لاک ڈان اور چودھری برادران پر مقدمے : ایک ساتھ کھل رہے ہیں

اللہ تعالیٰ غفور الرحیم ہے ۔ہماری خطاؤں سے درگزر کرکے ہمیں معاف فرمانے والا ہے ۔ حد سے گزرنے والوں ،سرکشوں اور متکبرین کو مگر وہ معاف نہیں فرماتا ۔ امریکہ ، چین پر اور چین ، امریکہ پر مسلسل الزامات عائد کررہے ہیں کہ اُنہوں نے مہلک کورونا وائرس پھیلایا ہے جو اَب تک ڈیڑھ لاکھ سے زائد انسانوں کی جانیں لے چکا ہے ۔ جو متاثر ہو چکے ہیں ، اُن کی تعداد تین ملین سے بڑھ چکی ہے ۔ الزامات عائد کرنے والوں کو مگر یقین نہیں ہے کہ اس ہلاکت خیز وائرس کا ، دونوں میں سے اصل ذمہ دار کون ہے؟انہیں اگر اللہ تعالیٰ پر یقینِ کامل ہوتا تو کہہ سکتے تھے کہ خالقِ کائنات ہی اس وائرس کا بھی خالق ہے اور وہی اپنی کرم نوازیوں سے اس وبا سے بنی نوعِ انسان کو کامل نجات بخش سکتا ہے ۔ کورونا وائرس کے پھیلاؤ سے دُنیا بھر کے ترقی یافتہ ممالک شکست کھا چکے ہیں ۔ کسی کی سمجھ میں فی الحال یہ نہیں آ رہا کہ اس کا شافی علاج کیا اور کہاں ہے؟ سب ویکسئین بنانے کیلئے ٹامک ٹوئیاں ماررہے ہیں ۔ کسی کو معلوم نہیں کہ وائرس کے خلاف کامیاب ویکسئین کب ایجاد ہو کر سامنے آ سکے گی ؟ لیکن ہمیں حق الیقین ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس ننھے سے اور نظر نہ آنے والے وائرس کو خلق کرکے اپنی میڈیکل اور جنیٹک انجینئرنگ کی ایجادات پر فخر کرنے والی ساری مغربی قوموں کا تکبر خاک میں ملا دیا ہے ۔ اور اللہ کریم کو کبھی بھی کسی بھی فرد ، قوم ، گروہ ، اُمت اور مملکت کا تکبراور غرور پسند نہیں ۔ اب بھی اگر ساری دُنیا اجتماعی طور پر اللہ تعالیٰ سے اپنی غفلتوں ، بدمعاشیوں، گناہوں، کمزروں پر ڈھائے جانے والے مظالم اور تکبرات کی معافی مانگ لے تو عین ممکن ہے کہ رحم کھا کر اللہ کریم ہم سب کو اس ہلاکت خیز وبا سے کامل طور پر نجات دے ڈالے ۔پاکستان میں بھی یہ وبا کم ہونے کی بجائے روز بروز تیزی سے پھیل رہی ہے ۔ تازہ ترین سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ، اب تک ملک بھر میں کورونا وائرس 600سے زائد پاکستانی شہریوں کو ہلاک اور 27ہزار سے زائد شہریوں کو متاثر کر چکا ہے ۔ اور حکومتی ذمہ دار ان کی طرف سے یہ اعلان بھی کیا جارہا ہے کہ ممکن ہے کہ جولائی2020ء تک یہ وبا مزید تیزی سے پھیل جائے ۔اللہ ہم پر نظرِ کرم فرمائے ۔ حکومت پر مگر حیرانی ہے کہ وہ عوام کو مسلسل ڈراوے دے رہی ہے ۔ حکومتی وزیر ( اسد عمر) یہ اعلان کرکے پاکستان کے 22کروڑ عوام کو ڈراوا دے چکے ہیں کہ کورونا وبا سے ملک بھر میں خطِ غربت سے نیچے گرنے والوں کی تعداد7کروڑ تک جا سکتی ہے اور یہ کہ لاکھوںذرائع آمدنی بند ہو سکتے ہیں ۔ حکومتوں کا کام تو یہ ہوتا ہے کہ بحران اور مصیبت میں اپنی رعایا کی ہمت افزائی کرتی ہیں لیکن خانصاحب کی حکومت میں اُلٹی گنگا بہہ رہی ہے ۔ اسد عمر نے یہ کہہ کر ہماری مزید کمر توڑ دی ہے کہ لاکھوں ملازمتیں ختم ہو سکتی ہیں ۔ یہ اعلان کرتے ہُوئے مگر اس وفاقی وزیر کو یہ خیال بالکل ہی نہیں آیا کہ اُن کے وزیر اعظم صاحب اسی عوام کو ایک کروڑ نوکریاں فراہم کرنے کا وعدہ بھی کر چکے ہیں ۔ لیکن لگتا یہ ہے کہ وزیر اعظم سمیت ساری پی ٹی آئی حکومت عوام سے کئے گئے سارے وعدے وعید فراموش کر چکی ہے ۔ اُسے اگر فکر ہے تو بس اپنے ٹائیگروں کی فکر ہے ۔ باقی عوام جائیں بھاڑ میں ۔مایوسیوں کا ایک سمندر ہے جو اس وقت عمران خان کی حکومت میں پورے ملک میں بہہ رہا ہے ۔ خدشہ ہے کہ مایوسیوں کا یہ سمندر خدانخواستہ سارے عوام کو اپنے ساتھ ہی بہا کر نہ لے جائے ۔کورونا وائرس نے حکومت کی مالی پالیسیوں اور معاشی منصوبوں کا پول بھی بُری طرح کھول دیا ہے ۔ کمزور فیصلوں اور نحیف منصوبہ بندیوں کا حال یہ ہے کہ پچھلے40دنوں سے یہ معلوم ہی نہیں ہورہا کہ ملک میں لاک ڈاؤن ہے یا نہیں ۔ جہاں جہاں لاک ڈاؤن کا نفاذ کیا گیا، وہاں وہاں عوام ، تاجروں اور دکانداروں نے مقدور بھی اس لاک ڈاؤن کو پاؤں تلے روند ڈالا ۔ یہ بھی شکایات سامنے آئیں کہ کئی شہروں میں اعلیٰ سرکاری انتظامیہ مبینہ طور پر بڑے بڑے دکانداروں سے رشوت وصول کرکے اُنہیں دکانیں اور اسٹور کھولنے کی کھلی چھُٹی دیتی رہی ۔ یہ ایسی شرمناک حرکت ہے جس پر خاص طور پر پنجاب کی انتظامی مشینری کو شرم سے ڈوب مرنا چاہئے ۔ لاک ڈاؤن کے مسئلے پر سندھ حکومت اور وفاقی حکومت میں شدید قسم کا عدم تعاون دیکھنے میں آیا ۔ لیکن یہ واقعہ ہے کہ سندھ حکومت نے خود سے لاک ڈاؤن پر عمل کرکے کورونا وائرس کو پھیلنے سے کسی حد تک روک دیا جبکہ پنجاب میں جگہ جگہ غفلتیں برتی گئیں ۔ اس کا منفی نتیجہ یہ نکلا ہے کہ آج پنجاب میں کورونا کے متاثرین کی تعداد ملک بھر میں سب سے زیادہ ہے ۔ سندھ میں لاک ڈاؤن کیا گیا تو عمران خان اور اُن کے ہمنواؤں نے اُن پر سخت تنقید کی تھی ۔ یہ تنقید مگر بعد ازاں غلط ہی ثابت ہُوئی ۔ عمران خان نے اپنے مخصوص مفادات کی خاطر سندھ میں اپنے کورونا ٹائیگرز داخل کرنا چاہے مگر سید مراد علی شاہ نے بُو پر کر خانصاحب کی اس منصوبہ بندی کو بھی ناکام بنا دیا اور ان ٹائیگروں کے راستے بند کر دئیے ۔ اور اب فیصلہ کیا گیا ہے کہ پورے ملک میں 9مئی 2020ء بروز ہفتہ سے لاک ڈاؤن کھول دیا جائے گا ۔ جس وقت یہ سطور قارئینِ کرام تک پہنچیں گی ، اُمید ہے اس فیصلے پر عملدرآمد شروع ہو چکا ہوگا ۔ چاروں صوبوں میں اس فیصلے پر بیک وقت عمل ہورہا ہے ۔ اس فیصلے سے مگر کئی سوالات بھی جُڑے ہُوئے ہیں ۔ اعلان کیا گیا ہے کہ لاک ڈاؤن کھلنے کے دوران سب پر کچھ پابندیاں اور ایس او پیز عائد ہوں گے ۔ سب کو ان پر عمل کرنا ہوگا ۔ درست بات ہے مگر سوال یہ ہے کہ اس سے پہلے ملک بھر میں عوام الناس نے حکومت کے بنائے گئے ایس او پیز پر کتنا اور کہاں تک عمل کیا تھا؟ تو کیا اب ان پر عمل درآمد ہو جائے گا؟ ہر گز نہیں ۔ ہمیں خدشہ ہے کہ لاک ڈاؤن کے کھلنے سے کورونا وائر س کا فلڈ بھی کھل جائے گا ۔ کیا اس سیلاب کے دروازے کھلنے کے بعد کنٹرول کرنے کیلئے حکومت نے کچھ بندوبست بھی کیا ہے؟ حکومت نے بس دھمکی دی ہے کہ اگر عوام نے لاک ڈاؤن کے کھولے جانے کی پابندیوں اور ایس اوپیز کا پاس نہ کیا تو دوبارہ لاک ڈاؤن کر دیا جائے گا۔ ہمارا خیال ہے بلکہ ہمیں یقین ہے کہ عوام قطعی طور پر حکومتی ایس او پیز کا خیال اور دھیان نہیں رکھے گی ۔ اصول اور قانون پر چلنا ہم نے سیکھا ہی نہیں ہے ۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ خانصاحب اپنی قوم کی اس نفسیاتی کجی اور ٹیڑھ سے کیا واقف نہیں ہیں؟رازدانِ درونِ خانہ کا کہنا ہے کہ خانصاحب کی حکومت مزید بحرانوں کا ہدف بننے جا رہی ہے ۔ کورونا وائرس کے حوالے سے لاک ڈاؤن کا کھولا جانا ان میں سے ایک ہے ۔ اپنے عزیز ترین دوست ، جہانگیر خان ترین کو محاسبے کے نام پر وہ پہلے ہی ناراض کرکے ایک بحران کو جنم دے چکے ہیں ۔ اگرچہ وزیر اعظم کے ایک مشیر ( زلفی بخاری) ایک غیر ملکی میڈیا سے انٹرویو میں یہ بات فخریہ کر چکے ہیں کہ ترین صاحب، عمران خان کے خلاف محاذ کھولیں گے نہ نئی پارٹی بنائیں گے لیکن یہ خیال محض خام خیالی ہے ۔ ترین کے سر پر احتساب اور الزامات کی جو مستقل تلوار لٹکائی گئی ہے ، ترین صاحب اس سے غافل نہیں ہیں اور نہ ہی وہ یہ بات بھول رہے ہیں کہ یہ تلوار کس نے اور کیوںلٹکائی ہے!جہانگیر خان ترین کی ناراضی ابھی دُور بھی نہیںہُوئی تھی کہ پی ٹی آئی حکومت نے سابق مشیر اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کو بھی ناراض کر دیا ہے ۔ فردوس صاحبہ بھی حکومت کے خلاف الزامات کی نئی پٹاری کھولنے کی تیاریاں کررہی ہیں ۔ مبینہ طور پر حکومت نے اُن سے گزارش کی ہے کہ وہ لب کشائی نہ کریں تو بہتر ہوگا مگر جو لوگ فردوس اعوان کے مزاج سے واقفیت رکھتے ہیں ، اصرار سے کہتے ہیں کہ وہ زبان بندی پر ہرگز تیار نہیں ہوں گی ۔ مبینہ طور پر اُنہیں حکومت کے سب سے بڑے بیوروکریٹ نے جس توہین آمیز انداز میں عہدے سے فارغ کیا یا کروایا ہے اور پھر اس بارے میں خبریں بھی لیک کی ہیں ، زخمی فردوس اعوان اس بات کو ہضم کرنے پر تیار نہیں ہیں ۔ ترین اور فردوس اعوان کے بعد حکومت نے اپنے سب سے بڑے اتحادی چودھری برادران کو بھی ناراض کر دیا ہے ۔ اپنے معتبر ساتھیوں اور اتحادیوں کو ناراض کرنے کے دروازے جس طرح دھڑا دھڑ کھولے جا رہے ہیں ، اس سے کسی بڑے بحران کے دروازے کے کھلنے کی آہٹیں سنائی دینے لگی ہیں ۔ اللہ ہی خیر کرے ۔ چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الٰہی صاحبان کے خلاف ”نیب” کا تقریباً20سال پہلے کا ایک دبا دبایا کیس ( انکوائری) دوبارہ کھولنا ایک غیر معمولی اقدام ہے ۔ گجرات کے چودھری صاحبان اس اقدام کے خلاف عدالت پہنچ چکے ہیں ، اس دعوے کے ساتھ کہ ” چیئرمین نیب کو19سال پرانی اور بند کی جانے والی انکوائری دوبارہ کھولنے کا اختیار نہیں ہے ۔” اور یہ کہ” نیب کا یہ اقدام غیر قانونی قرار دیا جائے ۔” حکومتی ذرائع دعوے سے یہ کہہ رہے کہ چونکہ ”نیب” ایک خود مختار اور آزاد ادارہ ہے اور ہمارا اس پر کوئی عمل دخل نہیں ہے، اسلئے چودھریوں کے خلاف اقدام میں اُن کا کوئی کردار نہیں ہے ۔ حکومت کے یہ دعوے درست ہوں گے لیکن عوام اور چودھری برادران ماننے پر تیار نہیں ہیں ۔ ”نیب” کی اب تک کی جملہ کارکردگی یہی بتا رہی ہے کہ یہ ادارہ دراصل حکومتی مخالفین کا بازو مروڑنے کیلئے استعمال ہوتا آیا ہے ۔ اسی ”ہتھیار” کی طاقت سے آمر جنرل پرویز مشرف نے اپنے مخالفین کی گردنیں دبا کر رکھیں اور آٹھ سال بے خطر حکومت کرتے رہے ۔نواز شریف بھی اسے استعمال کرتے رہے ۔ عمران خان کی حکومت میں بھی ”نیب” کے بارے میں اس تصور کو فروغ ہی ملا ۔ قاف لیگ کھلے بندوں مرکزی حکومت کے خلاف اُنگلی اٹھا کر دعوے کررہی ہے کہ کس کے اشارے پر ”نیب” ایک بار پھر اُن کے خلاف دو عشرے پرانے مقدمات کھولنے پر تیار ہُوئی ہے ۔ وفاقی وزیر برائے ہاؤسنگ( طارق بشیر چیمہ ،جو قاف لیگ سے ہیں) بھی یہی بیانیہ پیش کررہے ہیں ۔ اُنہوں نے گرجتے ہُوئے کہا ہے:”چیئرمین نیب معقولیت پر کام کریں ورنہ ایسا پنڈورا باکس کھلے گا کہ اُنہیں جواب دینا مشکل ہو جائے گا۔” چودھریوں کے خلاف اس کیس (یا پرانی انکوائری کے مبینہ طور پر نئے انداز میں) کے کھلنے سے ایک نیا اور زبردست پنڈورا باکس کھلنے کی راہیں ہموار ہُوئی ہیں ۔ چودھری برادران کے خلاف اس اقدام سے پی ٹی آئی کی مرکزی اور پنجاب کی حکومت کو ضعف پہنچنے کے خدشات نمایاں ہیں ۔ چودھریوں اور عمران خان کے درمیان فاصلے بڑھنے کے اندیشے بھی ظاہر کئے جا رہے ہیں ۔ ہمارا خیال اور خواہش ہے کہ یہ فاصلے بڑھنے کی بجائے ، سمٹنے چاہئیں تاکہ خانصاحب کی حکومت یکسوئی کے ساتھ ملک وقوم کی خدمت بھی کر سکے اور وزیر اعظم عمران خان کورونا بحران کے پیدا کردہ سنگین معاشی حالات سے بھی نمٹ سکیں ۔ اس کیلئے مگر اخلاص اور کمٹمنٹ کی بھی ضرورت ہے!!


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.