Daily Taqat

پاکستان پر مذموم بھارتی الزامات اورسی آئی اے چیف کا دَورہ پاکستان

افغانستان سے امریکی فوجوں کے نکل جانے اور افغان طالبان کی کامل فتح کے بعد افغانستان میں بھارت کے پاؤں بھی اکھڑ گئے ہیں ۔ بھارتی اسٹیبلشمنٹ کو اس شکست کا شدید قلق اور دکھ ہے ۔ وہ افغانستان میں بیٹھ کر جس آزادی اور بے شرمی کے ساتھ پاکستان میں مداخلتیں کررہا تھا، بلوچستان میں علیحدگی پسندی کو ہوا دے رہا تھا اور جس طرح کھل کر ٹی ٹی پی کے پاکستان دشمن ایجنڈے کو بڑھاوا دے رہا تھا، طالبان کی آمد کے ساتھ ہی بھارت کا یہ سازشی مورچہ ٹوٹ چکا ہے ۔ اُس کے افغانستان میں انویسٹ کئے گئے دو تین ارب ڈالر بھی ڈُوب گئے ہیں ۔ فاتح طالبان جس طرح بھارت کو ٹھینگا دکھا رہے ہیں ، یہ بات بھی بھارت کو بڑا دکھ دے رہی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارت افغانستان کی گیم سے آؤٹ ہو چکا ہے ۔ بھارتی خوفزدہ ہیں کہ ممکن ہے طالبان افغانستان پر مکمل انتظامی کنٹرول سنبھالنے کے بعد مقبوضہ کشمیر میں جاری آزادی کی تحریک میں بھی حصہ ڈالیں ۔ یہ خیال ہی بھارت کیلئے ڈر اور خوف کی علامت بن چکا ہے ۔ اسی ڈر کی وجہ سے بھارتی میڈیا مسلسل افغان حکمران طالبان ، طالبان قیادت اور طالبان انتظامیہ کے خلاف بد زبانی بھی کررہا ہے اور جھوٹا پروپیگنڈہ بھی ۔ افغان طالبان نے اپنی عبوری حکومت اور عبوری کابینہ کا اعلان کیا تو بھارتی میڈیا نے اس فیصلے اور اعلان کی بھی سخت مخالفت کی ہے ۔ پاکستان کے خلاف بھارتی الزامات کی توپیں چوبیس گھنٹے جھوٹ کی گولہ باری کرتی رہتی ہیں ۔ 10ستمبر2021ء کو امریکی خفیہ ادارے ( سی آئی اے) کے سربراہ نے پاکستان کا دَورہ کیا اور سپہ سالارِ پاکستان جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی تو بھی بھارتی میڈیا کو آگ لگی رہی ۔ پاکستان کے خفیہ ادارے (آئی ایس آئی ) کے سربراہ نے پچھلے ہفتے کھلے بندوں کابل کا دَورہ کیا تو بھی بھارتی میں صفِ مات بچھی رہی ۔ طالبان کے خلاف پنج شیر کے کچھ لوگوں نے ہتھیار اُٹھائے تو بھی بھارتی نے شور مچایا کہ اس قضئے میں پاکستان پنج شیریوں کے خلاف طالبان کی امداد کررہا ہے ، حالانکہ یہ سراسر جھوٹا اور بے بنیاد الزام ثابت ہوا ۔ بھارتی میڈیا کو مگر شرم نہ آئی ۔ پاکستان کے خلاف بھارتی میڈیا کی اُڑئی گئی اس دھول اور دھند سے کچھ امریکی اور مغربی میڈیا بھی شائد متاثر ہُوا ہے ۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ممتاز امریکی میڈیا کی ایک صحافیہ نے اسی سلسلے میں وزیر اعظم عمران خان کے مشیر قومی سلامی معید یوسف سے تازہ ترین مفصل انٹرویو بھی کیا ہے ۔ وزیر اعظم جناب عمران خان کے مشیر قومی سلامتی معید یوسف نے پنج شیر میں پاکستان کی جانب سے طالبان کو مدد فراہم کرنے کے الزامات مسترد کرتے ہوئے انہیں بھارت کے بنائے گئے ‘جعلی نیوز نیٹ ورک’ اور سابقہ افغان حکومت کے الزام سے منسلک کردیا۔امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے پروگرام ‘سی این این کنیکٹ دی ورلڈ’ میں میزبان( بیکی اینڈرسن) نے افغانستان میں طالبان مخالف قوتوں اور ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے افغانستان میں غیر ملکی مداخلت کی مذمت کے بارے میں معید یوسف سے مفصل سوال کیا۔شو کی میزبان نے جناب معید یوسف سے پوچھا کہ کیا یہ سچ ہے کہ پاکستانی فوج نے ڈرونز اور دیگر ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے پنج شیر میں طالبان کے مخالفین پر حملوں میں مدد فراہم کی؟ جس کے جواب میں مشیر قومی سلامتی نے کہا :”میں صرف اتنا ہی کہہ سکتا ہوں کہ یہ بات ہی مضحکہ خیز ہے۔کابل کی گزشتہ حکومت کی جانب سے قربانی کا بکرا بنایا گیا تھا جس پر بدقسمتی سے بین الاقوامی برادری نے بھی یقین کرنا شروع کردیا کیوں کہ وہ اپنی ناکامی پر بات نہیں کرنا چاہتی”۔بالخصوص پاکستان کی جانب سے پنج شیر میں طالبان کی ڈرون سے مدد کے الزامات کے جواب میں مشیر قومی سلامتی نے ایک کاغذ دکھایا جو بھارتی نیوز چیننلز کے اسکرین شاٹس کا تھا جو پاکستان کے خلاف جعلی خبریں پھیلا رہے تھے۔کاغذ پر ایک تصویر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا :”یہ برطانیہ کے علاقے ویلز میں ایک امریکی طیارے کی پرواز ہے جسے بھارت کے مرکزی میڈیا نے ایسا بنا کر پیش کیا کہ جیسے پاکستان پنج شیر میں کچھ کررہا ہے۔ بھارت نے (پاکستان کے خلاف) جعلی نیوز نیٹ ورک بنانے میں لاکھوں ڈالرز خرچ کیے ہیں”۔ اسی کے ساتھ ہی بیکی اینڈرسن نے آئی ایس آئی کے سربراہ کے دورہ کابل کا حوالہ دیتے ہوئے معید یوسف سے افغانستان میں طالبان کی نئی حکومت کی تشکیل میں پاکستان کے کردار کے بارے میں بھی سوال کیا۔جس پر معید یوسف نے کہا کہ آئی ایس آئی کے سربراہ سے بہت پہلے امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے ڈائریکٹر کیوں افغانستان گئے تھے؟انہوں نے کہا :” پاکستان کی سرحد افغانستان سے منسلک ہے اور سرحدوں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے نئی حکومت سے رابطہ کرنا تھا، آئی ایس آئی کے سربراہ نے کابل کا دورہ کیا اور وہ دوبارہ بھی کریں گے”۔مشیر قومی سلامتی نے اس بات کا بھی تذکرہ کیا کہ دیگر ممالک نے افغانستان سے انخلا کے لیے پاکستان سے مدد مانگی تھی اور اس محاذ پر بھی تعاون درکار تھا۔کسی سازشی تھیوری میں پاکستان کے ملوث ہونے کی رپورٹس مسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کی کوئی منطق نہیں کیوں کہ دورے کے دوران آئی ایس آئی کے سربراہ سے میڈیا نے انٹرویو بھی کیا جو اس بات کی نفی ہے کہ وہ کسی ‘خفیہ مشن’ پر تھے۔ان کا کہنا تھا :”اپنے قومی مفاد کا تحفظ پاکستان کا حق ہے اور وہ افغانستان سے رابطہ کر کے یہ تحفظ کرتا رہے گا۔ دنیا کو سازشی نظریات سے آگے بڑھنے اور عام افغان کے فائدے کے لیے تعاون کر نے کی ضرورت ہے”۔معید یوسف نے افغانستان میں نئی حکومت کے قیام میں اسلام آباد کے ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے یہ بھی صاف الفاظ میں کہا کہ افغانستان ایک خودمختار اور آزاد ملک ہے، اپنی مرضی کے فیصلے خود کر سکتا ہے ۔حیرانی کی بات مگر یہ ہے کہ امریکی میڈیا کی یہ خاتون ڈھٹائی کے ساتھ بھارتی زبان میں معید یوسف سے الزاماتی سوال پوچھنے سے باز نہ آئی ۔ اطمینان بخش بات یہ ہے کہ ہمارے این ایس اے نے بیکی اینڈرسن کے ہر سوال کا دندان شکن جواب دیا۔ اس مکالمے سے ہم بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ بھارت نے افغانستان میں طالبان کے ہاتھوں شکست کا بدلہ لینے کیلئے اب اپنے جارح میڈیا کو پاکستان کے خلاف بُری طرح استعمال کرنا شروع کر دیا ہے ۔ بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ بھارتی میڈیا انڈین اسٹیبلشمنٹ کے اشارے پر سرا سر پاکستان کے خلاف جھوٹ اور کذب سے کام لے رہا ہے ۔ بھارتی میڈیا کے ایک اہم اینکر پرسن ( ارنب گوسوامی) نے تو اس معاملے میں ہر حد ہی پار کر دی ہے ۔ یہ شخص عالمی میڈیا کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہوئے صریح جھوٹ سے کام لے کر مسلسل الزام عائد کررہا ہے کہ پاکستان نے وادی پنج شیر میں افغان طالبان کے خلاف جنگ کرنے والے پنج شیریوں کے خلاف اپنا اسلحہ بھی استعمال کیا ہے اور افرادی قوت بھی فراہم کی ہے ۔ یہ انتہائی لغو اور واہیات الزام ہے ۔ بھارتی میڈیا کو اس بارے میں شرم آنی چاہئے ۔ افسوس کی بات مگر یہ بھی ہے کہ مغربی میڈیا ، بالخصوص امریکی میڈیا، بھارتی میڈیا کے پاکستان مخالف جھوٹے الزامات پر یقین کرنے کیلئے تیار بیٹھا ہے ۔ اس کا عکس ہمیں سی این این کی مذکورہ اینکر ( بیکی اینڈرسن) کے اُن سوالات میں بھی ملتا ہے جو اس خاتون نے پاکستان کے نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر معید یوسف سے کئے ہیں اور جن کا ذکر ہم اس کالم میں بھی کررہے ہیں ۔اس امریکی صحافی نے معید یوسف سے پاکستان کی انٹیلی جنس چیف کے دَورئہ کابل بارے جو سوالات کئے ہیں، وہ بھی بھارتی میڈیا کے الزامات سے متاثر لگتے ہیں ۔مثال کے طور پر سی این این کی مذکورہ میزبان نے مشیر قومی سلامتی سے سی آئی اے کے ڈائریکٹر کی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی کے سربراہ سے ملاقات کے حوالے سے سوال کیا تو اس کے جواب میں معید یوسف نے کہا :” سی آئی اے کے سربراہ ( برنز) افغانستان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے پاکستان آئے تھے اور اس طرح کی مشاورت جاری رہے گی۔اس ملاقات میں افغانستان میں حالیہ پیش رفت کے بعد دہشت گردی کے خطرے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا جو ایسا معاملہ ہے جسے پاکستان کئی مرتبہ اٹھا چکا ہے۔ پاکستان کی افغانستان کے ساتھ ایک طویل سرحد ہے جس کی وجہ سے ملک میں گزشتہ 4 دہائیوں میں عدم استحکام پھیلا، 11 ستمبر کے بعد پاکستان میں بے شمار جانوں کا ضیاع ہوا، ملک کی معیشت کا نقصان ہوا اور اندرونِ ملک بے گھر ہوجانے والے افراد کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ جب گیارہ ستمبر کے بعد پاکستان نے امریکا کی مدد کی تو دہشت گردوں نے یہاں کا رخ کرلیا، پاکستان کے لیے افغانستان میں عدم استحکام ایک بنیادی مسئلہ ہے۔ اس کی وجہ سے پاکستان بین الاقوامی برادری پر زور دے رہا ہے کہ افغانستان کے ساتھ رابطے میں رہیں اور معاشی بدحالی نہ ہونے کو یقینی بنائیں”۔ یہ ایک شا ئستہ اور مدلل جواب تھا۔میزبان نے پھر سوال کیا کہ کیا پاکستان دہشت گردی کے خلاف ( امریکہ وغیرہ سے) جنگ میں مزید تعان کرے گا جس کے جواب میں مشیر قومی سلامتی نے کہا :” اس سلسلے میں پاکستان نے کب تعاون نہیں کیا؟ ہم نے جس قسم کی مدد فراہم کی اور اس کی جو قیمت ہم نے ادا کی ،اس کے بارے میں نے آپ کو بتایا، پاکستان، افغانستان میں عدم استحکام اور رابطوں کا فقدان برداشت نہیں کرسکتا لیکن تعاون قانونی فریم ورک کے اندر ہونا چاہیے۔ پاکستان میں کسی دوسرے ملک کی موجودگی نہیں ہے، پاکستان اس وقت تک شراکت دار نہیں ہو سکتا جب تک کہ اسے بین الاقوامی قوانین کے تحت لازمی اور منظور نہ کیا جائے۔ گیارہ ستمبر کے بعد جو غلطی کی گئی، وہ دہرائی نہیں جانی چاہیے، امریکا اور دوسروں نے کہا کچھ اور کیا کچھ اور۔ افغانستان میں متوقع سیکیورٹی خلا اور دیگر مسائل کے بارے میں بات کرنے کے بجائے دنیا کو یہ مسائل دور کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ آئیے افغانستان میں حقیقت سے منسلک ہوں، آئیے اچھے رویے کی حوصلہ افزائی کریں اور یہ کر کے عام افغان کے لیے ایک حکومتی ماڈل حاصل کریں ۔ یہاں سیکیورٹی خلا کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیوں کہ ملک مستحکم ہے۔ پاکستان، افغانستان میں استحکام اور امن کے لیے بین الاقوامی برادری کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہے لیکن یہ رابطے مغرب سے ہونے چاہیے”۔افغانستان میں ہوئی پیش رفت کے بعد تحریک طالبان پاکستان(ٹی ٹی پی) کو ملنے والی جگہ کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر معید یوسف نے تسلیم کیا کہ ان کی جانب سے سیکیورٹی خطرات ہیں اور اسی وجہ سے آئی ایس آئی سربراہ کابل گئے تھے۔انہوں نے مزید کہا :” پاکستان کا مؤقف یہ ہے کہ افغان سرزمین دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے نہیں استعمال ہونی چاہیے”۔شو کی میزبان نے ایک مرتبہ پھر مشیر قومی سلامتی سے افغانستان میں پاکستان کے ملوث ہونے کے احتجاج کے بارے میںڈھٹائی سے سوال کیا جس پر معید یوسف نے جواب دیا:’ ‘وہاں 20 برسوں تک (پاکستان کے خلاف) ذہنوں میں زہر گھولا گیا ہے”۔انہوں نے خاص کر سابق افغان صدر اشرف غنی کے اس بیہودہ اور مضحکہ خیز دعوے کہ اسلام آباد نے 10 سے 15 ہزار دہشت گرد سرحد پار بھیجنے کا منصوبہ بنایا ہے، کا حوالہ دیتے ہوئے دہرایا کہ” سابق افغان رہنماؤں نے پاکستان کو قربانی کا بکرا بنایا۔کیا ہم پاگل ہیں کہ 10 سے 15 ہزار افراد پاکستان سے سرحد عبور کررہے ہوں اور کوئی نہ دیکھے؟ کابل میں ہوئے حالیہ خواتین کے مظاہرے بہت بڑے نہیں تھے جیسے بتائے گئے ہیں، یہ من گھڑت تھے۔ افغانستان اور پاکستان کے مشترکہ تعلقات صدیوں پرانے ہیں۔ پاکستان خطے میں سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے افغانستان کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا”۔ ہم سب کو یقین کرنا چاہئے کہ پاکستان کے مشیر قومی سلامتی اپنے قائدین کے مشورے کے ساتھ عالمی میڈیا کے سامنے جو کچھ کہہ رہے ہیں، پاکستان اس پر صدقِ دل سے عمل بھی کررہا ہے ۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »