ملتان کا جلسہ، بیگم شمیم مرحومہ کی تدفین اور پیر سفید شاہ کی رخصتی

قارئین کرام ، وزیر اعظم جناب عمران خان درست کہہ رہے ہیں کہ اپوزیشن اپنی چوریاں چھپانے کیلئے تماشے کررہی ہے اور یہ کہ اپوزیشن جتنے مرضی جلسے کرلے ، انہیں نہ تو این آر او ملے گا اور نہ ہی ان کے جلسوں سے حکومت کو کوئی فرق پڑنے والا ہے ۔ وزیر اعظم یہ بھی درست کہہ رہے ہیں کہ کورونا ایسے حالات کے باوجود ہر دن کے ساتھ ملکی معیشت کے اعشارئیے مثبت جا رہے ہیں اور یہ کہ ہماری مشکل اب انشاء اللہ ختم ہونے کو ہے ۔ مہلک کورونا وائرس کی وبا پھر سے چھا رہی ہے ۔ ساری دنیا میں لاک ڈاؤن دوبارہ متعارف کروائے جا رہے ہیں ۔ برطانیہ ، مغربی یورپ اور امریکہ میں بھی لاک ڈاؤن ہو رہے ہیں ۔ ان اقدامات سے یقیناً معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں ۔ وزیر اعظم عمران خان بجا طور پر کوشش کررہے ہیں کہ ملکی معیشت کا پہیہ بھی چلتا رہے اور لوگ کورونا سے بھی محفوظ رہیں ۔ لیکن تمام تر اعلانات کے باوجود پی ڈی ایم والے باز نہیں آ رہے ۔ وہ اب تک گوجرانوالہ، کوئٹہ اور پشاور میں اپنے پاور شو کر چکے ہیں لیکن اس کے اثرات کچھ بھی برآمد نہیں ہُوئے ۔ اب پی ڈی ایم والے کل 30نومبر2020ء کو ملتان میں ایک بار پھر جلسہ کرنے کی تیاریاں کررہے ہیں ۔ اولیائے کرام کے خوبصورت اور دلکش شہر میں اگر انسانوں سے محبت کا سلوک نہ کیا جائے تو یہ افسوس کی بات ہوگی ۔ اور انسانوں سے محبت کا مطلب یہ ہے کہ پی ڈی ایم والے اپنا جلسہ موقوف کر دیتے تاکہ انسان مبینہ وائرس سے محفوط رہتے ۔ حیرانی کی بات مگر یہ ہے کہ ضد اور ہٹ دھرمی میں پی ڈی ایم کی قیادت باز نہیں آ رہی ۔ بلاول بھٹو زرداری تو کورونا کے باعث علیل ہیں ، اسلئے شائد وہ اس جلسے میں شریک نہ ہو سکیں لیکن اب اعلان ہوا ہے کہ اُن کی جگہ اُن کی چھوٹی ہمشیرہ آصفہ بھٹو زرداری خطاب کریں گی ۔ اپوزیشن کو جلسے کرنے کا پورا آئینی حق حاصل ہے لیکن سوال یہ ہے کہ ایسے حق کے استعمال کا کیا فائدہ جو اُلٹا عوام کی صحت کیلئے چیلنج اور خطرہ بن جائے ۔ ملتان کا جلسہ روکنے کیلئے حکومت نے اپنے سے اقدامات بھی کئے ہیں ۔ کچھ گرفتاریاں بھی عمل میں آئی ہیں ۔ مثال کے طور پر سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کا بیٹا موسیٰ گیلانی گرفتار ہوا مگر بعد ازاں ضمانت پر رہا کر دیا گیا ۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اپوزیشن اپنی جگہ پر ڈٹی ہوئی ہے ۔ سیاست کے بھی عجب کھیل ہیں ۔ بلاول بھٹو علیل ہیں لیکن اُن کی جگہ آصفہ سامنے آ رہی ہیں حالانکہ دو روز پہلے ہی اُن کی ہمشیرہ بختاور بھٹو زرداری کی محمود چودھری نامی لڑکے سے منگنی ہُوئی ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ ہمارے سیاستدانوں کا سیاست سے ٹھرک کا یہ عالم ہے کہ نہ شادی بیاہ دیکھتے ہیں نہ کوئی مرگ ۔ نون لیگ ہی کی جانب دیکھ لیجئے ۔ نون لیگ کے قائدین نواز شریف اور شہباز شریف کی والدہ( بیگم شمیم مرحومہ) کی کل ہی لاہور میں تدفین ہُوئی ہے لیکن اس کے باوجود کل بروز پیر مریم نواز شریف صاحبہ ملتان کے جلسے میں ”مردانہ وار” شریک ہونے کا اعلان کرتی سنائی دے رہی ہیں اور ساتھ یہ بھی کہتی ہیں کہ میرے والد صاحب نے مجھے حکم دیا ہے کہ ملتان کے جلسے میں ضرور شرکت کروں ۔ اور والد صاحب کی بے حسی کا عالم یہ ہے کہ اپنی والدہ مرحومہ کی میت لندن سے لاہور تو بھجوا دی لیکن خود ساتھ آ کر والدہ کو اپنے ہاتھوں سے لحد میں اتارنے کی جرأت و جسارت نہ کر سکے ۔ یہ دراصل ہماری مشرقی روایات کی توہین ہے ۔نواز شریف کو ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا ۔ یہ بھی حیرانی کی بات ہے کہ نون لیگ کی نائب صدر مریم نواز شریف نے خود ایک انٹرویو اور ٹویٹ کے ذریعے اپنے والد نواز شریف کو ”نصیحت” کی تھی کہ وہ دادی جان کی میت کے ساتھ پاکستان نہ آئیں ۔یہ ہے شریف برادران اور مریم نواز کی اخلاقی حالت ۔ اپنی کھال بچانے اور ممکنہ گرفتاریوں سے بچنے کیلئے بڑے بیٹے نے والدہ کو آخری لمحات میں کندھا دینے سے انکار کر دیا ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ان لمحات میں نواز شریف تمام خطرات کے باوجود پاکستان چلے آتے تو یہ اُن کی بہت بڑی اخلاقی فتح ہوتی ۔ افسوس اُنہوں نے یہ موقع ضائع کر دیا ۔ یوں نواز شریف کی عدم موجودگی میں شہباز شریف ہی کو اپنی والدہ صاحبہ کی آخری رسومات میں شریک ہونا پڑا اور وہ بھی جیل سے پانچ روزہ پیرول پانے کے بعد ۔ اطلاعات کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف اور سابق وزیر اعلیٰ شہباز شریف کی مرحومہ والدہ بیگم شمیم اختر کا جسد خاکی جمعہ کو لندن سے پاکستان پہنچا دیا گیا تھا ۔بیگم شمیم اختر کا جسد خاکی لاہور پہنچا تو ایئرپورٹ پر شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز نے میت کو وصول کیا، جس کے بعد میت کو شریف میڈیکل سٹی کے سرد خانے منتقل کردیا گیا۔مرحومہ شمیم اختر کی نماز جنازہ بروز ہفتہ بعد از دوپہر ادا کی گئی جس کے بعد انہیں جاتی امرا میں میاں محمد شریف کے پہلو میں سپردخاک کر دیا گیا۔ نواز اور شہباز شریف کی والدہ کی نماز جنازہ کے لیے شریف میڈیکل سٹی کے گراؤنڈ میں انتظام کیا گیا تھا ۔ نون لیگی کارکنان کو براہ راست وہیں پہنچنے کا کہا گیا تھا۔ اس سلسلے میں سیکیورٹی کے بھی سخت انتظامات کیے گئے ۔جاتی امرا آنے والی مرکزی شاہراہ کو رکاوٹیں لگا کر بند کردیا گیا ۔خیال رہے کہ نواز اور شہباز شریف کی والدہ بیگم شمیم اختر 22 نومبر کو 90 سال سے زائد عمر میں لندن میں انتقال کرگئی تھیں۔ یہ بھی یاد رہے کہ 15 فروری 2020 کو برطانیہ میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی ہارٹ سرجری کے پیش نظر ان کی والدہ بیگم شمیم بیٹے سے ملاقات کے لیے لندن روانہ ہوئی تھیں۔ان کے انتقال سے متعلق پارٹی ذرائع نے بتایا تھا کہ شمیم اختر ایک ماہ یا اس سے زائد عرصے سے بیمار تھیں اور وہ لندن میں 2 مرتبہ علاج کے لیے ہسپتال بھی جاچکی تھیں۔وفات کے بعد لندن میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کی والدہ کی نماز جنازہ ریجنٹ پارک کی مسجد میں ادا کی گئی تھی، جس کے بعد میت کو تدفین کے لیے پاکستان روانہ کیا گیا تھا۔ بیگم شمیم اختر کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو گزشتہ روز پیرول پر رہا کیا گیا تھا۔وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور صوبائی کابینہ نے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو 5 روز کے لیے پیرول پر رہا کرنے کی منظوری دی تھی جس کے بعد جیل حکام نے انہیں کوٹ لکھپت جیل سے رہا کیا۔یہ دونوں رہنما منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں عدالتی ریمانڈ پر کوٹ لکھپت جیل میں تھے۔ اِسی اثنا میں خبر آئی کہ خیبر پختونخوا میں پشتو صحافت کو فروغ دینے والے پشتو روزنامہ” وحدت” کے مدیر اور آل پاکستان نیوز پیرز سوسائٹی کے سابق صدر90 سالہ پیر سفید شاہ ہمدرد منگل کو پشاور میں انتقال کرگئے۔ پیر سفید شاہ صاحب مرحوم ہمارے نہائت محترم اور ممتاز اور بزرگ اخبار نویس تھے ۔ پشاور کی صحافت ہمیشہ اُن پر ناز کرتی رہے گی ۔ پیر سفید پشاور کے علاقے بڈھ بیر میں 1930 میں پیدا ہوئے۔ تقریباً 70 سال تک صحافت سے وابستہ رہنے والے پیر سفید کو حکومت پاکستان نے دو مرتبہ صدارتی ایوارڈز، تمغہ حسن کارکردگی اور تمغہ امتیاز سے نوازا۔ حال ہی میں افغانستان کے صدر اشرف غنی نے ان کی خدمات پر انہیں ایک گولڈ میڈل بھیجا تھا۔پیر سفید کو ‘بابائے پشتو صحافت’ کہا جاتا ہے کیونکہ انھوں نے خیبر پختونخوا میں پشتو کے مکمل اخبار کا اجرا کیا اور اسی کے ذریعے وہ پشتو صحافت کو فروغ دیتے رہے۔ جناب اظہار اللہ نے مرحوم شاہ صاحب کی شخصیت اور صحافتی کردار کو خوب سراہا ہے ۔ روزنامہ وحدت 1985 میں اردو زبان سے پشتو زبان میں تبدیل کیا گیا اور اس کو باقاعدہ روزنامے کی شکل دی گئی۔ پشاور کے سینیئر صحافی اور 1988 میں اس روزنامے میں پیر سفید شاہ کے ساتھ کام کرنے والے روخان یو سفزئی کا کہنا ہے کہ وحدت اخبار کی اس وقت کی پالیسی ریاستی پالیسی تھی اور وہ افغان جہاد کی مکمل حمایت کرتے تھے۔انھوں نے ایک واقعے شیئر کیا کہ ایک خبر میں انھوں نے ‘افغان جہاد’ کو ‘افغان جنگ ‘ لکھ دیا تھا جس پر پیر سفید نے ان کو بتایا تھا کہ ریاستی طور پر اسے جہاد مانا جاتا ہے لہٰذا ہم خبر میں اس کو جنگ نہیں لکھ سکتے۔ انھوں نے بتایا ‘اصل میں اس وقت ہماری ریاست کی یہی پالیسی تھی اور پیر سفید ہمیشہ ریاستی پالیسی کے حمایتی رہے۔’روخان نے پیر سفید کے اظہار رائے کی آزادی کے لیے کوششوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے اظہار رائے کے حمایتی ہونے کے لیے یہ ثبوت کافی ہے کہ ان کے اخبار کا جو بھی بیانیہ تھا لیکن ان میں مختلف مکا تبِ فکر اور مختلف سوچ کے حامل افراد مضامین لکھتے تھے۔ پیر سفید نرم مزاج اور کبھی غرور نہ کرنے والے تھے۔ انہوں نے کبھی اپنے اخبار کے ورکرز کو یہ احساس نہیں دلایا کہ وہ مالک ہیں۔شمیم شاہد کا شمار پشاور کے ان سینیئر صحافیوں میں ہوتا ہے جنھوں نے ‘افغان جہاد’ کو کور کیا۔ انھوں نے شاہ صاحب مرحوم کے بارے میں بتایا کہ پیر سفید روزنامہ” وحدت” سے پہلے 70 کی دہائی میں آل وحدت کے نام سے ہفت روزہ اخبار کے مالک تھے۔ ان کے مطابق جب افغان پناہ گزین ‘افغان جہاد’ کے بعد پشاور آئے تو اسی چار صفحات پر مشتمل اخبار میں افغانوں کے حوالے سے بہت خبریں چھپیں، جنہیں افغان پناہ گزین شوق سے پڑھتے تھے۔شاہد کے مطابق ان کو بابائے پشتو صحافت اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس زمانے میں خیبر پختونخوا میں پشتو کے مجلے جس میں ہیوا د اور پشتون ہوا کرتے تھے، دراصل ادبی مجلے تھے لیکن پیر سفید نے پشتو کا پہلا روزنامہ وحدت کا اجرا کیا جس میں ادبی مضامین سمیت خبریں ہوا کرتی تھیں۔انھوں نے بتایا کہ پاکستان سمیت افغانستان میں بھی یہ پشتو کا واحد روزنامہ تھا جس میں ادبی مضامین سمیت روزانہ خبریں چھاپی جاتی تھیں۔پیر سفید اخبار کارکنان کے ساتھ بہت اچھے انداز سے پیش آتے تھے ۔ ان کے اخبار میں کام کرنے والے ہر ایک شخص کو ان کے کام کے مطابق معاوضہ ملتا یعنیٰ اداریہ لکھنے والے کو الگ، کالم لکھنے والے کو الگ اور اسی طرح خبریں لکھنے والوں کو الگ پیسے ملتے تھے۔پیر سفید شاہ فوجی آمر ضیا الحق کے بہت قریب تھے، جس کی وجہ اس وقت کے صحافیوں کے مطابق یہ تھی کہ ان کا اخبار ‘افغان جہاد ‘ کے حوالے سے ریاستی بیانیے کا حامی تھا اور وہ حکومتی بیانیے کو کوریج دیتے اور مثبت خبریں چھاپتے تھے۔اسی قربت کی وجہ سے 1987 میں ضیاالحق روزنامہ ”وحدت” کی ایک سالگرہ میں بطور مہمان خصوصی آئے اور اخبار کے لیے نقد روپوں کا اعلان بھی کیا، جس سے خاصا عرصے تک اس اخبار کے اخراجات چلتے رہے۔ اسی ریاستی بیانیے کی حمایت کی وجہ سے ان کا اخبار افغانستان میں بھی بہت مقبول تھا اور وہاں سے بھی لوگ اس اخبار میں مختلف مضامین چھپنے کے لیے بھیج دیتے تھے۔پیر سفید کے بیٹے ہارون شاہ نے ایک انٹرویو میں روزنامہ” وحدت” کے بارے میں بتایا کہ جب 1985 میں اسے پشتو زبان میں تبدیل کیا گیا تو اس کو بڑی پذیرائی ملی اور اسی اخبار کے بدولت پشتو کے نئے شعرا اور ادیب سامنے آگئے جو باقاعدہ اس اخبار میں مضامین لکھتے تھے۔ ہارون شاہ صاحب نے بتایا کہ ان کے والد پیر سفید پشتو کے شاعر بھی تھے اور پشتو زبان سے بہت لگاؤ رکھتے تھے اور اسی سوچ کی وجہ سے اس اخبار کا اجرا کیا گیا جبکہ اخبار کی پالیسی ہمیشہ غیر جانب دار رہی۔پیر سفید کے بڑے بیٹے سید رحم دل شاہ نے، جو روزنامہ وحدت کے 30 سال تک مدیر رہے، کا کہنا ہے کہ ان کے والد نے ہمیشہ پاکستان اور افغانستان میں موجود پشتونوں کی خدمت کی ہے اور اب وہ ان کا مشن آگے لے جانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔ہماری دعا ہے کہ اللہ کریم پیر سفید شاہ صاحب مرحوم کی مغفرت فرمائے اور اُنہیں اپنے جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے ۔ آمین ۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.