Daily Taqat

پاک، افغان سرحد پر افغان طالبان کی پاکستان مخالف سرگرمیاں باعثِ تشویش ہیں

پاکستان آگے بڑھ کر افغانستان کے مسائل اور مصائب حل کرنے کی دن رات کوشش کررہا ہے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ افغان طالبان پاکستان کیلئے سنگین سرحدی مسائل پیدا کرکے دُنیا کو جگ ہنسائی کا موقع فراہم کررہے ہیں ۔ گزشتہ ہفتے ہی جب پاکستان کے وفاقی دارالحکومت، اسلام آباد، میں افغانستان کو درپیش سنگین مالی مسائل حل کرنے کیلئے پاکستان نے او آئی سی کے وزرائے خارجہ کا اجلاس بلا رکھاتھا، افغان طالبان فوجی پاک، افغان سرحد پر پاکستان کے سیکورٹی اداروں کے ساتھ کشیدہ حالت میں کھڑے تھے ۔ اطلاعات کے مطابق افغان طالبان نے پاکستانی سیکورٹی اداروں کو پاک، افغان سرحد پر سیکورٹی باڑ لگانے سے زبردستی روک دیا اور اس حوالے سے پاکستانی حکام کے ساتھ اُن کی تلخ کلامی کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ عالمی خبر رساں ادارے ”رائٹرز” کے مطابق: افغانستان میں طالبان فوجیوں نے پاکستانی فوج کی جانب سے دونوں ممالک کی سرحد پر حفاظتی باڑ لگانے کے کام میں مداخلت کی۔ ‘رائٹرز’ کی رپورٹ میں یہ بات طالبان حکام کے حوالے سے بتائی گئی۔پاکستان نے کابل کے احتجاج کے باوجود 2 ہزار 600 کلومیٹر طویل سرحد کے زیادہ تر حصے پر باڑ لگا دی ہے جبکہ افغانستان، برطانوی دور میں ہوئی سرحدی حد بندی کی( بیجا) مخالفت کرتا ہے۔ وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ اس ڈیورنڈ لائن کی وجہ سے دونوں اطراف کے خاندان اور قبائل تقسیم ہوئے۔افغان وزارت دفاع کے ترجمان عنایت اللہ خوارزمی نے کہا ہے کہ طالبان فورسز نے اتوار کے روز پاکستانی فوج کو مشرقی صوبے ننگرہار کے ساتھ بقول ان کے ‘غیر قانونی’ سرحدی باڑ لگانے سے روک دیا۔اس واقعے کو بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب سب کچھ معمول پر آگیا ہے جبکہ پاکستانی سیکورٹی اداروں نے تبصرہ کرنے کی درخواست پر کوئی جواب نہیں دیا۔سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں دیکھا گیا ہے کہ طالبان کے سپاہیوں نے خاردار تاروں کے گُچھے پکڑے ہیں اور ایک سینیئر اہلکار نے فاصلے پر موجود سیکیورٹی چوکیوں پر تعینات پاکستانی فوجیوں سے کہا کہ وہ دوبارہ سرحد پر باڑ لگانے کی کوشش نہ کریں۔تاہم رائٹرز ویڈیو کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔دوسری جانب طالبان کے ترجمان بلال کریمی نے کہا کہ وہ واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔دو طالبان عہدیداروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ طالبان اور پاکستانی افواج سرحدی واقعے پر آمنے سامنے آگئی ہیں اور صورتحال میں تناؤ ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اس واقعے کے بعد بدھ کو افغانستان کے صوبہ کنڑ میں مزید شمال کی جانب سرحد پار مارٹر فائر کیے گئے۔البتہ یہ واضح نہیں کہ کیا ان واقعات کا آپس میں کوئی تعلق ہے؟ حکام نے بتایا کہ افغان فوجی ہیلی کاپٹر کو علاقے میں گشت کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔سابقہ امریکی حمایت یافتہ افغان حکومت اور اسلام آباد کے درمیان تعلقات کی خرابی کی ایک بڑی وجہ سرحد پر باڑ لگانا تھا۔موجودہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اسلام آباد سے قریبی تعلقات کے باوجود یہ مسئلہ طالبان کے لیے ایک متنازع معاملہ ہے۔چار سال قبل پاکستان کی جانب سے دھاتی باڑ لگانا شروع کرنے سے قبل لاقانونیت والی پہاڑی سرحد تاریخی طور پر رواں تھی، پاکستان نے باڑ لگانے کا 90 فیصد کام مکمل کر لیا ہے۔مذکورہ سرحدی واقعہ اس دن پیش آیا جب دنیا بھر سے غیر ملکی مندوبین اسلام آباد میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے اجلاس کے لیے جمع ہوئے تھے تاکہ افغانستان میں رونما ہونے والی انسانی تباہی پر تبادلہ خیال کیا جاسکے۔پاک، افغان سرحد پر افغان طالبان سیکورٹی افراد نے اپنے حکام کے حکم پر پاکستان مخالف جو بھی اقدام کیا ہے، پاکستان ان اقدامات کی قطعی حمائت نہیں کر سکتا ۔ افغان طالبان کا یہ اقدام دراصل محسن کشی اور احسان فراموشی کے مترادف ہے ۔ پاکستان ہر میدان میں افغان طالبان حکومت کی حمائت کررہا ہے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ افغان طالبان حکام کا پاکستان بارے رویہ مناسب نہیں ہے ۔افغان طالبان کو افغانستان پر دوسری بار حکومت قائم کئے اب چھٹا مہینہ گزررہا ہے ۔ اس دوران ان کے مسائل کم ہونے کی بجائے ، بڑھ رہے ہیں ۔ افغانستان کے مالیاتی ادارے ادھڑ چکے ہیں ۔ افغان بینکس تباہ حال ہیں ۔ افغان معیشت بیٹھ چکی ہے ۔ افغان طالبان نے جس طرح دو سُپر طاقتوں کے خلاف کامیاب جنگ لڑی ہے ، اِسی طرح معیشت کے خلاف درپیش جنگی اور پُر آزمائش حالات کو وہ فی الحال جیت نہیں پا رہے۔ان کے پاس ماہرینِ معیشت ہیں نہ ماہرینِ اقتصادیات ۔ وہ دین اور جہاد کے مخلص طالبعلم تو یقیناً ہیں لیکن دُنیاوی معاملات چلانے کیلئے انہیں ابھی بڑی دشواریاں پیش آ رہی ہیں ۔ کارِ حکومت چلانے کی سائنس بھی اُن کی گرفت میں نہیں آ رہی ۔ افغانستان کی وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور روشن خیال افرادی قوت جس نے پچھلے دو عشروں کے دوران کار آمد تربیتیں حاصل کیں اور جو اَب افغانستان کیلئے مفید ثابت ہو سکتی تھی، افغان طالبان نے اس اثاثے کو بھی سنبھالنے اور ملک کیلئے بروئے کار لانے میں حکمت سے کام نہیں لیا ۔ ان کے نتائج منفی نکل رہے ہیں ۔ان مہیب اور سنگین مسائل کے باوجود دستیاب وسائل اور تجربے کو بروئے کار لانے کی مقدور بھر کوششیں تو یقیناً ہو رہی ہیں ۔ افغان طالبان قیادت کوشش کر رہی ہے کہ اُن کے اپنے قریبی ترین افراد ہی کو اعلیٰ سرکاری عہدے تفویض کئے جائیں اور انہی سے کام بھی لیا جائے ۔ یوں دراصل پچھلے جہادی برسوں کو ان افراد اور گروہوں کو ریوارڈ بھی مل رہا ہے ۔ یہی وہ لوگ ہیں جو گذشتہ برسوں کے دوران افغان طالبان کے کندھے سے کندھا ملا کر افغانستان کو ناپسندیدہ افراد اور طاقتوں سے نجات دلانے کی کوشش کرتے رہے ہیں ۔ یہی لوگ اب نئی افغان طالبان حکومت میں وزارتوں کے قلمدان سنبھالے ہُوئے ہیں ۔ وزارتِ تعلیم ان میں اہم سمجھی جاتی ہے ۔ افغان طالبان قیادت نے افغانستان کی ہائر ایجوکیشن کی وزارت افغان حقانیوں کو بخشی ہے ۔ اگرچہ افغان حقانیوں کی امریکہ اور مغرب میں مخصوص مخالفت بھی پائی جاتی ہے لیکن اس کے باوصف افغان طالبان قیادت نے مغربیوں اور امریکیوں کی ناپسندیدگی کی پروا نہ کرتے ہُوئے افغانستان کے مولوی عبدالباقی حقانی صاحب کو افغانستان کی ہائر ایجوکیشن کا مرکزی وزیر بنا دیا ہے ۔ کل کے بندوق بردار ، اب افغان طلبا و طالبات کے ہاتھوں میں کتاب اور قلم کا زیور تھما کر افغانستان کی تعمیرِ نَو کا خواب دیکھ رہے ہیں ۔ ادھڑے اور پچھڑے افغانستان کو جدید تعلیم سے آراستہ پیراستہ کرنا آسان مہم نہیں ہے ۔ اس کیلئے جان کو جوکھوں میں ڈالنا پڑ رہا ہے ۔ فنڈز کی شدیدکمی اور قلت سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔تربیت یافتہ اور اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ کرام کی بھی شدید کمی ہے ۔ پاکستان ، افغانستان کا ہمسایہ ، برادر اور دوست ملک ہونے کے ناتے، اس میدان میں بھی، افغانستان کی ہر ممکنہ اور ہر شعبے میں مددفراہم کررہا ہے ۔ پچھلے دنوں اسلام آباد میں افغانستان کے معاشی و سفارتی مسائل حل کرنے کیلئے او آئی سی کے پرچم تلے اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کی ایک شاندار کانفرنس کا انعقاد عمل میں آیا ۔ افغانستان کے وزریر خارجہ جناب امیر متقی بھی پاکستان تشریف لائے اور افغانستان کی ہائر ایجوکیشن کے وزیر مولوی عبدالباقی صاحب بھی اس کانفرنس میں شریک ہُوئے ۔ اس ز ریں موقع پر مولوی عبدالباقی سے پاکستان کے ایک نجی ٹی وی نے تفصیلی انٹرویو کیا ۔ یہ انٹرویو اس لحاظ سے خاص اہمیت کا حامل ہے کہ اس میں صرف اور صرف افغانستان کی تعلیم اور پاکستان میں زیر تعلیم افغان طلبا اور اُن کے مسائل پر بات چیت کی گئی ۔ مولوی عبدالباقی حقانی نے کہا:” ہمارا نظام خواتین کی تعلیم کیخلاف نہیں ہے۔ ہم صرف غیرشرعی طریقوں کیخلاف ہیں(لیکن اُنہوں نے یہ بتانے سے بہرحال احتراز کیا کہ افغانستان کے نظامِ تعلیم میں کون کونسے معاملات غیر شرعی مروج تھے) ہم افغانستان کے تعلیمی اداروں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا چاہتے ہیں (اور ساتھ ہی موصوف تعلیم کیلئے غیر ملکی فنڈز کے خواہاں بھی ہیں ) افغانستان میں تعلیمی اداروں کی بحالی کیلئے پاکستانی سفارتکاروں سے ہم نے کئی ملاقاتیں کی ہیں۔ پاکستان اور افغانستان تعلیمی میدان میں ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کریں گے۔ اس سلسلے میںپاکستان کے اساتذہ افغانستان جبکہ افغانستان کے اساتذہ پاکستان آئیں گے ” ۔ عبدالباقی حقانی صاحب کا یی دعویٰ حیران کن ہے کہ افغان اساتذہ پاکستان کے تعلیمی اداروں میں ، بطورِتبادلہ، تعلیم دیا کریں گے ۔ یہ ایک حیران کن خبر ہے اور ایسی خبر صرف کوئی افغان طالب وزیر ہی دے سکتا ہے ۔ حقانی صاحب موصوف انٹرویو میں مزید کہتے ہیں:”اعلیٰ تعلیمی میدان میں مدد حاصل کرنے کیلئے ہم پاکستان سے تعاون چاہتے ہیں۔ اس وقت کثیر تعداد میں افغان طلباء مختلف پاکستانی تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کررہے ہیں، میرے دورہ پاکستان کا مقصد ان کو درپیش مشکلات کا حل بھی تلاش کرنا ہے۔ افغان طلباء کو پاکستان کی طرف سے وظیفہ تو مل جاتا ہے مگر موقع پر ویزہ نہیں ملتا ۔اور جب ویزہ مل جائے تو پاکستانی سرحد پر مشکلات پیش آتی ہیں، کورونا کی وجہ سے تمام افغان طلباء کو قرنطینہ کیا جاتا حالانکہ بیمار کوئی ایک طالب علم ہوتا ہے۔ ہماری گزارش ہے کہ جو طلباء صحت مند ہیں ،انہیں اپنے ادارے میں جاکر تعلیم جاری رکھنے کا موقع دیا جائے( یہ بجا مطالبہ ہے) بعض افغان طلباء کو یہ بھی شکایت ہے کہ چار سمسٹر گزرنے کے بعد بھی انہیں وظیفے جاری نہیں کئے گئے۔ افغان طلبا کو معمولی باتوں پر پاکستانی پولیس تنگ کرتی ہے۔ہمارا مطالبہ ہے کہ کسی افغان طالبعلم سے اگر کوئی جرم سرزدہوجائے تو افغان سفارتخانے اور قونصل خانوں کے ذریعہ معاملہ حل کیا جائے”۔ یہ شکائت اور مطالبہ درست ہو سکتا ہے لیکن پاکستان کی کئی جامعات میں بعض افغان طلبا سے سنگین شکایات بھی سامنے آئی ہیں ۔ پاکستان کے ذمہ دار ادارے ان شکایات کو کسی طرح بھی نظر انداز نہیں کر سکتے ۔ افغان طلبا کو بہرحال پاکستان جامعات کے سپلن کی پابندی کرنی چاہئے ۔ افغان طالبان حکام کو اپنے طلبا کی تربیت بھیء کرنی چاہئے اور اُنہیں یہ آموختہ بھی یاد کرانا چاہئے کہ میزبان ملک کی روایات اور قوانین کی ہر حال میں پاسداری کرنا اُن کے بنیادی فرائض میں شامل ہے ۔ پاکستان میں افغان طلبا کو مہمان سمجھ کر کھلا نہیں چھوڑا جا سکتا۔ پاکستان پہلے ہی افغان مہاجرین کو بے پناہ آزادیاں دے کر بہت کچھ بھگت رہا ہے ۔ مولوی عبدالباقی حقانی صاحب کی گفتگو میں افغان طالبا کو دئیے جانے والے پاکستانی وظائف بارے شکایات مرکزی حیثیت رکھتی تھیں ۔ مثال کے طور پر اُنہوں نے کہا:” پہلے افغان طلبا کو سالانہ ایک ہزار اسکالر شپس دئیے جاتے تھے۔ ہم نے ان میں 500کا اضافہ کروایا ہے۔ اسے مزید بڑھانے کی ضرورت ہے۔افغانستان کی یونیورسٹیوں میں، ہمارے آنے سے قبل، مخلوط نظام تعلیم اور بے حجابی رائج ہوگئی تھی جو اسلامی اقدار سے متصادم ہے۔ شرعی حدود برقرار رکھنے کی شرط پر نجی اسکولوں اور یونیورسٹیوں کو کھولنے کی اجازت ہم نے دیدی ہے۔ اس وقت 150نجی درس گاہیں کھلی ہوئی ہیں جن میں خواتین اور مرد الگ الگ تعلیم حاصل کررہے ہیں۔طالبان کو خواتین کی تعلیم سے کوئی مسئلہ نہیں البتہ ضروری ہے وہ اسلامی اصولوں سے متصادم نہ ہو اورافغان روایات کے مطابق ہوں۔ افغانستان میں کئی سرکاری درس گاہیں بند ہونے کی وجہ معاشی مشکلات ہیں۔واقعہ یہ ہے کہ ملک کی ترقی اور اسلامی نظام کی بقا بھی جدید تعلیم کے حصول میں ہے، میں نے اپنے بیان میں صرف دینی تعلیم کے حصول کی اہمیت پر زور دیا تھا، نوجوانوں کو پیغام دینا چاہتا تھا کہ عصری تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم بھی حاصل کریں۔ ہم نے اقتدار میں آکر دیگر اداروں میں بہت تبدیلیاں کیں مگر یونیورسٹیوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی ۔ تکنیکی اداروں میں ان کے اپنے ہی شعبے کے سربراہان مقرر کئے گئے ہیں۔ہمارے جو بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ باہر ہیں ،ان کیلئے افغانستان میں بندوبست کررہے ہیں کہ وہ افغانستان آکر اپنے لوگوں کی خدمت کریں۔”افغان وزیر تعلیم برائے ہائر ایجوکیشن نے پاکستان سے ہر قسم کا تعاون حاصل کرنے کی تمنا کی ہے ۔ ایک ہمسایہ اور برادر اسلامی ملک ہونے کے ناتے سے اُن کے مطالبات بے جا نہیں ہیں لیکن افسوس کی بات ہے کہ افغان طالبان حکام اور وزیر پاکستانی مطالبات ماننے سے اکثر انکاری رہتے ہیں ۔افغان طالبان پاکستان سے کھلا تعاون کرتے نظر نہیں آ رہے ۔ یکطرفہ محبت نہیں چلنی چاہئے ۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »