Latest news

آنکھ سے کھینچ کر نکالے ہیں‘ خواب ویسے بھی مرنے والے تھے

پورے ملک میں اس خبر اور فیصلے کو نظرِ استحسان سے دیکھا اور سُنا گیا ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے تین ایسے پاکستانی افراد کو دی گئی سخت سزاوں کی توثیق کر دی ہے جنہوں نے مملکتِ خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان اور افواجِ پاکستان کے خلاف عملی اقدامات کئے تھے ۔ جن پر الزامات عائد کئے گئے تھے کہ اُنہوں نے پاکستان کے خلاف بروئے کار عالمی خفیہ ایجنسیوں کو اپنے نجی مفادات کے حصول کےلئے پاکستان کی حساس معلومات فراہم کیں ۔ یہ ایسا گھناونا اور کریہہ جرم ہے کہ اس کی کم سزا ہو ہی نہیں سکتی ؛ چنانچہ تینوں ملزموں کو رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا اور اُن کے خلاف علیحدہ علیحدہ مقدمات فوجی عدالتوں میں چلائے گئے ۔ تینوں ملزمان کو اپنی اپنی صفائی کےلئے بھرپور مواقع اور وقت فراہم کیا گیا۔ اُن کا جرم ثابت ہونے پر اُنہیں مروجہ ملٹری قوانین کے مطابق سخت سے سخت سزائیں سنائی گئی ہیں ۔

لیفٹیننٹ جنرل(ر) جاوید اقبال کو 14سال ، بریگیڈئر (ر) راجہ رضوان اور ایک سویلین ڈاکٹر وسیم اکرم کو سزائے موت کا حکم سنایا گیا ہے ۔

جنرل قمر جاوید باجوہ نے اُنہیں معافی دینے کی بجائے اُن کی سزاوں کی توثیق کر دی ہے ۔ اس کا مطلب یہ کہ جنہیں سزائے موت سنائی گئی ہے ، اب کوئی دن جاتا ہے جب اس پر عمل در آمد بھی ہو جائے گا۔ ہم جنرل باجوہ صاحب کے اس فیصلے کی نہ صرف تائید کرتے ہیں بلکہ ستائش بھی کرتے ہیں ۔آئی ایس پی آر کے ڈی جی نے خود بھی تصدیق کرتے ہُوئے کہہ دیا ہے کہ تینوں سزا یافتہ مجرمان کو جیل بھیجا جا چکا ہے ۔

لیفٹیننٹ جنرل (ر) جاوید اقبال اب چودہ برس پسِ دےوارِ زنداں ہی گزاریں گے اور اُن لمحات پر آنسو بہاتے رہیں گے جب اُنہوں نے لالچ اور لوبھ کے جذبات سے مغلوب ہو کراس غلیظ حرکت کا ارتکاب کیا تھا۔

یہ ہوتا ہے در اصل ملزمان کے خلاف فےصلہ جو فوری بھی ہو ، انصاف پر مبنی بھی ہو اور جس پر فوری طور پر عملدرآمد بھی ہو ۔یہ شاندار فیصلہ در حقیقت ہمارے سویلین احتسابی اداروں کے لئے بھی ایک مثال کا درجہ رکھتا ہے ۔ کاش کوئی اس فیصلے سے سبق بھی سیکھے اور اسے اپنے لئے مشعلِ راہ بھی بنائے ۔

ہمارے سویلین احتسابی ادارے پکے اور عادی مجرموں کا احتساب کرتے ہُوئے جس تاخیر اور سست روی کا مظاہرہ کرتے پائے جاتے ہیں ، مذکورہ فیصلہ اُن کی آنکھیں کھولنے کےلئے کافی ہونا چاہئے ۔ شائد یہی وجہ ہے کہ عوام الناس نے جنرل صاحب کے اس اقدام کی تحسین ہی کی ہے کہ اُنہوں نے اپنے سینئر ساتھیوں کو جرم ثابت ہونے پر کوئی رعائت نہیں دی ہے اور نہ ہی اُنہیں جیل میں کسی سہولت سے نوازا گیا ہے ۔

اس کے برعکس ہم یہ افسوسناک مناظر آئے روز دیکھ رہے ہیں کہ سزایافتہ راج دلاری ضمانت پر ہونے کے باوجود پوری آزادیوں سے لطف اندوز بھی ہو رہی ہیں اور حکومت کو للکار بھی رہی ہیں ۔ اُنہیں اس بات کی بھی کوئی پروا نہیں ہے کہ کسی بھی وقت اُن کی ضمانت منسوخ ہو سکتی ہے اور وہ دوبارہ زندان خان میں ڈالی جا سکتی ہیں ۔

وہ نہ صرف حکومت اور ہمارے معزز اداروں کا ٹھٹھہ اور مضحکہ اُڑا رہی ہیں بلکہ اپنے حواریوں اور ہمنواوں کو ششکار کر افواجِ پاکستان کے خلاف مشتعل کرنے کی بھی دانستہ کوشش کر رہی ہیں ۔ان عناصر کو افواجِ پاکستان اور پاکستان کے حساس اداروں کے خلاف زبان درازیاں کرتے ہُوئے نہ کوئی ڈر ہے اور نہ ہی انہیں کوئی حیا آ تی ہے ۔ ان عناصر کا احتساب ہونا چاہئے اور انہیں ان کی اوقات یاد دلانی چاہئے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پاک فوج اور حکومت کی طرف سے ایسے دریدہ دہن عناصر کی ڈور ڈھیلی چھوڑی گئی ۔ اسی وجہ سے یہ اپنی حدود اور اوقات فراموش کر بیٹھے ہیں ۔ ایسی مادر پدر آزادی تو مغربی ممالک میں بھی صحافیوں اور سیاستدانوں کو حاصل نہیں ہے کہ وہ جب چاہیں اور جیسا چاہےں اپنے ملک کی فوج کے کسی بھی کردار پر حرف زنی کر سکیں ۔ تازہ واقعہ تو ہم نے دیکھ ہی لیا ہے ۔ رواں جون کے پہلے ہفتے آسٹریلیا کے نامور نجی ٹی وی ”اے بی سی“ یعنی ”آسٹریلین براڈ کاسٹنگ “ نے ایک خبر نشر کی جس میں بتایا گیا تھا کہ افغانستان میں تعینا ت آسٹرلین فوجیوں نے وہاں انسانی حقوق کی شدید پامالی کی تھی ۔

یہ خبر نشر ہوتے ہی حکومتی ایجنسیوں نے ”اے بی سی“ پر چھاپہ مارا، خبر کا سارا مواد اپنے قبضے میں لے لیا اور متعلقہ ذمہ داران کو حراست میں لے لیا ۔ 7جون2019ءکی خبروں کے مطابق ، آسٹریلوی حکومت سوچ رہی ہے کہ اُن صحافیوں پر مقدمہ بھی چلایا جایا گا جن کی دی گئی خبر پر ٹی وی نے فوج کے خلاف یہ خبر نشر کی تھی ۔ یہ ہوتا ہے اپنے ملک کی فوج کا احترام، اسٹیٹس اور اُسے آزادی کے ساتھ کام کرنے کا حق ۔ اس واقعہ کی روشنی میں ذرا اپنے وطنِ عزیز کے بعض صحافیوں کے کردار پر ایک نظر ڈالی جائے تو افسوس ہوتا ہے کہ کس بے محابہ اسلوب میں وہ افواجِ پاکستان کے خلاف زبان درازیاں کر رہے ہیں ۔ اور یہ بھی تہمتیں عائد کر رہے ہیں کہ پاکستان کے سیکورٹی اداروں کے اشاروں پر صحافیوں کی آزادی سلب کر لی گئی ہے ۔ جیسا کہ انگریزی اخبار ”ڈان“ کے اسسٹنٹ ایڈیٹر اور کالم نگار سرل المیڈا کا سوئٹزر لینڈ میں وہ انٹرویو جو اُنہوں نے ایک مقامی صحافتی ادارے سے انعام وصول کرتے ہُوئے دیا ہے ۔

یہ وہ صحافی ہے جس نے نواز شریف کی زبانی ایک ایسا انٹرویو شائع کیا تھا جس سے ہمارے ملک اور ہمارے سیکورٹی اداروں کی توہین کا پہلو بھی نکلتا تھا اور یہ درحقیقت ملک دشمنی بھی تھی۔ سرل المیڈا کے توسط سے نواز شریف نے دراصل پاکستان کے برعکس بھارت نوازی کا ثبوت دےا اور افواجِ پاکستان کی پیٹھ میں چھرا گھونپا۔ہمارے بھی ہیں مہرباں کیسے کیسے۔ ہم سمجھتے ہیں ایسی بےہودگیاں اُس وقت جنم لیتی ہیں جب اخبار نویس اور سیاست کار اپنی حدود سے متجاوز ہو جاتے ہیں اور اُن کے نزدیک ملک اور اس کے سیکورٹی اداروں کی کوئی اہمیت اور حیثیت نہیں رہ جاتی ۔ راج دلاری بھی اِسی کی مرتکب ہو رہی ہیں ۔

مریم نواز شریف کا اپنے مجرم باپ کی بےماری کا بہانہ بنا کر ریاستی اداروں پر آئے روز حملہ آور ہونا اس امر کی دلیل ہے کہ ہمارے کئی ملزم اور مجرم سیاستکاروں کو کچھ زیادہ ہی ڈھیل دی جا چکی ہے ۔ اس کا خمیازہ پوری قوم بھگت رہی ہے ۔ حیرانی کی بات ہے کہ مجرم نواز شریف کو جیل میں اے کلاس بھی دی گئی ہے ، ہر وقت ڈاکٹرز بھی دستیاب ہیں اور تازہ مصدقہ اطلاعات کے مطابق اُن کے جیل کے کمرے میں ائر کنڈیشنرز بھی نصب کر دئیے گئے ہیں ۔ کیا کوٹ لکھپت جیل میں اسیر دیگر قیدیوں کو بھی اسی طرح کی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں ؟ اگر نہیں تو پھر مجرم نواز شریف ہی کو کیوں ؟ بنیادی سوال یہ بھی ہے کہ نواز شریف کو عدالت نے شدید کرپشن کرنے اور ملک لُوٹنے کے جرائم ثابت ہونے پر یہ سزا دی ہے ۔ پھر اُنہیں اے کلاس کیسے دی جا سکتی ہے؟ جیل میں اے اور بی کلاس تو ضمیر کے اور سےاسی قیدیوں کو دی جاتی ہے ۔ یہی مروجہ اصول اور ضوابط ہیں ۔ نواز شریف نے تو اپنا ضمیر مردہ کررکھا ہے ۔ اسی مردہ ضمیر کے تحت ، بے حسی اور وحشت سے وہ ملک لُوٹتے رہے اور اسی کی سزا پائی ۔ ہم تو اس سزا کو بھی کم سمجھتے ہیں ۔ ستم بر ستم یہ کہ اُنہوں نے ابھی تک نہ تو 100لاکھ پاونڈز کا جرمانہ ادا کیا ہے اور نہ اُن کی مجرم اور سزا یافتہ راج دلاری نے ۔اگر یہی وتیرے جاری رہے تو پھر مل چکی حکومت کو لُوٹی گئی رقوم ۔ لیکن یاد رکھا جائے جلد ہی ایک ایسی عدالت بھی لگنے والی ہے جہاں یہ سب ظالم ،لٹیرے اور وقت کے فرعون واقعی پابجولاں لائے جائیں گے اور اُنہیں سخت سزائیں گی دی جائیں گی :
جب کھڑے ہوں گے یہ سب فرعون ،ملزم کی طرح
وہ عدالت جو لگے گی روزِ محشر ، دیکھنا!!

اگر ہر مجرم کو جیل میں وہی سہولیات فراہم کی جائیں جو مجرم نواز شریف کو فراہم کی جارہی ہےں تو پھرکون جیل جانے سے خوفزدہ ہوگا ؟ ہم حکومت سے استدعا کرتے ہیں کہ فوری طور پر ایسی قانون سازی ہونی چاہئے جس کے تحت نواز شریف ایسے مجرم جیل پہنچ کر وہ موجیں اور سہولتیں حاصل نہ کر سکیں جو اُنہیں دستیاب ہیں ۔ جیل میںاے کلاس اور بی کلاس دیئے جانے کے قوانین میں بھی فوری ترمیم کی جانی چاہئے ۔

نواز شریف اے کلاس سہولتوں سے بھی لطف اندواز ہو رہے ہیں اور اُن کی راج دلاری کے واویلے بھی ختم نہیں ہورہے ۔ راج دلاری کے بہانے اور جھوٹ اپنے عروج پر ہیں ۔ تازہ جھوٹ پھر یہ گھڑا گیا ہے کہ مجرم ابا جی کو انجائنا کا حملہ ہُوا ہے ۔ حیرانی کی بات ہے کہ مجرم نواز شریف کو جب پچھلے دنوں 6ہفتوں کی ضمانت پر رہا کیا گیا تواس دوران اُن پر ایک بار بھی نام نہاد انجائنا نے حملہ نہیں کیا تھا۔ شریفوں نے تو جعلی بیماریوں کی اساس پر سہولتیں لینا اپنی عادتِ ثانیہ بنا لیا ہے ۔ برادرِ خورد شہباز شریف کو بھی جب کبھی ضمانت لینی ہو اور لندن فرار ہونا ہو ، اُن پر کوئی نئی بیماری یا تو حملہ کر دیتی ہے یا کوئی پرانی بےماری زور پکڑ لیتی ہے ۔

یوں وہ عدالت کو خوف میں مبتلا کرکے لندن پدھارنے میں کامیاب ہو جاتے ہےں ۔ لندن پہنچتے ہی شہباز شریف کی ساری بیماریاں اُڑن چھُو ہو جاتی ہیں اور وہ سرخ بوٹ پہن کر لندن کی سڑکوں پر اور شاپنگ مالز میں مٹر گشت کرتے اور قہقہے لگاتے نظر آتے ہیں ۔ اُن کی پھرتیاں اور تیزیاں قابلِ دید بھی ہوتی ہیں اور صحتمند سے صحتمند آدمی کےلئے بھی قابلِ رشک ۔ چند ہی دنوں میں اُن کی ایسی کایا کلپ پر کوئی اُن کی باز پرس نہیں کرتا ۔ وہ ادارے بھی نہیں جو اُنہیں ضمانتوں پر ضمانتیں دیتے ہیں ۔ اب شنید ہے کہ موصوف 8جون کو واپس پاکستان تشریف لا رہے ہیں ۔ ممکن ہے جس وقت یہ کالم قارئینِ کرام کی نظروں سے گزر رہا ہو ، اُسوقت تک موصوف پاکستان میں قدم رنجہ فرما چکے ہوں ۔اُنہیں اکیلے واپس نہیں آنا چاہئے ۔

اُن کے ساتھ اُن کے بیٹے اور داماد کو بھی واپس پاکستان آنا چاہئے ۔ یہ دونوں افراد بھی ملک سے مفرور ہیں اور قانون و عدالتوں کو مطلوب بھی ۔ اُن کا فرار دراصل اُن کے چور ہونے کا ایک ثبوت بھی ہے ۔ اگر وہ سچے ہیں تو اُنہیں راہِ فرار اختیار کرنے کی بجائے قانون کا سامنا کرنا چاہئے ۔ لیکن جن کے” داڑھیوں“ میں تنکے پھنسے ہُوئے ہےں ، اُن مےں اتنی اخلاقی جرا¿ت کہاں سے آ سکتی ہے کہ وہ قانون اور عدالتوں کا سامنا کر سکیں ۔

چور، لٹیرے اور ملک لوٹنے والے تو ویسے بھی بزدل اور دُوں ہمت ہوتے ہیں ۔ مجرم نواز شریف کے دونوں مفرور بیٹے اور ملزم شہباز شریف کے بیٹے و داماد بھی ایسے ہی افراد میں سرِ فہرست رکھے جاتے ہیں ۔ افسوس تو ہمیں اپنے اُن عوام اور سیاستدانوں پر ہوتا ہے جو ایسے لوگوں کی بد قماشیاں دیکھ سُن کر بھی اُن سے وفاداری کا جھنڈا اُٹھائے ہُوئے ہیں اور اُن کیلئے گلے پھاڑ پھاڑ کر نعرہ زَن ہو تے ہیں ۔

گویا قافلے کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا ہے ۔ پیپلز پارٹی بھی ایسے ہی لوٹ مار کرنے والے قافلے میں شامل ہے ۔ آصف زدراری اس قافلے کے سالار ہیں ۔ ہمیں تو یقین ہے کہ کوئی دن جاتا ہے جب وہ دَھر لئے جانے والے ہیں ۔

شنید ہے اُن کےلئے خاص کمرہ تیار کر لیا گیا ہے ۔

وہ لمحہ آنے سے قبل مگر آصف زرداری پورا زور لگا رہے ہیں کہ کسی طرح اس عذاب سے بچ جائیں ۔ شائد یہ قدم اِسی حکمتِ عملی کا حصہ ہے کہ اُنہوں نے اپنی پارٹی کا ہائی کمان اجلاس بلا لیا ہے ۔ وہ عید کے بعد حکومت مخالف کئے جانے والے مجوزہ مظاہروں کا بھی حصہ ہیں ۔ اب عید تو گزر چکی مگر طے شدہ لائحہ عمل کو عملی جامہ پہنانا ابھی باقی ہے ۔ حکومت پر دباو ڈالنے کے ان قابلِ مذمت حربوں سے پہلے آصف زرداری اپنے تئیں بھی کوئی دھوبی پٹڑا مارنا چاہتے ہیں لیکن یہ حربے دراصل اُس چراغ کی مانند ہیں جو بجھنے اور گُل ہونے سے پہلے تھوڑی دیر کےلئے بھڑک کر زیادہ لَو دینے لگتا ہے ۔افسوس مگر ہمیں عمران خان پر بھی ہے جن کی طرف سے تیزی کے ساتھ اور مضبوطی سے ملزموں اور مجرموں پر ہاتھ نہیں ڈالا جا رہا ۔

اُن کی گرفت ڈھیلی پڑتی محسوس ہو رہی ہے ۔ شائد یہی وجہ ہے کہ اُن کی پارٹی کے اندر بھی بعض عناصر اپنی من مرضیاں کرتے ہُوئے اپنے نجی مفادات بھی سمیٹنے لگے ہیں اور قانون و اصول کامذاق بھی اُڑانے لگے ہیں ۔ نتیجے میں بدنامی اور تنقید صرف عمران خان کو بھگتنا پڑ رہی ہے ۔ تازہ ترین مثالیں وفاقی وزیر مملکت زرتاج گل کا اپنی بہن شبنم گل کو اور وزیر اعظم کے قرےبی و سرکاری ساتھی نعیم الحق کا اپنے بھانجے شیراز الحق کو بالا بالا اعلیٰ سرکاری عہدے بانٹنے کے افسوسناک واقعات سامنے آئے ہیں ۔ زرتاج گل صاحبہ نے لاہور کی ایک یونیورسٹی میں تعےنات اپنی ہمشیرہ پروفیسر شبنم گل کو ”نیکٹا“ میں ڈیپوٹےشن پر ڈائریکٹر کی اعلیٰ اور گریڈ 19کی ملازمت دلوا دی ۔

اس کےلئے سفارش بھی کی ، خط بھی لکھوایا اور فون بھی کیا ۔میڈیا نے بجا طور پر اس تعیناتی پر سخت شور مچایا اور اس دوران شبنم گل کی کئی تعلیمی نالائقیاں اور نااہلیاں بھی آشکار کر دی گئیں جو شائد اگر یہ واقعہ سامنے نہ آتا تو دبی رہتیں ۔ زرتاج گل نے معافی بھی مانگی ہے اور اپنا مبینہ خط بھی واپس لے لیا ہے لیکن تنازع کی جڑ تو ابھی وہیں کی وہیں ہے یعنی اپنی ہمشےرہ کی ”نیکٹا“ میں بطورِ ڈائریکٹر تعیناتی ۔ ہمیں حیرانی تو اس امر پر ہے کہ ”نیکٹا“ ایسے خالصتاً پیشہ ورانہ محکمے میں ایک خاتون ٹیچر کی تعیناتی چہ معنی دارد ؟ لیکن زیادہ تنخواہ، مراعات ، سہولتوں اور سرکاری ٹور ٹپّے کے لالچ میں زرتاج گل نے یہ اقدام کر ڈالا ۔ یہ بھی حیرانی کی بات ہے کہ وزیر اعظم کے نوٹس لینے کے باوجود ابھی تک شبنم گل کی اپوائنٹمنٹ منسوخ نہیں کی گئی ۔

عوام اس کے کیا معنی اخذ کریں ؟ شائد اِسی کمزوری کا یہ بھی نتےجہ نکلا ہے کہ اس بار وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور خیبر پختونخوا کے حکام اپنی اپنی مرضی کا اپنا اپنا چاند چڑھاتے رہے ۔ نتےجہ یہ نکلا ہے کہ ملک میں الگ الگ دو دو عیدین منائی گئی ہیں جس نے دراصل اتحادِ ملت کو دھچکا پہنچایا ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس حساس معاملے میں روئتِ ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منےب الرحمن ہی کا راستہ اور لائحہ عمل درست تھا ۔ اُنہی کا فیصلہ راستی پر مبنی تھا لیکن افسوس کہ پشاور سے مفتی شہاب الدین پوپلزئی نے اپنا چاند چڑھا دیا اور کے پی کے حکومت نے بھی ایک دن پہلے ہی عید منانے کا اعلان کر دیا ۔

اس بارے ہم حکومت اور عدالتوں سے تحقیقات کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں تاکہ قوم اور ملک کو کنفیوژن میں مبتلا کرنے اور قومی اتحاد پارہ پارہ کرنے والوں کو قرار واقعی سزا دی جا سکے ۔ سزا مگر دے گا کون ؟ یہاں تو ملک کی سب سے بڑی عدالت کے ایک سینئر جج صاحب کے معاملات سپریم جوڈیشل کونسل بھیجے جا چکے ہیں ۔

اس پر جج صاحب ( جناب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ) ناراض بھی ہیں ، غصے میں بھی ہیں اور طیش میں صدرِ مملکت کو خط بھی لکھ رہے ہیں ۔ اُن کا پانچ صفحات پر مشتمل مبینہ خط بہت سے نکات سامنے لے آیا ہے۔ ہمارے نزدیک تو دونوں فریقین قابلِ احترام ہیں ۔ سپریم جوڈیشل کونسل میں معاملہ بھےجنے والے بھی اور جسٹس صاحب موصوف بھی ۔ اگر الزام عائد کیا گیا ہے تو کسی رکاوٹ، تعصب اور دباو کے انصاف ہونا چاہئے ۔

قانون سے تو کوئی بھی بالا نہیں ہے ۔ چاہے جج ہو، جرنیل ہو یا جرنلسٹ ہو ۔ حیرت اس امر پر بھی ہے کہ جسٹس صاحب مذکور کی حمائت میں بعض ایسے گروہ بھی حکومت کے خلاف نیزے اور تلواریں سونت کر سامنے آ گئے ہیں جن کے اپنے دامن صاف نہیں ہیں اور نہ ہی اُن کا کردار قوم کے سامنے قابلِ فخر اور قابلِ اعتبار ہے ۔ ایسے نقادوں پر کوئی کیسے اعتبار کرے گا؟ شاعر نے کہا تھا:
پہلے ہر شخص گریبان میں اپنے جھانکے
پھر بصد شوق کسی اور پر تنقید کرے !!


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.