Daily Taqat

جب شراب شہد بن جائے تواحتساب کے منتظر عوام مایوس ہی ہوں گے!

 

4ستمبر2018ء کا دن تاریخِ پاکستان کے سیاسی باب میں ایک اہم ترین واقعہ کی حیثیت میں یاد کیا اور لکھا جائے گا۔ اُس روز اسلامی جمہوریہ پاکستان کے 13ویں صدر کا انتخاب مکمل ہُوا۔ پاکستان کے سب سے بڑے آئینی عہدے کا انتخاب ۔ اس میں تین اُمیدواروں نے حصہ لیا۔ سب نے اپنا اپنا زور لگایا لیکن اللہ تعالیٰ نے جناب ڈاکٹر عارف الرحمن علوی کو فتح اور کامیابی سے ہمکنار کیا۔ اُن کا تعلق وزیر اعظم عمران خان اور پی ٹی آئی سے دیرینہ ہے۔ اُنہوں نے 353ووٹ لئے۔ اُن کے مقابل پیپلز پارٹی کے چودھری اعتزاز احسن اور متحدہ اپوزیشن (جس میں نون لیگ ایک نمایاں عنصر ہے) کے مولانا فضل الرحمن کھڑے تھے۔ چودھری اعتزاز کو 124اور مولانا صاحب کو185ووٹ ملے۔اگر اعتزاز احسن اور مولانا فضل الرحمن کے سارے حمائتی بھی اکٹھے ہوجاتے ، تب بھی وہ عارف علوی کو صدر بننے سے نہیں روک سکتے تھے ۔ دونوں مخالف اُمیدواروں کے حاصل کردہ ووٹ جمع بھی کرلئے جائیں تو تب بھی وہ فاتح عارف علوی سے 44ووٹ کم ہی بنتے ہیں۔ہمارے لئے تو یہ تصور ہی سوہانِ رُوح ہے کہ مولانا فضل الرحمن ووٹ لے کر قائد اعظم محمد علی جناح کے بنائے گئے پاکستان کے صدر بن جاتے ۔ یہ مولانا فضل الرحمن کی آبائی سیاسی و نظریاتی جماعت تھی جس نے قائد اعظم اور تحریکِ پاکستان کی سخت مخالفت کی تھی۔ جو قائد اعظم کی مسلم لیگ اور قائد اعظم کو گالیاں دیتی تھی۔ یہ مولانا فضل الرحمن ہیں جن کے والد مولانا مفتی محمود نے یہ بیان دیا تھا کہ ”ہم پاکستان بنانے کے گناہ میں شامل نہیں تھے۔” اس بیان سے آج تک پاکستانیوں کے دل مجروح ہیں۔ کیا ایسے شخص کے بیٹے کو صدرِ پاکستان بنایا جاتا؟ ممکن ہی نہیں تھا۔ خود مولانا فضل الرحمن نے ابھی ایک مہینہ پہلے 14اگست کے موقع پر یہ دلخراش بیان دیا تھا کہ یومِ آزادی نہیں منانی چاہئے۔ سارا پاکستان اُن کے اِس بیہودہ اور دلشکن بیان پر تڑپ اُٹھا تھا۔ اور چودھری اعتزاز احسن کا ڈاکٹر عارف علوی کے مقابل ہار جانا بھی پاکستانیوں کی خوش بختی ہے۔ یہ وہ بدبخت پاکستانی سیاستدان ہے جس نے مبینہ طور پر خالصتان کے حریت پسندوں کی فہرستیں بھارت کے حوالے کی تھیں۔ کیا ایسا شخص صدرِ پاکستان کے عظیم اور بلندعہدے پر متمکن ہو سکتا تھا؟ ہر گز نہیں۔ یوں اب پاکستان کی سیاست واقتدار کا ہر راستہ پی ٹی آئی اور عمران خان کے لئے ہموار ہو چکا ہے۔ عارف علوی کے حصے میں ایک عظیم اکرام آیا ہے۔ صدر منتخب ہوتے ہی جناب عارف علوی نے جو وکٹری سپیچ کی ہے، وہ ایک سُلجھے ہُوئے اور مہذب شخص کی ہے۔ اس تقریر میں تعصب جھلکتا ہے نہ تکبّر اور نہ ہی جانبداری۔ قوم چاہتی ہے کہ اُن کا کردار اُن کے کہے گئے الفاظ میں ڈھلنا چاہئے۔اب پی ٹی آئی کے ڈیلیور کرنے کاوقت باقاعدہ شروع ہو گیا ہے۔ خوش قسمتی سے سپہ سالارِ پاکستان بھی عمران خان کے ساتھ ہیں اور صدرِ پاکستان بھی۔ ساری قوم نے ووٹ کی شکل میں اُن پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔اس پر وزیر اعظم صاحب کو اللہ کریم کی کرم نوازیوں کا شکر گزار ہونا چاہئے۔ اور اب پاکستان اور پاکستانیوں کی خدمت کرنے اور اگلی پچھلی کسریں نکالنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرنا چاہئے۔ احتساب اُن کا سب سے بڑا نعرہ رہا ہے ۔ اور احتساب کے لئے جس راستے کا انتخاب پاکستان کے سب سے بڑے جج صاحب نے اختیار کررکھا ہے، ہمیں اُمید ہے نَو منتخب وزیر اعظم اور صدرِ پاکستان اِس راستے پر اُن کے ہمقدم چلیں گے۔ پاکستان کے ہر شہری کے دل کی ترجمانی کرتے اور ہر پاکستانی کے خوابوں کی تعبیر بنتے ہُوئے چیف جسٹس آف پاکستان عزت مآب میاں ثاقب نثار صاحب کرپشن اور کرپشن کرنے والوں کی سرکوبی کیلئے، بدی اور بدعنوانوں کے خاتمے کے خلاف اور مظلوم عوام کو فوری انصاف فراہم کرنے کیلئے شب وروز ایک کئے ہُوئے ہیں۔ ظالموں اور انصاف کے ساتھ کھلواڑ کرنے والوں کے خلاف وہ برہنہ شمشیر بن چکے ہیں۔ ملک دشمنوں اور ملک کا پیسہ لُوٹنے والوں کو عدالتی کٹہرو ں میں کھڑا کرنے میں اُن کا کوئی ثانی نظر نہیں آتا۔ کئی گروہ اور کئی شخصیات کبھی کھلے بندوں اور اکثر بین السطور اُن کے خلاف زبان درازیاں بھی کرتے سنائی اور دکھائی دیتے ہیں۔ جناب ثاقب نثار ان کالی بھیڑوں اور سماج دشمن عناصر سے خوب آگاہ ہیں۔ یہ وہ گروہ اور عناصر ہیں جن کی گردنوں پر احتساب کا شکنجہ ڈالا جا چکا ہے؛ چنانچہ کوشش ان سب کی یہ ہے کہ احتسابی قوتوں اور اداروں کے خلاف زہر افشانی کرکے اپنی گردن چھڑا لے جائیں۔ ایسا شائد اِس بار ممکن نہیں ہے۔ پچھلے سات عشروں کے دوران یہ کالی بھیڑیں اور ملکی خزانہ لُوٹنے والے کسی نہ کسی طرح بچتے رہے ہیں۔ اِس بار مگر حالات اور واقعات مختلف النوع کے ہیں۔ احتساب اور انصاف کی کرسیوں پر بیٹھنے والے بھی کچھ ٹھان کر بیٹھے ہیں ۔ساتھ ہی یہ بھی لگتا ہے کہ کرپٹ اور بدمعاش گروہ اتنے طاقتور، سرکش اور ڈھیٹ ہیں کہ اپنی جان بچانے کے لئے ریاست اور عدالت کو دھوکہ دینے پر تُلے ہیں۔ اس کی ایک تازہ مثال سندھ میں سامنے آئی ہے۔ چیف جسٹس صاحب نے سندھ کے دَورے کے دوران کراچی میں شرجیل انعام میمن کی سب جیل کا معائنہ کیا تو حیران کن مناظر سامنے آئے۔ شرجیل میمن سابق رکن اسمبلی اور سابق صوبائی وزیر سندھ ہے۔ اُسے کئی سنگین مقدمات میں عدالتوں کا سامنا ہے۔کرپشن، دھوکہ دہی،منی لانڈرنگ ان میں نمایاں ہیں۔ ایک کیس کے سلسلے میں وہ جیل بھیجا گیا تو حسبِ توقع ”شدید بیمار” پڑ گیا۔ جیل اور پرائیو یٹ ڈاکٹروں کے مشورے پر اُسے فوری طور پر ایک نجی ہسپتال میں داخل کروایا گیا۔ یہ ہسپتال پیپلز پارٹی کے کھرب پتی رکن اورآصف زرداری کے دستِ راست ڈاکٹر عاصم حسین کا ہے۔ خود موصوف عاصم حسین پر سینکڑوں ارب روپے کی کرپشن کے کئی الزامات ہیں۔چیف جج صاحب نے علی الصبح شرجیل میمن کی سب جیل قرار دئیے جانے والے ہسپتال کا دَورہ کیا تو میمن کے کمرے سے شراب کی دو بوتلیں برآمد ہو گئیں۔ برآمدگی کے یہ مناظر سارے پاکستان نے دیکھے اور دانتوں میں اُنگلیاں دبا لیں۔ عوام کی اکثریت کو دووقت کی روٹی کھانی دُوبھر ہو رہی ہے اور اِسی اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قید اور انتہائی دولتمند سیاستدانوں کی عیاشیوں اور اسرافیوں کا یہ حال ہے کہ اُن کے ہسپتالوں کے کمروں سے شرابیں برآمد ہو رہی ہیں۔ لا حولہ ولا قوة۔کیا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسے مکروہ اور کذاب سیاستدانوں پر قہر نازل نہیں ہوگا؟ لیکن غضب خدا کا شراب کی یہ بوتلیںجنہیں چیف جسٹس آف پاکستان نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا، لیبارٹری پہنچ کر اپنے مواد سمیت” شہد” اور ”خوردنی تیل” کی ”ثابت” ہو گئیں۔ لیبارٹری رپورٹ نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ شرجیل میمن کے خون میں بھی شراب کی آمیزش نہیں تھی۔ ہم بھی حیران ہیں اور پاکستان کے بائیس کروڑ عوام بھی۔ یا خدایا، دھوکہ دہی کا اتنا بڑا ڈرامہ؟ سندھ حکومت نے اپنے ایک محبوب کو بچانے کے لئے چیف جسٹس صاحب کو نادم کرنے کی قابلِ مذمت جسارت کی ہے۔ اور سندھ حکومت آصف زرداری کی مُٹھی میں ہے۔ آصف زرداری نے بھی تو جناب ثاقب نثار صاحب کے اس معائنے پر ناراضی کا اظہار کیا تھا جس میں شراب کی بوتلیں نکل آئیں۔ ہم تو کہتے ہیں کہ لیبارٹری رپورٹ نے شراب کو شہد ثابت کرکے پورے احتسابی عمل کو بٹّہ لگانے کی قابلِ مذمت کوشش کی ہے۔ ہم صدقِ دل سے کہہ سکتے ہیں کہ اِس سارے عمل میں سندھ کی صوبائی حکومت اور آصف علی زرداری نے ضرور ہاتھ دکھایا ہوگا۔کئی نجی تحقیقاتی اور میڈیا اداروں نے شرجیل میمن کے خون اور برآمد شدہ بوتلوں کے مواد بارے ایگزامینیشن رپورٹ پر گہرے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اس کی بازگشت سپریم کورٹ میں بھی سنائی دی گئی ہے اور چیف جسٹس صاحب بھی ناراض نظر آرہے ہیں لیکن سندھ حکومت لاپروا دکھائی دے رہی ہے۔ ہر طرف ایک ہی شور ہے کہ رپورٹ میں ٹیمپرنگ کی گئی ہے۔ اگر ایسا ہُوا ہے تو یہ ناقابلِ معافی جرم ہے۔ اِس پیش پا افتادہ کہانی میںکئی سوال ایسے موجود ہیں جو ہنوذ تشنہ طلب ہیں:(١)شہد کو شراب کی بوتلوں میں ڈالنے کی آخر ضرورت ہی کیوں پیش آئی؟(٢) بازار میں میسر شہد کی بوتلیں ہمیشہ شراب کی بوتلوں سے قطعی مختلف ہوتی ہیں(٣) سب جیل قرار دئیے جانے والے ہسپتال کے کمرے میںخوردنی تیل کی کیا ضرورت پڑ گئی، جبکہ زیر حراست شخص کو کھانا ہمیشہ پکاپکایا فراہم کیا جاتا ہے؟(٤) تیسری برآمد ہونے والی شراب کی بوتل کہاں غائب کر دی گئی۔ غائب کرنے والا کون ہے؟(٥) سندھ کے صوبائی وزیر صحت نے بوتلیں برآمد ہوتے ہی میڈیا کے سامنے یہ کیسے یقین کے ساتھ کہا تھا کہ دیکھنا، رپورٹ میں شراب ثابت نہیں ہو سکے گی(٦)ابھی تک ایک مہینے کی سی سی ٹی وی رپورٹ کیوں عدالت میں پیش نہیں کی گئی جس میں یہ بات سامنے آسکے کہ گذشتہ ایک ماہ کے دوران مذکورہ ہسپتال کے کمرے میں کیا کیا گیا اور کون کون گیا؟(٧)سندھ کے ایڈیشنل آئی جی ڈاکٹر عامر احمد شیخ نے اپنی پریس کانفرنس میں ایک شخص کے بارے میں جن خدشات کا اظہار کیا تھا، اُسے سامنے کیوں نہیں لایا گیا؟ یہ پُراسرار شخص سی سی ٹی وی کیمروں میں صاف دکھائی دے رہا ہے کہ چیف جسٹس صاحب کے ہسپتال سے جانے کے فوری بعد وہ ایک لفافہ لے کرنچلی منزل سے شرجیل میمن کے کمرے میں جاتا ہے اور پھر وہی شخص ایک لفافہ لے کر فوری طور پرنچلی منزل پر اُترتا نظر آتا ہے ۔ اُسے جاتے اور آتے وقت کسی سیکورٹی نے چیک بھی نہیں کیا۔۔۔۔۔۔ایک عام آدمی بھی بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ اس ملک کے کرپٹ عناصر اسقدر طاقتور ہو چکے ہیں کہ اب وہ اعلیٰ عدالتی شخصیات کو بھی للکارنے پر اُتر آئے ہیں۔ شرجیل میمن کی مثال سامنے ہے۔ اس واقعہ سے لیبارٹری رپورٹ کی صورت میں کریمنل عناصر نے وسیع پیمانے پر اور دُورد ُور تک پھیلے اپنے اثرورسوخ سے پروپیگنڈہ کرکے یہ بھی ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ احتساب کا سارا عمل متعصبانہ اور یکطرفہ ہے۔ ہم کہتے ہیںیہ گھناؤنا پروپیگنڈہ ہے۔ ملک کے خلاف بھی اور عدالت کے خلاف بھی۔اُمید یہی ہے کہ سازش کے یہ ڈانڈے کبھی کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔ لمبے ہاتھوں والے یہ کرپٹ عناصر یوں بھی بے نقاب ہُوئے ہیں کہ چیف جج صاحب نے جب کراچی ہی کے ایک دوسرے ہسپتال میں ”زیر علاج” ملزم عبدالغنی مجید( جو45ارب روپے کی منی لانڈرنگ کے مرکزی ملزم انور مجید کا بیٹا ہے)کے کمرے کا معائنہ کرنے پہنچے تو موصوف سرے سے وہاں موجود ہی نہیں تھے۔ ذمہ دار ڈاکٹرز اور نرسیں بھی جج صاحب کو کوئی اطمینان بخش جواب نہ دے سکے ۔ سب اس اچانک افتاد پر آئیں بائیں شائیں کرتے پائے گئے۔ جب کوئی جواب نہ بن پڑا تو یہ بہانہ بنایا گیا کہ ملزم عبدالغنی مجید ایم آر آئی کرانے گیا ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ چھاپے کے وقت ایم آرآئی مشین میںجس شخص کی ٹانگیں نظر آرہی تھیں، وہ غنی مجید تو ہے ہی نہیں تھا۔ یوں عیاں ہو گیا کہ احتساب کے شکنجے میں مجرم گروہ کس طریقے سے مل ملا کر اور اپنی بے پناہ دولت کے بَل بوتے پر عدالتی پراسیس کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ایک صوبائی حکومت بھی اُن کی سرپرستی کررہی ہے۔ بجا طور پر کہا جارہا ہے کہ اگر گذشتہ دَور میںاربوں روپے کی منی لانڈرنگ میں مبینہ طور پر رنگے ہاتھوں پکڑے جانے والے شرجیل میمن کوفوری طور پر سزا دی جاتی تو آج ندامت وشرمندگی کا یہ واقعہ پیش نہ آتا۔ اور نہ ہی شرجیل میمن اور انور مجید ایسی کالی بھیڑوں اور مجرمانہ ذہن رکھنے والوں کو کھل کھیلنے کے وسیع مواقع میسر آتے۔اگر آج سپریم کورٹ کی طرف سے پی آئی اے کے سی ای او مشرف رسول کو قواعدو ضوابط کی خلاف ورزی کرنے اور مبینہ کرپشن کے الزامات میں فوری طور پر برطرف کیا جا سکتا ہے، اُن کی تقرری کالعدم قرار دی جا سکتی ہے تو شرجیل میمن ایسے ملک دشمن اور سماج دشمن افراد کو سزا دینا کونسا مشکل اور ناممکن تھا؟ خدا کا شکر ہے کہ ہم نے بھی اپنے گذشتہ ہفتے کے کالم میں مشرف رسول سیان ایسے مکروہ اور بد عنوان افراد کے ضمن میں تمام دستیاب معلومات عدالت ، عوام اور قارئینِ کرام کے رُوبرو پیش کر دی تھیں۔ یہ ہمارا بنیادی صحافتی اور اخلاقی فریضہ بھی تھا۔ خدا کا شکر ہے کہ میڈیا میں اُٹھائے گئے سوالات کے پس منظر میں مشرف رسول اب اپنے گھر بھیجا جا چکا ہے۔ لیکن گھر بھیجنا ہی مقصود نہیں تھا۔ مشرف رسول نے ناجائز ہتھکنڈوں سے سرکار اور عوام کا جو پیسہ لُوٹا ہے، اُسے بھی برآمد کیا جانا چاہئے اور اس دھوکے باز کو جیل کی ہوا بھی چکھنی چاہئے۔ تب ہی عوام کا سینہ ٹھنڈا ہوگا۔اصل میں اسٹیک ہولڈر تو بیچارے اور بے نوا عوام ہیں جن کا پیسہ لُوٹا گیا اور ڈکار لیا گیا۔ ہمیں نہیں معلوم شرجیل میمن ایسے ملک و سماج دشمنوں کو کیوں اور کن بنیادوں پر رعائتیں اور سہولتیں فراہم کی جارہی ہیں۔ عوام میڈیا کی وساطت سے یہ دیکھتے ہیں تو اُن کے سینے جل اُٹھتے ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ یہ مناظر احتساب کی رُوح کو مجروح کررہے ہیں۔ امتیاز اور فرق نمایاں ہو رہا ہے۔ یہ انصاف کے منافی بھی ہے۔چیف جسٹس صاحب اور اُن کے برادر جج صاحبان کی اِن سب معاملات پر نظر ہے اور وہ بغور چالاکیاں کرنے والوں کا جائزہ بھی لے رہے ہیں۔ جناب ثاقب نثار صاحب کی یہ گہری احتسابی نظر اور پاکستان کو درست راستے پر ڈالنے کے لئے اُن کے عزم ہی کی یہ شاندار مثال سامنے آئی ہے کہ اُن پاکستانی شہریوں کی مکمل فہرست عدالتِ عظمیٰ کے سامنے پیش کرنے کے احکامات جاری کئے جا چکے ہیں جو بیرونِ ملک جائیدادیں رکھتے تو ہیں لیکن انہوں نے ابھی تک اس کا ذکر اپنے ڈیکلئرڈ اثاثوں میں نہیں کیا ہے۔ اس حکم کے اجرا کایہ مثبت نتیجہ نکلا ہے کہ ایف بی آر نے 3ستمبر2018ء کو عدالتِ عظمیٰ کی خدمت میں 150ارب ڈالر مالیت کی اُن جائیدادوں کی فہرست پیش کر دی ہے جو بیرونِ ملک پاکستانیوں نے بنا رکھی ہیں۔ یہ وہ جائیدادیں ہیں جو صرف دبئی میں پائی گئی ہیں۔ ابھی تو اُن جائیدادوں اور اُن کے مالکان کو بھی قوم کے سامنے لانا ہے جو برطانیہ، امریکہ ، کینیڈا ، ملائشیا، آسٹریلیا وغیرہ میں لُٹیرے پاکستانیوں نے بنا رکھی ہیں۔ ان کی” مقدار” بھی سینکڑوں ارب ڈالرز میں ہے۔ گویا اب کرپٹ پاکستانیوں کا یومِ حساب آیا ہی چاہتا ہے۔ ساری قوم جناب چیف جسٹس اور اُن کے معزز جج صاحبان ساتھیوں کی شکر گزار ہے جن کی دلچسپیوں اور درد مندیوں کی وجہ سے اِن مسروقہ پراپرٹیز کا انکشاف قوم کے سامنے کیا جارہا ہے۔ اِس سے پہلے تو ایف بی آر ، ایف آئی اے اور اسٹیٹ بینک کے ذمہ داران بھی اپنے پیاروں اور سرپرستوں کی جان بچانے کے لئے کان لپیٹ کر ملازمتیں کررہے تھے۔ اب سپریم کورٹ نے احتساب اور غیرجانبداری کا ڈنڈہ اُٹھایا ہے تو سب لائن حاضر ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ساری قوم دل سے چیف جسٹس صاحب کے اُٹھائے گئے ڈنڈے اور کوڑے کے ساتھ ہیں۔اور چاہتے ہیں کہ احتساب کل ہونے کی بجائے آج ہو جائے۔ چیف جسٹس صاحب کو معلوم تھا کہ ممکن ہے بیرونِ ملک موجود جائیدادوں کے مالکان کو ایف بی آر کی طرف سے خبر لیک ہو جائے، اِسی لئے اُنہوں نے حکم دیا تھا کہ فہرست سر بمہر لفافے میں رجسٹرار صاحب کے دفتر لائی جائے اور اِس کے باوجود اگر نام لیک ہو گئے تو اِس کے ذمہ دار ایف بی آر حکام ہوں گے۔ اس سے پہلے مبینہ طور پر ایف بی آر، ایف آئی اے اور اسٹیٹ بینک کے حکام نام لیک کر دیا کرتے تھے اور بڑی مچھلیاں احتساب سے پہلے ہی جال پھاڑ کر فرار ہونے میں کامیاب ہو جایا کرتی تھیں۔ اِس بار مگر جال بھی مضبوط ہے اورجال کو پھاڑنے والوں کا بھی قبل از وقت بندوبست کر دیا گیا ہے۔ کچھ عرصہ قبل حکومتِ پاکستان کی طرف سے لُٹیروں اور کرپشن کرنے والوں کے لئے ایک ایمنسٹی اسکیم بھی جاری کی گئی تھی ۔ اس میں کہا گیا تھا کہ ناجائز جائیدادیں بنانے اور کالا پیسہ چھپانے والے اگر سب کچھ سچ سچ سرکار کے سامنے رکھ دیں تو اُنہیں کچھ نہیں کہا جائے گا، سوائے اِس کے کہ اُن پر صرف 2فیصد ٹیکس لاگو ہوگا۔ یوں کالا دھن اور کالی جائیدادیں ”سفید” کر دی جائیں گی ۔ اس ایمنسٹی کے باوجود چوروں نے فائدہ نہ اُٹھایا اور اپنی جائیدادوں کا ذکر پی گئے ۔ پاکستان کے خزانے میں صرف تین سے چار ارب روپے اکٹھے کئے جا سکے تھے، حالانکہ کئی سو ارب روپے اکٹھے کئے جا سکتے تھے۔ اِسی لئے اب سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ کے ایک معزز رکن جناب جسٹس بندیال صاحب نے بجا فرمایا ہے کہ اب جائیدادیں بھی ضبط کی جائیں گی اور سزائیں بھی دیںگے۔ساری قوم اس فیصلے کی تائید بھی کرتی نظر آرہی ہے اور معزز ججوں کو دعائیں اور شاباشیں بھی دے رہی ہے۔اِسی طرح کی ایک ایمنسٹی سکیم انڈونیشیا میں بھی شروع کی گئی تھی اور وہاں 15فیصد ٹیکس عائد کیا گیا تھا ۔ اس سکیم سے انڈونیشیا نے 8کھرب روپیہ اکٹھا کیا تھا۔لیکن حیرانی کی بات ہے کہ ہمارے ہاں دو فیصد ٹیکس لاگو کرنے سے بھی کرپٹ افراد نے فائدہ نہ اُٹھایا۔اِسی لئے تو چار ارب روپے بھی اکٹھے نہ کئے جا سکے۔ کھرب تو دُور کی بات ہے۔ ایسے میں پاکستان کے ان کرپٹ اور جھوٹے افراد کے خلاف سزائیں تو بنتی ہیں۔مستحسن بات یہ بھی ہے کہ دبئی میں 150ارب ڈالر کی جائیدادوں کے پاکستانی مالکان کی فہرست عالمی شہرت یافتہ آڈٹ ادارے ”فرگوسن” کے ایک اعلیٰ اور دیانتدار افسر جناب شبّر زیدی نے تیار کی ہے۔ ”فرگوسن” کا تعلق کسی پاکستانی سیاسی جماعت سے ہے نہ کسی سابقہ وحالیہ سیاستدان سے اور نہ ہی شبّر زیدی کسی سیاسی جماعت سے دُور کا بھی واسطہ رکھتے ہیں۔غیر جانبداری کا بھی یہی تقاضا تھا کہ ایسے ہی کسی عالمی ادارے اور شخص سے رپورٹ تیار کی جاتی تاکہ کوئی انگلی بھی نہ اُٹھا سکے۔ شنید ہے کہ 225پاکستانیوں کو خفیہ طور پر اعلیٰ سطحی نوٹس بھی جاری کئے گئے ہیں ۔ دو سو سے زائد یہ وہ افراد ہیں جن کی جائیدادیں برطانیہ میں ہیں۔ ابھی تو سوئٹزر لینڈ میں چھپائے گئے سابق مقتدر پاکستانیوں کے200ارب ڈالرز کا تو ذکر ہی نہیں کیا جارہا۔ احتساب کا شکنجہ اُن کے گلے تک بھی پہنچنے والا ہے۔ ذرا صبر اور دھیرج سے کام لیجئے۔ عمران خان کی حکومت ہی میں انشاء اللہ سابقہ حکمرانوں اور اُن کے چمچوں کڑچھوں کے ہاتھوں لُوٹا گیا پاکستانی سرمایہ واپس پاکستان کے خزانے میں آئے گا۔ اچھی بات یہ بھی ہے کہ اسٹیٹ بینک کے گورنر طارق باجوہ نے بھی عدالتِ عظمیٰ کو یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ ہر ماہ اِسی ضمن میں باقاعدہ ایک رپورٹ پیش کیا کریں گے تاکہ واضح ہوتا رہے کہ لُوٹے گئے پاکستانیوں کے پیسے واپس لانے میں کیا اور کہاں تک پیشرفت ہُوئی ہے!! صحیح معنوں میں یہی تبدیلی ہے جس کے انتظار میں برسوں سے پاکستانیوں کی آنکھیں ترس گئی تھیں ۔یہی تو نئے پاکستان کا طرئہ امتیاز ہے۔نیا پاکستان یہ بھی ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے پاکستان آنے والے امریکی وزیر خارجہ اور امریکی جرنیل سے جھک کر نہیں، برابری کی سطح پر بات کر کے پاکستان کا شملہ اونچا کیا ہے۔ نیا پاکستان یہ بھی ہے کہ ہمارے معزز چیف جسٹس صاحب نے صاف الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ جعلی اکاؤنٹس کے تحت 45ارب روپیہ ملک سے باہر بھیجنے والوں کے خلاف جے آئی ٹی بنائی جارہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نئے پاکستان میں احتساب و پرسش کی نئی داستانیں لکھی جانے کا آغاز ہو چکا ہے۔ ہماری دعا ہے کہ یہ سب کامیابی سے ہمکنار ہوں۔ آمین۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »