نئے سہ فریقی اتحاد سے کون ، کیا فائدہ حاصل کرے گا؟

ہمارے تبدیلی حکمرانوں کا تو دعویٰ ہے کہ ”ملک دو سال مشکلات میں گھرا تھا، اب مشکلات سے باہر نکل آیا ہے ، اب پٹڑی پر چڑھ گیا ہے ، اب ترقی کریں گے ” لیکن وطنِ عزیز کی معاشی بد حالی کی اصل صورتحال کیا ہے ، یہ چونکا دینے والی خبر 22اگست2020ء کو بین الاقوامی معاشی اور ریٹنگ ادارے (اسٹینڈرڈز اینڈ پورز)نے دی ہے ۔ اس خبر نے پاکستان کے غریب عوام، جن کی جیبیں پہلے ہی خالی ہو چکی ہیں، کو مزید خوف اور بے یقینی کی کیفیات میں مبتلا کر دیا ہے ۔اسٹینڈرڈز اینڈ پورز کی دہشت انگیز خبر کے مطابق: ہمارے روپے کی قدر مزید گرے گی، ڈالر مزید اوپر جائے گا، بیروزگاری کی شرح میں اور اضافہ ہوگا اور ملکی قرضے مزید بڑھیں گے ۔ گویا پاکستان کے ایک عام آدمی کی کمر مزید ٹوٹنے والی ہے ۔ ایسے میں یہ خبر آئی ہے کہ سندھ ، خصوصاً کراچی کے بگڑے معاملات درست کرنے کیلئے پیپلز پارٹی ، ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی کا اتحاد عمل میں لایا گیا ہے تاکہ تینوں فریق ہاتھوں میں ہاتھ دے کر کراچی کو پھر سے پاکستان کا ”عروس البلاد” بنا دیں ۔ یہ ایک مشکل کام ہے لیکن اس کا خواب بہرحال دیکھا جا سکتا ہے ۔ تینوں فریق مل بیٹھ کر اور اپنے اپنے ظاہری اور باطنی تعصبات بالائے طاق رکھتے ہُوئے کراچی کی بگڑی بنا سکتے ہیں ۔ کراچی ، جو پاکستان بھر کی معاشی ضروریات پوری کرتا ہے ، کے حالات واقعی بگاڑ اور بسیار خرابی کا شکار بن چکے ہیں ۔ ہر قسم کا مافیا اس بدقسمت شہر میں بروئے کار ہے ۔ چائنہ کٹنگ نے اس شہر کا چہرہ مسخ کر دیا ہے ۔ لینڈ مافیا کی جرأتیں اتنی بڑھ گئی ہیں کہ انہوں نے کراچی کے سرکاری پارکس بھی بیچ ڈالے ۔ کراچی میں تجاوزات کی کوئی انتہا نہیں ہے ۔ گندے نالے تک ان تجاوزات کی زد میں آ چکے ہیں ۔ یہ جرائم اس وقت تک ممکن نہیں ہیں جب تک حکومتی اور سیاسی کارندے مجرموں کی پشت پناہی نہ کررہے ہوں ۔ لیکن کسی کی بھی سرکوبی نہیں کی گئی ، اسلئے ان کی سرکشی اور مجرمانہ ذہنیت ہر حد تجاوز کر چکی ہے۔ ان تجاوزات نے کراچی شہر اور اس شہر کے شریف شہریوں کا سانس لینا دشوار بنا دیا ہے ۔ سپریم کورٹ تک نے کراچی انتظامیہ اور سندھ حکومت کے بارے میں سخت الفاظ کہے ہیں ۔ کراچی اور سندھ میں پچھلے کئی برسوں سے پیپلز پارٹی اور آصف علی زرداری کسی نہ کسی شکل میں حکومت میں براجمان چلے آ رہے ہیں ۔ ظاہر ہے ان ساری نالائقیوں اور نااہلیوں کا ذمہ دار بھی پیپلز پارٹی کو ٹھہرایا جانا چاہئے ۔ پیپلز پارٹی کے کرتا دھرتا اور سندھ میں پیپلز پارٹی کے وزیر اعلیٰ صاحب مگر اپنے پروں پر پانی نہیں پڑنے دیتے ۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ سندھ کی مقتدر جماعت پیپلز پارٹی اور مرکز میں برسر اقتدار پی ٹی آئی کی باہمی چپقلش عروج پر ہے ۔ دونوں میں کوئی تال میل نہیں ہے ۔ دونوں ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے اور ایک دوسرے کو موردِ الزام ٹھہرانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ۔ اس کشمکش نے سندھ کے شہریوں کی زندگیاں اجیرن بنا دی ہیں جبکہ سندھ کا مقتدر طبقہ اپنی عیاشیوں اور غفلتوں میں مگن اور عوام کی پریشانیوں سے بے نیاز ہے ۔ جب اداروں کی طرف سے دباؤ بڑھا تو خبر آئی ہے کہ پیپلز پارٹی ، پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم نے سندھ میں حالات کو درست کرنے کیلئے ایک اتحادی لائحہ عمل کا اعلان کیا ہے ۔سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ ، وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر اور ایم کیو ایم کے ارکانِ قومی اسمبلی نے مل کر اس کی تحسین کی ہے اور اکٹھے آگے بڑھنے کا عندیہ دیا ہے ۔ خدا کرے یہ سہ فریقی اتحاد کسی نتیجے پر پہنچے بھی اور اس کے ثمرات سندھ کے عوام تک بھی پہنچیں ۔ مگر اس سہ فریقی اتحاد میں بھی کئی خدشات سر ابھار رہے ہیں ۔ سندھ حکومت کو خدشہ ہے کہ مرکز میں بیٹھی پی ٹی آئی کی حکومت اس اتحاد کے پردے میں اُس کے خلاف سازشیں کرنے کا ارادہ بھی رکھتی ہے ۔ یہ بدگمانی حیران کن ہے ۔ سندھ کے وزیر اعلیٰ نے انہی خدشات کے پس منظر میں بیان کا ایک گولہ یوں داغا ہے :” مرکزی حکومت یاد رکھے کہ ہم اپنے کسی بھی سرکاری اور انتخابی اختیار سے پیچھے نہیں ہٹیں گے نہ کسی کو اس میں شریک کریں گے۔”دیکھا جائے تو سندھ کی مقتدر جماعت کی بدگمانیاں اور خدشات اتنے بھی بے بنیاد نہیں ہیں ۔ یہ جو آئے روز خبریں شائع کی جاتی ہیں کہ سندھ میں گورنر راج نافذ ہونے والا ہے اور یہ کہ سندھ کے وزیر اعلیٰ جلد ہی نااہل ہونے والے ہیں ، ان خبروں کے پیشِ نظر آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کا ردِ عمل اتنا بے جا بھی نہیں ہے ۔ آصف علی زرداری نے رواں ہفتے اپنی بیماری کے باوجود اسلام آباد کی ایک احتسابی عدالت میں حاضری دی ۔ اسے غیر معمولی سمجھنا چاہئے ۔ خاص طور پر اُن کا یہ کہنا کہ مجھے اسلئے ”تنگ” کیا جارہا ہے کیونکہ مَیں نے وفاق کو اٹھارویں ترمیم دی ۔ اس کے برعکس پی ٹی آئی کے ترجمانوں کا کہنا ہے کہ یہ شور نہ مچائیں ، اپنی کرپشنوں اور بدعنوانیوں کا پورا پورا حساب دیں ۔ دو سال گزر گئے ہیں لیکن حیرت کی بات ہے کہ مقتدر جماعت ابھی تک نہ پیپلز پارٹی کے بڑوں کو کرپشن کی سزا دے سکی ہے نہ نون لیگ کے بڑوں کو ۔ سب اپنی اپنی جگہوں پر موجیں ماررہے ہیں لیکن گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنے کے مصداق حکومت بظاہر یہ اعلان کرتی سنائی دے رہی ہے کہ ”نواز شریف کو لندن سے واپس لانے کیلئے قانونی راستہ اپنائیں گے ۔” یہ اعلان بنیادی طور پر درست ہے ۔ عوام بھی یہی چاہتے ہیں لیکن ساتھ ہی عوام یہ بھی پوچھنے کی جسارت کرتے ہیں کہ حکومت پچھلے دو برسوں کے دوران نواز شریف کے بھگوڑے بیٹوں، بھگوڑے سمدھی ، بھگوڑے بھتیجوں کو تو لندن سے قانونی طور پر واپس پاکستان لا نہیں سکی، اب نواز شریف کو کیسے واپس لانے میں کامیاب ہوگی؟ کیا سبھی رَل مل کر عوام کے ساتھ کھیل کھیل رہے ہیں؟ دیکھا جائے توسیاسی حالات میں عجب موڑ آ رہے ہیں ۔ ایک موڑ یہ بھی ہے کہ پاکستان کی مرکزِ جمیعتِ اہلحدیث کے امیر سینیٹر پروفیسر ساجدمیر کی زیر قیادت اہلحدیث علماء کے ایک وفد نے جاتی امرا میں نون لیگ کی نائب صدر اور سابق وزیر اعظم کی صاحبزادی مریم نواز شریف سے ملاقات کی ہے ۔کئی اخبارات نے اپنے فرنٹ پیج پر اس ملاقات کی تصویر چار چار کالمی شائع کی ہے ۔ساجد میر صاحب نے مریم نواز سے ملاقات کرکے اپنی نیوز ویلیو میں اضافہ تو کیا ہے ورنہ اُن کی اہمیت اور حیثیت سب جانتے ہیں ۔ جب سے ”نیب” لاہور کے دفاتر کے باہر مریم نواز اور اُن کے سیاسی کارکنوں کا پولیس سے باقاعدہ تصادم ہُوا ہے ، کسی ”اہم ”سیاسی و مذہبی جماعت کا مریم نواز سے ملاقات کا یہ پہلا منظر سامنے آیا ہے ۔ یہ ملاقات کرکے دراصل پروفیسر ساجد میر نے نواز شریف خاندان کا حقِ نمک ادا کیا ہے کہ یہ شریف خاندان اور خاص طور پر نواز شریف صاحب ہیں جن کی مسلسل مہربانیوں اور امداد سے ساجد میر مسلسل سینیٹر بنتے چلے آ رہے ہیں ۔ وگرنہ اُن کی عددی اکثریت اور اہمیت تو کچھ خاص نہیں ہے ۔ یاد رکھنے والی بات یہ بھی ہے کہ جمیعتِ اہلحدیث کے امیر یہ وہی پروفیسر ساجد میر صاحب ہیں جنہوں نے جنرل قمر جاوید باجوہ کے آرمی چیف بنتے وقت نہائت دل آزار ویڈیو پیغام جاری کیا تھا ۔ اور جب دباؤ بڑھا تو ساجد میر صاحب نے اپنا بیان واپس لے لیا ۔ دیکھا جائے تو یہ بیان بھی دراصل نواز شریف کو خوش کرنے کی ایک بھونڈی کوشش تھی ۔ اور اب یہ مولوی صاحب مریم نواز شریف سے ملے ہیں تو ارشاد فرمایا ہے کہ ” مریم نواز پر حملہ حکومت نے کرایا ہے ۔”لیجئے ، پروفیسر ساجد میر کی طرف سے پنجاب حکومت کے خلاف ایک اور فتویٰ جاری کر دیا گیا ہے ۔ ہم سب جانتے ہیں کہ اُس روز جب مریم نواز نے ”نیب” دفاتر میں حاضری دی تھی ، کون کس پر اور کس طرح حملہ آور ہُوا تھا۔ سبھی مناظر ، کئی کئی زاویوں سے ، حکومتی کیمروں میں محفوظ ہیں ۔ ان کی موجودگی میں کوئی کسی کو دھوکہ دے سکتا ہے نہ کسی کی آنکھوں میں دھول جھونک سکتا ہے ۔ یہ مناظر سائنسی اسلوب میں عدالت کے رُوبرو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر دیں گے ۔کئی نون لیگیوں کے خلاف مقدمات قائم کئے جا چکے ہیں ۔ انہیں کسی روز عدالتوں کے سامنے بھی پیش کیا جانا ہے ۔ وہاں ساری کہانی کھل جائے گی اور زبانیں بھی ۔ یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ اپنی وفاداریاں نبھانے کے شوق میں پروفیسر ساجد میر کو قبل از وقت سویپنگ اسٹیٹمنٹ دینے سے گریز اختیار کرنا چاہئے تھا لیکن وہ جذبات سے مغلوب ہو کر سب بے بنیاد باتیں بھی کہہ گئے ۔انہیں ایسا نہیں کہنا چاہئے تھا ۔ شائد یہی وجہ ہے کہ جمیعتِ اہلحدیث کا دوسرا دھڑا پروفیسر ساجد میر کا ہمنوا نہیں ہے ۔ یہ دھڑا ممتاز اہلحدیث عالمِ دین علامہ احسان الٰہی ظہیر مرحوم کے صاحبزادے ، علامہ ابتسام الٰہی ، کی قیادت میں بروئے کار ہے ( واضح رہے کہ علامہ احسان الٰہی ظہیر صاحب جنرل ضیاء الحق کے دَور میں لاہور کے علاقے قلعہ لچھمن سنگھ ( بالمقابل مینارِ پاکستان) میں بم دھماکے میں شدید زخمی ہو گئے تھے ۔ اُنہیں علاج کیلئے سعودی عرب لیجایا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکے تھے)آجکل علامہ ابتسام الٰہی صاحب لاہور میں جناح گارڈن کے سامنے واقع مسجد میں جمعہ کا خطبہ دیتے ہیں ۔ اُن کے کسی خطبے میں پروفیسر ساجد میر سے ہم آہنگی نہیں ملتی ۔ پروفیسر ساجد میر اور مریم نواز شریف کی باہمی ملاقات سے مریم نواز کے مسائل کم ہونے کی بجائے بڑھیں گے ، اسلئے کہ حکومت مریم نواز کی ان سرگرمیوں سے نالاں اور ناراض ہے ۔ اس کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ نواز شریف کے خلاف توشہ خانہ کیس بھی تیز کر دیا گیا ہے ۔ اس کیس میں نواز شریف کو عدالت کے روبرو پیش ہونے کے احکامات جاری کر دئیے گئے ہیں ۔ واضح رہے کہ ”توشہ خانہ کیس” میں بیک وقت نواز شریف ، یوسف رضا گیلانی اور آصف علی زرداری عدالت کو مطلوب ہیں ۔ احتساب عدالت میں ”نیب” کے دائر کردہ ریفرنس کے مطابق سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی پر آصف زرداری اور نواز شریف کو غیر قانونی طور پر قیمتی گاڑیاں الاٹ کرنے کے الزامات ہیں ۔ الزام میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف اور آصف زرداری نے ہیرا پھیری کرکے کاروں کی صرف15فیصد قیمت ادا کرکے توشہ خانہ سے قیمتی گاڑیاں حاصل کرکے قومی خزانے کو سخت نقصان پہنچایا ۔ اس کے علاوہ اسلام آبادہائیکورٹ نے 18 اگست2020ء کو کہا ہے کہ نواز شریف کی ضمانت میں توسیع نہ ہونے کی صورت میں نواز شریف کو عدالت میں پیش ہونا پڑے گا، نواز شریف اور مریم نواز شریف پر ایک اور تلوار لٹک گئی ہے ۔ اسی سے ہم اندازہ لگا سکتے ہیںکہ شریف خاندان نے اپنے طویل دَورِ اقتدار کے دوران ملک وقوم اور ملکی خزانے کے ساتھ جو کھلواڑ کئے رکھا تھا، ان جرائم سے اس خاندان کی اتنی جلد جان نہیں چھوٹنے والی ۔ اس پس منظر میںوفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد بجا کہتے ہیں کہ مریم نواز شریف نے پہلے اپنے والد اور اُن کے اقتدار کو ڈبویا اور اب وہ اپوزیشن کا بیڑہ بھی غرق کر دیں گی ۔ شیخ رشید احمد اسی پس منظر میں جے یو آئی (ایف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن ( جو حکومت کے خلاف جوڑ توڑ میں مصروف پائے جاتے ہیں) کو وارننگ دیتے ہُوئے یہ بھی نصیحت کرتے ہُوئے کہتے ہیں کہ مریم نواز شریف کے اقدامات سے بچ کر رہئے ۔دیکھتے ہیں کون بچتا ہے اور کون پسِ دیوارِ زنداں پہنچتا ہے !!


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.