Daily Taqat

مہلک سیلابوں میں مہنگائی کا نیا سیلاب اور وزیر خزانہ کا غصیلا خطاب

ستمبر کا مہینہ طلوع ہوتے ہی شہباز شریف کی حکومت نے پٹرول کی قیمتوں میں نیا اضافہ کرکے عوام کی کمر مزید توڑ دی ہے ۔ اِس دفعہ پھر پٹرول مہنگا کرتے وقت شہباز شریف کی اتحادی حکومت نے عوام سے دھوکہ کیا ہے کہ پٹرول کی مصنوعات میں نیا اضافہ کرنے والی رات یہ خبر نشر کی گئی کہ پٹرول کی قیمتوں میں 15روپے فی لٹر کمی کی جارہی ہے ۔مگر چند گھنٹوں بعد ہی پٹرول کی قیمت میں کمی کرنے کی بجائے اضافہ کرکے عوام بیچاری پرنیا بم پھینک دیا گیا ۔ پچھلی بار بھی شہباز شریف کی اتحادی حکومت نے یہی حربہ اور ہتھکنڈہ استعمال کر کے عوام کو سخت مایوس کیا تھا۔ کسی نے یوں شائد درست ہی کہا ہے کہ آئے روز شدید مہنگائی کر کے شہباز شریف کی اتحادی حکومت جناب عمران خان کی مقبولیت اور عوامی محبت میں اضافہ کررہی ہے ۔ اگرچہ یہ طنز ہے لیکن یہ ہے سچا طنز ۔3ستمبر2022ء کی صبح ایک اور ستم عوام کو ڈراوا دینے کا منتظر تھا۔ تین ستمبر کی صبح تمام اخبارات نے یہ خبر بطور شہ سرخی لگائی کہ پاکستان میں اگلے سال بھی شدید مہنگائی رہے گی اور اس ضمن میں ملک بھر میں حکومتِ وقت کے خلاف مظاہرے بھی ہو سکتے ہیں ۔یہ چنگھاڑتی ہُوئی خبر آئی ایم ایف کے حوالے سے شائع کی گئی ہے ۔ سچ ہی ہو گی کہ آئی ایم ایف ، جو ہمیں ترسا ترسا کر قرض دیتا ہے، ہمیں اور ہماری سیاست و معیشت کو ہم سے زیادہ بہتر جانتا ہے ۔ جس روز آئی ایم ایف کے حو الے سے یہ حوصلہ شکن خبر شائع ہُوئی ، اُسی روز ڈالر کی قیمت بھی بڑھ گئی ۔ اور یوں یہ تصور بھی ختم ہو گیا کہ آئی ایم ایف کا قرض ملے گا تو ڈالر کی قیمت بھی کم ہو گی ۔ اب جبکہ آئی ایم ایف کی پہلی قسط پاکستان کو مل چکی ہے لیکن ڈالر کی اُڑان تھم نہیں سکی ہے ۔ یہ المیہ ہے ۔ اُسی روز ایل پی جی کی قیمتیں بھی بڑھ گئیں اور اُسی روز یہ خبر بھی آئی کہ ملک بھر میں مہنگائی کی شرح 45فیصد ہو گئی ہے ۔ یہ شرح وطنِ عزیز کے پچھلے پچاس سالہ معاشی تاریخ میں بلند ترین اور بدترین کہی گئی ہے ۔ یہ خبر بھی آئی ہے کہ نئی مہنگائی کے منفی اثرات ٹیلیٹی اسٹورز پر بھی پڑے ہیں جہاں کئی خوردنی اشیا کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہُوا ہے ۔ ایسے میں شیخ رشید احمد کی یہ بات درست ہی محسوس ہوتی ہے کہ” شہباز شریف کی اتحادی حکومت آئی ایم ایف اور سیلابوں میں گھِر کر رہ گئی ہے” ۔ یہ دونوں عذاب عوام کو بھی بھگتنا پڑ رہے ہیں اور حکومت کو بھی ۔ دونوں ہی اس عذاب کے سامنے بے بس سے ہیں لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ حکومت کے وزرا مزے سے حکومت کررہے ہیں اور انہیں لوگوں کے مصائب کا قطعی احساس نہیں ہے ۔ شائد یہی وجہ ہے کہ عمران خان کے جلسے بھرپور بھی ہو رہے ہیں اور کامیاب بھی کہ حکومت سے ناراض ہو کر عوام خان صاحب کے جلسوں میں جوق در جوق شامل ہو رہے ہیں ۔ عمران خان نے پچھلے ہفتے کے دوران سرگودھا، گجرات اور بہاولپور میں خوب اور رونق بھرے جلسے کئے ہیں ۔ ان جلسوں کی کامیابی میں شہباز شریف کی حکومت کی طرف سے کی گئی مہنگائی بنیادی کردار ادا کررہی ہے ۔ ایسے پُر آشوب اور مایوس کن حالات میں وزیر خزانہ، مفتاح اسماعیل، کی تازہ ترین پریس کانفرنس نے عجب قیامت اور مایوسی ڈھائی ہے ۔ وہ بس دلاسے ہی دے رہے ہیں ۔ ان کے پاس حوصلے اور اُمید کی کوئی بات نہیں ہے ۔ مثال کے طور پر اُنہوں نے اپنی تازہ ترین پریس بریفنگ میں کہا ہے :” ابھی مہنگائی رہے گی ۔سیلاب کی وجہ سے کھانے پینے کی مہنگی ہونے والی اشیا کی قیمتوں میں کمی کے لیے ڈیوٹی ختم کردی ہے اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مزید کم کرتے ہوئے آئندہ 2 ماہ کے دوران مہنگائی پر قابو لیں گے۔کچھ دیر قبل شوکت ترین نے پریس کانفرنس کی جن کی باتیں اب سمجھ سے بالا تر ہوگئی ہیں، کیا یہ کافی نہیں تھا کہ یہ ملک کو دیوالیہ پن کی جانب دھکیل گئے تھے، وہ کہتے ہیں کہ ہم عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی ستمبر میں چھٹی کرادیتے جبکہ وہ تو پاکستان کی چھٹی کرا رہے تھے۔شوکت ترین تو ملک کو دیوالیہ کر رہے تھے، اس کو ڈیفالٹ سے تو مشکل فیصلے کرکے شہباز شریف اور اس حکومت نے بچایا ہے، یہ لوگ آئی ایم ایف بورڈ میٹنگ سے ایک روز قبل لوگوں کو اکسا رہے تھے کہ پروگرام بحالی روکو، اگر یہ عمران خان کے اوپر کیسز کر رہے ہیں تو ہم ان کو چھوڑیں گے نہیں۔شوکت ترین کی نظر میں عمران خان پاکستان سے بڑا ہوگا، ہماری نظر میں نہیں، ان کی نظر میں ملک کا مفاد سیاست سے بالاتر نہیں، ہمارے لیے ملک کا مفاد مقدس و مقدم ہے، انہوں نے پنجاب اور خیبرپختونخوا (کے پی) کے وزرائے خزانہ کو فون کیا، خیبر پختونخوا کے وزیر نے خط بھی لکھ دیا۔خط لکھنے کے بعد جھوٹ بولا کہ ہم نے لیٹر کسی کو بھیجا نہیں ہے جبکہ خود کہا کہ آئی ایم ایف کے نمبر2 کو بھیج دیں گے اور پھر آئی ایم ایف کی نمبر 2 کا نام لیا جو پاکستان میں عالمی مالیاتی فنڈ کی نمائندہ ہیں۔پی ٹی آئی والے اب جھوٹ پر جھوٹ بولنا چھوڑ دیں، جو لوگ نومبر میں آئی ایم ایف سے معاہدہ کرکے آئے کہ ہر ماہ 2 فیصد ٹیکس بڑھائیں گے، 17 فیصد پیٹرول اور ڈیزل پر ٹیکس لگائیں گے، ہر مہینے 4 روپے پی ڈی ایل لگائیں گے۔کیا پی ٹی آئی حکومت نے ملک کے قرض میں 19 ہزار ارب روپے کا اضافہ نہیں کیا، عمران خان تو ملک کا قرضہ کم کرنے آئے تھے، یہ قرضہ کم کیا ہے ؟عمران خان کہتے تھے، راجا پاکسے ( سری لنکا کے سابق صدر) کی پالیسی پر عمل کروں گا، آج سری لنکا کا حال دیکھیں، وہ تو ملک چھوڑ کر بھاگ گئے تھے، وہاں کے عوام رل رہے ہیں۔سری لنکا کے موجودہ صدر نے 55 ارب روپے قرض ری شیڈول کرنے کے لیے مجھے خط لکھا ہے، وہاں پیٹرول 470 روپے فی لیٹر ہے، 300 ہزار روپے بلیک میں بکتا ہے، لوگ 10،10 دن قطاروں میں لگے ہیں، ہسپتال بند ہیں، کھانا پکانے کے لیے گیس حاصل کرنے کے لیے خواتین دو،دو روز لائنوں میں کھڑی ہوتی ہیں۔ملک تباہ ہے، پی ٹی آئی ان حالات میں بھی سیاست کر رہی ہے۔پاکستان میں اللہ کا کرم ہے کہ شہباز شریف نے ایک دن بھی ملک میں پیٹرول کی قلت نہیں ہونے دی، 200 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے لوگوں کو بلوں میں ریلیف دیا۔آج ملک میں سیلاب سے تباہی پھیلی ہے، 40 لاکھ سے زیادہ خاندانوں کو شہباز شریف 25 ہزار روپے دے رہے ہیں، کوئی یہ کرکے دکھائے، یہ مجھے پتا ہے کہ یہ پیسے میں کہاں سے لے کر آؤں گا، پریشانی میں مبتلا اپنے لوگوں کے لیے 60 سے 70 ارب روپے خرچ کریں گے۔حالیہ سیلاب کے دوران سندھ کی 14 لاکھ ایکڑ پر محیط پوری کپاس کی فصل تباہ ہوگئی ہے، کھجور کی فصل تباہ ہوگئی، چینی کا 20 فیصد اسٹاک برباد ہوگیا اور پی ٹی آئی ان حالات میں بھی سیاست کر رہی ہے۔ شوکت ترین کو سوچنا چاہیے کہ وہ پاکستان کی وجہ سے ہی امیر آدمی بنے ہیں، ملک کی وجہ سے ہی وزیر خزانہ بنے ہیں، میں اس ملک کی وجہ سے وزیر بنا ہوں۔ 50 فیصد بچے اسکول نہیں جا پا رہے، خیبر پختونخوا میں 10 سال سے عمران خان کی حکومت ہے، بتائیں وہاں تعلیم اور ہسپتالوں کی کیا صورت حال ہے، بتائیں پنجاب کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں کتنی دفعہ گئے”۔ وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے مزید کہا:”پی ٹی آئی والے ہمیں کہتے ہیں کہ روس سے پیٹرول لیں، کیا وہ خود روس سے پیٹرول لے کر آئے تھے، کیا روس کا تیل پاکستان کی ریفائنری میں چلتا ہے، جو مرضی جھوٹ بول دیتے ہیں، یہ سازش ہوگئی، وہ سازش ہوگئی، شرم نہیں آتی 25 ہزار ڈالر مہینے کا امریکا میں فرم کو لابنگ کا دے رہے ہیں اور آکر ہمیں امریکا کا بھاشن دیتے ہیں۔یہ آئی ایم ایف سے ڈیل کرکے آئے اور پھر یہاں اپنے دوستوں کو ایمنسٹی دینے کے لیے معاہدہ توڑ دیا، شوکت ترین بتائیں کیا انہوں نے آئی ایم ایف سے نہیں کہا تھا کہ اگر تحریک عدم اعتماد ناکام ہوگئی تو ہم پیٹرول مہنگا کردیں گے۔ کیا عمران خان نے وزارت خزانہ کے حکام کو نہیں کہا تھا کہ اپریل میں پیٹرول واپس مہنگا کردوں گا، بتائیں کہا پی ٹی آئی نے آئی ایم ایف کو نہیں کہا تھا کہ اپریل میں پٹرول کی قیمت بڑھادیں گے۔ ہمیں اور قوم کو پی ٹی آئی کی حقیقت پتہ چل چکی ہے، یہ لوگ جھوٹ کا چورن بیچ رہے ہیں، ان کو ملک کے مقدس مقاصد کے خلاف جانے میں بھی عار نہیں آئی، کوئی کیسے ایسی حرکت کرسکتا ہے کہ آئی ایم ایف سے ڈیل رک جائے، پھر آکر ہمیں بتاتے ہیں کہ کون امریکا کا ایجنٹ ہے، کس نے سازش کی ہے۔ جہاں دیکھو ان کی منافقت نظر آتی ہے، یہ تحفوں کے نام پر جیولری لیتے ہیں، خیرات کے نام پر فنڈز لے کر سیاسی جماعت کے لیے استعمال کرتے ہیں، ایسے لوگ ہمیں ایمان داری اور حب الوطنی کا سبق دیتے ہیں، عمران خان اپنے ذرائع آمدنی بتائیں، ہم بھی بتادیتے ہیں۔ملک کی معیشت سنبھل گئی ہے، ڈیفالٹ سے بچ گئے ہیں، مانتے ہیں مہنگائی بہت زیادہ ہے، سندھ کی آدھے سے زیادہ پیاز کی فصل خراب ہوگئی ہے، قیمت بڑھ گئی ہے، اب باہر سے پیاز آنا شروع ہوئی، قیمت میں کمی آئے گی، ٹماٹر کی قیمت 4سو روپے فی کلو سے زیادہ ہوگئی ہے، سیلاب کی وجہ سے کھانے پینے کی اشیا بہت مہنگی ہوگئی ہیں، کپاس کی فصل خراب ہوگئی ہے۔ صنعت کے لیے کپاس درآمد کریں گے، کھانے پینے کی چیزوں پر ڈیوٹی ختم کردی ہے، اشیائے ضروریہ کی قیمتیں کم کریں گے، گھی سستا ہو رہا ہے، چینی 70 روپے اور آٹا40 روپے کلو بک رہا ہے، آئندہ 2 ماہ کے دوران مہنگائی کو قابو کریں گے۔ سیلاب سے بہت تباہی ہوئی ہے، 10 لاکھ مویشی ہلاک ہوچکے ہیں، سیلاب سے ملک کا غریب ترین طبقہ متاثر ہوا ہے، اس مشکل وقت میں بھی پی ٹی آئی نے سیاست کرنی ہے تو وہ سیاست کرے لیکن پھر پاکستان کے عوام ان کو معاف نہیں کریں گے، اب یہ جھوٹ بولیں گے تو قوم معاف نہیں کرے گی کیونکہ عوام اب ان کی اصلیت دیکھ چکے ہیں۔ عمران خان کہتے تھے کہ میں ٹماٹر، پیاز کی قیمتیں دیکھنے نہیں آیا، ہم کہتے ہیں کہ ہم قیمتیں دیکھنے آئے ہیں، یہ ہمارا فرض ہے اور اگر ٹماٹر پیاز سیلاب کی وجہ سے مہنگا ہوا ہے تو اس کو سستا بھی کریں گے۔ عمران خان بڑی بڑی باتیں کرتے تھے، کوئی ایک وعدہ بتائیں جو پورا کیا ہو، پروٹوکول نہ لینے کا وعدہ، وزیر اعظم ہاؤس میں یونی ورسٹی بنانے کا وعدہ، اسکول بہتر کرنے کا وعدہ، ہسپتال بہتر کرنے کی بات، قرض کم کرنے کی بات کرتے تھے۔ عمران خان نے اناسی فیصد قرض بڑھا دیا ملک کا جو 70 سالوں میں بڑھا تھا، ملک میں بیروزگاری بڑھادی۔ پی ٹی آئی کی حکومت ملک میں تباہی مچا کر چلی گئی اور بات کرتے ہیں کہ پاکستان کو حقیقی آزادی دلانی ہے، میرے خیال میں قائد اعظم پاکستان کو حقیقی آزادی دلا کر گئے تھے، عمران خان کو ضرورت نہیں ہے۔ اگر عمران خان حقیقی آزادی کی بات کرتے ہیں تو پھر سن لیں کہ عمران خان نے گزشتہ سال 80 ارب ڈالرز کی درآمدات کیں جب کہ اس کے مقابلے میں 31 ارب ڈالر کی برآمدت تھیں، 48 ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ کیا ہے، اگر اس میں ترسیلات زر بھی شامل کرلیں تو بھی 17 ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ کیا تھا ۔ اگر آدمی حقیقی کی آزادی کی بات کرتا ہے تو پھر 80 ارب ڈالر کی درآمدات نہیں کرتا، 48 ارب کا تجارتی خسارہ نہیں کرتا، 18 ارب ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ نہیں کرتا۔ وہ حقیقی آزادی نہیں ہوتی ہے جب ہر جگہ آپ کو کشکول لے کر جانا پڑتا ہے جس کو اپنے زمانے میں پیکج بولنا شروع کردیا تھا”۔ مفتاح اسماعیل صاحب نے باتیں تو سچی کی ہیں ۔ عمران خان کے کئی جھوٹ بھی بجا طور پر بے نقاب کئے ہیں ۔ خان صاحب نے ملکی قرض میں جو بے تحاشہ اضافے کئے ، اُن کا بھی درست ذکر کیا ہے ۔ سوال مگر یہ ہے کہ خان صاحب کا اصلی چہرہ بے نقاب کئے جانے کے باوجود اُن کے جلسے کامیاب ہو رہے ہیں اور وہ شہباز حکومت کے لئے”خطرے ناک” ثابت ہو رہے ہیں ۔ اس خطرناکی میں اسلئے بھی اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ شہباز شریف کی اتحادی حکومت نے مہنگائی ساتویں آسمان تک پہنچا دی ہے ۔عوام ، حکومت کے اس بیانئے کو قبولنے کیلئے تیار نہیں ہیں کہ سیلابوں نے ملکی معیشت کو بے حد نقصان پہنچایا ہے ۔یہ بھی سوال عوام پوچھتے ہیں کہ ان سیلابوں کے متاثرین کی مدد کے لئے حکمران طبقے نے اپنی جیب سے کیا کچھ خرچ کیا ہے ؟ جب تک عوام کو معاشی ریلیف نہیں ملتا، شہباز حکومت مزید غیر مقبول اور عمران خان کا بیانیہ مزید مقبول تر ہوتا جائیگا۔ یاد رکھ لیا جائے ۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »