Daily Taqat

نہ مَیں گرا نہ میری اُمیدوں کے مینار گرے!!

کوئی بد بخت ہی ہوگا جو اپنے ملک کی خیر خواہی نہیں چاہے گا، جواپنے وطن کی ترقی اور بڑھوتری پر خوش نہیں ہو گا۔ ہم اللہ کریم کے شکر گزار بندے ہیں کہ اُس نے اپنی بے پایاں عنائتوں سے ہمیں اُن افراد کی صف میں شامل کررکھا ہے جو ہمیشہ اپنے وطن کے خیر خواہ رہتے ہیں ، خواہ حالات کیسے ہی کیوں نہ ہو جائیں اور حکمران خواہ کیسی ہی روش اختیار کیوں نہ کر لیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی آخری کتاب قرآن شریف میں قلم کی قسم کھائی ہے ، جس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ وہ لوگ جن کے ہاتھوں میں قلم ہے، اُن پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی بھاری ذمہ داریاں عائد ہو جاتی ہیں ۔

یعنی قلم کے حاملین کو نہائت حساس ذمہ داریاںاور نازک فرائض ادا کرنا پڑتے ہیں ۔ شائد اِسی لئے صحافت کو ایک مقدس پیشہ بھی کہا جاتا ہے جس میں بہت سی مشکلات ، رکاوٹوں اور آزمائشوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے ۔ یہ آزمائشیں مگر اُن صحافیوں کا مقدر بنتی ہیں جنہوں نے حق اور سچ کا پرچم تھام رکھا ہو ۔ الحمد للہ، ہم نے یہ پرچم پوری تندہی اور طاقت کے ساتھ نواز شریف کے سبھی ادوار میں بھی تھامے رکھا ، بے نظیر بھٹو کے دورِ اقتدار میں بھی اور اب عمران خان کے نئے دَور میں بھی تھامے ہُوئے ہیں ۔

ہم صمیمِ قلب سے بجا سمجھتے ہیں کہ عمران خان کی شکل میں اللہ نے پاکستان اور پاکستانی عوام کو ایک لاثانی تحفے سے نوازا ہے ۔ وہ کرپٹ ہے نہ بددیانت ۔اُس کی سیاسی زندگی کا آئینہ صاف ہے ۔اُس کی سادگی ہی میں جمال ہے ۔ وہ اب تک بطورِ وزیر اعظم پاکستان دُنیا کے جس ملک میں بھی سرکاری دَورے پر گیا ہے، سادہ لباس ہی میں جلوہ گر ہُوا ہے اور ہر جگہ اسی قومی لباس میں اُس کا استقبال پورے احترام و اکرام سے کیا گیا ہے ۔ اللہ کا شکر ہے کہ اُس نے انگریزی زبان میں فی البدیہ ہر عالمی فورم پر پورے اعتماد کے ساتھ پاکستان کا نقطہ نظر پیش کیا ہے ۔11فروری کو اُنہوں نے دبئی میں سینکڑوں ماہرینِ معیشت، سرمایہ کاروں اور عالمی حکمرانوں کی موجودگی میں ”ورلڈ گورنمنٹ سمٹ”سے خطاب کرتے ہُوئے جو گفتگو کی ہے، سامعین میں سے ہر شخص کا دل اُنہوں نے موہ لیا ہے۔

ہمیں اس معرکہ خیز خطاب پر روحانی خوشی ہُوئی ہے کہ ہمارا کوئی منتخب حکمران پورے قد کے ساتھ کھڑا ہو کر اپنے ملک کی صحیح تر تصویر بھی پیش کر سکتا ہے اور دلائل و براہین سے لوگوں کو باور بھی کروا سکتا ہے کہ پاکستان اب ایک پُرامن ملک ہے، آپ آئیے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان میں سرمایہ کاری کیجئے۔ ہم اللہ کے فضل و کرم سے اپنے ملک کے اُن اخبار نویسوں اور تجزیہ کاروں میں ہر گز شامل نہیں ہیں جو عمران خان کے خلاف ادھار کھائے بیٹھے ہیں ۔ ہم عمران خان کو ہر جگہ تیزی سے کامیاب ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں ۔اُن کی کامیابی دراصل ملک اور ہر پاکستانی کی کامیابی ہے۔

ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اگر عمران خان کو اپنے سابقہ وعدوں کے برعکس کسی عالمی مالیاتی ادارے سے امداد لینا پڑ رہی ہے تو اس کی وجہ بھی جینوئین ہو گی ۔ جیسا کہ اُن کا حالیہ ایام میں آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ پیکج لینے کی کوشش کرنا۔

یہ درست ہے کہ ماضی قریب میں وہ یہ بات بلند آہنگ سے کہتے رہے ہیں کہ اقتدار میں آ کرکبھی آئی ایم ایف کے دروازے پر دستک نہیں دُوں گا۔ہماری اپوزیشن جماعتیں اور نام نہاد دانشور عمران خان کو یہ وعدہ یاد دلا کر اپنے تئیں شرمندہ کرنا چاہتے ہیں اور اُنہیں بددل کرنے کی سعی کررہے ہیں ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ایک شرمناک ، بہیمانہ اور ملک دشمن پروپیگنڈہ ہے ۔یہ دشمنانِ ملک وقوم دراصل اپنے مکروہ پروپیگنڈے سے عمران خان کو گرانے کی اپنی سی کوششیں کررہے ہیں لیکن عمران خان نہ گرے گا اور نہ ڈگمگائے گا۔ انشاء اللہ۔ عمران خان صاحب تو شاعر کی زبان میں اپنے حریفوں اور بدخواہوں کو للکارتے ہُوئے یوں سنائی دے رہے ہیں:

نہ مَیں گرا نہ میری اُمیدوں کے مینار گرے
پر کچھ لوگ مجھے گرانے میں کئی بار گرے!!

پچھلے حکمرانوں نے اس بدقسمت ملک کو اس وحشت اور درندگی سے نچوڑا اور چچوڑا ہے کہ اس کی روح ہی فنا کر دی گئی ہے ۔ ان سابقہ حکمرانوں نے اپنے گھر اور پیٹ تو بھر لئے لیکن ملک اور عوام کو کنگال اور بے حال کر دیا۔ خان صاحب کو اِنہی بد بخت سابقہ حکمرانوں کی بدکاریوں اور بد معاشیوں کی بدولت خزانہ خالی ملا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کو خود ہی دبئی میں آئی ایم ایف کی مینجنگ ڈائریکٹر کرسٹین لیگارڈ سے ملاقات کرنا پڑی ہے اور ہماری بے شرم حزبِ اختلاف کی سفاکی اور بہیمیت کا عالم یہ ہے کہ اُنہوں نے مل کر عمران خان کی اس ملاقات کا ٹھٹھہ اُڑانے کی جسارت کی ہے ۔

ہم اس بد عنوان اور بد نیت اپوزیشن کی مذمت کئے بغیر یہ کہنا چاہتے ہیں کہ جب ملک کو غیر معمولی حالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہو تو پھر ملک کے منتظمِ اعلیٰ ہی کو غیر معمولی اقدامات کرنا پڑتے ہیں ۔ اِسی لئے تو عمران خان کو نجی حیثیت میں آئی ایم ایف کی مینجنگ ڈائریکٹر کرسٹین لیگارڈ سے ملنا پڑا ہے ۔

یہ ملاقات ثمر آور ثابت ہونے والی ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان کو آئی ایم ایف کے پاس قطعی نہ جانا پڑتا اگر پچھلے حکمران اس ملک کی معیشت کا بیڑہ غرق کرکے نہ رخصت ہوتے ۔ یہ درست ہے کہ عمران خان نے اقتدار سے باہر رہ کر متعدد بار آئی ایم ایف کے پاس کبھی نہ جانے کا عہد کیا تھا لیکن اُنہیں اور اُن کی ٹیم کو معلوم نہیں تھا کہ نواز شریف اور اُن کا مقتدر ٹولہ کس بھیانک طریقے سے مملکتِ خداداد کی معاشی جڑیں کھوکھلی کر چکا ہے اور کک بیکس کی شکل میں کس مہلک انداز میں سارا پیسہ دساور بھجوا چکا ہے ۔ اگر عمران خان کو اصل حقائق کا علم ہوتا تو وہ کبھی مذکورہ بیانات جاری نہ کرتے ۔ اُن کی آنکھیں تو اُس وقت حیرت سے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں جب اُنہوں نے اقتدار کی باگ ڈور سنبھالی اور خزانہ خالی پایا۔ اصل بات یہ ہے کہ شریف خاندان نے بڑی ہوشیاری اور مکاری سے پوری قوم کو اندھیرے میں رکھا ۔ اس اندھیرے میں اُن صحافیوں نے بھی اضافہ کیا جو نواز شریف کے قرب میں بیٹھ کر ذاتی مفادات سمیٹتے رہے اور صِلے میں قلم اور زبان سے قوم کے سامنے کذب گوئی سے کام لیتے رہے ۔

ان جرائم پیشہ اخبار نویسوں نے کبھی قوم کو اصل حقائق سے آگاہ ہی نہ کیا۔ اصل قصور وار اسحق ڈار بھی ہے جو خزانے پر سانپ بن کر بیٹھا رہا اور قوم کو دھوکہ دیتا رہا۔ ایسے میں عمران خان امداد کیلئے کبھی سعودیوں ، کبھی چینیوں اور کبھی ابو ظہبی کے حکمرانوں کے سامنے کشکول نہ بڑھاتا تو پھر کیا کرتا؟حکومت چھوڑ دیتا؟ یہی تو سابقہ حکمران ٹولہ چاہتا تھا لیکن عمران خان جرأت سے کھڑا ہے اور کوشش کررہا ہے کہ قومی معیشت کو اپنے پاؤں پر استوار کردے ۔

یہ انتہائی مشکل راستہ ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے (موڈیز وغیرہ)پاکستان کی معاشی ریٹنگ بھی کم درجے پر لے جا چکے ہیں ۔ اس مایوسی کے باوصف عمران خان کی بھاگ دوڑ جاری ہے ۔ اُن کا آئی ایم ایف کی مینجنگ ڈائریکٹر سے ملنا بھی اِسی بھاگ دوڑ کا حصہ تھا ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مناسب تو یہ تھا کہ آئی ایم ایف کی اس خاتون سے وزیر خزانہ اسد عمر ملاقات کرتے اور معاملات سنبھالتے ۔ لیکن ایسا نہیں ہو سکا ہے ۔ راز دانِ درونِ پردہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی معاشی حالت اسقدر دگرگوں اور نازک ہے کہ آئی ایم ایف سے امداد کیلئے براہِ راست ہمارے وزیر اعظم کا ملنا ناگزیر ہو گیا تھا۔

اِس بیک گراؤنڈ میں اگر اسد عمر ، کرسٹین لیگارڈ سے ملتے تو شائد نتائج توقعات کے مطابق نہ نکلتے ؛ چنانچہ اس منظر میں وہ لوگ جو اسد عمر بارے انگشت نمائی کررہے ہیں ، محض پی ٹی آئی حکومت کے خلاف حسد اور بغض کے سوا کچھ نہیں ۔اپوزیشن دراصل اسد عمر کے خلاف زبان درازی کرکے وزیر اعظم کو نقصان پہنچانے کے درپے ہے ۔ عمران خان اس چال کو بخوبی سمجھتے ہیں ، اسی لئے اُنہوں نے اسد عمر کے خلاف ابھی تک کوئی ایک لفظ بھی ادا نہیں کیا ہے ۔اُن کی ساری توجہ ملکی معیشت کو سنبھالا اور سہارا دینے میں لگی ہے ۔ پاکستان کے دور وزہ دَورے پر تشریف لانے والے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی طرف بھی اُن کی ساری توجہات مبذول اور مرتکز ہیں ۔

سعودی ولی عہد نے جناب عمران خان کو دورئہ سعودیہ کے دوران جس عزت و احترام سے نوازا اور مالی طور پر اُن کی دستگیری کی ، انکا تقاضا ہے کہ اب پاکستان کی طرف سے بھی اُنہیں بھرپور اور ہر ممکنہ پروٹوکول سے نوزا جائے ۔ یہ سفارتی آداب اور اخلاقیات کا بھی تقاضا ہے ۔ سعودی ولی عہد سعودی بادشاہ جناب شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے بعد سعودی عرب کی سب سے طاقتور شخصیت ہیں ۔وہ ولی عہد ہونے کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کے وزیر دفاع بھی ہیں ۔ یوں اُن کا دَورئہ پاکستان ہمارے لئے کئی جہتوں میں نہائت اہمیت کا حامل ہے ۔ پاکستان کو یہ زریں موقع ضائع نہیں کرنا چاہئے۔ اُن کی آمد سے قبل سعودی وزیر اطلاعات بھی پاکستان آئے اور سعودی عرب میں اسلامی فوجی اتحاد کے سربراہ جنرل (ر) راحیل شریف بھی اہم سعودی وفد کے ساتھ پاکستان آئے ہیں ۔ راحیل شریف نے وزیر اعظم پاکستان، وزیر خارجہ اور آرمی چیف سے بھی مفصل ملاقاتیں کی ہیں ۔ گویا سعودی ولی عہد کے پاکستان پہنچنے سے پہلے زمین اچھی طرح ہموار کی گئی ہے ۔ یہ سب مناظر اور عوامل پاکستان کی معیشت اور دفاع کیلئے نہائت اہم خیال کئے جارہے ہیں ۔ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ جب سعودی وزیر دفاع کی حیثیت میں بھی شہزادہ محمد بن سلمان ہمارے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کریں گے تو اس کے مثبت اثرات کہاں تک پہنچیں گے ۔

اس امر کے بھی امکانات ہیں کہ سعودی عرب جانے کی تیاری کئے بیٹھے پاکستان آرمی کے 1480فوجی دستوں کو سعودیہ پہنچنے کی باقاعدہ اجازت مرحمت ہو جائے ۔ سعودی عرب میں پہلے ہی پاکستان آرمی کے 1680 ٹروپس سعودیوں کو تربیت دینے کی غرض سے متعینہ خدمات انجام دے رہے ہیں ۔پاکستان آرمی کی اکیڈمی(کاکول) میں بھی کئی سعودی ملٹری کیڈٹس تربیت حاصل کررہے ہیں ۔ یہ مناظر دراصل پاک، سعودی ملٹری تعلقات کی مضبوط کہانی بھی سناتے ہیں ۔ پاکستان کا تیار کردہ ”الخالد” ٹینک کا نام دراصل سابق سعودی فرمانروا شاہ خالد مرحوم کے نام پر رکھا گیا ہے۔

ہم اُمید کرتے ہیں کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی پاکستان آمد پاکستان اور سعودی عرب کیلئے مبارک اور مسعود ثابت ہوگی ۔ شنید ہے کہ سعودی ولی عہد وزیر اعظم عمران خان سے مل کر 15ارب ڈالر کے معاہدوں پر دستخط کریں گے ۔ یقینا اس عمل سے پاکستان کی اقتصادی اور صنعتی حالت میں جوہری مثبت تبدیلیاں دیکھنے کو ملیں گی ۔ خوشحالی کا ایک نیا دَور شروع ہوگا۔یہ دَورہ سعودی عرب کی سی پیک میں باقاعدہ شمولیت کا نقطہ آغاز بھی بن جائے گا۔ پاکستان اور چین نے سعودی عرب کے اس فیصلے کو خوشدلی سے قبول کیا ہے ۔ اگرچہ اس فیصلے سے امریکیوں اور بھارتیوں کے پیٹ میں حسد سے مروڑ بھی اُٹھ رہے ہیں ۔ سعودی شہزادے کی اِس آمد سے قبل رُوسیوں نے بھی پاکستان میں 15ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے ۔ یہ سرمایہ کاری خالصتاً توانائی کے شعبے میں ہو گی ۔

ہم تصور کی آنکھ سے دیکھ سکتے ہیں کہ جب سعودیوںاور روسیوں کی پاکستان میں مجموعی طور پر تقریباً چالیس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوگی تو پاکستانی معیشت کی ترقی کی رفتار کا عالم کیا ہو گا۔ یقینا وزیر اعظم عمران خان عالمِ اسلام کے مرکزی لیڈر کی حیثیت میں اُبھر رہے ہیں ۔ افسوس کی بات مگر یہ ہے کہ سعودی ولی عہد کی پاکستان تشریف آوری کے موقع پر اپوزیشن نے شہباز شریف کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرمینی کے حوالے سے طوفانِ بد تمیزی برپا کررکھا ہے ۔ہم واضح کئے دیتے ہیں کہ شہباز شریف خود اور اُن کا یہ عہدہ پاکستانیوں کا مسئلہ نہیں ہے لیکن اتنا ضرور ہے کہ اس عہدے پر کسی اعلیٰ کردار کے حامل ، کسی بے داغ شخصیت کو براجمان ہونا چاہئے ۔ بد قسمتی سے شہباز شریف اب اس کردار کے مالک نہیں رہے ۔ مزید بدقسمتی یہ بھی ہے کہ یہ عہدہ خود اِس حکومت کا عطا کردہ ہے ۔ حیرانی کی بات ہے کہ عمران خان نے اس بارے میں پہلے کیوں نہ غور فرمایا؟ لگتا تو یوں ہے کہ بعض فیصلے ایسے ہی الل ٹپ کئے جا رہے ہیں ۔

جیسا کہ وزیر اطلاعات فواد حسین چودھری صاحب کا یہ فیصلہ نما اعلان کہ” پیمرا” اور دیگر اطلاعاتی قوانین کی جگہ ”میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی” کے نام سے ایک نیا قانون سامنے لایا جارہا ہے جو ”سب سے نمٹے ” گا۔ الیکٹرانک میڈیا سے بھی ، پرنٹ میڈیا سے بھی اور سوشل میڈیا سے بھی ۔ وہ نئے قانون کے تحت ناپسندیدہ سوشل میڈیا کے خلاف ”کریک ڈاؤن” کرنے کا عندیہ دے رہے ہیں۔ آنجناب اعلان فرما رہے ہیں کہ وہ سوشل میڈیا پر منافرت پھیلانے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے والے ہیں۔ ہمیں حیرت اس بات پر ہے کہ جو لوگ ، گروہ اور تنظیمیں سوشل میڈیا پر پاکستان کے حساس اداروں کے خلاف بروئے کار ہیں اور سماج میں منافرت پھیلانے کا سبب بن رہے ہیں ، اُن سے تو موجودہ قوانین کے تحت وزیر اطلاعات نمٹنے سے عاری اور ناکام ہیں لیکن نئے مجوزہ قانون کی طاقت کے ساتھ وہ ناپسندیدہ عناصر سے کیسے اور کیونکر نمٹ سکیں گے؟ ہم سمجھتے ہیں کہ وفاقی وزیر اطلاعات اپنے بیانات اور اقدامات کی بنیاد پر عمران خان کی حکومت کیلئے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو رہے ہیں ۔ شک گزرتا ہے کہ کہیں یہ کسی کی ڈیوٹی پر تو نہیں ہیں؟ہمارے شک کی ایک بنیاد یہ بھی ہے کہ فواد چودھری نے اب تک بطورِو فاقی وزیر اطلاعات جتنے بھی اقدام کئے ہیں ، سب نے منفی نتائج پیدا کئے ہیں اور ان کا نقصان وزیر اعظم اور پی ٹی آئی کی حکومت کو اٹھانا پڑا ہے ۔

میڈیا اور حکومت کے درمیان فاصلے بڑھ گئے ہیں۔ ان صاحب کے فیصلوں کے کارن ملک بھر کے وہ صحافی بھی وزیر اعظم سے دُور ہٹ گئے ہیں جو اُن کے خیر خواہ رہے ہیں ۔ ایسے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ مجوزہ” میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی” بھی بروئے کار آ کر بالآخرجناب عمران خان ہی کیلئے وبالِ جان بن جائے گی ۔ اس اتھارٹی کا بوجھ بھی آخر کار وزیر اعظم عمران خان کے کندھوں پرآ گرے گا۔ ہم انتباہ یا وارننگ کے طور پر قبل از وقت ہی عرض کئے دیتے ہیں ۔ ماننا یا نہ ماننا حضور کی ثواب دید ہے !!
اسی اثناء میں یہ بد خبری آ گئی کہ کرپشن کے کئی کیسوں میں گرفتار شہباز شریف ضمانت پر رہا کر دیئے گئے

ہیں۔ چھوٹے میاں صاحب کو رہائی کا یہ ضمانتی پروانہ عین اس وقت ملا ہے جب سعودی ولی عہدپاکستان تشریف لا رہے ہیں۔ عدالتوں کے احکامات ہمارے سرآنکھوں پر لیکن تازہ فیصلے سے عوام کے دِل بُجھ سے گئے ہیں۔ کیا یہ ثابت نہیں ہوا کہ مبینہ کرپٹ طاقتوروں کو سزا دینا کس قدر دشوارہے؟ کیا محض اس لئے کہ ان کے پاس مالی وسائل بھی بے پناہ ہیں ، سیاسی طاقت بھی ہے اور دبائو کے حربے بھی۔

یہ ضمانت دراصل نیب کو دھچکا دیئے جانے کے بھی مترادف ہے۔ کیا ہم اُمید کریں کہ اب شہباز شریف کے پیچھے پیچھے کسی روز مجرم نواز شریف کو بھی رہائی کاپروانہ عطا ہونے والا ہے ؟ کسی نئے این آر او کی شکل میں!


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »