Daily Taqat

پاکستانی صحافت کا عظیم نقصان: عظیم صحافی عارف نظامی صاحب رخصت ہو گئے

عین عید الاضحی کے دن بتاریخ 21جولائی 2021ء کو پاکستانی صحافت کا ایک درخشاں باب بند ہو گیا ۔یہ خبر بڑے دکھ اور کرب کے ساتھ سنی گئی کہ سینئر صحافی، کالم نگار، نامور ایڈیٹر ،اینکر پرسن اور سابق نگراں وفاقی وزیر عارف نظامی صاحب عارضہ قلب کے باعث لاہور میں انتقال کر گئے۔ فوری طور پر اُن کے صاحبزادے اسد نظامی اور بھانجے بابر نظامی نے نجی چینلز کو سینئر صحافی کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انہیں تین ہفتے قبل دل کا دورہ پڑا تھا جس پر انہیں لاہور کے نجی ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ جانبر نہ ہو سکے۔ مبینہ طور پر اُن کی عمر 75برس تھی ۔ رواں برس پاکستانی صحافت کے کئی ستارے ڈوب گئے ۔ پہلے نامور کالم نگار عبدالقادر حسن رخصت ہوئے ۔ پھر ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی وفات پا گئے ۔ اُن کے بعد انگریزی صحافت کا عظیم نام جناب آئی اے رحمان اللہ کو پیارے ہو گئے ۔ ابھی اُن کی رخصتی سے دل مجروح اور مغموم تھے کہ اُردو صحافت کا ایک اور محنتی ستارہ جناب ضیاء شاہد ہم سے جدا ہو گئے ۔ اور اب جناب عارف نظامی اپنے خالق و مالک کے پاس پہنچ گئے ہیں ۔ اللہ کریم اُن کی مغفرت فرمائے ۔ آمین ۔ عارف نظامی روزنامہ ‘نوائے وقت’ کے بانی حمید نظامی کے صاحبزادے تھے اور وہ کئی دہائیوں تک شعبہ صحافت سے وابستہ رہے۔ انگریزی روزنامہ ”دی نیشن” کے مدیر کی حیثیت میں اُنہوں نے پاکستانی صحافت پر لاتعداد مثبت نقوش ثبت کئے ۔ یوں ہم مدتوں اُنہیں ایک کامیاب اور معروف صحافی ، مدیر ، اینکر پرسن اور کالم نگار کی حیثیتوں میں یاد رکھیں گے ۔ وہ اپنے عظیم صحافی والد جناب حمید نظامی اور بے مثل چچا اخبار نویس جناب مجید نظامی کی طرح ہمیشہ پاکستانی صحافت کے طالبعلموں میں اچھے اور مستحسن الفاظ میں یاد رکھے جائیں گے ۔ مرحوم عارف نطامی صاحب نے اپنی صحافتی زندگی میں کئی بریکنگ نیوز سے اپنے قارئین کو نوازا اور یوں ایک بے مثل تاریخ بنا گئے ۔ مثال کے طور پر محترمہ بے نظیر بھٹو کے بارے میں اُن کی دی گئی ناقابلِ فراموش خبر ۔”دی نیشن” میں اُن کے نام سے شائع ہونے والی یہ چنگھاڑتی خبر کہ آج وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت ختم کر دی جائیگی ۔ یہ ایسی خبر تھی کی وزارتِ عظمیٰ کی کرسی پر تشریف فرما بے نظیر بھٹو بھی اپنی حکومت کے خاتمے سے بے خبر تھیں لیکن اس خبر نے اُس روز پورے ملک کی سیاست اور صحافت میں ایک قیامت برپا کئے رکھی تھی ۔ حکومت اور حکومتی کارندے اس خبر کو محض ڈس انفرمیشن قرار دیتے رہے لیکن اُسی دن (6اگست 1990ء ) عارف نظامی صاحب کی دی گئی یہ ایکسکلیوزو خبر یوں سچ ثابت ہُوئی کہ شام کے وقت محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت صدر غلام اسحق خان نے آئین کی شق 58ٹوBکے تحت ختم کر دی ۔عارف نظامی صاحب نے اس تاریخ ساز خبر کی شکل میں پاکستانی صحافت میں ایک مستند صحافی کا درجہ حاصل کیا۔اللہ تعالیٰ نے جناب عارف نظامی کو جناب حمید نظامی کی طرح بے پناہ حوصلہ اور جرأت عطا فرما رکھی تھی ۔ وہ ملک میں جمہوریت کے چلن کے زبردست حامی اور آمریت کے سخت مخالف تھے ۔ اور اُنہوں نے ایسا اپنے عمل سے ثابت بھی کیا۔ وہ آمروں اور ڈکٹیٹروں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سوال کرنے کی جرأت رکھتے تھے ۔ مثال کے طور پر :1999ء میں جنرل پرویز مشرف نے منتخب وزیر اعظم جناب نواز شریف کی حکومت کا تختہ اُلٹ دیا۔اس غیر آئینی اور جمہوریت دشمن اقدام کے بعد پہلی پریس کانفرنس کرنے کیلئے جنرل پرویز مشرف لاہور آئے ۔ اُنہوں نے لاہور کے ایک پنج ستارہ ہوٹل میں باوردی جرنیل کی حیثیت میں پریس ٹاک کی ۔ سوال جواب کا سلسلہ شروع ہُوا تو عارف نظامی صاحب نے اپنی باری پر جنرل پرویز مشرف سے کہا:” ایک فوجی کا حکومت میں کیا کام ؟ آپ مہربانی فرمائیں ، ملک میں الیکشن کروائیں اور اپنی بیرک میں جائیں۔” یہ بات عارف نظامی ہی کر سکتے تھے ۔ اُن کے جرأت رندانہ سے پوچھے گئے سوال پر رعونت اور غرور سے بھرے جنرل پرویز مشرف کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ بھری مجلس میں اس سوال کا جواب کیا دیں؟ بس آئیں بائیں شائیں کرکے رہ گئے ۔ افسوس ایسا جری اور اصول پسند صحافی اب ہمارے درمیان سے اُٹھ گیا ہے ۔ عارف نظامی صاحب کی رخصتی سے واقعی معنوں میں ہماری صحافت کا میدان مزید ویران ہو گیا ہے جو پہلے ہی مختلف پابندیوں کے کارن محدود سے محدود تر کر دیا گیا ہے ۔عارف نظامی صاحب انگریزی اخبار ‘پاکستان ٹوڈے’ کے بانی و ایڈیٹر تھے، انہوں نے بوجوہ گیارہ سال قبل، 2010ء میں، انگریزی اخبار ‘دی نیشن’ کو خیر باد کہہ کر ‘پاکستان ٹوڈے’ کی بنیاد رکھی تھی۔انہوں نے ماضی میں نگراں وفاقی وزیر برائے اطلاعات کے طور پر بھی خدمات سرانجام دیں۔ان کی نماز جنازہ لاہور کے علاقے ڈیفنس کی اللہ ہو مسجد میں رات 8 بجے ادا کی گئی جہاں بہت سے لوگوں نے اس بے مثل شخص کو لحد کے سپرد کیا۔ عارف نظامی صاحب ایک صاحبِ طرز کالم نگار بھی تھے ۔ اُ نکے اخباری اور ٹی وی کے تجزئیے وقیع اور چشم کشا ہوتے تھے ۔ وہ ایک سے زائد نجی ٹی وی کے برسوں اینکر پرسن بھی رہے ۔ نجی ٹی وی پرعمران خان کی نجی زندگی کے بارے میں اُن کی دی گئی خبر کئی روز تک ہماری سیاست و صحافت کی دُنیا میں بازگشت پیدا کرتی رہی تھی ۔ اُن کی وفات پر پورے ملک کی اہم ترین شخصیات نے افسوس اور دکھ کا اظہار کیا ہے ۔ مثال کے طور پر :صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی صاحب نے اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم کی صحافت کے شعبے میں گراں قدر خدمات کو یاد رکھا جائے گا۔وزیر اعظم عمران خان نے عارف نظامی کی وفات پر دکھ و افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ٹوئٹ میں ان کے اہلخانہ سے تعزیت اور مرحوم کی مغفرت کی دعا کی۔پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا :” عارف نظامی کے انتقال سے پاکستان کے شعبہ صحافت کا ایک درخشاں باب اختتام پذیر ہوا، وہ اپنے قلم کے ذریعے انتہائی بے باکی کے ساتھ عوامی مسائل کو اجاگر کرتے تھے۔ وہ جمہوریت کے وکیل تھے اور اُنہوں نے زندگی بھر صحافتی اصولوں کی آبیاری کی”۔وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے یوں ٹوئٹ کی :”عارف نظامی صاحب کی رحلت کا سن کر دل بجھ گیا ہے، ان سے طویل تعلق تھا، تحریک پاکستان میں ان کے والد حمید نظامی اور میرے دادا چوہدری اویس اور تایا چوہدری الطاف حسین ہمسفر تھے ۔اسی تعلق سے ان سے وہی تعلق رہا جو خاندان کے بزرگوں سے ہوتا ہے”۔وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے عارف نظامی صاحب کے انتقال پر انتہائی دکھ کرتے ہوئے کہا کہ نوائے وقت گروپ کے نظامی خاندان سے پانچ دہائیوں سے ایک ذاتی تعلق رہا ہے، اس لیے عارف نظامی صاحب کی رحلت میرے لیے کسی بھی ذاتی نقصان سے کم نہیں۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور سی پیک کے سربراہ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ نے بھی مرحوم عارف نظامی کی وفات پر گہرے غم کا اظہار کیا ہے ۔ وفاقی وزیر ڈاکٹر شیریں مزاری نے بھی تعزیت کی ہے ۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف مرحوم کے گھر گئے اور اُن کے صاحبزادے اسد نظامی اور دیگر اہلِ خانہ سے تعزیت کی ۔ وزیر اعلیٰ کی معاونِ خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے بھی مرحوم کے گھر جا کر دعائے مغفرت کی ۔ کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز( سی پی این ای) نے اپنے منتخب صدر کی وفات پر گہرے دکھ اور غم کا اظہار کیا ہے ۔ مرحوم کی یاد میں اخبارات میں تعزیتی اشتہارات شائع کئے گئے ہیں۔ المختصر بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان بھر کا تمام الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا جناب عارف نظامی کی وفات پر اداس اور سوگوار ہے ۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ رخصت ہونے والے کی مغفرت فرمائے ، اُنہیں جنت میں اعلیٰ مقامات سے نوازے اور اُن کے پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے ۔ آمین ۔
آزاد کشمیر کے انتخابات : آج 25جولائی ہے اورجس وقت کالم کی یہ سطور شائع ہوں گی، آزاد کشمیر میں انتخابات ہو رہے ہوں گے ۔ ان انتخابات میں تقریباً 31لاکھ ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کررہے ہیں ۔ پاکستان کی تینوں بڑی سیاسی جماعتیں ( نون لیگ، پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی ) پورے جوش و خروش کے ساتھ ان انتخابات میں کود پڑی ہیں ۔ کچھ معروف مذہبی جماعتیں بھی اپنا زور لگا رہی ہیں ۔ نون لیگ نے نائب صدر محترمہ مریم نواز کی قیادت میں آزاد کشمیر میں واقعی معنوں میں بڑے بڑے جلسے جلوس کئے ہیں ۔ ان میں کشمیریوں نے بڑے جوش اور ولولے سے شرکت کی ہے ۔ ان جلسوں میں بی بی مریم نواز کا للکارتا لہجہ پورے آزاد کشمیر کے ساتھ ساتھ پاکستان بھر میں بھی سنائی دیتا رہا ۔ اُن کے گرم سرد بیانات سے پی ٹی آئی کے کچھ مقتدر لوگ جز بز نظر آتے رہے ۔ البتہ یہ بات بڑی حیران کن محسوس ہُوئی ہے کہ آزاد کشمیر کے ان انتخابات سے اپوزیشن لیڈر اور نون لیگ کے صدر میاں شہباز شریف لا تعلق سے رہے ۔ وہ کسی جلوس میں شرک ہُوئے نہ اُن کا کسی جلسے سے خطاب ہی ہُوا ۔پیپلز پارٹی نے بھی ان انتخابات میں خوب مہم جوئی کی ہے ۔ بلاول بھٹو زرداری نے خاصے اچھے جلسوں سے خطاب کیا ۔ لیکن پُراسرار انداز میں وہ امریکہ بھی درمیان میں چلے گئے تھے جب آزاد کشمیر کی انتخابی مہم عروج پر تھی ۔ بعد ازاں ان کی چھوٹی ہمشیرہ آزاد کشمیر کے کچھ جلسوں سے خطاب کرتی پائی گئیں لیکن بات کچھ بنی نہیں ۔ امریکہ سے واپسی پر بلاول بھٹو زرداری نے پھر کچھ انتخابی جلسوں سے خطاب کیا اور دعویٰ کیا کہ اُنہی کی پارٹی آزاد کشمیر میں حکومت قائم کرے گی ۔ آخری ایام میں وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان نے بھی آزاد کشمیر پہنچ کر چند بڑے بڑے جلسوں سے خطاب کیا ۔ اُن کا بھی یہی دعویٰ رہا کہ پی ٹی آئی ہی آزاد کشمیر میں بھی حکومت بنائے گی ۔ عمران خان نے آزاد کشمیر میں تراڑ کھل اور کوٹلی کے دو بڑے بھاری جلسوں سے آخری خطاب کیا ۔ تراڑ کھل جلسے سے خطاب کے دوران ( 23جولائی کو)جلسے سے خطاب کرتے ہُوئے عمران خان نے ایک اچانک اور حیران کن اعلان یہ بھی کیا کہ ”ہم آزاد کشمیر میں دو ریفرنڈم کروائیں گے ۔یعنی آزاز کشمیر کے باسی پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا بھارت کے ساتھ ۔” مبصرین کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر کے انتخابات کے دوران وزیر اعظم پاکستان کا یہ اعلان بجا نہیں تھا۔ ان انتخابی مہمات کے دوران بعض مخالف سیاسی اطراف سے یہ باتیں بھی کہی جاتی رہیں کہ پی ٹی آئی والے آزاد کشمیر کو صوبے کا درجہ دینا چاہتے ہیں ۔ وزیر اعظم عمران خان نے اسی حوالے سے یہ بھی کہا ہے کہ آزاد کشمیر کو صوبہ بنانے کی باتیں بے بنیاد ہیں ۔ بہرحال ہر پارٹی آزاد کشمیر میں اپنی فتح کا جھنڈا گاڑنا چاہتی ہے ۔ اسی دوران، آزاد کشمیر انتخابات سے دو دن قبل، گیلپ پاکستان کی طرف سے ایک حیران کن سروے شائع کیا گیا جس میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ ان انتخابات میں پی ٹی آئی 44فیصد حمائت کے ساتھ آگے ہے ۔ سروے مذکور میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ نون لیگ کو 12 فیصد اور پیپلز پارٹی کو 8فیصد حمائت حاصل ہے ۔ مخالفین کا کہنا ہے کہ گیلپ پاکستان نے یہ سروے شائع کرکے آزاد کشمیر انتخابات میں عمران خان کی پارٹی کو بالا دستی حاصل کرنے میں اپنا پروپیگنڈہ کردار ادا کیا ہے ۔ حقیقت کیا ہے ، آج رات ہی نتائج سامنے آ جائیں گے ۔ ہماری دعا ہے کہ آزاد کشمیر کے یہ انتخابات پُر امن، غیر متنازع اور شفاف منعقد ہوں ۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »