پی ڈی ایم کے جلسے : عوام کے سنگین مسائل کا حل بن سکیں گے؟

دو روز قبل 16اکتوبر2020ء کوپنجاب میں پہلوانوںکے شہر گوجرانوالہ میں حکومت مخالف اتحاد”پی ڈی ایم” یعنی” پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ” کا پہلا جلسہ بالآخر منعقد ہو ہی گیا۔ اس جلسے سے قبل پنجاب بھر میں ”پی ڈی ایم” میں شامل گیارہ جماعتوں ، بالخصوص نون لیگ اور پیپلز پارٹی، کے کارکنوں کی جو پکڑ دھکڑ ہُوئی اور پولیس اور اُن کے درمیان جو مسلسل آنکھ مچولی ہوتی رہی، یہ ایک الگ کہانی ہے ۔ یہ کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ مرکزی اور حکومتِ پنجاب اس جلسے سے اتنی بھی لاتعلق نہیں تھی جتنا پوز کیا جارہا تھا۔ اس جلسے سے ایک ہفتہ قبل پنجاب پولیس کے اعلیٰ افسران میں اکھاڑ پچھاڑ بھی سامنے آئی ۔ خاص طور پر گوجرانوالہ میں نئے سی پی او(سرفراز احمد فلکی) کو تعینات کیا گیا کیونکہ خدشات تھے کہ گوجرانوالہ میں متعین پہلے والا سی پی او (رائے صاحب) مقامی نون لیگیوں سے صحیح طور پر نمٹنے کی صلاحیتوں سے مالا مال نہیں ہے ۔پی ڈی ایم کے کارکن اور قیادت گوجرانوالہ کے مذکورہ جلسے کے بارے میں حکومت سے شکوے شکایات کرتے رہے لیکن اس کے باوجود 16 اکتوبر بروز جمعہ المبارک جلسہ ہو ہی گیا ۔ اس جلسے کے میزبان نون لیگ کے مشہور مقامی سیاستدان اور سابق وفاقی وزیر ابنِ وزیر انجینئر خرم دستگیر تھے۔ اور آج (18اکتوبر2020) کو پی ڈی ایم کا دوسرا جلسہ کراچی میں ہورہا ہے جس کے میزبان پیپلز پارٹی اور سندھ میں مقتدر حکومت ہوگی ۔ اس سے پہلے کہ ہم اس امر کا جائزہ لیں کہ ”پی ڈی ایم”کے ان جلسوں سے کیا پاکستان کے 22 کروڑ عوام کو لاحق لاتعداد دکھوں ، کمر شکن مہنگائی اور مصائب سے نجات مل سکے گی،پہلے چند واقعات کا جائزہ لیتے ہیں ۔گوجرانوالہ میں پی ڈی ایم کے جلسے سے قبل دو واقعات اہم بھی تھے اور ہمارے لئے قابلِ ذکر بھی ۔پہلا واقعہ یہ تھا کہ وزیر اعظم کے معاونِ خصوصی برائے اطلاعات (SAPM)لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ نے ازخود استعفیٰ دے دیا۔وہ پہلے بھی مستعفی ہوئے تھے لیکن وزیر اعظم نے اُن کا استعفیٰ قبول کرنے کی بجائے اُنہیں بدستور کام کرتے رہنے کا حکم دیا تھا۔ لیکن اب دوسری بار استعفیٰ پیش کئے جانے پر وزیر اعظم نے اُن کا استعفیٰ قبول کرلیا ہے ۔ جناب عاصم سلیم باجوہ افواجِ پاکستان کے سابق سینئر ترین افسر رہے ہیں ۔ بلوچستان میں بھی اعلیٰ تر قومی خدمات انجام دے چکے ہیں ۔ میڈیا کے حوالے سے اُن کا وسیع تجربہ ہے کہ وہ ماضی قریب میں ڈی جی آئی ایس پی آر رہے اور اس عہدے پر قومی اور غیر ملکی میڈیا سے مناسب انداز میں نمٹے ۔ وزیر اعظم صاحب نے اُنہیں اسی پس منظر میں اپنا معاونِ خصوصی برائے اطلاعات متعین کیا تھا تاکہ میڈیا کی ہینڈلنگ میں آسانیاں رہیں ۔ لیکن پچھلے کچھ ہفتوں سے عاصم باجوہ صاحب پر بوجوہ جو تنقید ہو رہی تھی، اس نے بدمزگی پیدا کی ؛ چنانچہ اس بد مزگی کے خاتمے کیلئے اُنہوں نے مستعفی ہونا ہی مناسب خیال کیا ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ عاصم سلیم باجوہ صاحب کا یہ اقدام اور فیصلہ مستحسن ہے ۔ اُنہیں اب یکسو ہو کر سی پیک اتھارٹی کی طرف بھرپور توجہ دینی چاہئے جس کے وہ چیئرمین ہیں ۔ اپنے استعفیٰ ٹویٹ میں بھی اُنہوں نے اسی خواہش کا اظہار کیا ہے کہ وہ زیادہ ارتکاز کے ساتھ سی پیک اتھارٹی میں بیٹھ کر قوم و ملک کی خدمت کرنے کے خواہشمند ہیں ۔ ہم اور ہمارے ادارے کی طرف سے اُن کی کامیابیوں کیلئے مخلصانہ دعائیں ہیں ۔وہ انشاء اللہ ”سی پیک” اتھارٹی کے سربراہ کی حیثیت میں آئندہ ایام میں دشمنانِ پاکستان سے خوب نمٹ سکیں گے جو سی پیک کو کامیابی سے ہمکنار ہوتا نہیں دیکھ پا رہے ۔ ہمیں یقینِ کامل ہے کہ سی پیک اللہ کے فضل و کرم سے اپنی منزل تک کامیابی کے ساتھ پہنچے گی،گیم چینجر ثابت ہوگی اور پاکستان کے لئے خوشحالی اور پاک چین تعلقات کی مزید مضبوطی کا موجب بنے گی ۔ہمارے میڈیا کو بھی اب جناب عاصم سلیم باجوہ کے بارے میں منفی باتیں اچھالنے سے باز آجانا چاہئے ۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ اُن کا استعفیٰ گوجرانوالہ میں پی ڈی ایم کے جلسے کے شور میں دب کررہ گیا۔اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی کوئی حکمت ہی ہوگی ۔ ہمیں بہرحال اپنی فوج اور اس کے سابقہ اور موجودہ وابستگان کے بارے میں مثبت اور مستحسن خیالات ہی رکھنے چاہئیں ۔ قومی سلامتی کا یہی تقاضا ہے ۔گوجرانوالہ میں پی ڈی ایم کے جلسے سے پہلے دوسرا بڑا واقعہ یہ پیش آیا کہ لاہور سیالکوٹ موٹر وے پر وقوع پذیر ہونے والے ریپ کیس کا مرکزی ملزم عابد ملہی جلسہ سے چار دن پہلے گرفتار ہو گیا ۔یہ اہم پیشرفت کہی گئی ہے ۔ یہ ملعون اور مفرور شخص سانحہ کے تقریباً34دنوں بعد پکڑا گیا ہے ۔ یہ بڑی خبر تھی ۔ پنجاب پولیس ، خصوصاً لاہور پولیس اس پر بڑا فخر کرتی نظر آئی ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے اس خوشی میں متعلقہ پولیس کیلئے 50لاکھ روپے کے انعام کا اعلان بھی کیا ہے ۔ عام آدمی کو مگر اس بات کی سمجھ نہیں آئی ہے کہ اتنی بھاری رقم والا انعام کیوں؟ کس کارنامے کے عوض؟ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس قاسم خان صاحب نے اس ضمن میں بالکل بجا فرمایا ہے کہ ”ایک ملزم کی گرفتاری پر پولیس کو انعام دینا حیران کن ہے۔ملزم پکڑنا پولیس کی ذمہ داری ہے ۔ اس پر انعام کیسا؟ اب پولیس افسر انعام کا انتظار کرے اور پھر ملزم پکڑے؟ پولیس اہلکار اگر ملزموں کو نہیں پکڑیں گے تو کیا کریں گے؟”۔ پولیس مگر عابد ملہی کی گرفتاری کے ”کارنامے” کو اپنی ہمت اور کوششوں کا ثمر قرار دے رہی ہے جبکہ ملزم عابد ملہی کے والد کا یہ دعویٰ ہے کہ اُس نے خود اپنے ملزم بیٹے کو پکڑ کر خود پولیس کے حوالے کیا ہے ۔ ان متضاد خبروں سے متعلقہ پولیس کا کردار مدہم ہو کررہ گیا ہے لیکن آئی جی پنجاب اس واقعہ کا سارا کریڈٹ پولیس کی تفتیشی اور تحقیقی ٹیم کو دے رہے ہیں تو ہمیں اس پر یقین کر لینا چاہئے ۔بہرحال اب ایک ماہ سے زیادہ عرصہ کی تلاش کے بعد موٹر وے ریپ کیس کے مرکزی ملزم عابد ملہی کو بالآخر پنجاب پولیس نے پیر(12اکتوبر) کو فیصل آباد سے گرفتار کر کے جیل بھیج دیا ہے جہاں وہ جیل میں مقدمے کا انتظار کر رہا ہے۔اس کی گرفتاری کے حوالے سے میڈیا سے بات کرتے ہوئے آئی جی پنجاب انعام غنی نے بتایا :”اسے گرفتار کرنے میں اتنا وقت اس لیے لگا کیونکہ اس کے اہلِ خانہ اور ساتھی نے اسے خبر دے دی تھی کہ اس کی تصاویر ٹی وی پر چل رہی ہیں اور وہ گھر سے فرار ہوگیا۔آئی جی پنجاب( انعام غنی) کے مطابق وہ مانگا منڈی، فورٹ عباس اور پھر فیصل آباد سے چنیوٹ چلا گیا تھا ۔ اس عرصے میں وہ انڈر گراؤنڈ رہا ۔ اس دوران عباس نامی شخص کے پاس مزدوری اور بھینسوں کو چارہ ڈالنے کا کام کرتا رہا۔ اس کے بعد عابد ملہی فیصل آباد واپس آیا اور وہاں اس نے اپنے سالے کے فون سے اپنے والد کو کال کی۔ ہمیں اسی لمحے کا انتظار تھا کیونکہ عابد اسی کال سے ٹریس ہوا۔ اسے یہ معلوم تھا کہ پولیس نے اس کے والد اور بیوی کو چھوڑ دیا ہے، اسی لیے یہ اپنے والد اور بیوی سے ملنے آیا۔ عابد جب گھر کی دیوار پھلانگ کر اندر داخل ہوا تو وہاں پہلے سے ہی ہماری ٹیم موجود تھی”۔تاہم آئی جی انعام غنی اور ملزم عابد ملہی کے والد( اکبر علی ملہی) کے بیانات میں تضاد سامنے آیا ہے۔ جہاں آئی جی کا کہنا ہے کہ پولیس نے اسے گرفتار کیا، وہیں اس کے والد کا کہنا ہے کہ عابد نے خود گرفتاری دی۔ یہ ایک عجب کہانی ہے ۔تو کیا پولیس اپنے فائدے کیلئے کسی درمیانی سچ کو چھپا رہی ہے؟ کیا اُن لوگوں کو بھی حراست میں لیا جائے گا جنہوں نے پچھے ایک ماہ کے دوران عابد ملہی کو اپنے ہاں پناہ دی اور مجرمانہ عمل کا ارتکاب کیا؟ اور کیا عباس نامی مذکورہ شخص کو گرفتار کیا جائیگا؟ان سلگتے اور ابتدائی سوالوں کا پنجاب پولیس جواب دینے سے گریزاں ہے ۔گرفتاری کے بعد ملعون اور درندہ صفت ملزم عابد کو منگل (13اکتوبر) انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں سے اسے شناخت پریڈ کے لیے جیل بھجوا دیا گیا۔ اب سوال یہ ہے کہ اس کیس میں آگے کیا ہوگا؟ فیصلہ ہونے میں کتنے دن لگیں گے؟کہیں یہ کیس بھی عام کیسوں کی طرح لمبا تو نہیں ہو جائیگا؟ ملزم کو جرم ثابت ہونے پر واقعی سرِ عام پھانسی دی جائیگی جیسا کہ پاکستانی عوام کی اکثریت کا مطالبہ سامنے آیا ہے؟ یا ملزم عابد ملہی کو کسی انجیکشن سے نامرد بنا دیا جائیگا جیسا کہ وزیر اعظم عمران خان نے تجویز پیش کی تھی ؟سوالات کا ایک انبار ہے جو فی الحال پی ڈی ایم کے حکومت مخالف جلسوں میں دبتا محسوس ہورہا ہے ۔لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ ملزم عابد ملہی کے بارے میں فیصلہ جلد سامنے آنا چاہئے ۔لیکن سزا پر عملدرآمد سے قبل ملزم کو صفائی اور اپنے بیانات عدالت کے رُوبرو پیش کرنے کے سارے ممکنہ مواقع ملنے چاہئیں تاکہ انصاف پورا پورا نظر آئے ۔سچ مگر یہ ہے کہ یہ اہم گرفتاری بھی پی ڈی ایم کے گوجرانوالہ جلسے کی گونج اور بازگشت میں دب کر رہ گئی ہے ۔ اوپر سے سی سی پی او لاہور عمر شیخ کی اپنے ایک جوان افسر ایس پی عاصم افتخار کے ساتھ مبینہ شدید جھگڑے اور ہاتھا پائی کی خبر نے عابد ملہی کی گرفتاری کے کارنامے پر اوس ڈال دی ۔ یہ بات سمجھ سے بالا ہے کہ جب سے عمر شیخ صاحب سی سی پی او لاہور تعینات ہُوئے ہیں ، بدخبریاں اُن کے مسلسل تعاقب میں ہیں ۔میڈیا ان ”بد خبریوں” کے بارے میں رپورٹ کرے تو عمر شیخ شکائت کرتے اور ناراض ہوتے ہیں ۔ عجب الجھنوں نے حکومت کو گرفت میں لے رکھا ہے ۔ ایسے میں حکومت مخالف اتحا د”پی ڈی ایم” نے گوجرانوالہ کے پہلے جلسے میں حکومت کے اعصاب پر منفی اثرات ڈالے ہیں ۔ کمر شکن مہنگائی کا دباؤ الگ ہے ۔ اس جلسے میں میاں نواز شریف، مولانا فضل الرحمن ، بلاول بھٹو زرداری ،مریم نواز ، محمود خان اچکزئی ، میاں افتخار وغیرہ نے خطاب کیا اور کھل کر حکومت کے خلاف برسے ۔ کچھ صاحبان نے اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بین السطور طیش کا اظہار بھی کیا ۔ میاں نواز شریف نے ایک بار پھر عسکری قیادت پر سخت تنقید کی ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس وقت جبکہ شمالی وزیرستان اور بلوچستان میں دہشت گردوں نے پھر ہمارے ملک اور ہماری سیکورٹی فورسز کے خلاف سر اٹھایا ہے ، ہمارے 20سے زائد جوانوں کو شہید بھی کر ڈالا ہے ، ملک میں انتشار اور فساد کی فضا کا پھیلاؤ ہماری مجموعی ملکی سلامتی کے منافی ہے ۔ یہ درست ہے کہ حکومت پچھلے دو، سوا دو برسوں کے دوران عوام کے دکھوں کا کوئی مداوا نہیں کر سکی اور نہ ہی کوئی وعدہ پورا کر سکی ہے اور یہ بھی درست ہے کہ ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری نے عوام کی چیخیں نکلوا دی ہیں ، لیکن اس دوران حزبِ اختلاف کے ہمارے بعض سیاستدانوں کا ہمارے معتبر اور حساس اداروں کے بارے میں منفی پروپیگنڈہ کرنا کسی بھی صورت میں ناقابلِ فہم بھی ہے اور ناقابلِ برداشت بھی ۔ ہمیں ہر صورت میں اپنے سلامتی کے اداروں کا تحفظ بھی کرنا ہے اور اُن کا دفاع بھی ۔ یہ ادارے محفوظ اور طاقتور ہیں تو ہمارا وطن اور ہم عوام بھی اپنے دشمنوں سے محفوظ ہیں ۔ اسلئے سیاستدانوں پر لازم ہے کہ وہ ہوش کے ناخن لیں اور اپنے متنازع معاملات میں فوج کو مت گھسیٹیں ۔ حکومت کو بھی ہمارا مشورہ ہے کہ وہ بھی اپنی ضد چھوڑ کر اپوزیشن سے مکالمے اور ملاقاتوں کا آغاز کرے ۔ عمران خان کی حکومت سے بھی دست بستہ گزارش ہے کہ خدارا، عوام کی زندگیاں اجیرن کر دینے والی مہنگائی سے نجات دلانے کے لئے عمل اقدامات کئے جائیں ۔ ہر طلوع ہوتے سورج کے ساتھ روزانہ ہی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ کرنے والوں کو آہنی ہاتھوں سے کچل دیا جائے ۔ اگر ایسا نہ ہُوا اور بدستور غفلت برتی جاتی رہی تو یاد رکھا جائے کہ ردِ عمل کے طور پر عوام ”پی ڈی ایم” کے ہر حکومت مخالف جلسے میں شریک ہوں گے اور اسے کامیاب بنائیں گے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.