Daily Taqat

مزید مہنگائی ، ڈالر مزید مہنگا اور لاہور کی مزیدہلاکت خیز فضائی آلودگی

11دسمبر2021ء کو ”وفاقی ادارئہ شماریات” کی طرف سے سرکاری سطح پر جو اعدادو شمار شائع کئے گئے ہیں ، ان کے مطابق ملک میں مہنگائی میں مزید اضافہ ہُوا ہے اور اب وطنِ عزیز میں مہنگائی کی شرح تقریباً 19فیصد ہو چکی ہے ۔ یہ مہنگائی ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح تک جا پہنچی ہے ۔ ان اعدادو شمار کے مطابق : بعض اشیائے خورو نوش کی قیمتوں میں کمی بھی آئی ہے لیکن بحثیتِ مجموعی زیادہ تر اشیا بدستور مہنگی ہی ہوتی چلی جا رہی ہیں ۔ اور یہ بے حد تشویش اور پریشانی کی بات ہے ۔ عوام کی چیخیں نکل رہی ہیں ۔ حیران کی بات مگر یہ ہے کہ اس کے باوجود مرکزی حکمران کہہ رہے ہیں کہ ”پاکستان ایک سستا ملک ہے ۔” ہم سمجھتے ہیں کہ یہ بیان دے کر دراصل حکمران عوام کے زخموں پر مزید نمک پاشی کرتے ہیں ۔ ایسا ہی ایک تازہ بیان وزیر اعظم عمران خان نے بھی دیا ہے اور اُن کے کئی وزیروں اور مشیروں نے بھی ۔ مثال کے طور پر ایک وفاقی وزیر نے چند دن پہلے ہی کہا ہے کہ لندن میں پاکستان کی نسبت زیادہ مہنگائی ہے ۔ ایسے بیان دے کر دراصل وزیر اور مشیر عوام کی دل آزاری کا باعث بن رہے ہے ۔ حقیقت مگر کسی کی نظروں سے چھپی ہُوئی نہیں ہے ۔ حکومت کے حلیف اور ساجھی قاف لیگ کی قیادت بھی مہنگائی کے خلاف لب کشائی کرنے پر مجبور ہو گئی ہے ۔ مثال کے طور پر : اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی نے ایک بار پھر پنجاب حکومت سے محض زبانی دعووں کے بجائے مہنگائی پر قابو کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کو دیوار سے لگا دیا گیا ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ (ق) راولپنڈی کے صدر اور پنجاب اسمبلی سپیکر کے پولیٹیکل کوآرڈینیٹر زبیر احمد خان کی قیادت میں ایک وفد سے بات چیت کرتے ہوئے چوہدری پرویز الٰہی نے کہا ہے :” عوام کو مہنگائی سے ریلیف کی ضرورت ہے۔اسلام نے انسانیت کا درس دیا اور لوگوں کو ریلیف دینا انسانیت کی خدمت ہے، مہنگائی پر قابو پانے کے لیے ایک جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے”۔مسلم لیگ (ق) کی پارلیمانی پارٹی نے گزشتہ ماہ بھی قیمتوں میں بے لگام اضافے اور مہنگائی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی پنجاب اور وفاقی حکومتوں کی حمایت جاری رکھنا ہر گزرتے دن کے ساتھ مشکل ہوتا جا رہا ہے۔اس موقع پر قاف لیگ کے اراکینِ اسمبلی نے حکومتی کارکردگی پر غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اپنے ووٹروں کا سامنا کرنے سے قاصر ہیں۔پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں چوہدری پرویز الٰہی نے امریکی ڈالر کی قدر میں مسلسل اضافہ، پٹرول، بجلی اور گیس کی قیمتوں کے ساتھ ساتھ صوبے میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اب تو امریکی ڈالر 180روپے سے بھی تجاوز کررہا ہے ۔ مسلم لیگ (ق) کے ترجمان کا کہنا تھا کہ حکومت عوام کے مسائل حل کرنے میں ناکام رہی ہے اور غیر اہم مسائل کو مسئلہ بنانے میں مصروف ہے، اگر حکومت نے مسائل پر توجہ نہ دی تو حالات مزید خراب ہوں گے۔تاہم، پی ٹی آئی کی پنجاب حکومت کا خیال ہے کہ چوہدری پرویز الٰہی حکومت پر دباؤ ڈالنے اور” کچھ کاموں کو پورا کرنے” کے لیے اس کے خلاف بیانات دیتے رہتے ہیں۔واقعہ یہ ہے کہ حکومت کے سبھی اتحادی بھی مہنگائی میں روز بروز اضافے کے کارن احتجاج کناں ہیں ۔ اوپر سے مشیر خزانہ ، شوکت ترین ، نے ایک بار پھر کہہ دیا ہے کہ تیار ہو جائیں ، اگلے ہفتے منی بجٹ آ رہا ہے ۔ گویا عوام کو مزید پریشان کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں ۔ ایسے ہی ماحول میں حکمرانوں نے کراچی میں ” گرین لائن بس سروس” کا افتتاح کیا ہے ۔ کہا گیا ہے کہ اس منصوبے پر 35ارب روپے خرچ ہوئے ہیں اور ہو رہے ہیں ۔ اس منصوبے سے کراچی کے عوام کو ٹرانسپورٹ کے معاملات میں آسانیاں ملیں گی لیکن اس منصوبے کے افتتاح پر نون لیگ بھی ناراض ہے اور پیپلز پارٹی بھی ۔ اور جناب عمران خان ہیں کہ اس منصوبے کا افتتاح کرتے ہُوئے کہہ رہے ہیں کہ ” ترقی یافتہ ممالک بھی ہمارے جیسے کام نہیں کرتے ۔” ممکن ہے ایسا ہی ہو لیکن پاکستان میں گنگا اُلٹی ہی بہہ رہی ہے ۔ پاکستان میں سردیوں کے موسم میں فضا جس طرح آلودہ ہو چکی ہے ، اس کا تدارک بھی نہیں کیا جا رہا ۔ لاہور کو دُنیا کا سب سے آلودہ ترین اور مہلک ترین شہر قرار دیا جا چکا ے لیکن حکمرانوں کے کانوں پر جُوں تک نہیں رینگ رہی ہے ۔ لاہور کی آلودہ فضا سے ہر شخص نالاں اور پریشان ہے ۔ حتیٰ کہ ”لاہور بچاؤ” تحریک بھی چل پڑی ہے ۔عام شہریوں نے لاہور بچاؤ کیلئے تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے حالانکہ یہ کام اور مہم حکومت کے کرنے کی تھی ۔ حیرانی اور بے حسی کی بات یہ ہے کہ پنجاب کے وزرا لاہور سے لاتعلق ہو چکے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ لاہور کی فضا بارے بے بنیاد منفی پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے ۔وزیر ماحولیات نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ لاہور کی فضا صاف ستھری ہے ۔اور ہم کتنے بہترین موسم سے محظوظ ہورہے ہیں اور کتنی تازہ و شفاف فضا میں سانس لے رہے ہیں،کم از کم پنجاب کے وزیرِ ماحولیات محمد رضوان کی بات سن کر تو ایسا ہی لگتا ہے۔ انہوں نے گزشتہ دنوں ایک ٹی وی چینل کو بتایا کہ ‘پورے پنجاب میں گزشتہ 2 سال سے ایک سیکنڈ کے لیے بھی اسموگ نہیں رہی’۔اس سے پہلے کہ گھٹتی سانسیں لیتے لاہوری ان کی بات کو رد کرتے انہوں نے خود ہی اپنی بات کی وضاحت بھی پیش کردی۔ انہوں نے بتایا کہ ‘بنیادی طو پر اسموگ، دھویں اور دھند کا مرکب ہوتی ہے۔ اگر گزشتہ 2 سال سے دھند نہیں تھی تو اسموگ کا ہونا تو ناممکن ہے’۔بہرحال یہ بات ہم ماہرین ماحولیات کے لیے چھوڑ دیتے ہیں کہ یہ کیا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ یہ دھند نہ ہو اور ہوسکتا ہے کہ یہ اسموگ بھی نہ ہو۔ لیکن یہ کچھ تو ہے، اس وقت آسمان سرمئی اور فضا آلودہ ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پورا شہر بیماری کی لپیٹ میں ہے۔یہ بات بھی بہت عجیب ہے کہ صورتحال میں کوئی بہتری نظر نہیں آرہی۔ لاہور شہر شروع سے ہی حکمران طبقے کا پسندیدہ شہر رہا ہے جبکہ دیگر صوبوں میں اس کے کزنز کو نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔ یہاں کئی ایسی چیزیں ہیں جو اسموگ کا باعث بنتی ہیں، ان میں ناقص ایندھن، خراب گاڑیاں، اینٹوں کے بھٹّے، کھیتوں میں آگ لگانا اور درخت کاٹنا شامل ہیں۔ان مسائل کے بجائے وزیر موصوف نے سب سے بڑے دشمن کے پیچھے جانے کا فیصلہ کیا اور وہ دشمن کوئی اور نہیں بلکہ مشکلات کا شکار شہری تھے۔ وزیرِ ماحولیات نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو شکایت کرتے ہوئے کہ کہا کہ ‘اسموگ کے موسم میں کچھ بُری نیت رکھنے والے بے ایمان عناصر ایئر کوالٹی انڈیکس کی گمراہ کن/ غلط معلومات بیان کرکے پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں’۔تاہم اس بیان سے بھی ایک مثبت بات سامنے آئی اور وہ یہ کہ ‘اسموگ کے موسم’ کا ذکر کرکے وزیر موصوف نے اپنے گزشتہ بیان کے حوالے سے تو کچھ لچک دکھائی کہ یہ آلودگی ایک سیکنڈ سے بھی کم کے بجائے یہاں کچھ ماہ تک موجود رہے گی۔لاہور میں اسموگ بڑھی تو تخت لاہور نے ہر پیر کو اسکول اور دفاتر بند رکھنے کا فیصلہ کیا۔ یہ زیادہ سے زیادہ ایک وقتی حل ہے۔ اپنی تمام تر خوفناکی کے ساتھ یہ اسموگ ہر سال اکتوبر میں شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے اور تقریباً جنوری کے مہینے تک بھی اسے دیکھا جاسکتا ہے۔ صوبائی حکومت اسے وقتی مسئلے کے طور پر دیکھتی ہے جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ یہاں کی فضا سال بھر آلودہ رہتی ہے۔بھارت پر اسموگ پھیلانے کا الزام دہرانے کی بھی کچھ کوششیں کی گئی ہیں۔ آخر یہ کون بھول سکتا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کی وزیر زرتاج گل نے سینیٹ کو بتایا تھا کہ اسموگ دراصل ‘غیر روایتی جنگ’ کا حصہ ہے؟ اور اس بات کی نفی کرتے اعداد و شمار کو نظر انداز کردیا گیا ہے (انہوں نے ماضی میں اس کا ذمہ دار ہوا کا معیار جانچنے کے آلات بنانے والی کمپنیوں کو قرار دیا تھا جو ہمیں اپنی مصنوعات فروخت کرنا چاہتی تھیں)۔یہاں تاریخ سے واقف ہونا ضروری ہے۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت آنے سے قبل یہاں 10 سال تک شہباز شریف برسرِ اقتدار رہے۔ چوڑی سڑکوں اور سگنل فری کوریڈور کی خاطر اس عظیم خادم نے لاہور کے درختوں کو بجلی کی تیزی سے کاٹا۔ ایک شہری منصوبہ ساز لیوئس ممفورڈ نے 1955ء میں کہا تھا کہ ٹریفک سے نمٹنے کے لیے سڑکیں چوڑی کرنا ایسا ہی ہے جیسے موٹاپے کے حل کے لیے اپنی بیلٹ ڈھیلی کرنا۔ شاید شہباز شریف نے یہ نا سنا ہو، ہم اس حوالے سے انہیں معاف کرسکتے ہیں۔لیکن صورتحال کے کلائمیکس کے حوالے سے انہیں معاف کرنا کچھ مشکل ہے۔ پورے لاہور کو سیمنٹ کے جنگل میں تبدیل کرنے کے بعد شہباز شریف کو کچھ خیال آیا اور انہوں نے بھارتی پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ کو ایک خط لکھا۔ شہباز شریف نے خط میں اسموگ کے تدارک کے لیے ایک ‘علاقائی تعاون کے معاہدے’ کی تجویز دی۔ یہ بات ابھی تک واضح نہیں ہے کہ اگر یہ معاہدہ ہوجاتا تو کاٹے گئے ہزاروں درخت کس طرح دوبارہ اُگ جاتے؟بہرحال لاہور کے تقریباً ایک کروڑ 10 لاکھ انسانوں کی جلتی آنکھوں اور گھٹتی سانسوں کو بچانے کے لیے اب اس مسئلے کو حل کرنے کا وقت آگیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی تنظیم برائے خوراک و زراعت کے مطابق پنجاب میں فضائی آلودگی کا باعث بننے والے مادوں کا اخراج سب سے زیادہ ٹرانسپورٹ کے شعبے (43 فیصد)، پھر صنعتوں (25 فیصد) اور اس کے بعد ذراعت کے شعبے (20 فیصد) سے ہوتا ہے۔ یعنی کھیتوں میں آگ لگانا اسموگ کی ایک اہم وجہ ضرور ہے لیکن یہ بنیادی وجہ نہیں ہے۔اسموگ کے تدارک کے لیے ضروری اقدامات کی فہرست طویل ہے۔ سب سے پہلے تو کم معیار کے زیادہ گندھک والے ڈیزل کی درآمد کو بند کرنا ہوگا، پھر گاڑیاں بنانے والی بڑی کمپنیوں کو کم آلودگی خارج کرنے والی گاڑیاں بنانے پر تیار کرنا، آئل ریفائنریز کو کم گندھک والے ایندھن کی تیاری پر منتقل کرنا، کوئلے سے بجلی بنانے والے بجلی گھروں سے جان چھڑانا، صنعتی شعبے کو ایسی ماحول دوست پالیسیوں سے ریگولیٹ کرنا جو کاغذی کارروائی تک محدود نہ ہوں، پبلک ٹرانسپورٹ کی حوصلہ افزائی کرنا، درختوں میں اضافہ کرنا اور کھیتوں میں آگ لگانے کے عمل کو روکنا ہوگا۔لیکن ان تمام کاموں کے لیے کافی وقت درکار ہوگا اور یہ ہر نومبر میں چھٹیوں کا اعلان کرنے سے زیادہ مشکل اور محنت طلب کام ہوگا۔اس حوالے سے کچھ قانونی مسائل بھی ہیں۔ 18ویں ترمیم کے بعد سے زمین کو سرسبز اور صاف ستھرا رکھنے کی ذمہ داری وفاق سے صوبوں کو دے دی گئی تھی۔ اسی وجہ سے وفاقی وزارتِ ماحولیات کو وزارتِ ماحولیاتی تبدیلی کا نام دے دیا گیا۔ تاہم اسموگ کے مسئلے کے حل کے لیے کم از کم ایک قومی سطح کی کوشش کی ضرورت ہے جس میں تقریباً تمام حکومتی شعبے، خاص طور پر وفاقی پیٹرولیم ڈویژن کا شامل ہونا بہت ضروری ہے۔ہم اب تک ایک بنیادی وجہ کی نشاندہی نہیں دے سکیں ہیں۔ یہ وہ وجہ ہے جو فضا میں اسموگ کے ساتھ ساتھ، زمین پر خشک سالی، شہروں میں پُرتشدد واقعات اور تقریباً تمام قومی مسائل کی وجہ بنتی ہے، اور وہ وجہ ہے ہماری آبادی۔شرح پیدائش اور گاڑیوں کی تعداد میں اضافے اور وسائل اور زمین کی فراہمی میں پیدا ہوتی ہوئی تنگی کی وجہ سے ہم ایک ایسے بحران سے قریب تر ہوتے جائیں گے جس سے نکلنا ہمارے بس میں نہیں ہوگا۔ اس بحران سے بچنے کے لیے آج اور ابھی سے کوششیں شروع کرنا ہوں گی۔سوال مگر یہ ہے کہ یہ پہلا موثر قدم اُٹھائے گا کون ؟ موجودہ حکمرانوں کا حال تو یہ ہے کہ ہر مرض کی وجہ سابقہ حکمران قرار دے دئیے جاتے ہیں ۔اللہ اللہ ، خیر صلا۔ اور جب ہر مسئلے کا سبب سابق حکمران اور حکومتیں قرار دے دئیے جائیں اور خود کوئی کام بھی نہ کیا جائے تو پھر اسموگ اور لاہور کی مہلک آلودگی ختم کرنے کیلئے قدم کون اُٹھائے گا ؟ اقدام کون کرے گا ؟ اصل یہ ہے کہ حکمران طبقات عوام کی صحت سے قطعی بیگانہ ہو چکے ہیں۔ اُنہیں بس اقتداراور اختیار کا لالچ ہے ۔ عوام کن بھیانک مسائل اور مصائب سے دو چار ہیں ، یہ سوچنا ہمارے حکمرانوں کی درد سری نہیں رہا ۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »