Daily Taqat

نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کا دَورئہ پاکستان منسوخ اور عمران خان کا دَورئہ تاجکستان

پاکستان اور عمران خان کی حکومت کے بارے میں خبروں کی یلغار اسقدر ہے کہ پاکستان ”خبرستان” بن گیا ہے ۔افغانستان کے شدید اور پریشان کن بحران کی وجہ سے پاکستان بھی خبروں کا مرکز بن چکا ہے ۔ کئی عالمی بد بخت ایسے ہیں جو افغانستان کی تباہی اور افغانستان میں امریکہ کی شرمناک فوجی شکست کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرانے سے بھی باز نہیں آ رہے حالانکہ سب جانتے مانتے ہیں کہ افغانستان کی ساڑھے تین لاکھ فوج اپنی بزدلی اور بددلی کی وجہ سے افغان طالبان کے سامنے سرنڈر کر گئی ۔ یہی حال امریکیوں کا ہُوا ہے جو افغانستان کے ہولناک پہاڑوں میں بے مقصد 20سالہ جنگ کرتے ہُوئے ہمت ہار بیٹھے تھے ۔ افغانستان میں خرچ ہونے والے امریکہ کے دو، ڈھائی ٹریلین ڈالرز کا بھی کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلا، سوائے ایک بات کے کہ امریکہ نے اسامہ بن لادن کا پاکستان آ کر خاتمہ کر ڈالا ۔ امریکی وزیر خارجہ ، بلنکن، کی جو بے عزتی امریکی کانگرس میں ہُوئی ہے ، اس کا بدلہ بلنکن نے پاکستان سے یوں لیا ہے کہ یہ بے بنیاد اور جھوٹی بات کہہ ڈالی ہے کہ افغانستان میں پاکستان نے امریکہ کے ساتھ ڈبل کردار ادا کیا۔ یہ سفید جھوٹ ہے ۔ پاکستان نے اس بیان پر درست انداز میں امریکہ سے احتجاج بھی کیا ہے ۔ اِسی دوران تاجکستان میںSCOکانفرنس بھی ہُوئی ہے ۔ اس میں دیگر ممالک کے ساتھ پاکستان نے بھی شرکت کی ہے ؛ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ SCOکانفرنس میں جناب عمران خان نے بجا طور پر روس، چین اور ایران کے ساتھ مل کر امریکہ اور نیٹو ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سب مل کر افغانستان کی تعمیرِ نَو میں بھرپور اور فوری حصہ لیں ۔ یہ مطالبہ بالکل درست اور صائب ہے۔ یہ امریکہ اور نیٹو ممالک ہیں جنہوں نے مل کر پچھلے دو عشروں کے دوران افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ہے ۔ اب افغانستان کی امداد کرنا بھی انہی ممالک کا فریضہ ہے ۔ اس دوران ایک مثبت خبر یہ بھی آئی ہے کہ برطانیہ نے پانچ ماہ کے بعد پاکستان کو ریڈ لسٹ سے نکال دیا ہے ۔ اب23ستمبر2021ء کے بعد برطانیہ جانے والے پاکستانیوں کو کئی کئی دن کورونا کے کارن قرنطینہ میں گزارنے نہیں پڑیں گے جن پر بھاری اخراجات اُٹھ رہے تھے ۔ یہ اعلان عین اُس دن ( 18ستمبر) کو سامنے آیا جس روز پورے پاکستان میں یہ افواہ زوروں سے گردش کررہی تھی کہ یہ برطانیہ ہے جس کی چغلی سے پاکستان کا دَورہ کرنے والی کرکٹ ٹیم نے اچانک اپنا دَورہ بھی منسوخ کر دیا اور پاکستان میں کسی بھی جگہ کرکٹ کھیلنے سے بھی انکار کر دیا ۔ کہا جاتا ہے کہ یہ افواہ اتنی زور دار تھی کہ اس کے دباؤ تلے آ کر برطانیہ نے پاکستان کو فوری طور پر اپنی ریڈ لسٹ سے نکال دیا ۔ تو کیا نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے دورئہ پاکستان کی منسوخی کے واقعہ بلکہ سانحہ کو ”بلیسنگ اِن ڈِس گائیس” کہا جائے ؟ نہیں ہر گز نہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ سیکورٹی کے بہانے پر نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم کے دورے کی منسوخی سے پاکستان اور پاکستان کے حکمرانوں کی سبکی ہُوئی ہے ۔ یہ واقعہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ کی بھی سبکی ہے اور پنجاب پولیس کے سربراہ کی بھی ۔ اس تنسیخ سے پاکستان کے امیج کو شدید دھچکا لگا ہے کہ پاکستان تو یہ دعوے کررہا تھا کہ اب پاکستان میں دہشت گردی کے خدشات کا وجود ختم ہو چکا ہے ۔ یہ پاکستان کے خلاف ( بقول وزیر داخلہ شیخ رشید) سازش بھی ہو سکتی ہے۔ پاکستان اور پاکستان کے عوام نے اس دَورے کی منسوخی پر افسوس ، دکھ اور غصے کا اظہار بجا طور پر کیا ہے ۔ یہ واقعہ دراصل عمران خان حکومت کیلئے ایک شدید دھچکے سے کم نہیں ہے ، خاص طور پر اس بیک گراؤنڈ میں کہ وزیر اعظم عمران خان نے بذاتِ خود نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈن سے بھی فون پر بات کی اور اُنہیں یقین دلایا کہ پاکستان میں نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا، دَورہ منسوخ نہ کیا جائے لیکن نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نے عمران خان کی بات ماننے سے انکار کر دیا۔ یوں یہ انکار پاکستان کی وزارتِ خارجہ کی بھی ناکامی ہے اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے نئے چیئرمین رمیز راجہ کی بھی ۔ یہ واقعہ تو راجہ صاحب کے سرمنڈاتے ہی اولے پڑنے کے مترادف ہے ۔ اسی دوران افغان طالبان کے ترجمان کے دئیے گئے انٹرویو کو بھی ہمارے ہاں خصوصی نظر سے دیکھا جارہا ہے ۔ 16ستمبر2021ء کو پاکستان کے ایک نجی ٹی وی کو خصوصی انٹرویو دیتے ہُوئے افغانستان کے نائب وزیر اطلاعات ذبیح اللہ مجاہدنے کہا ہے :”دنیا امارات اسلامی افغانستان کو تسلیم کرے کیونکہ یہ افغانستان کے عوام کا حق ہے، دنیا نے ہم کو اب بھی تسلیم نہ کیا تو اس کا نتیجہ خطرناک ہو گا”۔ ذبیح اللہ مجاہد صاحب کے یہ الفاظ دراصل ایک قسم کی دھمکی ہے ۔ لیکن اُنہوں نے ابھی یہ نہیں بتایا کہ اگر عالمی برادری افغان طالبان کو تسلیم نہیں کرتی تو طالبان کس طرح خطرناک ثابت ہوں گے ؟مجاہد کا مزید کہنا تھا :”امارات اسلامی کو تسلیم نہ کیا گیا تو اس کا نقصان افغانستان کو بھی ہوگا اور دنیا کو بھی نقصان ہوگا۔افغان سرزمین سے دہشت گردی سے متعلق امریکا کی تشویش بے جا ہے، افغانستان کی سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے”۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ افغانستان کی سر زمین افغان طالبان کے قبضے کے بعد بھی پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے ۔ گذشتہ چند ہفتوں کے دوران کئی افغان دہشت گرد گروہوں نے پاک افغان سرحد پر تعینات کئی پاکستانی جوانوں کو شہید کر دیا ہے ۔ اس سے بڑا مزید کیا ثبوت ہو سکتا ہے کہ افغان سرزمین اب بھی پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے ؟ لیکن حیرانی کی بات ہے کہ افغان طالبان کے ترجمان صاحب ارشاد فرما رہے ہیں کہ افغان سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہو رہی ۔ اُن کے اس دعوے پر کیسے اور کیونکر یقین کر لیا جائے ؟ افغان سرزمین کے پاکستان کے خلاف استعمال کئے جانے کی بات وزیر اعظم عمران خان نے بھی کی ہے ۔ خانصاحب نے 17ستمبر2021ء کو تاجکستان کے دَورے کے دوران عالمی شخصیات کی موجودگی میں برملا کہا ہے کہ تین دہشت گرد گروہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کررہے ہیں ۔ اس بیان کے بعد بھی کیا ذبیح اللہ مجاہد یہ دعویٰ کریں گے کہ افغان سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہو رہی ہے اور آئندہ بھی کسی کے خلاف استعمال نہیں ہو گی؟ ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستان کے نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہُوئے مزید کہا :” افغانستان کی سرزمین پر ہمارا کنٹرول ہے، جس میں ہر گزرتے دن کے ساتھ مضبوطی آرہی ہے۔ افغانستان میں القاعدہ سمیت دیگر دہشت گرد گروپ موجود نہیں ہیں، اگر ناہموار پہاڑی علاقوں میں کوئی موجود ہے تو ان کو روکیں گے ۔کوئی غیر ملکی دہشت گرد افغانستان میں موجود نہیں ہے اور ایسی اطلاعات غلط ہیں”۔ حیرانی کی بات ہے کہ افغان ترجمان ضد کرتے ہُوئے کہتے ہیں کہ افغانستان میں کوئی دہشت گرد تنظیم نہیں ہے جبکہ پاکستانی وزیر عظم عالمی برادری کے سامنے اعلان کررہے ہیں کہ افغانستان کی سرزمین تین دہشت گرد گروہ کھلے بندوں استعمال کررہے ہیں ۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا وزیر اعظم پاکستان کے الفاظ بے بنیاد ہیں اور کیا ذبیح اللہ مجاہد کا ارشادِ گرامی ہی درست ہے ؟ صحیح بات یہ ہے کہ ہم جناب عمران خان کے الفاظ کو غلط نہیں کہہ سکتے ۔ ذبیح اللہ مجاہد کو اپنی اطلاعات درست کرنی چاہئیں ۔ اُنہیں افغانستان بارے مثبت بیان دینے کا حق حاصل ہے لیکن اُنہیں غلط بات کا دعویٰ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے ۔افغان طالبان کو فوری طور پر پاکستان کی شکایات دُور کرنے کی بھرپور کوشش کرنی چاہئے کہ اس وقت پاکستان ہی واحد ملک ہے جو دُنیا کی تنقیدات کے باوجود صبر اور تحمل سے افغانستان اور طالبان کی کھلی حمائت کررہا ہے لیکن طالبان کا پرنالہ وہیں کا وہیں ہے، اُنہیں اپنے اسلوب اور عادات میں تبدیلی پیدا کرنی ہوگی ۔ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے مذکورہ انٹرویو میں مزید کہا:” مذاکرات کا راستہ کھلا ہوتا تو 20 سال جنگ نہ ہوتی، ہماری اپنی وزارت خزانہ ہے، اس کو منظم کرنے کی ضرورت ہے، قطر، اردن، پاکستان اور متحدہ عرب امارات سمیت دیگر ممالک کی حکومتوں نے ہماری مدد کی ہے ۔ہماری قوم ابھی جنگ سے نکلی ہے، اس کو مدد کی ضرورت ہے، ہمارے لیے امداد کا جو اعلان ہوا ہے وہ ہمیں دی جائے، ہماری مدد کی جائے یہ دنیا کے لیے بھی اچھا ہوگا اور ہمارے لیے بھی بہتر ہو گا، امید ہے دنیا بھی ہمارے ساتھ تعاون کرے گی ۔ائیرپورٹ، تعلیم اور صحت سمیت دیگر شعبوں میں خواتین کام کرنے آ رہی ہیں، اس کے علاوہ جو یونیورسٹیز بند ہیں وہ بھی جلد کھل جائیں گی”۔ یہ مثبت پیغام ہے لیکن ساتھ ہی یہ خبریں گردش کررہی ہیں کہ افغان طالبان قیادت میں مار کٹائی ہو رہی ہے ۔ اس سلسلے میں بھارتی اور امریکی میڈیا خبریںاچھال رہا ہے ۔ افغان میڈیا اور افغان صحافیوں کے ساتھ افغان طالبان کے تعلقات اسقدر کشیدہ ہو چکے ہیں کہ افغانستان کے اندر سے طالبان بارے کوئی مثبت اور اطمینان بخش خبر باہر نہیں آ رہی ؛ چنانچہ ذبیح اللہ مجاہد نے اپنی قیادت میں اختلافات کے بیانات کی تردید کرتے ہوئے کہا :”طالبان میں کوئی اختلافات نہیں، ملابرادر کی ویڈیو جاری ہو چکی ہے”۔خیال رہے کہ گزشتہ دنوں ملابرادر اور انس حقانی نے اختلافات کی تردید کرتے ہوئے اپنے پیغامات جاری کیے تھے اور ذبیح اللہ مجاہد نے بھی طالبان قیادت کے درمیان اختلافات کی تردید کردی تھی۔خبر ایجنسی اے پی کے مطابق 7 ستمبر کو طالبان کی جانب سے کابینہ کی تشکیل کے بعد اختلافات کی خبریں زیر گردش کرنے لگی تھیں جو ان کے وعدوں کے برعکس 1990ء کی دہائی میں ان کے سخت دور حکمرانی سے مطابقت رکھتی نظر آتی ہے۔گزشتہ ہفتے کے آخر میں صدارتی محل میں طالبان قیادت میں عملیت پسند اور نظریاتی دھڑوں کے درمیان مبینہ پرتشدد تصادم کی افواہیں سامنے آئی تھیں جن میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا تھا کہ افغانستان کے نائب وزیر اعظم مُلاعبدالغنی برادر مارے گئے ہیں۔عبدالغنی برادر اور وزیر پناہ گزین خلیل الرحمٰن حقانی کے مابین مبینہ طور پر اختلافات کی تصدیق قطر میں مقیم طالبان کے ایک سینئر رکن نے بی بی سی کو کی تھی۔عبدالغنی برادر کی موت کی افواہیں اس حد تک پھیل گئی تھیں کہ انہوں نے بذات خود ایک آڈیو ریکارڈنگ اور تحریری بیان جاری کیا کہ ان کی موت کی افواہیں غلط ہیں، انہوں نے گزشتہ روز افغانستان کے قومی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ بالکل خیریت سے ہیں۔طالبان کے دیگر عہدیداروں نے بھی قیادت کے اندر دراڑوں کی خبروں کی تردید کی اور ان افواہوں کے خاتمے کے لیے سامنے آنے والوں میں مجاہدین بھی شامل ہیں۔طالبان کے نئے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کے چھوٹے بھائی انس حقانی نے بھی گزشتہ روز بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ امارات اسلامی متحد ہے۔متحد تو یقیناً ہوں گے لیکن سوال یہ ہے کہ افغان قیادت میں سر پھٹول ہو رہی ہے یا نہیں ؟ اور اگر ہو رہی ہے تو اسے چھپایا کیوں جا رہا ہے ؟ چھپانے سے حالات مزید خراب اور گمبھیر ہو رہے ہیں اور اس کا نقصان افغان طالبان ہی کو ہو رہا ہے ۔ مُلا غنی برادر کا عالمی قیادت سے ملاقات نہ کرنا اور افغان طالبان کے روحانی رہنما مُلا ہیبت اللہ کا منظرِ عام پر نہ آنا بھی شکوک و شبہات کا باعث بن رہا ہے ۔ پاکستان بھلا کہاں کہاں افغان طالبان کے مفادات اور بھلائی کی جنگ لڑتا رہے ؟ اللہ نے اگر طالبان کو پھر سے حکومت اور اقتدار کی نعمت سے نواز دیا ہے تو طالبان کو بھی سنجیدگی سے ثابت کرنا چاہئے کہ وہ حکومت کرنے کے اہل ہیں ۔بصورتِ دیگر وہ دُنیا کا اعتماد کھو دیں گے اور کوئی بھی اُن کی بندوق بردار حکومت کو تسلیم نہیں کرے گا۔ پہلے بھی ایک بار ایسا ہو چکا ہے جب طالبان حکومت کو صرف تین مسلمان ممالک ( پاکستان، سعودی عرب اور یو اے ای) نے تسلیم کیا تھا۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »