Daily Taqat

نامور برطانوی پاکستانی نژاد سیاستدان کیخلاف ہندوؤں اور یہودیوں کا اکٹھا وار

جناب لارڈ نذیر احمد برطانیہ کے نامور سیاستدان رہے ہیں ۔اُن کا آبائی تعلق آزاد کشمیر سے ہے ۔ سخت محنت اور کمٹمنٹ کے بعد وہ برطانوی سیاست کا ایک بڑ نام بنے اور برطانوی ہاؤس آف لارڈز کے رکن منتخب کئے گئے ۔ برطانوی معاشرے، سماج اور سیاست میں اُنہوں نے زیر استبداد طبقات کے حق میں آواز اُٹھا کر اہم اور منفرد نام پیدا کیا۔ یہی اُن کا تشخص ہے ۔ دُنیا بھر کے مظلوم افراد کیلئے وہ ایک اُمید کا پیام ہیں ۔ اُنہوں نے برطانوی پارلیمنٹ میں بیٹھ کر مظلوم روہنگیا مسلمانوں ، مظلوم فلسطینیوں اور مظلوم کشمیریوں کے حق میں جرأت مندانہ انداز میں بھرپورآواز اُٹھائی ۔ اُن کی آواز سے بھارتی ہندوؤں اور اسرائیلی یہودیوں کے دل دہل سے گئے اور اُنہوں نے لارڈ نذیر احمد کے خلاف محاذ آرائیاں شروع کر دیں تاکہ اس آواز کو کسی طرح خاموش کیا جا سکے ۔ بھارت کی کئی ہندو نواز اور اسرائیل کی کئی یہود نواز لابیاں پوری طاقت سے کئی برسوں سے اُن کے خلاف بروئے کار ہیں ۔ ان کی کوشش ہے کہ کسی طرح لارڈ نذیر احمد کو برطانیہ میں بے توقیر کیا جائے ۔ ہم سب جانتے ہیں کہ مغربی معاشروں میں کسی بھی سیاستدان یا معروف شخصیت کو گرانے اور ذلیل کرنے میں میڈیا بنیادی کردار ادا کرتا ہے ۔ چنانچہ برطانوی اور کئی مغربی ممالک کے میڈیا میں لارڈ نذیر احمد کی کردار کشی کے کئی محاذ کھول دئیے گئے ۔ ان سب کی پشت پناہی ہندو اور یہودی لابیاں کررہی تھیں ۔ اور یہ تو ہم سب ہی جانتے ہیں کہ مغربی معاشروں اور سماج میں یہودیوں کو میڈیا میں بالادستی حاصل ہے ۔ ہر میڈیائی ونگ یہودیوں کی گرفت میں نظر آتا ہے ؛ چنانچہ برطانوی شہریوں نے دیکھا کہ دیکھتے ہی دیکھتے لارڈ نذیر احمد کے خلاف برطانوی میڈیا میں کردار کشی کی کئی کہانیاں منظرِ عام پر آنا شروع ہو گئیں ۔ اخبارات اور نجی ٹی وی بڑھ چڑھ کر یہ کہانیاں شائع کرنے لگے تھے ۔ ان کہانیوں میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ لارڈ نذیر احمد نے پچاس برس قبل دو کمسن لڑکوں کے ساتھ جنسی زیادتیوں کی کوشش کی تھی ۔ یہ بھی پرپیگنڈہ کیا گیا کہ لارڈ نذیر احمد نے ایک مسلمان خاتون کے ساتھ بھی زبردستی جنسی تعلق قائم کیا ہے ۔ ان تعلقات کی پوری طاقت سے تشہیر کی گئی ۔ حیران کن بات یہ تھی کہ ایسے مقدمات کو بنیاد بنایا گیا جن کا تعلق نصف صدی قبل سے تھا۔ مقصد یہ تھا کہ برطانیہ کے ایک ایسے مسلمان سیاستدان کو منظر سے ہٹا دیا جائے جو کشمیریوں، روہنگیوں اور فلسطینیوں کے حقوق کی بات کرتا ہے اور بیک وقت بھارت اور اسرائیل کیلئے شرمندگی کا باعث بن رہا ہے ۔ان پرپیگنڈہ مہمات کا کوئی نہ کوئی نتیجہ تو نکلنا ہی تھا؛ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ جنوری2022ء کے پہلے ہفتے ایک برطانوی عدالت نے انہی مقدمات کے صلے میں لارڈ نذیر احمد کو سزا سنا دی ۔ یہ ایک بڑی خبر تھی اور اس خبر سے ہندوؤں اور یہودیوں کے کلیجے میں ٹھنڈ پڑ گئی ۔ پاکستان میں بھی یہ خبر افسوس اور رنج کے ساتھ سُنی گئی ۔ لارڈ نذیر احمد نے اس سزا اور الزامات کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے ۔ اس سزا کے سنائے جانے سے پہلے ہی ایسی خبریں آرہی تھیں کہ پاکستانی نژاد برطانوی لارڈ نذیر احمد نے ٹوئٹ میں بتایا تھا کہ وہ 20 سال کی خدمات کے بعد یوکے ہاؤس آف لارڈز میں اپنے عہدے سے دستبردار ہوگئے ہیں اور اس کے ایک دن بعد برطانوی ایوان بالا کے ذریعے شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ کنڈکٹ کمیٹی نے جنسی بدسلوکی کے سلسلے میں کی گئی انکوائری کے بعد لارڈ نذیر احمد کو ملک سے نکالنے کی سفارش کی ہے۔ اخبار ی رپورٹ کے مطابق: اس فیصلے کی نشاندہی کی گئی ہے کہ پہلی بار اتنے اہم مرتبے پر فائض کسی شخص کو ملک بدر کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔گزشتہ دنوں شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لارڈ نذیر احمد نے اپنی پارلیمنٹ کی سرگرمیوں کے سلسلے میں اپنے ذاتی اعزاز پر عمل کرنے میں ناکام رہتے ہوئے عوام کی مدد کے لیے برطانوی ایوان کے رکن کی حیثیت سے اپنے عہدے کے استعمال پر رضامندی ظاہر کر کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی، شکایت کنندہ کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانا، معالج و عامل کے ہاتھوں زیادتی کا شکار شکایت کنندہ سے جھوٹ بولا کہ وہ اس استحصال سے متعلق میٹروپولیٹن پولیس کو شکایت کرنے میں ان کی مدد کریں گے، شکایت کنندہ کو جذباتی اور جنسی طور پر جاننے کے باوجود جنسی استحصال کا نشانہ بنایا گیا۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ کمشنر کے سامنے یہ بات بھی آئی کہ لارڈ نذیر احمد جانتے تھے کہ وہ ایک کمزور شخص کے ساتھ معاملہ کر رہے ہیں جو پریشانی اور افسردگی کا علاج کرا رہا تھا اور جس نے پہلے ہی واضح کردیا تھا کہ وہ جنسی تعلقات نہیں چاہتی تھی، بہرحال انہوں نے گمراہ کرتے ہوئے ہاؤس آف لارڈز کے رکن کی حیثیت سے مدد کی پیش کش کے بہانے اسے اپنے گھر پر ملنے کے لیے اکسایا۔برطانوی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق 43 سالہ طاہرہ زمان نے تین سال قبل اس اُمید پر لارڈ نذیر سے رابطہ کیا تھا کہ وہ ایک برطانوی مسلمان معالج و عامل کے خلاف پولیس کی تفتیش میں ان کی مدد کریں گے جسے وہ خواتین کے لیے خطرہ سمجھتی تھیں۔طاہرہ زمان نے بی بی سی کو بتایا کہ لارڈ نذیر نے بار بار انہیں عشائیے پر طلب کیا اور آخر کار وہ راضی ہو گئیں۔کئی ہفتوں بعد جب انہوں نے اس کیس کے سلسلے میں ان سے رابطہ کیا تو انہوں نے خاتون کو مشرقی لندن کے گھر آنے کو کہا، دونوں کا اتفاق رائے سے جنسی تعلق قائم ہوا تھا ؛تاہم انہوں نے کہا میں مدد کی تلاش میں تھی اور انہوں نے میرا فائدہ اٹھایا، انہوں نے اپنی طاقت کا غلط استعمال کیا۔لارڈ نذیر کا تعلق آزاد کشمیر سے ہے اور انہیں 1998 میں وزیر اعظم ٹونی بلیئر کی سفارش پر لائف پیئر بنایا گیا تھا۔ان کی متعدد سیاسی سرگرمیاں برطانیہ اور بیرون ملک مسلم برادری کی وکالت سے متعلق ہیں، ٹوئٹر پر وہ خود کو ‘کشمیریوں کے لیے مہم چلانے والا’ اور ایوان میں ‘تاحیات مقرر کردہ پہلے مسلمان رکن’ کے طور پر بیان کرتے ہیں، انہوں نے 2013 میں لیبر پارٹی سے استعفیٰ دے دیا تھا۔وہ 2018 کے عام انتخابات میں کامیابی کے بعد وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کے لیے پاکستان آئے تھے، دونوں نے عالمی سطح پر پاکستان کے تعلقات کو بہتر بنانے کے طریقہ کار پر تبادلہ خیال کیا تھا۔انکوائری رپورٹ میں کمیٹی کے سربراہ نے مشاہدہ کیا کہ لارڈ نذیر اپنی ملاقاتوں کے درمیان طاہرہ زمان کی مدد کے لیے کوئی اقدام نہیں کررہے تھے البتہ اس نے انہیں اس بات پر یقین کرنے کی ترغیب دی کہ وہ کررہے ہیں۔کمشنر نے مزید کہا کہ اہم معاملات پر لارڈ نذیر احمد نے طاہرہ زمان کے ساتھ اپنے سلوک کو چھپانے کے لیے جان بوجھ کر غلط اور گمراہ کن بیانات دیے، سمجھتا ہوں کہ اس طرح سے وہ میری تحقیقات میں حقیقی طور پر تعاون کرنے میں ناکام رہے، جیسا کہ ثبوتوں سے ظاہر ہے کہ اپنی ذاتی ساکھ کے مطابق عمل کرنے میں ناکام رہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ اگرچہ لارڈ نذیر نے شکایت کنندہ کے ساتھ مختصر تعلقات رکھنے کا اعتراف کیا لیکن انہوں نے یہ قبول نہیں کیا کہ انہوں نے ضابطہ اخلاق کی کوئی بھی خلاف ورزی کی ہے۔پچھلے سال ایک بیان میں انہوں نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ میں اس الزام کی مکمل طور پر تردید کرتا ہوں کہ میں نے عوام کے کسی شخص سے نامناسب تعلقات قائم کرنے کے لیے اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا یا یہ کہ میں نے ذاتی یا پیشہ ورانہ حیثیت میں خواتین کی موجودگی میں غیر مناسب عمل کیا ہے۔ایک الگ کیس میں سنہ 2019 میں لارڈ نذیر اور ان کے دو بھائیوں پر کم سن بچوں سے جنسی جرائم کا الزام عائد کیا گیا تھا، ملزمان نے تمام معاملات میں قصوروار نہ ہونے کی استدعا کی تھی۔لارڈ نذیر پر 11 سال سے کم عمر کے لڑکے کے خلاف سنگین جنسی زیادتی اور اسی لڑکے کے ساتھ بدتمیزی کا الزام لگایا گیا تھا، 16 سال سے کم عمر لڑکی سے دو مرتبہ زیادتی کی کوشش کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں، یہ تمام الزامات 1971 سے 1974 کے درمیان کی تاریخ سے متعلق ہیں۔ان کے بھائی محمد فاروق پر ایک لڑکے سے چار مرتبہ نامناسب رویہ اختیار کرنے کا الزام لگایا گیا تھا، ان شمارات میں سے ایک کا تعلق 1960 کی دہائی کے آخر سے ہے جب یہ لڑکا 8 سال سے کم عمر کا تھا، ان کے دوسرے بھائی محمد طارق پر 11 سال سے کم عمر کے لڑکے کے خلاف دو بے بنیاد حملے کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔اس مقدمے کی سماعت گذشتہ سے پیوستہ سال جنوری میں شروع ہونا تھی لیکن جیوری کے مقدمات میں کووڈـ19 کی پابندیوں کی وجہ سے اسے جنوری 2021 میں دوبارہ سماعت تک کے لیے ملتوی کردیا گیا۔لارڈ نذیر احمد اُن برطانوی مسلمان سیاستدانوں میں شمار کئے جاتے ہیں جنہوں نے برطانیہ میں بیٹھ کر مظلوم فلسطینی اور زیر استبداد مقبوضہ کشمیریوں کی کھل کر حمائت کی اور کبھی اس بارے میں بین السطور لہجہ اختیار نہیں کیا۔ اسی احساس و جذبات کے تحت اُنہوں نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی اُس وقت بھی مخالفت کی تھی جب وہ برطانیہ کے دَورے پر آئے تھے کہ مودی جی کے کشمیریوں پر مظالم سب سے سوا ہیں ۔ اس حوالے سے اپریل 2018ء کو ایک خبر یوں آئی تھی:” بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے آئندہ چند روز میں برطانیہ کے دورے کے پیش نظر برطانوی ہاؤس آف لارڈز کے پاکستانی نژاد رکن لارڈ نذیر احمد کا کہنا تھا کہ وہ بھارتی وزیر اعظم کے خلاف مہم میں شرکت کریں گے۔کراچی پریس کلب میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم 17 اپریل کو نریندر مودی کے برطانیہ آمد سے دو روز قبل مہم کا آغاز کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ اس پیش رفت کے پیچھے ہمارا مقصد بھارتی فورسز کی جانب سے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں کارروائیوں پر احتجاج ریکارڈ کرانا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس مہم میں لندن کی ڈبل ڈیکر بسوں، گیس کے بلوں اور ٹی شرٹس پر پوسٹرز آویزاں کیے جائیں گے”۔لارڈ نذیر احمد نے کہا :” برطانیہ میں مقیم سکھ برادری نے بھی اس مہم کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ اب تک کسی نے بھی اس مہم کے لیے فنڈز نہیں دیئے اور ان کے بینک اکاؤنٹس کو چیک کیا جاسکتا ہے جس کی وجہ سے وہ صرف مہم کی رہنمائی کر رہے ہیں۔ کشمیر ان کا گھر ہے اور اس نے نریندر مودی کے حکومت میں آنے کے بعد سے بھارتی سیکیورٹی اداروں کی جانب سے تشدد کارروائیوں میں بڑا اضافہ دیکھا گیا ہے۔مجھے غیر مسلح اور امن پسند جدوجہد پر اعتماد ہے تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ عوام بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں بھارتی مظالم پر خاموش رہیں”۔انہوں نے آرگنائزیشن آف اسلامک کانفرنس (او آئی سی) سے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ او آئی سی کشمیر میں ہونے والے واقعات پر خاموش ہے۔انہوں نے بین الاقوامی برادری کو معاملے پر خاموشی اختیار کرنے پر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایسی خاموشی ظلم اور ظالم کی حمایت کے مترادف ہے۔لارڈ نذیر نے کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کے کردار پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان نے کشمیر کے معاملے پر موثر کردار ادا نہیں کیا کیونکہ گزشتہ 4 سالوں میں ملک میں کوئی وزیر خارجہ ہی نہیں تھا اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے اس معاملے پر صرف ایک مرتبہ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں بات کی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے سربراہان کی جانب سے کوئی موثر اقدامات سامنے نہیں آئے اور اس طرح کے رویے سے کشمیر کا معاملہ حل نہیں ہوسکتا۔ لارڈ نذیر احمد کے خلاف سزا سنائے جانے سے برطانوی مسلمان کمیونٹی کے دل بیٹھ گئے ہیں ۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »