Daily Taqat

فلسطینیوں و کشمیریوں کیلئے پاکستانی عوام اور عمران خان کا اظہارِ یکجہتی

وطنِ عزیز کی سیاست میں ہر روز نت نئی تبدیلیوں کا ظہور ہورہا ہے ۔ غیر یقینی صورتحال بڑھ رہی ہے ۔ اس منظر نامے نے ہماری معیشت اور سماج کو بہت بُری طرح متاثر کیا ہے ۔ اہم ترین خبر یہ ہے کہ شیخوپورہ میں سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی 88کنال (11ایکڑ) زمین تقریباً 11کروڑ روپے میں نیلام کر دی گئی ہے ۔ حکومت کی طرف سے یہ انتہائی اقدام اس امر کا غماز ہے کہ عمران خان اور شریف خاندان میں لڑائی مسلسل جاری ہے اور یہ بھی کہ اس ضمن میں اسٹیبلشمنٹ بھی شریف خاندان کو کوئی ریلیف دینے میں فی الحال کامیاب نہیں ہو سکی ہے ۔ یہ خبر اس بات کو بھی ظاہر کررہی ہے کہ جو لوگ میاں شہباز شریف کی ضمانتی رہائی پر یہ دعویٰ کررہے تھے کہ شریف خاندان کی کہیں نہ کہیں ، کسی نہ کسی سے ”ڈیل” ہو گئی ہے، بالکل غلط ثابت ہُوئی ہے ۔ شہباز شریف کو عدالتی حکم کے باوجود حکومت اور ایف آئی اے کی طرف سے لندن نہ جانے دینا بھی اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ عمران خان مبینہ ڈیل کرنے والوں کی راہ میں چٹان بن کر کھڑے ہو گئے ہیں ۔ اور یوں شہباز شریف کی لندن جانے کی خواہشات پوری نہیں ہو سکی ہیں ۔ ان حالات میں لندن سے 21مئی کو ایک پریشان کن یہ خبر بھی آئی ہے کہ کچھ پُر اسرار لوگوں نے نواز شریف کے صاحبزادے حسن نواز کے دفتر میں بیٹھے نواز شریف پر حملہ کرنے کی بھی کوشش کی ہے کہ ان دو پُر اسرار اشخاص میں سے ایک شخص مسلح بھی پایا گیا ہے ۔ یہ دونوں نا معلوم افراد حسن نواز کے دفتر میں زبردستی گھسنا چاہتے تھے کہ دھر لئے گئے ۔ اس واقعہ پر مریم نواز صاحبہ نے اپنا بھرپور ردِ عمل بھی دیا ہے لیکن حکومت کی طرف سے خاموشی ہے ۔ یہ وہ حالات ہیں جن میں عمران خان صاحب کے سابق معتمد دوست جہانگیر خان ترین حکومت کے مخالف کے طور پر اُبھرتے دکھائی دے رہے ہیں ۔ ترین گروپ نے قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی میں اپنے علیحدہ سے ترجمان یا کوآرڈی نیٹر بھی مقرر کر دئیے ہیں اور ساتھ ہی مذکورہ گروپ یہ دعویٰ بھی کررہا ہے کہ ہم ابھی تک پی ٹی آئی اور وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ ہیں اور ساتھ رہیں گے ۔ عجب کھچڑی سی پک رہی ہے ۔ مزے کی بات یہ ہے کہ نون لیگ اس ترین گروپ کی بغاوت سے لاتعلق نظر آ رہی ہے ۔ اس روئیے سے اسٹیبلشمنٹ بھی مبینہ طور پر پریشان ہے ۔ اور وزیر اعظم عمران خان کی پریشانی اب یوں بھی دکھائی دے رہی ہے کہ وہ اب بار بار ”نیب” کے بارے میں بیانات کے گولے داغ رہے ہیں کہ اس ادارے کو پاکستان میں اہم مبینہ کرپٹ لوگوں پر ہاتھ ڈالنے میں سخت ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ یہ رویہ عوام کیلئے بھی پریشان کن ہے اور ”نیب” کے وابستگان کیلئے بھی یقیناً پریشان کن ہوگا۔ اوپر سے ملک بھر میں کورونا کی وبا تھمنے کا نام نہیں لے رہی اور 24مئی سے کچھ اضلاع میں تعلیمی ادارے بھی کھولنے کے احکامات جاری کر دئیے گئے ہیں ۔ اسی غیر یقینی فضا میں ہم نے عید الفطر تو منا لی ہے لیکن کورونا کی دہشت انگیز فضا نے درمیان میں کود کر ہماری ساری خوشیاں غارت کر دی ہیں ۔ ہم گھروں تک محدود اور مسدود ہو کرہ گئے ۔ کورونا کی مہلک و مسموم فضا میں ہم فاصلوں پر کھڑے ہو کر جس طرح عید منانے پر مجبور بنا دئیے گئے ، اس کی ایک تصویر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان صاحبہ نے بھی اپنے ایک بیان میں کھینچی تھی اور اس بارے خبردار بھی کر دیا تھا۔ واقعہ یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحبہ کی بیانی تصویر پر جو عمل کرے گا ، وہی کورونا کی یلغاروں اور ہلاکت خیزیوں سے بچ پائے گا ۔ سرکار کی طرف سے ایک آگاہی اشتہار میں بھی یہی احتیاطی پیغام دینے کی کوشش کی جارہی ہے : ذرا سی لاپرواہی، زندگی کو کہاں لے آئی ہے ۔کورونا وائرس کی پھیلائی گئی قیامتوں کے درمیان ، عید الفطر کے حوالے سے ، سعودی عرب کے مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ الشیخ کی جانب سے بھی ایک مستحسن فتویٰ آیا تھا ۔ جناب عبدالعزیز نے فرمایا تھا کہ جن ممالک میں مسلمان اقلیت میں ہیں اور وہاں مساجد کم ہیں تو ایسی صورت میں مسلمانوں پر یہ جائز ہے کہ وہ رش سے بچنے اور کووڈ سے محفوظ رہنے کیلئے باری باری نمازِ عید الفطر ادا کریں ۔ کورونا کے پُر آزمائش ایام میں یہ فتویٰ شائد اُن مسلمانوں کیلئے ایک بڑا ریلیف ثابت ہُوا ہے جو غیر اسلامی ممالک میں رہائش پذیر ہیں۔ خصوصاً امریکہ، کینیڈا اور مغربی یورپ میں بسنے والے بڑی تعداد کے مسلمانوں کیلئے یہ فتویٰ ایک نعمت سے کم نہیں تھا۔ سعودی مفتی اعظم صاحب کی ہدایات اور فتووں کی روشنی ہی میں، دورانِ رمضان، مکہ شریف اور مدینہ منورہ میں نمازیں اور تراویح ادا کی گئی ہیں ۔ ان جملہ عبادتوں میں نمازیوں کے درمیان باہمی فاصلہ قائم رکھنا بے حد ضروری قرار دیا گیا اور سعودیوں نے اس پر عمل بھی کیا ۔ واقعہ یہ ہے کہ کورونا کووِڈ19کی مہلک اور دہشت انگیز وبا کے دوران سعودی سیاسی و دینی قیادت نے یک زبان اور یک جہت ہو کر ، کورونا ایس اوپیز پر جس اسلوب میں سختی سے خود بھی عمل کیا ہے اور اپنے عوام سے بھی کروایا ہے ،یہ ہمارے لئے بھی ایک نمونہ ہے ۔ اگر سنجیدگی اور شائستگی سے ہم بھی حکومت کی طرف سے کورونا کی وبا سے محفوظ رہنے کیلئے دئیے گئے ایس او پیز پر عمل کررہے ہوتے تو حکومت کو ملک کے کئی شہروں میں فوج کو بلانا پڑتا نہ کئی شہروں میں ہماری پولیس کو تشدد کرنا پڑتا ۔ بعض شہروں میں پولیس نے کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے والوں کو مرغا بھی بنایا ہے ۔ ہم پولیس کے اس متشددانہ روئیے کی مذمت کرتے ہیں لیکن ہمیں ڈنڈے کے بغیر بھی کوئی کام کرنا سیکھ لینا چاہئے ۔حکومت کو مجبوراً سختی کرنا پڑرہی ہے ۔ اس سختی کو عوامی مفاد کہا جارہا ہے ۔عید کی 7 چھٹیوں میں پبلک ٹرانسپورٹ بند،پارک بند اور سیر و سیاحت کے مراکز بھی بند رہے ہیں۔مری اور شمالی علاقوں کے ہوٹلوں نے عید کی ان چھٹیوں میں لمبے نوٹ کمانا تھے لیکن اس سختی نے رنگ میں بھنگ ڈال دی ہے۔سختی سے ہماری معیشت کو بڑا نقصان پہنچا ہے ۔ تاجر برادری بھی ناراضی کا اظہار کرتی رہی ۔ عید الفطر کے موقع پر اس برادری کی ناراضی ، طیش کی شکل اختیار کر گئی تھی۔ اگر ہم شرافت اور وضع کردہ اصولوں کے مطابق ایس او پیز پر عمل کررہے ہوتے تو شائد حکومتی سختی بھی بروئے کار نہ آتی ۔ حکومت اگر کورونا یلغار کو محدود اور مسدود کرنے کی نیت سے سختیاں اور لاک ڈاؤن کررہی ہے تو اس میں ہمارا ہی اجتماعی مفادپنہاں ہے ۔ ہلاکت خیز کورونا کے باعث ہونے والی اموات کی شرح مزید کم کی جا سکتی ہے، اگر ہم پوری سنجیدگی سے کورونا ایس او پیز پر عمل کرنے میں کامیاب ہو جائیں ۔حکومت نے ملک بھر میں ویکسی نیشن سنٹرز کھول دئیے ہیں، اسلئے کوشش کی جانی چاہئے کہ جلد از جلد کورونا ویکسین لگوائی جائے ۔ عید پر ایک خبر یہ آئی کہ وزیر اعظم عمران خان نے نتھیا گلی میں عید منائی ہے ۔ اگر وزیر اعظم کو نتھیا گلی میں عید منانے کا ”حق” حاصل ہے تو دیگر پاکستانی اپنے گرم گھروں سے نکل کر مری اور نتھیا گلی کے ٹھنڈے علاقوں میں عید کیوں نہیں منا سکتے تھے ؟حکمرانوں کے قول و فعل میں اِنہی تضادات نے عوام کو مایوس کررکھا ہے ۔ عوام بجا طور پر کہتے پائے گئے ہیں کہ حکمرانوں کو نتھیا گلی جا کر کچھ نہیں ہوتا تو کیا ہمیں نتھیا گلی، گھوڑا گلی اور شمالی علاقہ جات کے ٹھنڈے علاقوں میں کورونا کچھ زیادہ کاٹ لے گا؟ پاکستانی سیاحوں پر تو ابھی 24مئی2021ء تک بھی مری، نتھیا گلی اور شمالی علاقی جات کی سیر کرنے پر سخت پابندیاں عائد ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ جن اصولوں پر حکمران خود عمل نہیں کرتے ، عوام اُن پر کیوں عمل کریں؟ ہم نے یہ عید الفطر اس حال میں منائی ہے کہ مقبوضہ فلسطین اور بیت المقدس میں مظلوم فلسطینی مسلمانوں پر ظالم اسرائیل کے بم، میزائل اور آنسو گیس کے گولے برس رہے تھے ۔ بیت القدس کے آس پاس بسنے والے فلسطینی مسلمانوں کو اُن کے گھروں سے اسرائیلی آباد کار بندوق کے زور پر اور ریاستی دہشت گردی کی طاقت سے نکال باہر کرنے کی کوششیں کررہے تھے ۔ غزہ کی پٹی میں رہائش پذیر مجبور اور مظلوم فلسطینیوں پر اسرائیلی فوج نے سینکڑوں میزائل داغے ہیں ۔ ان اسرائیلی میزائلوں سے اب تک 200سے زائد فلسطینی مسلمان شہید اور سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں ۔شہید ہونے والے فلسطینیوں میں کچھ معصوم بچے بھی شامل ہیں ۔نہتے فلسطینی مسلمان پتھروں اور غلیلوں سے جدید ہتھیاروں سے لَیس اسرائیلی فوجوں کا مقابلہ کررہے ہیں ۔ اسرائیلی فوج نے سب سے بڑا ظلم یہ کیا ہے کہ بیت القدس ( جو مسلمانوں کا تیسرا سب سے بڑا مقدس مقام ہے ) میں نماز ادا کرتے ہُوئے فلسطینی مردوں ، خواتین اور بچوں کو تہ تیغ کیا ہے ۔ ایسا ظلم و استحصال کرتے ہُوئے اسرائیلی حکومت اور اسرائیلی فوجوں کو کوئی شرم اور حیا نہیں آئی ہے ۔ بیت القدس مسلمانوں کا قبل اول بھی ہے لیکن افسوس ہے کہ اس کی بے حرمتی پر مسلمان حکمران بے حس بنے بیٹھے رہے ۔ کسی نے اگر اس ظلم پر احتجاج کیا بھی ہے تو بس زبانی کلامی ۔ پاکستان میں بھی یہی مناظر دیکھنے میں آئے ہیں ۔ مسلمان ممالک کی تنظیم ”او آئی سی” بھی خالی بیانات پر اکتفا کرتی رہی ۔ بھلامحض زبانی کلامی کیا ہوتا ہے ؟ جب تک اسرائیل کو منہ توڑ اور برابر کی طاقت سے جواب نہیں دیا جاتا، اسرائیل مظالم اور زیادتیوں سے کبھی باز نہیں آئے گا۔ پاکستان میں21مئی کو مظلوم فلسطینیوں کے حق میں ”یومِ یکجہتی” منایا گیا، ہماری سیاسی و مذہبی جماعتوں کے لیڈروں نے فلسطین کے حق میں بیانات دئیے لیکن سوال یہ ہے کہ اس اظہارِ یکجہتی کا فلسطینی عوام اور آزادی کی جنگ لڑنے والے فلسطینی مجاہدین کو کیا فائدہ پہنچا ہے ؟ اسرائیلی یہودیوں کی طرح بھارتی بنیاد پرست ہندو حکمرانوں کا بھی یہی حال ہے ۔ جو ظلم اسرائیل فلسطینی مسلمانوں پر ڈھا رہا ہے ، ویسے ہی مظالم بھارت مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں پر ڈھا رہا ہے ۔ فلسطین پر بھی پچھلے 70سال سے مظالم جاری ہیں اور کشمیریوں پر بھی اتنے ہی عرصے سے بھارتی مظالم ڈھائے جا رہے ہیں ۔ پاکستان کشمیریوں کا سب سے بڑا سہارا رہا ہے لیکن اب تو پاکستان کی جانب سے بھارت کی طرف جس انداز میں صلح اور بھائی چارے کی پیشکشیں ہو رہی ہیں ، ان مناظر نے کشمیریوں کے ویسے ہی دل توڑ ڈالے ہیں ۔اب پاکستان کے اندر سے ہی مبینہ طور پر بھارت کے ساتھ تجارت کرنے اور امن قائم کرنے کی بات چیت چل رہی ہے ۔ پاکستان تو پہلے بھی بھارت کے ساتھ امن قائم کرنے کا خواہاں ہے لیکن بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں ظلم کا جوبازار گرم کررکھا ہے ، جس طرح بھارتی آئین سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر ڈالی گئی ہے ، ان اقدامات کی موجودگی میں بھارت کی طرف تجارت اوردوستی کا ہاتھ کیسے بڑھایا جا سکتا ہے ؟ ایسے میںوزیر اعظم جناب عمران خان کا یہ بیان نہائت مستحسن ہے کہ جب تک بھارت اپنے آئین سے ختم کی گئی دونوں شقیں ( 370اور35اے) بحال کرکے انہیں دوبارہ اپنے آئین کا حصہ نہیں بناتا ، بھارت سے کوئی تجارت نہیں ہو سکتی ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان کے اس مصمم ارادے اور عزم کی تعریف کی جانی چاہئے ۔ یہ عزم دراصل کشمیریوں سے مضبوط کمٹمنٹ کا حامل ہے ۔ ہم سب کو وزیر اعظم کی آواز میں اپنی آواز شامل کرنی چاہئے ۔ 21مئی2021ء کو وزیر اعظم عمران خان نے کراچی میں ایک سرکاری تقریب سے خطاب کرتے ہُوئے ایک بار پھر کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہُوئے کہا کہ بھارت کے ساتھ اُسی صورت میں مذاکرات کا دروازہ کھل سکتا ہے کہ بھارت 5اگست2019ء سے پہلے والے مقبوضہ کشمیر کو بحال کرے ۔ وزیر اعظم کے اس جرأتمندانہ بیان کی تحسین کی جانی چاہئے ۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »