پنجاب پولیس کا باطنی انتشار اور نون لیگ و پیپلز پارٹی قیادت کا نیا امتحان

سپہ سالارِ پاکستان جنرل قمر جاوید باجوہ نے پچھلے ہفتے کے اپنے دو خطبات میں بجا طور پر کہا ہے کہ وطنِ عزیز کو کئی دشمنوں کا سامنا ہے ۔ یہ دشمن ففتھ جنریشن وار کی شکل میں بھی پاکستان پر حملہ آور ہیں اور ہائبرڈ وار کی صورت میں بھی ۔ جنرل قمر باجوہ نے مگر عزمِ صمیم سے قوم و ملک کو یقین دلایا ہے کہ ہم نے اللہ کے فضل و کرم سے پہلے بھی اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن پر فتح حاصل کی تھی اور اب بھی دشمنوں کو خاک چاٹنے پر مجبور کر دیں گے ۔ پوری قوم نے اپنے آرمی چیف کی یقین دہانی اور الفاظ پر صدقِ دل سے یقین کیا ہے ۔ سچی بات یہ ہے کہ ہماری افواج نے پہلے بھی کبھی پاکستانی قوم کو مایوس نہیں کیا تھا، اب بھی نہیں کرے گی ۔ افواجِ پاکستان کو پوری قوم کی محبت اور احترام حاصل ہے ۔ اس محبت کا جنرل قمر جاوید باجوہ کو بھی پورا احساس و ادراک ہے ؛ چنانچہ ہم نے حال ہی میں دیکھا اور سنا ہے کہ 6ستمبر2020ء کو اپنے تازہ خطاب میں خود سپہ سالارِ پاکستان جناب جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی واضح الفاظ میں افواجِ پاکستان کی پاکستانی قوم سے اور پاکستانی قوم کی افواجِ پاکستان سے گہری محبتوں کا خوشگوار انداز میں ذکر کیا ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ محض ذکر ہی نہیں ہے بلکہ یہ حقیقت کی ترجمانی ہے ۔ آئی ایس پی آر کے جملہ ذمہ داران نے نہائت خوش اسلوبی سے جنرل قمر باجوہ کا پیغام قوم تک پہنچایا ہے ۔ جنرل قمر باجوہ نے 9ستمبر2020ء کو کور کمانڈر کانفرنس سے جو خطاب کیا ہے ، اس کا بھی لبِ لباب یہی ہے کہ افواجِ پاکستان اپنی قوم اور اپنے ملک کو کسی بھی خطرے اور فورم پر مایوس نہیں کرے گی ۔ہم اُمید رکھتے ہیں کہ بھارت سمیت پاکستان کے سبھی بد خواہوں تک چیف آف آرمی اسٹاف کا پیغام پہنچ گیا ہو گا۔ اس پیغام کے ساتھ ہی جب ہم دیکھتے ہیں کہ وزیر اعظم عمران خان بھی یہی کہتے ہیں کہ اُن کی حکومت اور عسکری قیادت ایک ہی پیج پر ہے تو قوم کو مزید احساسِ تحفظ اور احساسِ تقویت ملتا ہے ۔اس پیغام کا فوری نتیجہ تو یہ نکلنا چاہئے تھا کہ قوم کے ساتھ وطنِ عزیز کے ہر سرکاری شعبے میں بھی اتحاد اور اتفاق کی صورتحال نظر آتی کہ ملک اس وقت کئی بحرانوں اور امتحانوں سے گزررہا ہے ۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ نتائج اس کے برعکس ہی سامنے آ رہے ہیں ۔ عوامی اور سماجی سطح پر خبریں آ رہی ہیں کہ اپوزیشن متحد ہو کر عمران خان کی منتخب حکومت کے خلاف کوئی بڑا کھڑاک کرنے کے درپے ہے اور اس کے لئے 20ستمبر کی تاریخ کا اعلان بھی کر دیا گیا ہے ۔یقیناً اپوزیشن والے اس کھڑاک اور شو کو کامیاب بنانے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگائیں گے ۔ ساتھ ہی مگر یہ پیشگوئیاں بھی(بقول شیخ رشید احمد) کی جارہی ہیں کہ اگر اپوزیشن حکومت کے خلاف ”اے پی سی” کا انعقاد کرے گی تو نون لیگ کے اندر سے ”میم لیگ” اور ”شین لیگ” الگ الگ ہو جائیں گی ۔ یہ پیشگوئی اسلئے کی جارہی ہے کہ حکومت کے خلاف متھا لگانے کے عمل میں نون لیگ کے اندر انتشار اور افتراق ہے ۔ ایک دھڑا” اے پی سی” کے حق میں ہے اور دوسرا دھڑا مخالفت کررہا ہے ۔ اس کی تردید میںپنجاب میں نون لیگ کے صوبائی صدر اور ایم این اے رانا ثناء اللہ نے پریس کانفرنس میں مسکراتے ہُوئے کہا ہے کہ ”نون لیگ میں کوئی میم لیگ یا شین لیگ نہیں ہے ۔ مَیں ہُوں یا شاہد خاقان عباسی یا احسن اقبال ہوں، شہباز شریف ہوں یا خواجہ برادران، سبھی میاں نواز شریف کی قیادت میں متحد ہیں۔” یہ کہہ تو دیا گیا ہے لیکن رازدانِ اندرونِ خانہ بھی جانتے ہیں کہ نون لیگ میں انتشار کا عنصر کارفرما ہے ۔ شہباز شریف کی مفاہمانہ پالیسی ، مریم نواز شریف کی جارحانہ پالیسی سے متصادم ہے اور یہی عنصر نون لیگ میں تقسیم اور انتشار کی چغلی کھا رہا ہے ۔ واقعہ یہ ہے کہ نون لیگی قیادت نے اپنے طویل اقتدار میں جو کرپشن کی داستانیں رقم کیں ، وہ اب ان کے گلے پڑ چکی ہیں ۔ اُن کی دولت خود اُن کی آزادی کی راہ میں رکاوٹ بن گئی ہے اور یہ کالی دولت (Black Money)اب سانپ بن کر اُنہیں ڈس رہی ہے ۔ ایسے میں جب یہ خبریں گردش میں ہیں کہ لندن میں اپنے مفرور اور دولتمند بیٹوں کے ساتھ بیٹھے نواز شریف مفرور قرار دئیے جا سکتے ہیں تو یہ خبریں سن کر نون لیگ کو ہول اُٹھتا ہے ۔ اُن کے اوسان خطا ہو جاتے ہیں لیکن عمران خان حکومت کرپٹ افراد کو کیفرِ کردار تک پہنچانے پر بضد ہے ۔ یہ ضد یا مستقل مزاجی دیکھ کر نون لیگ اور پیپلز پارٹی کے رنگ اُڑ رہے ہیں ۔ وہ ایک مقدمے سے نکلتے ہیں تو کسی دوسرے میں دھر لئے جاتے ہیں ۔ اُن کیلئے فرار اور نجات کے راستے مسدود ہو کر رہ گئے ہیں ۔ پیپلز پارٹی کی حالت بھی مخدوش اور مجبور ہے ۔ آصف علی زرداری نت نئے مقدمات میں پھنستے جارہے ہیں ۔ اب وہ ”توشہ خانہ کیس” میں پھنس گئے ہیں اور اُن کے ساتھ یوسف رضا گیلانی بھی پھنس گئے ہیں کہ دونوں نے رل مل کر توشہ خانہ میں پڑی کروڑوں کی قیمتی اشیاء کوڑیوں کے بھاؤ خریدیں اور گھر لے گئے ۔ یہ کہانی اور الزام دراصل لالچ اور لوبھ کی عجب غضبناک کہانی ہے لیکن حیرانی کی بات ہے کہ اس کہانی سے نہ تو آصف زرداری نادم ہو رہے ہیں نہ ہی یوسف رضا گیلانی ۔ دونوں کا بیانیہ ہے کہ ”ہم نے کوئی کام غیر قانونی نہیں کیا۔”اور آصف زرداری ڈنکے کی چوٹ کہتے ہیں:” ہم پہلے بھی الزامات سے سرخرو ہُوئے تھے، اب بھی ہوں گے ۔” بات تو درست ہے کہ زرداری صاحب کئی سال جیلوں اورعدالتوں میںخجل خوار ہوتے رہے لیکن گیارہ سال گزرے تو قوم کو یہ بتایا گیا کہ آصف علی زرداری پر کوئی الزام قانون کی عدالت میں ثابت نہیں ہو سکا ہے ۔ اس پس منظر میں دیکھا جائے تو آصف علی زرداری کا دعویٰ درست ہی لگتا ہے کہ اِس بار بھی ہم الزامات سے سرخرو ہوں گے ۔ اور عوام بیچارے پریشان ہیں کہ کس پرا عتبار کریں اور کسے جھوٹا سمجھیں ؟ ہمارے لئے ندامت اور نموشی کی بات مگر یہ ہے کہ بیک وقت پاکستان کے سابق دو صدور اور دو سابق وزرائے اعظم پر سنگین الزامات عائد کئے جا رہے ہیں ۔نواز شریف مفرور ڈیکلیئر کر دئیے گئے ہیں اور آصف زرداری پر فردِ جرم عائد کی جا چکی ہے ۔ نواز شریف کے بارے میں بجا طور پر کہا جارہا ہے کہ اُنہوں نے ضمانت دے کر پاکستان سے راہِ فرار اختیار کی لیکن بعد ازاں ضمانت کی مدت کے خاتمے پر واپس پاکستان نہ آکر وعدہ شکنی کے مرتکب ہُوئے ۔ اب اُن کے ضامن (شہباز شریف) بھی خاموش ہیں اور نون لیگ بھی ۔ جبکہ اُن کی صاحبزادی مریم نواز شریف اور نون لیگی قیادت کورس کی شکل میں کہہ رہے ہیں کہ نواز شریف کو علاج کروائے بغیر واپس پاکستان نہیں آنا چاہئے ۔ ارے بھائی ، کہاں کا علاج اور کونسا علاج ؟ جب سے نواز شریف علاج کے بہانے لندن فرار ہُوئے ہیں ، وہ ایک بار بھی کسی ہسپتال میں داخل ہُوئے نہ کوئی علاج کروایا ۔ البتہ اُن کی سیر سپاٹے کی فوٹوز میڈیا کی زینت بنتی رہی ہیں ۔نواز شریف کے علاج نہ کروانے کا سوال عدالت میں بھی اُٹھا ہے اور وہاں بھی نواز شریف کے وکلا کوئی اطمینان بخش جواب دینے سے قاصر رہے ہیں ۔ ایسے پیش منظر میں پاکستانی قوم اقوامِ عالم کے سامنے کس منہ کے ساتھ پیش ہو؟کیا پاکستان میں پنپنے کی یہی باتیں رہ گئی ہیں ؟عجب تماشے ہو رہے ہیں ۔ اس وقت جبکہ نواز شریف ، آصف زرداری اور یوسف رضا گیلانی کی باتیں پاکستان میں پھیلی ہُوئی ہیں ، پاکستان کے سب سے بڑے صوبے میں سینئر پولیس افسران کی تبادلوں کی وجہ سے عجب گرد بھی اُٹھ رہی ہے ۔حکومت نے جس اسلوب میں پنجاب میں پرانے آئی جی پولیس( شعیب دستگیر) کو ہٹا کر نئے آئی جی پی (انعام غنی)اور لاہور میں نئے سی سی پی او(عمر شیخ) کو تعینات کیا ہے ، اس کی باز گشت ہر طرف سنائی دے رہی ہے ۔ نئے سی سی پی او کے بارے میں مبینہ طور پر کہا جارہا ہے کہ اُنہیں وزیر اعظم عمران خان اور اُن کے ایک مشیر کی اشیرواد حاصل ہے ۔ موصوف نے تعینات ہوتے ہی اپنے آئی جی کے بارے میں بعض ایسی باتیں کہہ ڈالیں کہ اپنے باس کو ناراض کر ڈالا ۔ اس ناراضی کا مگر اُنہیں نقصان ہی ہُوا اور وہ سی سی پی او کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکے ۔ شعیب دستگیر اپنے عہدے سے محروم کر دئیے گئے اور سی سی پی او اب بھی وہیں ڈٹے ہُوئے ہیں ۔ اس صورتحال نے ایک بغاوت قسم کی ابتری پیدا کررکھی ہے ۔ مبینہ طور پر پنجاب پولیس کے 50سے زائد افسران نے سبکدوش ہونے والے آئی جی پنجاب کے خلاف ”توہین آمیز ریمارکس” دینے پر عمر شیخ کے خلاف تادیبی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔نئے آئی جی پنجاب بارے بھی کوئی اچھی رپورٹیں گردش نہیں کررہی ہیں ۔ بروز جمعرات بتاریخ 10ستمبر 2020ء کی شام ایک نجی ٹی وی (دُنیا ٹی وی) کے ایک ٹاک شو میں شریک سابق سینئر ترین پولیس افسر نے گفتگو میں اس امر کا اظہار کیا کہ نئے آئی جی پنجاب مبینہ طور پر ماضی قریب میں ”انسانی اسمگلنگ” کے دھندے میں ملوث پائے گئے تھے ۔ بعد ازاں بڑی مشکلوں سے اس الزام اور انکوائری سے اُن کی جان چھوٹی ۔ اسی طرح ایک انگریزی معاصر (دی نیوز) میں نئے سی سی پی او ، عمر شیخ، کے بارے میں ایک انکشاف خیز رپورٹ شائع ہُوئی ہے جس کی ابھی تک تردید نہیں کی جا سکی ہے ۔ ہمیں افسوس ہے کہ پنجاب پولیس کے مذکورہ دونوں سینئر ترین پولیس افسران الزامات کی زد میں ہیں ۔ نئے آئی جی کی تعیناتی کے خلاف نون لیگ تو عدالت کا دروازہ بھی کھٹکھٹا چکی ہے ۔ ہمیں نہیں معلوم کہ مذکورہ دونوں پولیس افسران پر عائد کردہ الزامات میں کتنی صداقت ہے لیکن ہم تو یہ جانتے ہیں کہ اگر ان مبینہ الزامات کے باوجود حکومت نے ان دونوں افراد کو پنجاب پولیس میں اعلیٰ ترین عہدوں پر بٹھایا ہے تو ٹھیک ہی بٹھایا ہوگا۔ پھر اب ان کے خلاف یہ شوروغوغا کیوں اور کیسے؟اب ان افسران کو اپنی محنت اور کمٹمنٹ سے اُس اعتبار پر پورا اترنا چاہئے جو اعتبار ان پر وزیر اعلیٰ پنجاب اور وزیر اعظم پاکستان نے کیا ہے ۔ لیکن یاد رکھنے والی بات یہ ہے کہ نئے آئی جی پنجاب اور نئے سی سی پی او لاہور مسلسل نگرانی کی زد میں ہیں ۔ نئے سی سی پی او کی بدقسمتی ہے کہ وہ جب تنقید اور تنقیص کی زد میں تھے ، لاہور کے مضافات اور اُن کے زیر نگرانی علاقے ( گجر پورہ) میں ایک سانحہ پیش آ گیا ۔ یہ سانحہ 9ستمبر کی رات پیش آیا جب ایک خاتون رات ساڑھے بارہ بجے لاہور سے براستہ موٹروے گوجرانوالہ جا رہی تھی ۔ خاتون کے ساتھ تین کمسن بچے بھی تھے ۔ موٹروے ٹال پلازہ عبور کرتے ہی اُن کا پٹرول ختم ہو گیا تو وہ مدد کیلئے وہیں کھڑی ہو گئیں ۔ اس دوران اُنہوں نے مبینہ طور پر موٹروے پولیس کو بھی کال کی اور اپنا مسئلہ بیان کیا لیکن کوئی مدد کو نہ پہنچا تو خاتون اپنی گاڑی کے دروازے لاک کرکے اندر بیٹھ گئیں ۔ اس دوران دو ڈاکو آئے ۔ اُنہوں نے گاڑی کے شیشے توڑے ، بچوں سمیت خاتون کو اغوا کیا اور ساتھ پڑنے والے جنگل میں لے گئے جہاں اُنہوں نے بچوں کے سامنے مبینہ طور پر خاتون کا گینگ ریپ کیا ۔ یہ ایسا سانحہ ہے جس پر پورے ملک میں احتجاج کا ایک طوفان اُٹھا ہے ۔ ہر کوئی موٹر وے پولیس اورسی سی پی او لاہور کے خلاف شکوہ کناں ہے ۔ یہ سانحہ سی سی پی او لاہور کیلئے ٹیسٹ کیس ہے ۔ آئیے دیکھتے ہیں عمر شیخ اس ٹیسٹ پر کیسے پورا اُترتے ہیں اور سوالات کی زد میں آئی پنجاب پولیس کا وقار کیسے بحال کرتے ہیں ؟


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.