Daily Taqat

قومی اسمبلی میں شہباز شریف کی شکست اور ایک بیہودہ یو ٹیوبر کی گرفتاری

یوں لگتا ہے جیسے پاکستان کے ہر فورم پر نون لیگ کی شکست مقدر اور نوشتہ دیوار بن گئی ہے ۔ اور یہ بھی واضح ہوتا جا رہا ہے کہ مقتدر پی ٹی آئی اور عمران خان کا نقطہ نظر اور حکومت روز بروز مستحکم ہوتی جا رہی ہے ۔ نون لیگ نے پیپلز پارٹی و جے یو آئی (ایف) کے ساتھ ساتھ دیگر دس سیاسی حزبِ اختلاف کی جماعتوں سے مل کر عمران خان کی حکومت کا تختہ اُلٹنے اور اُنہیں اقتدار سے چلتا کرنے کا خواب دیکھا تھا لیکن یہ بھی نہائت ہی بُری طرح ناکام و نامراد ہُوا ہے ۔ اس سے پہلے مولانا فضل الرحمن ، جنہیں پی ٹی آئی کے اُمیدوار نے انتخابات کے میدان میں بہت ہی بُری طرح ہرایا تھا، بھی ملک بھر کے ہزاروں بلکہ لاکھوں ہم مسلک طلبا اور علمائے کرام کے لشکریوں کو لے کر اسلام آباد پر چڑھ دوڑے تھے تاکہ عمران خان کو حکومت اور اقتدار سے محروم کیا جائے لیکن اسلام آباد پر حضرت مولانا کی یہ لشکر کشی بھی شکستِ فاش سے دو چار ہُوئی ۔ وجہ یہ تھی کہ نون لیگ اور پیپلز پارٹی نے مولانا موصوف کے باطنی عزائم جان کر اُن سے تعاون ہی نہیں کیا تھا بلکہ محض گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنے کے مصداق چند ایک نون لیگی اور پی پی پی کے رہنما مولانا صاحب کے احتجاجی اجتماع میں بے دلی سے شریک تو ہُوئے تھے مگر جی جان سے مولانا کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا ۔ مولانا کی یہ شکست بھی دراصل وزیر اعظم عمران خان کی نظریاتی اور سیاسی فتح بھی تھی اور عوام پر اُن کا غیر متزلزل یقین بھی ۔نون لیگ نے پھر پیپلز پارٹی اور جے یو آئی ایف کے ساتھ مل کر دس جماعتی اتحاد بنایا تاکہ عمران خان کی حکومت کا دھڑن تختہ کیا جائے ۔ اس دس جماعتی اتحاد کو ”پی ڈی ایم” کا نام دیا گیا لیکن پھر ساری دُنیا نے دیکھا کہ بھان متی کا کنبہ یہ ”پی ڈی ایم” اپنے داخلی تضادات اور اس کے تین بڑے لیڈروں کے نجی مفادات کے تصادم نے اس کا بھٹہ بٹھا دیا ۔ پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم پر نون لیگ اور پیپلز پارٹی یوں متصادم ہُوئے کہ یہ تماشہ ایک دُنیا نے ملاحظہ کیا ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پی ڈی ایم کا شیرازہ مکمل طور پر بکھر چکا ہے ۔ عمران خان کو اقتدار سے محروم کرنے کا نون لیگ اور پی پی پی کا خواب چکنا چور ہو چکا ہے ۔اب ڈھونڈنے سے بھی پی ڈی ایم کا سراغ نہیں ملتا ۔ مولانا فضل الرحمن کے خوابوں میں اگر کہیں یہ پایا جاتا ہے تو یہ علیحدہ بات ہے ۔ پی ڈی ایم کی شکست و ریخت دراصل شہباز شریف ، نواز شریف ، آصف علی زرداری ، مولانا فضل الرحمن کی شکست تھی ۔ اب یہ بلّی کھسیانی بن کر محض کھمبا نوچنے کو رہ گئی ہے ۔ عمران خان کی حکمتِ عملی اور صبر سے پی ڈی ایم غرقاب ہو چکی ہے ۔ اُدھر لندن میں بیٹھے مفرور نون لیگئے ”رہبر” صاحب علیحدہ غصے اور طیش سے بَل کھا رہے ہیں اور اپنا غم غلط کرنے کیلئے اپنے نواسے ( مریم نواز شریف کے بیٹے ) کا پولو میچ دیکھ رہے ہیں ۔ عوام نے نون لیگ سے جتنی بھی توقعات لگائی تھیں ، سب خاک میں مل چکی ہیں ۔ وجہ یہ ہے کہ نون لیگ اور پیپلز پارٹی کی اعلیٰ تر قیادت پر اربوں کھربوں روپے کی مبینہ کرپشن کے الزامات اور لاتعداد مقدمات نے ان اپوزیشن لیڈروںکی روحِ حریت سلب کررکھی ہے اور وہ این آر او لینے اور ”کسی کو ” کو خوش کرنے کے چکر میں پاکستانی عوام کے سبھی مصائب دانستہ بھول چکے ہیں ۔ یہی نون لیگ کی سب سے بڑی بد بختی ہے ۔ جیل سے ضمانت پر نکلنے کے بعد میاں شہباز شریف بھی ٹھس ہو گئے ہیں ۔ اُن کی مشہورِ عالم مفاہمت بھی اُن کے اور اُن کی پارٹی کے کسی کام نہیں آ رہی ۔ عمران خان نے شہباز شریف کو لندن جانے کی اجازت نہ دے کر اُنکے سارے منصوبے اور عزائم بھی خاک میں ملا دئیے ہیں ۔ اگر نون لیگی قیادت دوغلی پالیسیوں پر عمل نہ کرتی اور عوامی جذبات کا استحصال نہ کرتی اور صرف اصل جمہوری نظریات سے چمٹی رہتی تو اُس کی اتنی توہین اور بے حرمتی بھی نہ ہوتی ۔ لیکن نون لیگ کے دوغلے پن نے اسے نہ اُدھر کا رہنے دیا ہے نہ اِدھر کا ۔پیپلز پارٹی تو ویسے بھی لاتعداد الزامات کی زد میں آکر ملک بھر میں عوام کا اعتماد کھو چکی ہے ۔ اسی دوران پی ٹی آئی کی حکومت نے اپنا تیسرا سالانہ میزانیہ ( بجٹ) قوم کے سامنے پیش کیا تو نون لیگ نے اس بجٹ کو ناکام بنانے اور اس پر عوامی عدم اعتماد ظاہر کرنے کیلئے شہباز شریف کی قیادت میں قومی اسمبلی میں سخت مخالفانہ تقریر کرنے کا منصوبہ بنایا تاکہ عوام کو عمران خان اور اُن کی حکومت کے خلاف بھڑکایا جا سکے ۔لیکن عمران خان کے چیتوں نے نون لیگ اور شہباز شریف کے سارے منصوبوں اور عزائم کو مٹی میں ملا دیا ۔ عمران خان حکومت کا پیش کردہ بجٹ عمومی طور پر اچھا قرار دیا گیا ہے لیکن شہباز شریف نے اس کی توہین کرنے کی ٹھانی تو پی ٹی آئی کے ارکان بھی قومی اسمبلی میں بپھر گئے ۔ جونہی شہباز شریف تقریر کیلئے اُٹھے، مقتدر پارٹی احتجاج میں اُٹھ کھڑی ہُوئی۔ طرفین میں گھمسان کا رن پڑا۔ ایک دوسرے کے ارکان پر تشدد بھی ہُوا اور ایک دوسرے پر بجٹ کی بھاری بھر کم کاپیوں کو میزائلوں کی طرح داغا گیا ۔طرفین کی طرف سے غلیظ گالیوں کا تبادلہ بھی ہُوا ۔ پی ٹی آئی کے کئی ارکان یہ الزامات دہراتے پائے گئے ہیں کہ اگر نون لیگی ارکانِ اسمبلی گالیوں کا آغاز نہ کرتے تو اُن کی طرف سے بھی دُو بدو جوا ب نہ آتا ۔ یہ افسوسناک مناظر تھے ۔ لیکن اس تصادم کو بھی جمہوریت کا ایک حصہ سمجھنا چاہئے اور اس ضمن میں پاکستان تنہا نہیں ہے ۔ دُنیا کے کئی ممالک میں ارکانِ پارلیمنٹ گتھم گتھا ہوتے ، ایک دوسرے کا گریبان پھاڑتے اور ایک دوسرے پر حملہ آر ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود ہماری قومی اسمبلی میں اگر ایسا نہ ہوتا تو بہتر تھا ۔ اس تصادم کا نتیجہ یہ نکلا کہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف دو دن تک اپنی بجٹ تقریر نہ کر سکے ۔ اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر صاحب بار بار اسمبلی کا اجلاس معطل کرتے رہے ۔ اسی دوران نون لیگ نے طیش میں آکر پہلے یہ فیصلہ کیا کہ قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر ، مسٹر قاسم سوری ، کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائیں گے ۔ابھی یہ فیصلہ کسی نتیجے کو نہیں پہنچا تھا کہ نون لیگ نے دوسرا فیصلہ کیا کہ قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائی جائے گی ۔ وجہ یہ بیان کی گئی کہ اُن کا جھکاؤ حکومتی پارٹی کی طرف ہے اور انہی کی وجہ سے شہباز شریف اسمبلی میں بجٹ تقریر نہ کر پارہے تھے ۔جس وقت نون لیگ اسد قیصر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کی باتیں کررہے تھے، رازدانِ درونِ پردہ اُس وقت بھی یہی کہتے پائے جارہے تھے کہ نون لیگ نہ قاسم سوری کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لا سکی ہے نہ اب یہ اسد قیصر کے خلاف یہ تحریک لاسکے گی ۔ نون لیگ میں اتنی اہلیت ہے نہ اتنی قابلیت اور نہ ہی جرأت ۔ یعنی یہ بازو میرے آزمائے ہُوئے !!بعد ازاں ہُوا بھی ایسا ہی ۔ قومی اسمبلی میں نجانے کیا اچانک جادو چلا کہ شہباز شریف کی قیادت میں نون لیگ نے اسد قیصر اور قاسم سوری کے خلاف عدم اعتماد کی تحریکیں نہ لانے کا اعلان کر دیا ۔ بدلے میں نون لیگ کو کیا ملا؟ بس اتنی سی بیچاروں کو رعایت ملی کہ اپو زیشن لیڈر شہباز شریف بروز جمعرات بتاریخ 17 جون 2021ء قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر اس حالت میں کرنے میں کامیاب ہو گئے کہ ان کے تقریر کے دوران پی ٹی آئی والوں نے حسبِ وعدہ کوئی آوازہ کسا نہ کوئی ہلّڑ بازی کی ۔بس اس رعائت کیلئے نون لیگ اور شہباز شریف مرے جا رہے تھے؟ َ افسوس ، صد افسوس ۔ تجزیہ نگاروںکا خیال ہے کہ نون لیگ اور شہباز شریف کو قومی اسمبلی میں ایک بار پھر زبردست شکست ہُوئی ہے ۔ نون لیگ کا سیاسی مورال یقیناً گرا ہے ۔ اور اس کے اعتبار اور وقار کو سخت دھچکا لگا ہے ۔ اور یہ حقیقت بھی ایک بار پھر کھل گئی ہے کہ شہباز شریف اپنی کھلڑی بچانے کے لئے مفاہمت کے نام پر پوری پارٹی کا وقار بھی داؤ پر لگا سکتے ہیں ۔
٭گوجرانوالہ سی پی او سرفراز فلکی کو شاباش اور ایک بیہودہ یو ٹیوبر کی قابلِ تحسین گرفتاری :یو ٹیوب متنوع معلومات اور علم کے حصول کا خزانہ اور زریعہ ہے ۔ دنیا بھر کے ریسرچ اسکالرز اور لاتعداد طلبا و طالبات دن رات اس ایجاد سے سے مستفید ہو رہے ہیں ۔ کورونا کے ایام میں طلبا نے تو اس سے بے پناہ فائدہ اُٹھایا ہے ۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں یو ٹیوب کی سہولت سے بے جا ، ناجائز اور غیر اخلاقی فائدے اُٹھانے کی کوششیں کرنے کی شکایات بھی آ رہی ہیں ۔ ان شکایات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے ۔ حکومت بھی بعض یو ٹیوبرز کی سرگرمیوں سے ناراض اور نالاں ہے ۔ سائبر کرائم میں اضافہ بھی دیکھنے میں آرہا ہے ۔ حکومت کوشش کرتی رہتی ہے کہ یو ٹیوب پر پڑا بہت سا نقصان دہ مواد کو ضائع کر دیا جائے یا یو ٹیوب والوں سے مطالبہ کیا جائے کہ اس نامناسب اور دل آزارمواد کو وہاں ہٹا دیا جائے ۔یہ بھی بدقسمتی ہے کہ ہمارے ہاں بعض بدبخت محض روپے پیسے کے حصول کے لئے یو ٹیوب کا استعمال ناجائز طور پر کررہے ہیں ۔ مبینہ طور پر ایسا ہی ایک یو ٹیوبر ( محمد علی نامی) رواں ہفتے گوجرانوالہ سے پولیس نے گرفتار کیا ہے ۔ یہ شخص مبینہ طور پر یو ٹیوب پر اپنے فالورز کو بڑھانے کے لالچ اور چکر میں متعدد خواتین کو پریشان اور ہراساں کرنے کا بار بار مرتکب پایا جارہا تھا ۔ اس کے خلاف خواتین کی شکایات خاصی بڑھ چکی تھیں ۔ اس بارے میں کئی ویڈیو ثبوت بھی سامنے آ چکے ہیں جن میں یہ شخص خواتین کو ہراساں کرتا صاف نظر آ رہا ہے ۔ خواتین کے خلاف اس کی بڑھتی وارداتوں کے کارن اب گوجرانوالہ پولیس نے اس شخص کو، ایف آ ئی آر درج ہونے کے بعد ، گرفتار کر لیا ہے (یہ ایف آئی آر نوشہرہ کے حسن بٹ کی مدعیت میں درج کی گئی تھی ) یہ اقدام گوجرانوالہ کے سی پی او جناب سرفراز فلکی صاحب کی قیادت میں متعلقہ تھانے نے کیا ہے ۔ یوں اس سلسلے میں ہم سی پی اور صاحب مذکور کو مبارکباد بھی دیتے ہیں اور اُن کی تحسین بھی کرتے ہیں ۔اور اُمید کرتے ہیں کہ آئندہ کسی شخص کو محض یو ٹیوب پر اپنے فالورز بڑھانے کیلئے خواتین کو ہراساں کرنے کی جرأت نہیں ہو گی ۔پولیس ترجمان محمد عمران نے بتایا کہ گرفتار ہونے والے یو ٹیوبر محمد علی نے اس بات کا اعتراف بھی کر لیا ہے کہ وہ اپنے یو ٹیوب چینل کے لیے راہ چلتی خواتین کے ساتھ مذاق کیا کرتے تھے۔ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کی چئیر پرسن نگہت داد صاحبہ کی طرف سے بھی یہ کہا گیا ہے کہ مذکورہ یو ٹیوبر کے خلاف اُن کے پاس بھی کئی شکایات آ چکی ہیں ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ گوجرانوالہ پولیس کے سی پی او کی طرح ہمارے دوسرے شہروں کے پولیس سربراہان کو بھی یو ٹیوب پر چرنے والی اس طرح کی گندی بھیڑوں پر کڑی نظر رکھنی چاہئے اور ان کا سختی سے سدِ باب کرنا چاہئے ۔اسلامی جمہوریہ پاکستان ایک اسلامی اور نظریاتی مملکت ہے ۔ مملکتِ خداداد میں یو ٹیوب پر بے لگامی کی اجازت ہر گز نہیں دی جا سکتی۔ یو ٹیوب پر ایسی ہی کالی بھیڑوں کے نامناسب کردار کے کارن حکومت یو ٹیوب پر پروگرام کرنے والوں پر قانونی پابندیاں عائد کرنے کے بارے میں بھی سوچ رہی ہے ۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »