نہ جب تک کٹ مروں مَیں خواجہ بطحا خاتم النبیینۖ کی حرمت پر، خدا شاہد ہے کامل میرا ایماں ہو نہیں سکتا

عظیم عاشقِ رسول خاتم النبیینۖ اور بے مثل صحافی مولانا ظفر علی خان نے ہر مسلمان کے دل کی ترجمانی کرتے ہُوئے بجا فرمایا تھا
نماز اچھی، حج اچھا، روزہ اچھا، زکوٰة اچھی
مگر مَیں باوجود اس کے مسلماں ہو نہیں سکتا
نہ جب تک کٹ مروں مَیں خواجہ بطحا خاتم النبیینۖ کی حرمت پر
خدا شاہد ہے کامل میراایماں ہو نہیں سکتا !
مولانا ظفر علی خان نے بالکل درست کہا ہے ۔ سچ یہی ہے کہ حضور نبی کریم خاتم النبیینۖ سے محبت ہی ہمارے ایمان کا اہم ترین جزو ہے ۔ کوئی بھی مسلمان ، کسی بھی شکل میں، کہیں بھی اپنے رسول خاتم النبیینۖ کی شان میں گستاخی برداشت نہیں کر سکتا ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ خود کو مہذب کہلانے والا مغرب دریدہ دہنی کا مرتکب ہو کر اسلام اور پیغمبرِ اسلام خاتم النبیینۖ پر حملہ آور ہونے کی بار بار قابلِ مذمت کوشش کرتا ہے ۔اور ہر بار ہی دُنیا کا ہر مسلمان توہین کے مرتکب ان مغربیوں کے خلاف احتجاج کرتا ہے ۔ ڈھٹائی اور بے شرمی کا مگر یہ عالم ہے کہ کچھ عرصہ خاموش رہ کر مغربی ممالک میں پھر اسلام کے خلاف اقدام کئے جاتے ہیں ۔ کبھی دل آزار کتابیں لکھ کر ، کبھی توہین کی حامل فلمیں بنا کر اور کبھی خاکے شائع کرکے ۔ مغربی ممالک کو اچھی طرح معلوم ہے کہ مسلمان اپنے پیارے رسول خاتم النبیینۖ کی حرمت پر قربان ہونا جانتے ہیں لیکن سب کچھ جانتے ہُوئے مغربی معاشرہ اور اس کے دانشور اسلام پر حملہ آور ہونے سے باز نہیں آ رہے ۔ ان غلیظ حرکتوں کو وہ آزادی اظہار کا نام دیتے ہیں لیکن یہ اقدام کرکے وہ دو ارب مسلمانوں کے جذبات کا احساس کرتے ہیں نہ اُن کی آزادی کا احترام ۔ اہلِ مغرب پہلے مستشرقین کی شکل میں اسلام کے خلاف حملہ آور ہوتے تھے ۔ پھر اس شکل کو تبدیل کرتے ہُوئے اُنہوں نے فلموں کا سہارا لیا لیکن مسلمانوں نے بھی مغربیوں کیطرف سے ان توہین کی مرتکب کوششوں کی مذمت جاری رکھی اور کبھی غفلت کا مظاہرہ نہ کیا۔ کچھ عرصہ قبل مغربی ممالک نے اپنے ایک غلیظ ایجنٹ کے ذریعے اسلام اور نبی کریم خاتم النبیینۖ پر حملہ کرنے کی قابلِ مذمت کوشش کی تھی ۔ اس ملعون شخص کا نام سلمان رشدی تھا جس نے ایک ناول لکھ کر مسلمانوں کا دل دکھایا تھا۔ اور جب شیطان رشدی کیخلاف فتوے جاری ہوئے تو مغربی ممالک نے مسلمانوں کے احتجاجات اور جذبات کا ساتھ دینے کی بجائے شیطان رشدی کا ساتھ دیا ۔اب تک اُس کا تحفظ کیا جارہا ہے جس پر اربوں روپے خرچ ہو چکے ہیں ۔ابھی یہ توہین کا مرتکب سلسلہ تھما نہیں تھا کہ کچھ عرصہ قبل فرانس کے ایک جریدے نے ایسے توہین آمیز خاکے شائع کر دئیے جن سے مسلمانوں کے جذبات سخت مجروح ہُوئے ۔ پوری دنیا میں اس کے خلاف احتجاج ہوئے ۔ پیرس میں جریدے کے خلاف گولیاں تک چلیں ، کچھ لوگ قتل بھی ہوئے اور زخمی بھی لیکن افسوس فرانس کی حکومت نے کھل کر مذکورہ جریدے اور اس کے ایڈیٹر کے خلاف کوئی کارروائی کی نہ ان کی مذمت ہی کی ۔ اُلٹا ان کے تحفظ کیلئے پوری فرانسیسی حکومت اور فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون نے ساری ریاستی طاقت یکجا کر دی ۔ پچھلے ہفتے یہی خاکے جب فرانس میں ایک ہائی اسکول کے تاریخ اور جغرافئے کے ٹیچر ( سیموئیل پیٹی) نے اپنی کلاس میں طلبا کو بار بار دکھائے تو مسلمان سٹوڈنٹس بھڑک اُٹھے ۔ مسلمان طلبا نے اس کی شکائت اپنے والدین سے کی ۔ والدین نے اس کے خلاف احتجاج کیا اور پیرس کی چند مساجد میں بھی استاد مذکور کے خلاف آوازیں اُٹھیں لیکن فرانسیسی انتظامیہ اور حکومت نے کوئی پروا نہ کی ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ایک فرانسیسی طالب علم ( عبداللہ انذاروف) نے استاد مذکور کا سر قلم کر دیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ عبداللہ دراصل ایک رُوسی مہاجر مسلمان کا بیٹا ہے ۔ بعد ازاں پولیس نے مقابلے میں عبداللہ کو بھی قتل کر دیا ۔ چاہئے تو یہ تھا کہ فرانسیسی استاد کی مذمت کی جاتی لیکن فرانسیسی حکومت اور فرانسیسی صدر نے مقتول استاد کو بعد از مرگ اپنے ملک کا سب سے بڑا اعزاز دے ڈالااور ساتھ ہی توہین کے حامل خاکے بنانے والے جریدے کی بھی حمائت کر دی ۔ اس پر بجا طور پاکستان سمیت ساری دنیا کے مسلمانوں کے جذبات بھڑکے ہوئے ہیں لیکن فرانسیسی حکومت اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کا نام نہیں لے رہی ۔اس پر سارے عالمِ اسلام میں فرانس کی ہٹ دھرمی کے خلاف مظاہرے جاری ہیں ۔ عالمِ اسلامی کی نمائندہ تنظیم ”او آئی سی” نے بھی فرانسیسی صدر ، حکومتِ فرانس، فرانسیسی استاد اور فرانسیسی جریدے کی مذمت کی ہے ۔خود فرانس کے اندر حکومت کے خلاف مسلمان سرپا احتجاج بنے ہوئے ہیں ۔ لیکن صدرِ فرانس ٹس سے مس نہیں ہو رہے ۔ ترکی نے بھی فرانسیسی صدر کی ڈھٹائی کے خلاف اقدام بھی کئے ہیں اور اُن کے اسلام مخالف بیانات کی مذمت بھی کی ہے ۔ وطنِ عزیز پاکستان میں بھی فرانس اور فرانسیسی صدر کیخلاف مظاہرے جاری ہیں ۔26اکتوبر2020ء کو ہماری قومی اسمبلی نے فرانس میں گستاخانہ خاکوں اور فرانسیسی صدر کے اسلام مخالف بیانات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے متفقہ طورپر مذمتی قرارداد منظورکرلی جس میں اقوام متحدہ’ او آئی سی اور دنیا کے تمام مہذب ممالک سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسلام اور مسلمانوں سے نفرت کرنے والے مواد اور پروپیگنڈہ کے خاتمے کے لئے عملی اقدامات اٹھائے جائیں۔قرارداد کی منظوری کے بعد اپنے ریمارکس میںڈپٹی سپیکر قاسم خان سوری نے مطالبہ کیا کہ فرانس سے پاکستان کے سفیر کو واپس بلایا جائے جبکہ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان کی کوشش ہو گی کہ ہم 15 مارچ کے دن کو اسلامو فوبیا کے خلاف عالمی دن کے طور پر منظور کرائیں’ہماری کوشش ہے کہ او آئی سی وزرائے خا رجہ کونسل کے اجلاس میں ہم ایک قرارداد اس حوالہ سے پیش کریں۔ قومی اسمبلی میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے متفقہ قرارداد ایوان میں پیش کی۔ متفقہ قرارداد میں کہا گیا ہے:” اسلامی جمہوریہ پاکستان کی قومی اسمبلی نے فرانس میں گستاخانہ خاکوں اور ناروے اور سویڈن میں قرآن کریم کی بے حرمتی کے واقعات کا سختی سے نوٹس لیا ہے’ آزادی اظہاررائے کی آڑ میں اسلام’مسلمان اور حجاب کو نشانہ بنانا قابل مذمت ہے’ فرانس کے صدر میکرون جیسے لیڈروں کے نفرت آمیز اور توہین آمیز کلمات سے دنیا بھر میں اربوں مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی ہے۔ ایوان مسلمانوں کی منفی پروفائلنگ’ گائو کشی کے نام پر ان کے قتل’ حجاب سے نفرت’ منفی پروپیگنڈہ اور بعض مغربی میڈیا گروپس کی طرف سے منفی پروپیگنڈہ پر گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے۔ یہ ایوان مذہب کے نام پر ہر قسم کی دہشتگردی کی مذمت کرتا ہے اور حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ فرانس سے پاکستانی سفیر کو واپس بلایا جائے’اسلامی تعاون کی تنظیم کے رکن ممالک فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں۔ ایوان اسلامی تعاون کی تنظیم کے سیکرٹری جنرل سے مطالبہ کرتا ہے کہ اسلامو فوبیا اور مسلمانوں سے نفرت کے بڑھتے واقعات اور گستاخانہ خاکوں جیسی کارروائیوں پر نظر رکھے۔ یہ ایوان بعض مغربی ممالک کی طرف سے اسلام کو دہشت گردی کے ساتھ منسلک کرنے کی مذمت کرتا ہے اور اس پر تشویش کا اظہار کرتا ہے”۔بعدازاں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہاکہ اس طرح کے بیانات سے( جیسا کہ فرانسیسی صدر نے دئیے ہیں) فرانس سمیت پورے یورپ میں لاکھوں کی تعداد میں مقیم مسلمانوں کیلئے پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں ،اس سے معاشرے تقسیم ہو سکتے ہیں،جب ہم ہر مذہب کا احترام کرتے ہیں تو انہیں بھی ہمارے جذبات کا احترام کرنا ہو گا۔ فرانسیسی صدر میکرون نے نبی کریم خاتم النبیینۖ کی شانِ اقدس میں گستاخی کرنے والے ملعون میگزین اور توہین آمیز خاکے دکھانے والے لعنتی فرانسیسی ٹیچر کی حمائت میں جو بیان دئیے اور اقدامات کئے ہیں، اس بنیاد پر عالمِ اسلام میں بائیکاٹ فرانس کی مہم زور پکڑ رہی ہے۔ فرانسیسی زراعت، توانائی، جنگی سامان اور گاڑیوں کی صنعت کو خطرہ پڑ گیا ہے ۔ کئی عرب ممالک کے بڑے بڑے ڈیپارٹمنٹل سٹورز کے وہ سارے ریکس خالی کروادئیے گئے ہیں جہاں فرانسیسی مصنوعات فروخت کیلئے رکھی گئی تھیں۔ ان خالی ریکس کی تصاویر وائرل ہو رہی ہیں ۔ دنیامیں فرانسیسی مصنوعات فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ سے فرانسیسی شعبہ زراعت سے منسلک زرعی مصنوعات مزید متاثر ہوں گی۔ فرانسیسی پیٹرولیم مصنوعات بھی متاثر ہوں گی۔ متعدد مسلم اکثریتی ممالک بشمول پاکستان، بنگلہ دیش اور ترکی میں فرانس کے ‘ٹوٹل پیٹرول پمپ’ موجود ہیں، فرانس کی تھیلس نامی کمپنی متعدد مسلم اکثریتی ممالک کو اسلحہ، ایروناٹکس ٹیکنالوجی اور پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم فروخت کرتا ہے۔کمپنی کی ویب سائٹ کے مطابق اس کے صارفین میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات ترکی اور قطر شامل ہیں۔مصر اور قطر ان ممالک میں شامل ہیں جنہوں نے ڈاسالٹ سے رافیل جنگی طیارے کا آرڈر دیا ہے۔فرانسیسی کار ساز کمپنی ‘رینالٹ’ نے ترکی کو اس کی آٹھویں بڑی منڈی کے طور پر فہرست میں پیش کیا ہے جہاں رواں سال کے پہلے 6 ماہ میں 49 ہزار 131 گاڑیاں فروخت ہوئیں۔ اے این آئی اے انڈسٹری لابی کے مطابق فرانس زرعی مصنوعات کا ایک اہم عالمی برآمد کنندہ ہے اور برآمدات کا 3 فیصد مشرق وسطی کو جاتا ہے اور ان برآمدات میں زرعی اناج (گندم، دالیں وغیرہ) کا ایک بڑا حصہ ہے۔فرانسیسی وزارتِ زراعت کے اعداد و شمار کے مطابق الجزائر زرعی مصنوعات کے لیے فرانس کی دسویں بڑی برآمدی منڈی ہے جس کی برآمدات 2019ء میں تقریباً ایک ارب 40 کروڑ یورو تھی۔الجزائر نے بھی فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔الجیریا گزشتہ برس فرانس کی 17 ویں بڑی زرعی مصنوعات کی برآمدی منڈی تھی جس کی برآمدات 70 کروڑ یورو تھی۔ اے این آئی اے لابی گروپ نے کہا کہ وزارتِ خارجہ میں محکمہ تجارت نے ایک ‘بحران مرکز’ قائم کردیا اور وہ زراعت کی صنعت کے نمائندوں سے رابطہ کر رہا ہے۔ سعودی عرب میں بائیکاٹ کے مطالبات کا ایک ہدف سپر مارکیٹ چین تھی۔گزشتہ ہفتے صارفین کو مذکورہ فرانسیسی اسٹورز سے دور رہنے کی مہم زور و شور سے جاری تھی اور سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کررہی تھی۔فرانسیسی ریٹیلرز مشرق وسطیٰ، جنوبی ایشیا میں اپنے شراکت داروں سے فرانچائز کے ذریعے انتظام چلاتے ہیں۔ ایک شراکت دار کے پاس پاکستان، لبنان اور بحرین سمیت ممالک میں ‘ سپر مارکیٹ چین’ کے خصوصی حقوق ہیں۔ ایک اور پارٹنر کے پاس مراکش کے لیے سپر مارکیٹ چین’ کے حقوق ہیں۔سعودی دارالحکومت ریاض میں برطانوی نیوز ایجنسی کے صحافیوں نے کیریفور کی دو دکانوں کا دورہ کیا جہاں فرانسیسی مصنوعات کی فروخت میں واضح طور پر کمی پائی گئی ۔ ”بائیکاٹ فرانس” کی اس مہم سے فرانس کی صنعتوں کو خاصا نقصان پہنچ رہا ہے اور فرانسیسی صنعتکار خاصے گھبرائے ہُوئے نظر آ رہے ہیں ۔ فرانسیسی صدر نے اس بائیکاٹ مہم کے خاتمے کی اپیل بھی کی ہے لیکن ابھی تک اس اپیل کا کوئی اثر سامنے نہیں آیا ہے ۔ اسلامی ممالک کا مطالبہ ہے کہ فرانسیسی صدر اپنی بیہودگیوں پر پہلے معذرت کا اظہار کریں ۔ فرانسیسی صدر مگر اپنی ضد اور ہٹ دھرمی پر ڈٹے نظر آ رہے ہیں ۔ اُن کی ضد پوری انسانیت کیلئے باعثِ شرم ہے ۔ اُن کے اندازِ سیاست سے نہ صرف فرانس کے اندر فساد پیدا ہوتا نظر آ رہا ہے بلکہ پوری دنیا میں بھی بے چینی پائی جاتی ہے ۔ اگر فرانسیسی صدر نے اپنی روش تبدیل نہ کی اور عالمِ اسلام سے معذرت نہ کی تو اس بات کا بھی قوی امکان ہے کہ دنیا کئی حصوں میں تقسیم ہو جائے ۔اور اگر فرانسیسی صدر اور فرانسیسی اسٹیبلشمنٹ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف یونہی صف آرا رہے تو مغرب میں بسنے والے لاکھوں مسلمانوں اور مقامی مسیحیوں کے درمیان فاصلوں میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے ۔ اس سے انسانیت بھی متاثر ہوگی اور مغربی تہذیب کو بھی گزند پہنچنے کے اندیشے موجود ہیں ۔ اسلئے آسان اور سہل راستہ فقط یہ ہے کہ فرانسیسی صدر میکرون وقت ضائع کئے بغیر مسلمانوں سے معذرت خواہ ہوں اور سب کے سامنے یہ عہد کریں کہ وہ آئندہ اپنے ہاں ایسے واقعات نہیں ہونے دیں گے جن سے مسلمانوں کی دل آزاری ہو۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.