اہم خبرِیں

پیش کر غافل عمل اگر کوئی دفتر میں ہے

حکومت اور روئتِ ہلال کمیٹی کے عدم اتفاق کی وجہ سے عید الفطر تو روتے دھوتے گزر ہی گئی ہے لیکن اپنے پیچھے بہت سے نقوش بھی چھوڑ گئی ہے ۔

ابھی تک ہم سمجھ نہیں پائے کہ یہ عید فواد چودھری کے اعلان کے تحت منائی گئی ہے یا مفتی منیب الرحمن کی زیر قیادت یا کورونا وائرس کے ڈر کے سائے میں؟ جو عدم اتفاق اِس وقت پورے عالمِ اسلام میں پایا اور دیکھا جارہا ہے ، وہی ماحول تازہ عید کے موقع پر وطنِ عزیز میں بھی دیکھا گیا ہے ۔ وقت گزر گیا ہے ۔ اب اس لکیر کو پیٹنے کی ضرورت نہیں ہے لیکن ایک ہفتہ گزرنے کے باوجود ابھی تک پاکستان کے 22کروڑ عوام کے دلوں میں اس کی کسک باقی ہے ۔ یہ عید اسلئے بھی ہم سب کیلئے سوگوار گزری ہے کہ عید سے دو تین دن پہلے پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں قومی ائر لائن کا ایک بدقسمت طیارہ اپنے ایک صد مسافروں اور عملے کے ارکان کے ساتھ حادثے کا شکار ہو گیا ۔ چند لوگ ہی زندہ بچے۔ باقی سب اللہ کے حضور حاضر ہو گئے ۔ جو زخمی بچ گئے ہیں ، اللہ تعالیٰ اُنہیں جلد صحت عطا فرمائے اور جو شہید ہو گئے ، اللہ تعالیٰ اُن کی مغفرت فرمائے ۔ کراچی میں جائے حادثہ سے دھواں اُٹھنا بند ہو چکا ہے لیکن سچی بات یہ ہے کہ ہمارے دلوں سے دکھ اور افسوس کا دھواں ابھی تک اُٹھ رہا ہے ۔جن کے پیارے اور جان کے دلارے عید کے لمحات میں ہمیشہ کیلئے بچھڑ گئے ، زرا اُن کے دل تو ٹٹول کر دیکھئے ۔افسوس اور دکھ کی بات یہ بھی ہے کہ اس خوفناک اور ہلاکت خیز حادثے کے باوجود عید پر پاکستان کے تقریباً سبھی نجی ٹی ویوں پر دھماچوکڑیاں مچتی رہیں ۔ لگتا ہی نہیں تھا کہ درجنوں پاکستانی حادثے میں شہید ہو گئے ہیں ۔افسوس کہ ”پیمرا” نے بھی اس بیہودہ اُچھل کود پر کوئی تادیبی ایکشن نہیں لیا۔ حادثے کا شکار بننے والے پی آئی اے کے بدقسمت طیارے کی تحقیقات ہو رہی ہیں ۔ فرانس سے بھی ایک تحقیقاتی ٹیم نے جائے حادثہ کا دَورہ کیا ہے لیکن اب اس جھلسی خاک کے کریدنے سے فائدہ؟ اس سے پہلے بھی پاکستان کے مسافر طیاروں کے تقریباً دو درجن حادثے ہو چکے ہیں ۔ اُن کی بھی نام نہاد تحقیقات کی گئی تھیں لیکن نتیجہ کیا نکلا ؟ تو اب کیا نکلے گا ۔ مرنے والوں کے لواحقین بچھڑنے والوں کا ماتم کرتے رہیں گے اور حکومت حادثے پر مٹی ڈال دے گی ۔ سنا ہے حکومت کی تحقیقاتی ٹیم کو حادثے کا شکار طیارے کا وائس ریکارڈر بھی10دنوں بعد29مئی کو ملا ہے ۔ یہاں تو وزرائے اعظم اور صدر دن دیہاڑے قتل کر دئے گئے اور اُن کی تحقیقات بھی عوام کے سامنے پیش نہیں کی گئیں تو اب 22مئی2020ء کو پی آئی اے کے بدقسمت طیارے کی تحقیقات کون سامنے لائے گا؟تحقیقات کاتو اِلا ماشاء اللہ یہ حال ہے کہ حالیہ چینی اسکینڈل کی تحقیقات بھی عین اُس وقت قوم کی سامنے پیش کی گئیں جب سارے ملک میں عید کا ہنگامہ برپا تھا ۔ ایسے میں دانستہ طور پر چینی اسکینڈل کی تحقیقات کا پیش کیا جانا دراصل اس امر کا غماز تھا کہ عید کے رولے گولے میں یہ رپورٹ بھی دب جائے ۔ کوئی اُن ملزمان کی طرف توجہ نہ دے جنہوں نے اربوں روپے دن دیہاڑے عوام کی جیبوں سے لُوٹ لئے ۔شوگر اسکینڈل تحقیقات کے سامنے لانے پر حکومت اور اس کے وزیر مشیر بڑے بڑے دعوے ہانک رہے ہیں کہ ہم نے بڑا کارنامہ انجام دیا ہے اور یہ کہ ایسا اس سے قبل پاکستان کی کسی حکومت میں نہیں ہو سکا اور یہ کہ رپورٹ جاری کرکے ہم نے ایک نئی ”تاریخ” رقم کر دی ہے ۔ ممکن ہے یہ حکومتی دعوے اپنے تئیں درست ہی ہوں مگر کچھ بنیادی سوالات مبینہ شوگر مافیا کے ہاتھوں لُٹنے والے بیچارے اور غریب عوام کے لبوں پر ہنوذ مچل رہے ہیں اور حکومت ان سوالات کا جواب دینے سے قاصر بھی ہے اور دانستہ خاموش بھی ۔ مثال کے طور پر شوگر اسکینڈل تحقیقات کی اس ساری مشق کا عوام کو کیا فائدہ پہنچا ہے ؟ عوام تو آج بھی چینی 86روپے سے لے کر 90روپے فی کلو خریدنے پر مجبور ہیں ۔ سارے رمضان المبارک میں چینی اسی بھاؤ میں ملتی رہی ۔ پھر حکومتی دعووں سے عوام کو کیا فائدہ ملا؟ عوام یہ بھی پوچھ رہے ہیں کہ شوگر مافیا کی بدقماشیوں کی رپورٹ تو سامنے لے آئے ہو لیکن کسی ملزم کے خلاف ابھی تک کوئی عملی کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟ کسی کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے کیوں نہیں بھیجا گیا؟ چینی اسکینڈل رپورٹ میں جتنے بھی ملزمان کا ذکر کیا گیا ہے ، ان میں کئی حکومتی اتحاد میں شامل ہیں ۔ اور یہ سب رپورٹ میں لگائے گئے الزامات کو مسترد کررہے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ اس انکار پر حکومت نے اب تک کیا ایکشن لیا ہے ؟ اور یہ بھی کہ چینی مافیا کے ملزمان کو عدالت کے کٹہروں میں لانے کیلئے حکومت نے اب تک کونسے عملی اقدامات کئے ہیں؟ بس گپیں لگائی اور بڑیں ہانکی جارہی ہیں ۔ عوام کو ان کھوکھلے دعووں اور گپوں کا کیا فائدہ؟ ایک تازہ ترین قومی سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملک میں چینی ایسے طاقتور کارٹلز کا کوئی بھی کچھ نہیں بگاڑ سکتا ۔ یہ سروے حکومت کیلئے تازیانہ ثابت ہونی چاہئے لیکن حکومت ایسے سرویز کو بھی پروپیگنڈے کے مترادف قرار دے کر اپنی جان چھڑانے کی کوشش کرتی ہے ۔ لیکن یہ جان چھوٹتی دکھائی نہیں دے رہی ۔ شور مچا ہے تو گذشتہ روز وزیر اعظم صاحب کے معاونِ خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبرنے گونگلوؤں سے مٹی جھاڑتے ہُوئے اعلان کیا ہے کہ” مذکورہ رپورٹ میں جن ملزمان کا ذکر کیا گیا ہے ، اُن کے خلاف مقدمے قائم کئے جائیں گے ۔” مگر کب ؟ اس کا جواب دینے سے شہزاد اکبر کترارہے ہیں ۔ موصوف کے لبوں سے بس یہی الفاظ ادا ہو سکے :” ابھی ہم نے کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے کہ کب مقدمے قائم ہوں گے ۔ سوچا جارہا ہے کہ مقدمات کیلئے نیب کے پاس جائیں یا ایف آئی اے کے پاس۔”لیجئے ، کرلیں مقدمے قائم ۔ اورعوام کی بیقراری کا عالم یہ ہے کہ وہ تو زبان ِ حال سے عمران خان ، نیب کے حکام اور وزیر اعظم کے ساتھیوں سے چینی اسکینڈل رپورٹ کے پس منظر میں کہہ رہے ہیں : پیش کر غافل عمل اگر کوئی دفترمیں ہے!!عمل کا دفتر تو خالی دکھائی دے رہا ہے ۔ عوام کمر توڑ مہنگائی کے باعث بھی کُرلا رہے ہیں ۔ ملک بھر میں بے روزگاری کا سیلاب آ چکا ہے جو اَب عوام کو بہا لے جانا چاہتا ہے لیکن حکومت یہ فخر کررہی ہے کہ ہم نے چینی اسکینڈل پیش کر دیا ہے ۔ عوام نے اس اسکینڈل رپورٹ کو چاٹنا ہے ؟ کیا اس سے بھوک اور مہنگائی کم ہو جائے گی ؟ عوام تو اپنے دکھوں کو مداوا چاہتے ہیں اور پی ٹی آئی حکومت کی آنیاں جانیاں ہی کم ہونے کا نام نہیں لے رہیں ۔ یہ حکومت اور عمران خان اپوزیشن کے زمانے میں وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے خلاف نعرے بلند کرتے ہُوئے دعوے کرتے رہے ہیں کہ پنجاب میں مرغی کا گوشت اسلئے مہنگا ملتا ہے اور غریب عوام کی پہنچ سے دُور ہے کیونکہ مرغی کی صنعت پر شہباز شریف کے ایک بیٹے کی گرفت ہے ۔ حالیہ عید کے ایام میں پنجاب میں مرغی کا گوشت 450روپے فی کلو بکتا رہا اور کوئی سرکاری محکمہ اتنا مہنگا اور غریب عوام کی پہنچ سے دُور مرغی کا گوشت بیچنے والوں کا ہاتھ نہ روک سکا ۔ عوام اب عمران خان اور عثمان بزدار سے سوال پوچھتے ہیں کہ مرغی کا مہنگا گوشت فروخت کرنے کے اس عوام دشمن ماحول کے پیچھے کس حکومتی شخصیت کا ہاتھ کار فرما ہے ؟ سارے رمضان المبارک میں پھل سرکارکی طرف سے طے کردہ نرخوں سے دگنی اور تگنی قیمتوں میں فروخت کئے جاتے رہے لیکن حکومت اپنے حال میں مست رہی اور عوام کو لُٹتے دیکھتی رہی ۔ پھر عوام اس حکومت سے کیا توقعات رکھے ؟ سرکار کی طرف سے دعوے کئے جارہے ہیں کہ انتظامیہ میں بہتری کی خاطر پنجاب بھر میں اعلیٰ سطحی تبادلے کئے جارہے ہیں ۔ تو ٹھیک ہے کریں یہ تبادلے لیکن یاد رکھا جائے عوام کو ان تبادلوں سے رتی بھر بھی کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔ پہلے بھی عمران خان نے تھوک کے حساب سے بیوروکریسی میں تبادلے کئے ہیں لیکن اس کا عوام کو کیا فائدہ پہنچا ؟ بالکل صفر !!عوام تبادلے نہیں ، کمر شکن مہنگائی اور موت کے مترادف ہوتی بے روزگاری کا خاتمہ چاہتے ہیں ۔ عوام کو اس بات سے بھی کوئی غرض اور دلچسپی نہیں ہے کہ شہباز گل اور فیاض چوہان ایسے حکومتی کارندے شہباز شریف اور آصف زرداری پر کیا کیا اور کیسے کیسے الزامات عائد کررہے ہیں ۔عوام کو الزامات کے اس گند سے کوئی سروکار نہیں ۔ وہ اپنے سنگین مسائل اور مصائب میں کمی چاہتے ہیں ۔ کورونا وائرس نے اپنی جگہ عوام میں تباہی مچا رکھی ہے ۔ملک میں کورونا سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 13ہزار ہو چکی ہے اور متاثرین کی تعداد60ہزار کے قریب۔اور وطنِ عزیز میں مہنگائی کا عالم یہ ہے کہ کورونا وائرس سے بچنے کیلئے منہ پر لپیٹنے والا ماسک اب بھی 60روپے کا مل رہا ہے ۔ کیا غریب پاکستانی یہ افورڈ کر سکتا ہے ؟ اور این ڈی ایم اے کا دعویٰ ہے کہ ملک بھر میں فیس ماسک سستے داموں میسر ہیں ۔ کیا پانچ روپے مالیت کا فیس ماسک اگر ساٹھ روپے کا دستیاب ہو تو اسے سستے داموں کہا جا سکتا ہے؟ عوام سے یہ مذاق کب تک چلے گا؟ ایسا ہی مذاق سفارتی سطح پر بھی عوام سے کیا جارہا ہے اور حکومت سمجھتی ہے کہ عوام ان باتوں سے بے خبر ہے ۔ چند روز قبل امریکہ سے ایک ایسی خبر آئی ہے جس نے پاکستانی عوام کو یقیناً پریشان کیا ہے اور یہ سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ کیا یہ سفارتی محاذ پر عمران خان اور اُن کی حکومت کی شکست اور پسپائی نہیں ہے ؟خبر یہ ہے کہ دو مسلمان ممالک ( متحدہ عرب امارات اور مالدیپ) نے پاکستان کی جانب سے اقوامِ متحدہ میں اسلاموفوبیا پر اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے سفیروں کا ایک غیر رسمی گروپ تشکیل دینے کی کوشش ناکام بنادی ہے۔اس حوالے سے ایک سینئر سفارتکار کا کہنا ہے کہ اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب جناب منیر اکرم نے اقوامِ متحدہ میں او آئی سی اراکین کے سفیروں کے ایک ورچوول اجلاس میں اسلاموفوبیا کا معاملہ اجاگر کیا ۔ رپورٹ کے مطابق، یہ اجلاس او آئی سی سفیروں کا معمول کا اجلاس تھا جس میں دیگر معاملات پر بھی گفتگو کی گئی۔پاکستانی مندوب نے بھارت اور مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی حالتِ زار کو بطورِ خاص اجاگر کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں حکمراں جماعت (بھارتی جنتا پارٹی) کے ہاتھوں کشمیریوں کو بہت مشکلات کا سامنا ہے۔منیر اکرم نے اجلاس میں بتایا کہ کورونا وائرس کے دوران بھارت میں اسلامو فوبیا میں مزید اضافہ ہوا ہے اور ساتھ ہی مودی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے لیے اٹھائے گئے ظالمانہ اقدامات( مثلاً، وادی میں غیر کشمیریوں کو مستقل رہائش کی اجازت جیسے اقدامات )کا ذکر کیا۔۔ساتھ ہی انہوں نے اسلاموفوبیا کے خلاف مشترکہ اقدامات پر غور کرنے کے لیے او آئی سی ممالک کا ایک گروپ قائم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔تاہم مالدیپ کی مندوب تھیلمیذاہ حسین نے ‘بھارت کو تنہا’ کرنے کی کو مسترد کردیا اور کہا کہ” دہلی پر اسلاموفوبیا کا الزام حقائق کے منافی اور جنوبی ایشیا میں مذہبی ہم آہنگی کے لیے نقصان دہ ہے”۔دوسری جانب اجلاس کی سربراہی کرنے والے اسلامی و عرب ملک، متحدہ عرب امارات، کے سفیر نے اسلاموفوبیا پر غیر رسمی گروپ تشکیل دینے کی پاکستان کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ” اس قسم کا گروپ قائم کرنا او آئی سی کے وزرائے خارجہ گروپ کا استحقاق ہے”۔تاہم اقوامِ متحدہ میں تعینات پاکستانی مندوب کا کہنا تھا کہ اس قسم کا گروپ تشکیل دینا او آئی سی کی سطح پر بھی ایک معمول کی بات ہے جسے سفیر تشکیل دے سکتے ہیں لیکن پاکستان کی کوششوں کو دو مسلمان ممالک نے بلڈوز کر دیا۔ہم سمجھتے ہیں کہ جارح اور ظالم بھارت کے خلاف یو این او میں پاکستانی مندوب جناب منیر اکرم کی کوشش شاندار اور مستحسن تھی لیکن افسوس اس کوشش کو کسی غیر نے نہیں بلکہ خود دو اسلامی ممالک نے ناکام بنا دیا ۔ ہم اسی سے بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ خود اسلامی ممالک میں کتنا اتحاد و اتفاق ہے اور یہ بھی کہ یہ اسلامی ممالک مظلوم کشمیریوں کی جدو جہد سے کتنی محبت رکھتے ہیں !یو این میں پاکستانی مندوب کی یہ ناکامی کیا اس امر کی بھی غماز نہیں ہے کہ عالمِ عرب میں پی ٹی آئی حکومت کا اثرو نفوز کم اور بھارت کی بی جے پی کا زیادہ ہے ؟ ہم یہ تو جانتے ہیں کہ عرب و اسلامی ملک ( یو اے ای) نے پاکستان کی نسبت بھارت میں زیادہ سرمایہ کاری کررکھی ہے اور متحدہ عرب امارات میں پاکستانیوں سے کہیں زیادہ بھارتیوں کی تعداد ملازمتیں اور بزنس کررہی ہے لیکن ہمیں یہ معلوم نہیں تھا کہ اسلامی ملک ہونے کے باوجود متحدہ عرب امارات آگے بڑھ کر پاکستان کی کشمیری بھائیوں کی مدد کیلئے کوششوں کی مخالفت اور دشمنی کرے گا ۔ سفارتی محاز پر عمران خان حکومت کی یہ ناکامی دراصل اس امر کی بھی مظہر ہے کہ پاکستان کو عالمِ عرب میں اپنی لابی پیدا کرنے کی بے حد ضرورت ہے ۔اس سے قبل عمران خان نے ترکی اور ملائشیا سے مل کر جو بلاک بنانے کی کوشش کی تھی ، اسے بھی سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے پاکستان کو دھونس اور دھمکی دے کر ناکام بنا دیا تھا ۔ یہ سانحہ اسلئے بھی وقوع پذیر ہُوا تھا کہ پاکستان معاشی اعتبار سے کمزور ملک بھی ہے اور اپنی معیشت کیلئے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی امداد کا محتاج بھی ۔ اگر یہ احتیاج اور کمزوری نہ ہوتی تو شائد پاکستان اور عمران خان سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی دھونس اور دھمکیوں کے سامنے سرنڈر بھی نہ کرتے ۔مالدیپ اور متحدہ عرب امارات کی اقوامِ متحدہ میں پاکستانی مندوب کی کوششوں کی مخالفت کرنا اور اسے ناکام بنانا اس امر کی بھی شہادت ہے کہ اسلامی ممالک ( خصوصاً عرب ممالک ) کو اسلامی کاز ، مظلوم مسلمانوں کی امداد اور اسلامی اتحاد مطلوب نہیں ہے بلکہ یہ ممالک اپنے اپنے مالی مفادات کے تحفظ کیلئے عالمِ اسلام کے اجتماعی مفادات کو پسِ پشت ڈال دیتے ہیں ۔ ایسے میں کون حضرت علامہ اقبال کے مسلم اتحادکے اُس خواب کو شرمندئہ تعبیر کرے گا جب علامہ اقبال یہ کہتے ہیں :
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے
نیل کے ساحل سے تابخاکِ کاشغر!


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.