وزیر اعظم عمران خان صاحب کے دو شاندار تازہ اقدامات

پہلے تازہ ترین پاک بھارت تعلقات پر چند باتیں کر لیتے ہیں ۔ یہ کہنا بجا ہوگا کہ رواں لمحوں میں پاک بھارت تعلقات تاریخ کی سب سے نچلی سطح پر آ چکے ہیں ۔ جناب عمران خان نے اقتدار سنبھالتے ہی بھارت کی طرف دوستی اور تعاون کیلئے ہاتھ بڑھایا تھا اور ایک اچھے اور مخلص ہمسائے ہونے کا ثبوت فراہم کیا تھا مگر بد قسمتی سے بھارت کو پاکستان کا یہ اسلوب پسند نہیں آیا اور اُس نے پاکستان کا بڑھا دوستی کاہاتھ جھٹک دیا ۔ یہ نریندرمودی کی بیہودگی بھی تھی اور بدتمیزی بھی اور مروجہ عالمی سفارتی اصولوں کی پامالی بھی ۔ تکبر اور غرور میں بھارت یہ کر تو گزرا مگر اُسے کچھ زیادہ فائدہ نہیں ہُوا ۔ بھارت دراصل پاکستان سے فاصلے بڑھا کر مقبوضہ کشمیر پر وار کرنا چاہتا تھا اور کشمیریوں کی آواز دبانے کا خوہشمند تھا لیکن پاکستان اور وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان نے بھارت کی یہ خواہش پوری نہیں ہونے دی ۔ وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں پاکستان نے یواین او سمیت دُنیا کے ہر اہم فورم پر بھارت کے خلاف کشمیر کا مسئلہ اٹھایا اور بھارتی خونخوار چہرہ بے نقاب کیا ۔ بھارت کو اس کی بڑی تکلیف ہے ۔ اُسے عالمی عدالتِ انصاف میں کلبھوشن یادیو کے معاملے میں پاکستان کے مقابلے میں شکست بھی ہو چکی ہے ۔ اس کا بھی مودی جی کو بڑا قلق ہے ۔آجکل ہمالیہ کے بلند خطے میں بھارت کی نیپال اور چین کے ہاتھوں جو درگت بن رہی ہے اور عسکری محاز پر بھارتی فوجوں کو چینی افواج کے ہاتھوں مشرقی لداخ کے محاز پر جو شرمندگی اور پسپائی اٹھانا پڑ رہی ہے ، اس نے ویسے ہی مودی کی ہوا اکھاڑ دی ہے ۔ اپنی رہی سہی ساکھ بچانے کیلئے اب مودی حکومت اور بھارتی اسٹیبلشمنٹ نے پاکستان کے خلاف ایک نئی بھونڈی حرکت کی ہے ۔ جون2020ء کا مہینہ طلوع ہوتے ہی بھارت نے نئی دہلی میں تعینات دو پاکستانی سفارتکاروں پر یہ بے بنیاد الزام لگا دیا کہ یہ دونوں افراد بھارت کی جاسوسی کررہے تھے اور ”رنگے ہاتھوں” پکڑے گئے ۔2جون2020ء کو مشہور بھارتی میڈیا (NDTV) نے ( بھارتی ایجنسیوں کے اشارے پر) اسی ضمن میں پاکستان پر ایسے سنگین اور واہیات الزام لگائے ہیں کہ سُن اور پڑھ کر ویسے ہی شرم آجاتی ہے لیکن بھارتی حکومت کو زرا بھی شرم نہیں آئی ۔کہا جانا چاہئے کہ بھارت نے ایل او سی اور ورکنگ باؤنڈری پر پاکستان کی سرحدی خلاف ورزیوں کے بعداب سفارتی سطح پر بھی پاکستان کیخلاف مزیداکسانے والی سرگرمیوں کا آغاز کردیا ہے۔ اس کی ابتدا نئی دہلی میں متعین پاکستانی ہائی کمیشن کے سفارتی حیثیت رکھنے والے دوافراد (عابد حسین اور طاہر حسین جو مبینہ طور پر ویزہ سیکشن میں کام کررہے تھے) کو حراست میں لے کر کیا گیا ہے ۔ فوری طور پر ان دونوں سفارتکاروں پرمبینہ طور پر جاسوسی کا الزام لگا کر انھیں 24 گھنٹے میں ملک سے نکل جانے کا حکم دے دیا گیا۔ پاکستان کے دفترِ خارجہ نے پاکستانی سفارتی اہلکاروں کو ہندوستان سے نکالے جانے کے بھارتی اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ناپسندیدہ عمل قرار دیا اور کہا ہے کہ پاکستانی سفارتی عملے کو بھارت سے نکالنا ویانا کنونشن کی خلاف ورزی ہے۔ افسوس کی بات یہ بھی ہے کہ نئی دہلی میں الزامات قبول کرانے کیلئے مذکورہ دونوں پاکستانی اہلکاروں پر تشدد کیا گیا اوردھمکیاں بھی دی گئیں۔ ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی کی جانب سے اس کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ”یہ بھارتی اقدام میڈیا پر پاکستان مخالف پراپیگنڈہ کا حصہ ہے،نئی دہلی میں پاکستانی اہلکاروں کو جھوٹے الزامات پر اٹھایا گیا، الزامات قبول کرانے کے لیے ان پر تشدد کیا گیا، دباؤ ڈالا گیا اور دھمکیاں دی گئیں۔ بعد ازاں پاکستانی ہائی کمیشن کی مداخلت پر ان اہلکاروں کو چھوڑا گیا۔ بھارتی اقدام قابلِ مذمت، ویانا کنونشن اور سفارتی آداب کی خلاف ورزی ہے۔ پاکستانی ہائی کمیشن نے عالمی قوانین اور سفارتی آداب کے تحت ہمیشہ ہر کام کیا ہے۔ بھارتی اقدام پاکستانی ہائی کمیشن کی سفارتی سرگرمیوں کو روکنے کی کوشش ہے۔ بھارت ان اقدامات سے اندرونی اور بیرونی مسائل سے توجہ نہیں ہٹا سکتا اور نہ ہی مقبوضہ کشمیر میں خلاف ورزیوں پر پردہ ڈال سکتا ہے”۔ہمارے یہ دونوں معزز سفارتکار بھارت سے وطن واپس آ چکے ہیں لیکن ساری دُنیا میں بھارتی بد اخلاقی کی داستان سنائی دی گئی ہے ۔ بھارت کو اس بیہودگی اور سفارتی بد اخلاقی کی سزا ضرور ملنی چاہئے ۔ پاکستان نے اسلام آباد میں متعین سینئر بھارتی سفارتکار( ناظم الامور) کو دفترِ خارجہ طلب کرکے باقاعدہ اپنا شدید احتجاج ریکارڈ تو کروا دیا ہے لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ اس سے آگے بڑھ کر بھی بھارت کو سبق سکھانا چاہئے ۔ حیرانی کی بات ہے کہ پاکستان و بھارت سمیت ساری دُنیا کورونا وائرس کے عذاب میں مبتلا ہے اور یہ عذاب فی الحال ٹلنے اور کم ہونے کا نام نہیں لے رہا لیکن بھارت کی ہٹ دھرمی اور پاکستان دشمنی دیکھئے کہ اس انسانی بحران کے باوجود وہ پاکستان کو دباؤ میں لانے سے باز نہیں آرہا ہے ۔ اس مہلک وبا کے باوجود پاکستان کے خلاف بھارت کی غلیظ اور گندی حرکتیں جاری ہیں ۔کورونا وبا کے اس سنگین بحران میں وزیر اعظم عمران خان نے دو ایسے اقدامات کئے ہیں جن کی تعریف اورتحسین کی جانی چاہئے ۔ پہلا قدم تو پٹرولیم کی قیمتوں میں مزید کمی کرکے کیا گیا ہے ۔ اب پٹرول کی قیمت 75روپے فی لٹر تک آ چکی ہے ۔ اسی طرح ڈیزل اور کیروسین آئل کی قیمتوں میں بھی کمی لائی گئی ہے ۔ یکم جون سے نئی قیمتوں کا نفاذ عمل میں آ چکا ہے ۔ یقیناً مہنگائی کے مارے عوام کیلئے یہ ایک نیا ریلیف ہے ۔ اس سے بار برداری کے نرخوں اور بسوں کے کرایوں میں بھی کمی آئے گی ۔ لیکن دیکھنے والی بات یہ ہے کہ حکومتی انتظامیہ پٹرولیم کی نئی قیمتوں کا فائدہ عوام تک پہنچنے کا جائزہ کس طرح لیتی ہے ؟ بسوں کے کرایوں کی نگرانی کرنا ہوگی ، بصورتِ دیگر عوام بدستور مہنگے کرایوں کی چکی میں پستے رہیں گے ۔ وزیر اعظم کی طرف سے جونہی پٹرول و ڈیزل کی قیمتیں کم کی گئیں ، ملک بھر میں پٹرول کی مصنوعات کا کال پڑ گیا ۔پورے ملک میں پٹرول پمپس بند ہو گئے ہیں اور بہانہ لگایا جارہا ہے کہ ”جی ، پیچھے سے پٹرول کی سپلائی بند ہے ۔” جھوٹ کی بھی کوئی حد ہوتی ہے ۔ ایسے میں انتظامیہ کو چاہئے تھا کہ پٹرول پمپ مالکان کے خلاف کارروائیاں کی جاتیں لیکن ایسا نہ ہو سکا ۔ اپوزیشن نے فوری طور پر اس صورتحال سے فائدہ اُٹھایا اور حکومت کے خلاف پروپیگنڈہ تیز کر دیا گیا ۔ وزیر اعظم صاحب نے بھی پٹرول کے حوالے سے عوام کو فوری فائدہ نہ پہنچنے پر مبینہ طور پر سخت ناراضی کا اظہار کیا ہے ۔اور بیچارے عوام ہیں کہ پٹرول قسطوں میں حاصل کررہے ہیں اور خجل خوار ہو رہے ہیں ۔ اس کامطلب کیا یہ نہیں ہے کہ چینی اورآٹے چوروں کی طرح اب پٹرول پر ڈاکہ زنی کرنے والوں کی بھی مرمت ہونا ضروری ہوگیا ہے ۔ عوام غریب، سرمایہ داروں اور حکمرانوں کے درمیان بُری طرح پھنس کررہ گئے ہیں۔ اپوزیشن نے اگرچہ وزیر اعظم کے اس نئے اقدام کی ستائش اور تعریف نہیں کی ہے اور اُلٹا کہا ہے کہ عالمی منڈی میں پٹرولیم کی قیمتیں جس طرح نیچے گری ہیں ، اُن کے پیش منظر میں تو پٹرول کی قیمت میں 15روپے فی لٹر کمی کی جانی چاہئے تھی ۔ کیا اس تنقید کو بے جا نہیں کہا جانا چاہئے ؟ ویسے اگر اپوزیشن والے کسی حکومتی اقدام کی تعریف کر دیں تو وہ اپوزیشن تو نہیں کہلائے گی کہ اپوزیشن کا مطلب ہمارے ہاں بس یہی رہ گیا ہے کہ ہر حکومتی فیصلے اور اقدام کی تنقید اور تنقیص ہی کی جائے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان جس آزمائش سے گزر رہا ہے ، ایسے میں اپوزیشن کی یہ سوچ مناسب نہیں ہے ۔ویسے اپوزیشن کے رہنما آ جکل جس داروگیر اور پرسش سے گزررہے ہیں ، وہ حکومت پر تنقید کے تیر ہی برسائیں گے ۔مثال کے طور پر قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف کو نئے سرے سے ”نیب” کا سامنا ہے ۔ ”نیب” نے جس طرح تیزی سے شہباز شریف پر الزامات لگائے ہیں ، اس نے سب کی آنکھیں خیرہ کررکھی ہیں ۔ انہی الزامات کے تحت ”نیب” کے حکام شہباز شریف کو گرفتار کرنے کیلئے اُن کے گھر ( ماڈل ٹاؤن لاہور) پر چھاپہ مارنے گئے لیکن دو ڈھائی گھنٹے کی کوشش کے باوجود ناکام ہی رہے ۔ شنید ہے بعد ازاں وہ جاتی امرا میں بھی نہ پائے گئے ۔ پھر شہباز شریف کہاں چلے گئے تھے ؟ حیرانی ہے کہ ”نیب” والے اتنے بڑے ریسورسز رکھنے کے باوجود 2جون کی ساری شام اس کا جواب دے سکے نہ شہباز شریف کو ڈھونڈ سکے ۔ اس ناکامی کو کیا نام دیا جا سکتا ہے ؟ مخالفین نے اسے محض ”نیب” اور شہباز شریف کی آنکھ مچولی کا نام دیا ہے ۔ ہر شخص کی زبان پر یہ شکوہ ہے کہ ”نیب” نے دانستہ شہباز شریف پر ہاتھ نہیں ڈالا ، ورنہ یہ تو وہی ”نیب” ہے جس نے بڑی وحشت سے ملک کے نامور ماہرینِ تعلیم اور وائس چانسلرز کو دن دیہاڑے نہ صرف گرفتار کیا بلکہ اُنہیں ہتھکڑیاں لگا کر ”نیب” کی جیل میں بند کر دیا تھا ۔ اس کا کیا یہ مطلب نہیں ہے کہ اگر کوئی بے وسیلہ اور بے نوا شخص کسی الزام کے تحت ”نیب” کو مطلوب ہو تو اُسے بال بچوں سمیت دبوچ لیا جاتا ہے مگر جب ”نیب” کا پالا شہباز شریف ایسے کسی طاقتور ملزم سے پڑے تو ”نیب” کے ہاتھ پاؤں پھول جاتے ہیں ۔ ایسے احتساب پر کون یقین کرے گا ؟ نون لیگ کے کارکنان نے شہباز شریف کی گرفتاری والے دن جس مزاحمت کا مظاہرہ کیا ہے ، یہ بھی ناقابلِ فراموش ہے ۔ نون لیگ کے احتجاج کناں کارکنوں کو شکوہ تھاکہ جب شہباز شریف کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست کی سماعت منظور ہو چکی ہے تو ایک دن ”نیب” کو صبر کیوں نہیں ہوتا ؟ دو جون کی شام ہمارے نجی ٹی ویوں نے شہباز شریف کی گرفتاری کے اس ”ڈرامے” پر جو دکانیں سجائیں ، وہ بھی اپنی جگہ ایک طرفہ تماشہ ہے ۔ سچ تو یہ کہ ہمارے الیکٹرانک میڈیا کی جانبدارانہ اور لایعنی حرکتوں سے ناظرین اور سامعین مایوس ہو رہے ہیں ۔ دیکھنے والے عوام بجا طور پر اینکروں کی مفاد پرستی کے عناصر اُن کے ٹی وی ٹاک شوز میں ڈھونڈ رہے ہیں اور ناکام بھی نہیں ہو رہے ۔ تین جون کی دوپہر جوان ہونے سے پہلے پہلے صرف پانچ لاکھ کے مچلکوں کے عوض شہباز شریف کی عبوری ضمانت منظور ہو گئی ۔ چلئے ، جان چھوٹی ۔ اب قومی اسمبلی میں اپوزیشن کے لیڈر 17جون تک سُکھ کا سانس لے سکتے ہیں ۔ویسے تو دونوں شریف برادران اور اُن کی آل اولادوں پر لاتعداد کرپشن کے الزامات کے باوجود دونوں شریف برادران سُکھ اور چَین ہی کا سانس لے رہے ہیں ۔ دو سال گزرنے کو ہیں ، کوئی بھی اُن کا بال بیکا نہیں کر سکا ہے ۔لندن سے لیک ہونے والی ایک فوٹو میں ”مجرم ” اور ”مفرور” نواز شریف جس ریلیکس انداز میں اپنے بچوں کے ساتھ کافی نوشِ جاں کرتے پائے گئے ہیں ، یہ فوٹو اس امر کی چغلی کھا رہی ہے کہ پاکستان کے عوام تو مہنگائی ، بے روزگاری اور کورونا کے عذابوں کی بہت سی چکیوں میں بُری طرح پِس رہی ہے لیکن وہ لوگ جو مبینہ طور پر پاکستان اور پاکستانی عوام کا پیسہ لُوٹ کر لندن ، نیویارک ، دبئی ، آسٹریلیا فرار ہو گئے ، وہ تو امن اور چَین کی بانسریاں بجا رہے ہیں ۔ اُنہیں نہ پوچھا جا رہا ہے اور نہ ہی اُنہیں گھسیٹ کر واپس پاکستان لایا جارہا ہے ۔ عوام گلہ کریں تو کس سے کریں؟؟


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.