انٹرویو میں اعتراف کیا کہ ”پولیس میں سیاسی بھرتیوں کا نقصان عوام کو ہُوا ہے ۔” ابھی تو ساہیوال کے سانحہ کی یادیں نہیں بھولی تھیں کہ وفاقی دارالحکومت کا خونی واقعہ پیش آ گیا۔ 3جنوری2021ء کو اسلام آباد میں 22سالہ نوجوان طالبعلم، اُسامہ ستی، کو مبینہ طور پر 5 پولیس والوںنے جس وحشت سے 22 گولیاں ماری ہیں، اس سانحہ سے تو وزیر اعظم کا دل بھی دہل اُٹھا ہوگا کہ مقتول اُسامہ پی ٹی آئی کے طلبا ونگ (ISF)کا جزو بھی رہا ۔ اس کی تصدیق اسلام آباد سے پی ٹی آئی کے منتخب ہونے والے ایم این اے اور وزیر منصوبہ بندی ، اسد عمر، نے بھی کی ۔ اس واقعہ کے خلاف وفاقی دارالحکومت میں ابھی تک پولیس کے خلاف سخت غم و غصہ پایا جاتا ہے ۔ ملزمان گرفتار ہیں اوراُن کے خلاف مقدمہ چل رہاہے ۔ سوال مگر یہ ہے کہ کیا پولیس اپنے پیٹی بھائیوں کو کیفرِ کردار تک پہنچنے دے گی ؟ پولیس کے ہاتھوں دکھ اٹھانے والے سب انصاف کے تقاضے پورے کئے جانے کے منتظر ہیں۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »