Latest news

نواز شریف فیملی کو عدالتی ریلیف، بیمارآصف زرداری ا ور مولانا فضل الرحمن کی یلغار

ویسے تو حکومتی حلقے اپنے تازہ دو کارناموں کو تاریخی قرار دے رہے ہیں لیکن سیاسی و سماجی حقائق ہمیں کوئی اور ہی داستان سنا رہے ہیں ۔ حکومت خوش ہے اور بغلیں بجا رہی ہے کہ اُس نے ریکارڈ ٹائم میں کرتار پور رہداری پروجیکٹ کی تعمیر مکمل کر ڈالی اور یہ کہ اُس نے25اکتوبر2019ء کو کرتار پورراہداری پر بھارت سے ”تاریخ ساز” معاہدہ بھی کر لیا ہے ۔اگلے روزوزیر اعظم جناب عمران خان نے مسرت سے یہ اعلان بھی فرمایا ہے کہ” معیشت میں پاکستان28پوائنٹس کی بہتری سے دُنیا کے ٹاپ10ممالک میں شامل ہو گیا ہے ۔” اگر پاکستان معاشی اعتبار سے ترقی کرتا ہے تو ہم سب کو خوشی اور مسرت کا اظہار کرنا چاہئے اور حکومت کو بھی شاباش دینی چاہئے ۔ مگر تلخ حقیقت یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت میں عوام کی زندگیاں مشکل اور تلخ بنا دی گئی ہیں ۔ پہلے ہر ماہ پٹرول کی قیمتیں بڑھائی جاتی تھیں (اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے) اور اب روزانہ کی بنیاد پر بجلی کے نرخ بڑھا کر عوام کی کمر توڑنے کی مشق کی جاتی ہے ۔ 25اکتوبر کو اِسی حکومت نے کئی سرکاری محکمے بھی بند کر دئیے ہیں اور یہ ”کارِ خیر” وزیر اعظم کے مشیر جناب ڈاکٹر عشرت حسین کے ہاتھوں انجام پایا ہے ۔ ایسے میں وزیر اعظم اگر 28پوائنٹس کے ساتھ کوئی ”خوشخبری” سنا رہے ہیں تو اس پر کون یقین کرے گا ؟ عوام تو ایسی خوشخبری پر تب ہی یقین کریں گے جب اُن کی نجی زندگیوں میں معاشی خوشحالی صاف صاف دکھائی دے گی ۔ یہ منزل مگر ابھی دُور دُور تک دکھائی نہیں دے رہی ۔ سچ اور حقیقی سچ تو یہ ہے کہ رواں لمحوں میں حکومت دب سی گئی ہے ۔ اور وزیر اعظم صاحب ہیں کہ اس کا ذمہ دار میڈیا کو قرار دے رہے ہیں ۔ ہم اسے ناانصافی سمجھتے ہیں ۔اس وقت حکومت نہیں بلکہ ملک بھر میں نواز شریف ، مریم نواز اور آصف زرداری کی بیماریوں ، سزاؤں، ہسپتالوں میں داخلوں اور مولانا فضل الرحمن صاحب کے مبینہ اور موعودہ ”آزادی مارچ” کی خبریں اور نعرے غالب دکھائی دے رہے ہیں ۔ حکومتی آواز اور دعوے ان خبروں کے نقار خانے میں طوطی کی آواز بن کر رہ گئے ہیں ۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف کی بیماری نے حکومتی ہاتھ پاؤں پھلا دئیے ہیں ۔ پہلے توحکومت اور درجنوں کے حساب سے حکومتی ترجمان نواز شریف کی بیماری کو ”ڈرامہ” اور ”بہانہ” قرار دے رہے تھے ۔ اب مگر حقائق سامنے آئے ہیں تو حکومت کی دوڑیں لگ گئی ہیں ۔ حکومت کی ترجمان اور وزیر اعظم کی مشیر برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اور پنجاب کی وزیر صحت، ڈاکٹریاسمین راشد،کے نواز شریف کے مرض بارے بیانات خاصے سنگین مذاق تھے۔ وزیر اعظم صاحب بھی اس طرف عدم توجہ برت رہے تھے۔ معاملات اُس وقت زیادہ خطرناک ہوئے جب نواز شریف کو کوٹ لکھپت جیل سے نیب جیل منتقل کیا گیا ۔ پُر اسرار اور ہنگامی حالات میں نواز شریف کو لاہور کے سروسز ہسپتال داخل کروانا پڑا ۔ معلوم ہُوا کہ اُن کے پلیٹلیٹس خطرناک حد تک گر گئے ہیں ۔ ٹیسٹ کئے گئے تو یہ ڈینگی کا مرض بھی نہیں تھا۔ یہ اور بھی خطرناک علامت تھی کہ آخر کس وجہ سے یہ پلیٹلیٹس گررہے ہیں ؟ فوری طور پر میڈیکل بورڈ بھی بنایا گیا جس کے سربراہ ڈاکٹر ایاز محمود ہیں ۔پھر حکومت کی طرف سے خبر چلوائی گئی کہ نواز شریف کے پلیٹلیٹس کی تعداد 20ہزار سے بڑھ گئی ہے ۔ یہ خبر نواز شریف کی صحت بارے اطمینان بخش تھی مگر بعد ازاں یہ عقدہ کھلا کہ یہ خبر سرے سے غلط تھی ۔ نواز شریف کے خون کے خلئے سات ہزار تک آ گئے تھے ؛ چنانچہ فوری طور پر اُنہیں تین خون کی بوتلیں لگائی گئیں تاکہ پلیٹلیٹس کی تعداد بڑھ سکے ۔ اس دوران کراچی سے بھی ڈاکٹروں کی ایک ٹیم سرکاری دعوت پر لاہور کے سروسز ہسپتال پہنچ گئی۔ ساتھ ہی مریم نواز شریف کو بھی اپنے والد کی تیمار داری اور اپنا علاج کروانے کی اجازت مرحمت کر دی گئی ۔ یہ اقدامات خاصے اطمینان بخش تھے ۔ مگر پھر رات گئے مریم نواز کو ایک بار پھر نہ معلوم احکامات کے تحت ہسپتال سے جیل منتقل کر دیا گیا ۔ نون لیگ سراپا احتجاج ہے کہ اُسے اورنواز شریف فیملی کو نواز شریف کی صحت بارے درست معلومات دانستہ فراہم نہ کی گئیں ۔ مولانا فضل الرحمن ، بلاول بھٹو زرداری اور اپوزیشن کی دیگر قیادت کی طرف سے وارننگز دی گئی ہیں کہ اگر نواز شریف کو کچھ ہُوا تو اس کے ذمہ دار عمران خان اور پی ٹی آئی کی حکومت ہوگی ۔ عمران خان نے بھی اس حدت کو محسوس کیا ہے ؛ چنانچہ اُنہیں اخبار نویسوں سے خاص ملاقات میں کہنا پڑا ہے کہ ” مجھے کیسے ذمہ دار قرار دیا جا سکتا ہے ؟ میں نہ ڈاکٹر ہُوں اور نہ عدالت ۔” اس بیان کے بعد نواز شریف بارے وزیر اعظم کے لہجے میں خاصی تبدیلی آئی ہے ؛ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ عمران خان کی طرف سے یہ بیان بھی آیا ہے کہ اگر کوئی عدالت نواز شریف کو بیرونِ ملک علاج کروانے کی اجازت دیتی ہے تو یہ فیصلہ ہم تسلیم کریں گے ۔ اُنہوں نے اپنے وزیروں اور مشیروں کو بھی احکامات دئیے ہیں کہ نواز شریف بارے کوئی غیر محتاط اور دل آزار بیان نہ دیا جائے ۔ اُنہوں نے وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کو بھی مبینہ طور پر حکم دیا ہے کہ نواز شریف کو تمام ممکنہ میڈیکل سہولتیں فراہم کی جائیں ۔ مریم نواز کو بھی ہسپتال میں اپنے والد صاحب کی پھر سے عیادت اور دیکھ بھال کرنے کی اجازت مل گئی ہے ۔ لیکن یہ اقدامات کرتے ہُوئے حکومت نے خاصی دیر کر دی ہے ۔ یہ تاخیری حربے استعمال نہ کئے جاتے تو بہتر ہوتا ۔ جس وقت یہ سطور لکھی جارہی ہیں خبریں آ رہی ہیں کہ نواز شریف کے پلیٹلیٹس 7ہزار کی خطرناک حد تک گر گئے ہیں ۔ اُن کا بون میرو ٹیسٹ بھی ہو چکا ہے ۔ نواز شریف کی حالت بہتر نہیں ہو رہی ہے ۔ اب صورتحال یہ ہے کہ نواز شریف کی صحت بحال کرنا نواز شریف فیملی کا دردِ سر نہیں رہا بلکہ یہ حکومت کا دردِ سر بن گیا ہے ۔ سب دعائیں مانگ رہے ہیں کہ اللہ کرے نواز شریف کی صحت بحال ہو جائے ۔ حتیٰ کہ وزیر اعظم عمران خان نے بھی اپنی ایک ٹویٹ میں کہا ہے ” مَیں صدقِِ دل سے نواز شریف کی صحت کیلئے دعا گو ہُوں ۔”نواز شریف کی بیماری کی بنیاد پر حکومت اور عدالتوں پر دباؤ بڑھا ہے ۔ شائد اِسی لئے 25اکتوبر کو شوگر ملز کیس میں نواز شریف کی ( ایک کروڑ روپے کے دو مچلکوں پر) ضمانت منظور ہو گئی ہے ۔ یہ ضمانت مبینہ طور پر خالصتاً طبّی بنیادوں پر دی گئی ہے ۔مریم نواز شریف کی درخواست ضمانت پر 28اکتوبر بروز سوموار سماعت ہورہی ہے ۔ ممکن ہے اُنہیں بھی ضمانت مل جائے ۔ اور توقع ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی 29اکتوبر کو نواز شریف کو کوئی خوشخبری مل جائے ۔ لیکن حالات خاصے دگر گوں ہیں ۔ ملک میں سیاسی انتشار نے سب کو گرفت میں لے رکھا ہے ۔ ایسے میں نواز شریف کے داماد کیپٹن صفدر کو گرفتار کر لیا گیا ۔ 22اکتوبر کولاہور کی ضلعی عدالت نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے داماد کیپٹن (ر) صفدر کا 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ منظور کرلیا۔ اُنہیں 21اکتوبر کو اسلام آباد سے لاہور آتے ہوئے گرفتار کیا گیا تھا۔اگلے روز اُنہیں سخت سیکیورٹی میں لاہور کی ضلعی عدالت میں پیش کیا گیا۔ اُن پر مگر الزام کیا ہے ؟ تھانہ اسلام پورہ میں ان کے خلاف درج ایف آئی آر کے مطابق، کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو عوام کو حکومت کے خلاف اکسانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔دوران سماعت کیپٹن (ر) صفدر کے وکیل فرہاد علی نے عدالت سے کہا :”کسی کی منشا پر کسی کو گرفتار نہیں کیا جا سکتا۔ سیکشن 16 کو لاگو کرنے سے پہلے حکومت کی ہدایت ضروری ہوتی ہے ۔حکومت نے کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی نظر بندی کا کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا۔ ڈپٹی کمشنر تحریری طور پر نظر بندی کا حکم دے سکتا ہے تاہم یہاں کوئی تحریری آرڈر جاری نہیں کیا گیا ہے ۔میرے موکل کا کسی کالعدم تنظیم سے کوئی تعلق نہیں ہے، پولیس نے کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو صرف سیاسی بنیادوں پر گرفتار کیا ہے۔اگر ویڈیو کے معاملے پر گرفتاری کی گئی ہے تو پھر بھی پولیس کا اختیار نہیں ہے۔ عدالت کا وقت ختم ہونے کے بعد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو 6 بجے پیش کیا گیا۔ یہ عمل قانون کے منافی ہے ۔”۔عدالت میں کیپٹن صفدر کا کہنا تھا: ”میری اہلیہ مریم نواز اور میاں نواز شریف عدالت میں پیشیاں بھگت رہے ہیں۔ احتساب عدالت میں پولیس والے نے خواتین پر تشدد کیا تھا جس پر میں نے روکا تو میرے خلاف مقدمہ درج کرایا گیا۔اُس کیس میں مجھے ضمانت ملی لیکن گزشتہ روز کسی اور کیس میں گرفتار کر لیا گیا۔مجھے 24 گھنٹے حبسِ بے جا میں رکھا گیا اور صبح ایف آئی آر درج کی گئی۔ چند قوتیں میرے پیچھے ہیں۔ مجھے نا اہل کرایا گیا اور سزا دلوائی گئی تھی”۔ نواز شریف کے داماد کا عدالت کے رُوبرو ابتدائی بیان ختم ہُوا تو عدالت میں سرکاری وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا :”کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو پولیس نے گرفتار کیا ہے ۔اُن کے خلاف سنگین الزامات ہیں اور یہ سزا یافتہ بھی ہیں”۔سرکاری وکیل نے کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی تقریر کی سی ڈی عدالت میں پیش کر دی جس میں کیپٹن ریٹائرڈ صفدر نے آرمی چیف پر الزمات لگاتے ہوئے مبینہ طور پر کہا تھا کہ انہوں نے مدت ملازمت میں توسیع کے لیے مینڈیٹ چوری کروایا ہے۔ دیکھا جائے تو کیپٹن صفدر اعوان کا یہ مبینہ بیان نہائت غیر مناسب اور غیر اخلاقی ہے ۔ یہ تو سپہ سالارِ پاکستان پر سراسر تہمت اور الزام ہے ۔ دُنیا میں کہیں بھی یوں الزامات کا بے محابہ استعمال نہیں کیا جاتا ۔یہ بیان نہائت غیر ذمہ دارانہ بھی ہے ۔بہرحال نواز شریف کے بڑے داماد کی گرفتاری عین اُس وقت عمل میں لائی گئی جب ملک بھر میں حکومت کے خلاف دھرنے کی تیاریاں رُوبہ عمل ہیں ۔ یہ تو اب عدالت ہی فیصلہ کرے گی کہ کپتان (ر) صفدر پر لگائے جانے والے مبینہ الزامات میں کسقدر اور کہاں تک صداقت ہے ، لیکن یہاں یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ یہ گرفتاری حالات میں مزید بگاڑ اور کشیدگی کا باعث بنی ہے ۔ حکمران جماعت حالات کو ٹھنڈا کرنے کے برعکس جلتی پر تیل چھڑکنے کا کام کررہی ہے ۔ مثال کے طور پر پی ٹی آئی کی ایک وزیر مملکت ، زرتاج گل ، نے نواز شریف کے داماد کی گرفتاری والے دن ایک نجی ٹی وی ٹاک شو (جس میں نون لیگ کی صوبائی سیکرٹری اطلاعات عظمیٰ بخاری بھی موجود تھیں) سے گفتگو کرتے ہُوئے کیپٹن صفدر کو ”ریلو کٹّا” کہہ ڈالا ۔ اس طرح کی غیر محتاط زبان کسی بھی وفاقی وزیر ، خاص طور پر ایک خاتون کو ، زیب نہیں دیتی ۔ یہ زبان ایسے وقت استعمال کی گئی جب حکومت متحارب اور محاذ پر آمادہ اپوزیشن سے صلح کی باتیں بھی کررہی ہے ۔ اس انتشار زدہ ماحول میں کشمیر کاز کیلئے صرف ہمارے عسکری ادارے ہی متحرک نظر آ رہے ہیں۔ اور بھارت ہے کہ ایل او سی پر آئے روز بمباری کرکے آزاد کشمیر کے شہریوںکو شہید اور زخمی کررہا ہے ۔ اُن کے مکانات بھارتی گولوں کی زد میں ہیں ۔ یہ بد قسمتی ہے کہ پاکستان میں سیاسی انتشار اور افراتفری نے ماحول کو سخت پراگندہ کررکھا ہے اور اس کے فائدے بھارت اٹھانے کی ناکام کوشش کررہا ہے ۔ مثال کے طور پر 20اکتوبر 2019ء کی رات بزدل بھارتی فوجوں کا آزاد کشمیر میں ایل او سی کے ساتھ ساتھ بسنے والی کشمیری بستیوں پر شدید گولہ باری ۔ یہ گولہ باری سراسر زیادتی تھی اور بغیر کسی اشتعال کے کی گئی ۔ بھارتی گولوں نے آزاد کشمیر کے چھ بے گناہ شہریوں کی جان لے لی اور افواجِ پاکستان کا ایک جوان بھی شہید ہو گیا ۔ ضروری تھا کہ پاکستان کی طرف سے بھی فوری جواب دیا جاتا تاکہ جارح بھارت کو معلوم ہوجاتا کہ افواجِ پاکستان بیدار ہیں اور چوکس بھی ؛ چنانچہ جواب میں بھارتی فوج کے نصف درجن سے زائد فوجی جہنم رسید کر ڈالے گئے ۔ بھارتی فوج اتنی بزدل ثابت ہُوئی کہ اپنے جہنم واصل ہونے والے جوانوں کی لاشیں بھی چھوڑ کو بھاگ اُٹھی ۔ پھر اُنہوں نے صلح کا سفید جھنڈا لہرایا تاکہ افواجِ پاکستان اُنہیں یہ لاشیں اُٹھانے کی اجازت دے دے ۔ پاکستان نے وسیع الظرفی کا ثبوت دیتے ہُوئے یہ اجازت د ی بھی ۔ افسوس کی بات مگر یہ ہے کہ جونہی بھارتی اپنے فوجیوں کی لاشیں اُٹھا کر لے گئے ، بھارتی فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت نے یہ جھوٹا بیان داغ ڈالا کہ ”ہم نے وادی نیلم (آزاد کشمیر ) میں قائم دہشت گردوں کے کیمپوں پر حملہ کرکے اُنہیں اُڑا دیا ہے۔” پاکستان نے ترنت اس کا جواب دیتے ہُوئے اس الزام کی تردید بھی کی اور بھارت کو چیلنج کیا کہ اگر وہ اپنے دعوے میں سچا ہے تو پاکستان آ ئے اور خود اُس مقام کی نشاندہی کرے کہ کہاں ہیں وہ دہشت گردوں کے کیمپ ؟ بھارت نے مگر اس چیلنج کو قبول کرنے کی بجائے فرار کا راستہ اختیار کیا کہ جانتا تھا کہ وہ جھوٹا اور کذاب ہے ۔ پاکستان نے مگر جھوٹے کو اُس کے گھر تک پہنچانے کا شاندار فیصلہ کیا ۔پاکستان نے22اکتوبر کو بھارتی آرمی چیف کے جھوٹے دعوے کو بے نقاب کرنے اور اقوامِ عالم کو حقائق سے آگہی کے لیے اسلام آباد میں متعین غیر ملکی سفرا، ہائی کمشنرز اور میڈیا نمائندگان کو آزاد کشمیر میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے جورا سیکٹر کا دورہ کروایا ( جسے بھارت نے تازہ تازہ بمباری کا ہدف بنایا ہے ) ۔ تاہم پاکستان میں متعین بھارتی ناظم الامور گورو اہووالیا ان سفرا کے ساتھ ایل او سی نہیں آئے۔یہ دورہ کرنے والے غیر ملکی سفیروںکے ہمراہ پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل بھی موجود تھے۔اس دورے کے دوران غیر ملکی سفیروں اور ہائی کمشنروں نے ان مقامات کا جائزہ لیا جنہیں بھارتی اشتعال انگیزی سے نقصان پہنچا تھا جبکہ ان ہتھیاروں کا بھی معائنہ کیا جو بھارتی افواج نے بلا اشتعال فائرنگ کے دوران شہری آبادی پر داغے تھے۔ایل او سی کے دورے کے دوران پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ( آئی ایس پی آر) کے ڈی جی میجر جنرل آصف غفور کی جانب سے غیر ملکی سفرا اور میڈیا نمائندگان کو بریفنگ دی گئی۔اپنے دورے میں غیر ملکی سفارتکار جورا بازار بھی گئے، جہاں وہ مقامی آبادی اور دکانداروں سے ملے اور انہوں نے خود دکانوں اور گھروں کو پہنچنے والے نقصانات کا جائزہ لیا، جن کے بارے میں بھارت لانچ پیڈز کا دعویٰ کررہا تھا جبکہ حقیقت میں یہ تمام شہری ہیں جنہیں بھارت کی جانب سے نشانہ بنایا گیا۔قبل ازیں آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل نے ایک ٹوئٹ بھی کی تھی جس کے الفاظ یوں تھے :” کتنا اچھا بھارتی ہائی کمیشن ہے جو اپنے آرمی چیف کے ساتھ ہی کھڑا نہیں ہوسکتا؟ بھارتی ہائی کمیشن کے عملے میں اخلاقی جرات نہیں کہ وہ پاکستان میں ساتھی سفرا کے ساتھ ایل او سی جائیں، تاہم غیر ملکی سفرا اور میڈیا کا ایک گروپ ایل او سی جارہا ہے تاکہ وہ زمینی حقائق دیکھ سکے۔”بھارتی سفارتخانے نے ڈی جی آئی ایس پی آر کی پیش کش کا جواب بھی نہیں دیا۔ یہ چیز اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ بھارت کے پاس اپنے آرمی چیف( جنرل بپن راوت) کے جھوٹے دعووں کی حمایت کرنے کے لیے کوئی زمینی حقائق موجود نہیں ہیں ۔ میجر جنرل آصف غفور نے یہ بھی کہا تھا: ”بھارت کے پاس اپنے آرمی چیف کے جھوٹے دعوے کو سچ کہنے کا جواز نہیں، اگر وہ دورہ نہیں کرنا چاہتے تو ہمارے دفتر خارجہ سے جگہ کی لوکیشن شیئر کر لیں ۔ہم غیر ملکی سفارت کاروں اور میڈیا کو ان مقامات پر لے جائیں گے اور دنیا کو دکھائیں گے کہ زمینی حقائق کیا ہیں”۔پاکستان کے ان مطالبات اور (آئی ایس پی آر کی قیادت میں) اقدامات نے درحقیقت بھارتی جھوٹوں کو دُنیا پر ننگا کر دیا ہے ۔ یہ جرأتمندانہ قدم وہی شخص یا ادارہ یا ملک اُٹھاسکتا ہے جو صداقت پر مبنی زمین پر مضبوطی سے کھڑا ہو ۔ ان اقدامات پر ہم آ ئی ایس پی آر اور پاکستان کی وزارتِ خارجہ کو مبارکباد پیش کرتے ہیں کہ اُنہوں نے آزاد کشمیر میں بھارتی بمباری کی جگہوں پر غیر ملکی سفارتکاروں کو لے جا کر بہادری سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ثابت کر دیا ہے ۔ بھارت اب اقوامِ عالم کے سامنے شرمندگی اور ندامت سے منہ چھپاتا پھر رہا ہے ۔ دوسری جانب مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ کشمیر کاز کو وطنِ عزیز کی ہنگامہ خیز سیاست نقصان پہنچا رہی ہے ۔ مولانا فضل الرحمن اپنا قول اور عہد نبھانے کے چکر میں آج 27اکتوبر کو اسلام آباد میں یلغار کرنے آ رہے ہیں ۔ حکومت نے اُن کی ڈنڈہ بردار ذیلی تنظیم ”انصار الاسلام” پر پابندی عائد کر دی ہے ۔ ساتھ ساتھ پی ٹی آئی کی حکومت اُن سے صلح کرنے کیلئے کوششیں بھی کررہی ہے لیکن مولانا صاحب مان نہیں رہے ۔ وہ حکومتی مذاکراتی ٹیم سے کہہ رہے ہیں:” ہمیں مذاکرات سے انکار نہیں ہے لیکن مذاکراتی ٹیم اپنے ساتھ وزیر اعظم کا استعفیٰ لے کر آئے ۔” اور وزیر اعظم عمران خان گرج کر کہہ رہے ہیں کہ استعفے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اب اُلجھی گتھی سلجھے تو بھلا کیونکر؟؟


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.