Daily Taqat

کچھ اشک ہمارے گونگے تھے، کچھ قحط یہاں بینائی کا

وزیر اعظم عمران خان نے عوامی جمہوریہ چین کے پانچ روزہ دَورے پر روانہ ہونے سے قبل قوم سے دس منٹ کا ہنگامی خطاب کیا ہے۔ خطاب سے قبل آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور وزیر اعظم کی باہمی ملاقات بھی ہُوئی ۔ بتایا گیا ہے کہ اس ملاقات میں ملکی سلامتی اور ملک میں لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال پر بھی بات چیت کے علاوہ اس دَورے سے پاکستان اور چین کے درمیان کئی سٹریٹجک مفادات کا معاملہ بھی زیرِ غور آیا۔ اس ملاقات کے بعد وزیر اعظم عمران خان قوم کے رُوبرو آئے۔ اس خطاب کا پہلے سے شیڈول کے مطابق کوئی پروگرام طے نہیں تھا ۔ لیکن ملک میں ایک ایسا واقعہ پیش آ گیا تھا جس نے وزیر اعظم کو مجبور کیا کہ وہ قوم سے مخاطب ہوں اور حالات کی سنگینی سے عوام کو آگاہ بھی کریں اور اُنہیں اپنے اعتماد میں بھی لیں۔ چین کے اوّلین دَورے پر روانہ ہونے سے قبل عمران خان کو فوری طور پر اسلئے قوم سے خطاب کرنا پڑا کہ توہین کے ایک کیس میں سپریم کورٹ کی ایک ماتحت عدالت سے سزا یافتہ مسیحی خاتون آسیہ بی بی کوپاکستان کی سب سے بڑی عدالت نے رہا کرنے کا حکم دے دیا تھا اور اس فیصلے کے خلاف بعض مذہبی تنظیموں نے احتجاج میں ملک کے کئی حصوں کو مسدود کر دیا تھا ۔ ٹریفک کا نظام منجمد ہو گیا تھا اور کاروبارِ حیات کو بریکیں لگ گئی تھیں۔ضلع ننکانہ صاحب کے ایک گاؤں اِٹّاں والی سے تعلق رکھنے والی ایک غریب مزدور مسیحی عورت آسیہ بی بی پر تقریباً دس سا ل قبل یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ وہ توہین کی مرتکب ہُوئی ہے۔ الزام عائد کیا گیا تھا کہ ملزمہ نے کچھ کھیت مزدور خواتین کی موجودگی میں بعض ایسے الفاظ ادا کئے تھے جن سے یہ پہلو نکلتا تھا کہ اُس نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی شان میں گستاخی کی ہے ۔ مقدمہ چلا تو یہ بات مبینہ طور پر سامنے آئی تھی کہ ملزمہ نے اپنے اوپر عائد کردہ الزام سے انکار کیا ۔ یہ ایک طویل عدالتی داستان ہے۔ مختصر یہ ہے کہ2010ء میں ضلع ننکانہ صاحب کی سیشن عدالت نے آسیہ بی بی کو سزائے موت سنا دی تھی ۔ آسیہ بی بی نے اس فیصلے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں اپیل داخل کی تھی ۔ چار سال بعد عدالت مذکور نے سزا کی توثیق کر دی۔ آسیہ بی بی نے جنوری2015ء میں لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔ اور اب 31اکتوبر2018ء کی صبح سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے متفقہ طور پرآسیہ بی بی کے خلاف کیس خارج کرنے اور اُسے رہا کرنے کا حکم دے دیا۔ یہ فیصلہ چیف جسٹس جناب میاں ثاقب نثار صاحب نے لکھا ہے۔ فیصلے کے پہلے صفحے پر سب سے اوپر کلمہ شہادت لکھا گیا ہے ۔ یہ دراصل اس بات کی عملی شہادت ہے کہ فیصلہ سنانے والے جج صاحبان اللہ کی واحدانیت پر بھی ایمان رکھتے ہیں ، نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کو اللہ کا آخری رسول بھی مانتے ہیں ، ختم ِ نبوت پر بھی اُن کا گہرا ایمان ہے۔ یہ فیصلہ پاکستان کے آئین وقانون کے مطابق کیا گیا ہے اور پاکستان کا آئین اور قانون قرآن و سنت کے تابع ہے۔ وزیر اعظم نے بھی یہی بات کہی ہے کہ ” آسیہ کیس کا فیصلہ آئین و قانون کے مطابق ہے۔” ۔ اور جب کوئی فیصلہ آئین و قانون کے مطابق کر دیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے خلاف آوازیں بلند کرنا اور احتجاج میں گھیراؤ جلاؤ اور ٹریفک کو منجمد کرنے کی وارداتیں کرنا کسی بھی اعتبار سے قابلِ قبول نہیں ہے۔ پاکستان کے اکثریتی عوام کی طرح ہمارے معزز جج صاحبان بھی اللہ کے آخری پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی محبت میں سرشار ہیں۔یہ سوچا بھی نہیں جا سکتا کہ اُن کا کوئی فیصلہ قرآن و سنت سے متصادم ہوگا۔ چیف جج صاحب بھی سچے عاشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم ہیں۔ چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب خود کو صوفیائے عظام کا سچا خادم بھی کہتے ہیں۔ اُن کے والدِ گرامی بھی حضرت داتا گنج بخش علیہ رحمہ کے مزار شریف کے سامنے مسجدمیں تہجد کی نماز ادا کرنے برسوںحاضر ہوتے رہے ہیں۔ خود چیف جج صاحب ،داتا صاحب علیہ رحمہ کے مزار مبارک کی جارُوب کشی اپنے لئے بہت بڑی خدمت وسعادت سمجھتے ہیں۔ کیا ایسا شخص کسی کے دباؤ میں آکر کسی کیس کا فیصلہ کر سکتا ہے؟ ہر گز نہیں ۔ ایسا شخص اللہ کو حاضر وناظر جان کر وہی فیصلہ کرے گا جو قانون اور آئین کی رُوح کے عین قریب ہوگا۔ آسیہ بی بی کے کیس میں معزز جج صاحبان نے قرار دیا ہے کہ گواہوں کے بیانات میں تضادات ہیں، استغاثہ مقدمہ ثابت کرنے میں ناکام رہا، اسلئے رہائی آسیہ بی بی کا حق بنتا ہے۔جو جج صاحبان اپنے مذکورہ فیصلے کے پہلے صفحے کی پیشانی پر کلمہ شہادت لکھنے کو ترجیح دیں ، اُن کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار نہیں کیا جانا چاہئے۔ لیکن یہ فیصلہ آتے ہی لاہور میں پنجاب اسمبلی کے سامنے ، مال روڈ پر بیٹھے بعض ذمہ دار لوگوں میں سے ایک صاحب نے آن دی ریکارڈ جج صاحبان اور ہماری جری افواج کی قیادت کے خلاف مبینہ طور پرجو قابلِ اعتراض اور پُر انگیخت زبان استعمال کی ہے، اس سے انارکی کے جذبات کو فروغ تو مل سکتا ہے ، کسی اچھائی کی اُمید ہر گز نہیں کی جا سکتی۔ یہ زبان بلوہ کرانے اور اکساہٹ کی زبان ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ نہائت نازک حالات میں جب وزیر اعظم پاکستان چین روانہ ہو رہے تھے، سپریم کورٹ کے فیصلے کا بہانہ بنا کر فسادیوں اور اپوزیشن کے بعض گروہوں نے ملک میں لاقانونیت کو فروغ دینے کی کوشش کی ہے۔ اس کا نہائت منفی پیغام چین تک بھی پہنچا ہوگا۔ حکومت، افواجِ پاکستان اور عدالتِ عظمیٰ کے سینئر ترین ججوں کے خلاف مبینہ طور پر بروئے کار لائی گئی زبان اور بیان پر ہم تاسف اور دکھ کا اظہار ہی کر سکتے ہیں۔ کاش، ایسا نہ ہوتا۔ محراب و منبر پر بیٹھنے والی ہماری مذہبی قیادت کو تو اصلاح پسند، صابر اور متحمل ہونا چاہئے تھا۔ کاش، یہ قیادت صوفیائے عظام کے نقوشِ قدم کو اپنے لئے مشعلِ راہ بناتی تو آج پوری دُنیا میں اسلام سے محبت کا پرچم لہرا رہا ہوتا۔ یہ ہمارے صوفیائے عظام ہی تھے جن کی محبت بھری اور انسانیت نواز تعلیمات سے متاثر ہو کر کفر اور شرک کے مرکز ہندوستان میں اسلام کا نور پھیلا ۔ لاکھوں کروڑوں انسان دائرئہ اسلام میں جوق در جوق داخل ہوتے چلے گئے۔ آج ہم اسلام کے نام لیوا ہیں تویہ دراصل انہی صوفیائے کرام کی محبتوں، محنتوں، انسانیت نوازی کے دروس اورغیر متعصبانہ و غیر متشددانہ رویوں کی بدولت ہے۔ ان صوفیائے کرام کی تبلیغ ہر قسم کے تشدد سے پاک اور مصفّا تھی، اسلئے کہ اُن کے قلوب ہر نوع کے تعصب سے پاک تھے۔محبت کی تقسیم اُن کا سب سے بڑا ہتھیار تھا جس کی اساس پر اُنہوں نے دلوں کو شکار کیا؛ چنانچہ جب خواجہ نظام الدین اولیا ء علیہ رحمہ اپنے مریدین سے یہ ارشاد فرماتے تھے کہ ” کوئی اگر تمہارے راستے میں ایک کانٹا رکھ دے تو ردِ عمل میں تم بھی اُس کے راستے میں کانٹا نہ رکھنا ، بلکہ اُسے راستے سے ہٹا دینا کیونکہ اگر کانٹے کے مقابلے میں کانٹا رکھنے کا عمل نہ رُکا تواللہ کی یہ دُنیا کانٹوں سے بھر جائے گی”تو اس کا مطلب در اصل یہی تھا کہ کسی کی بدسلوکی کے مقابلے میں ہمیشہ اچھائی اختیار کرنے کو اپنا شعار بنائے رکھنا ۔ یہ تعلیم دراصل حقیقی اسلام کی تعلیم ہے ۔ ہمارے پیارے رسول اور اللہ کے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم بھی اسی طرزِ عمل کی تلقین فرماتے تھے۔یہی اسلامی اخلاق ہے ۔ اور ہمارے جج صاحبان اور ہمارے جرنیلوں کے بارے میں جو زبان استعمال کی گئی ہے ، وہ کسی بھی طرح اور کسی بھی شکل میں اسلامی مبادیات اور اسلامی اخلاق سے مطابقت نہیں رکھتی ۔ ہم اس روئیے اور زبان کی حمائت نہیں کر سکتے ۔ یہ آزادیِ اظہار بھی نہیں ہے۔ آزادیِ اظہار کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہے کہ آپ کی تحریر و تقریر سے کسی کے جذبات مجروح ہو جائیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اِس معاملے میں چند دن پہلے یورپی یونین کی ایک( غیر مسلم) عدالت ( یورپین کورٹ آف ہیومن رائٹس) نے متفقہ طور پر جو فیصلہ سنایا ہے، اُس نے ہمارے سمیت دُنیا کے تمام مسلمانوں اور شریف انسانوں کا دل موہ لیا ہے۔اس مغربی عدالت نے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران فیصلہ کرتے ہُوئے لکھا ہے:”کسی بھی شخص کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ آزادیِ اظہار کے حق کی بنیاد پر مسلمانوں کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی شان میں گستاخی کا مرتکب ہو۔ اُسے تحریر وتقریر کی شکل میں ایسا کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ”یہ فیصلہ آسٹریا کی ایک شہری مسز ایس کے بارے مقدمے میں کہے گئے ہیں۔اس خاتون کو اسلام کے بارے دل آزار زبان استعمال کرنے کی پاداش میں سزا کا مستحق قرار دیا گیا تھا اور اُس نے اپنی سزا کے خلاف ”یورپین کورٹ آف ہیومن رائٹس” میں اپیل کررکھی تھی۔مذکورہ مغربی اور غیر مسلم عدالت نے اس خاتون کے خلاف اور اسلام کے حق میں فیصلہ سنایا ہے۔ اس فیصلے کی بازگشت ساری دُنیا میں سنائی دی گئی ہے۔ مَیں تو یہاں تک کہتا ہُوں کہ اس فیصلے کے الفاظ نے ہمیں خرید لیا ہے؛ چنانچہ کہا جا سکتا ہے کہ ہمارے ہاں کے وہ لوگ جو آسیہ بی بی کے حق میں آنے والے سپریم کورٹ کے فیصلے کی بنیاد پر آزادی ِ اظہار کا حق استعمال کرتے ہُوئے جج صاحبان اور فوجی قیادت کو دشنام دے رہے ہیں، یہ حق قطعی طور پر قابلِ قبول نہیں ہے۔ یہ آئین و قانون سے بھی متصادم ہے اور ہماری مروجہ اسلامی اخلاقیات سے بھی۔لیکن بعض لوگ باز نہیں آرہے ۔ خاص طور پر اپوزیشن سمجھتی ہے کہ موقع اچھا ہے۔ اسے بنیاد بنا کر وزیر اعظم عمران خان اور پی ٹی آئی حکومت کو بلڈوز کر دیا جائے۔ مولانا فضل الرحمن کی قبیل کے لوگ اس موقع سے استفادہ کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ اپنی مذموم کوششوں میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔ مولانا ”صاحب” نے آل پارٹیز کانفرنس(اے پی سی) کا انعقاد کروا کر اپنے مفادات کی ٹوکری بھرنا چاہی تھی لیکن اُن کے تمام منصوبے اللہ تعالیٰ نے ناکام و نامراد بنا دئیے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان پر دباؤ ڈالنے کیلئے اپوزیشن متحد ہو نے کا ڈرامہ تو یقینا رچا رہی ہے لیکن ہمیں یقین ہے کہ یہ ڈرامے زیادہ دیر چلیں گے نہ کامیاب ہوسکیں گے۔ حکومتوں کے خلاف متحد ہونے اور اُنہیں اقتدار سے رخصت کرنے کیلئے اپوزیشنوں کو ہمیشہ کسی ٹھوس نظرئیے یا کوئی مشترکہ قومی مقصد درکار ہوتا ہے۔ لیکن تجزیہ کیا جائے تو یہ بات واضح ہو کر سامنے آتی ہے کہ موجودہ اپوزیشن کے پاس نہ تو کوئی نظریہ ہے اور نہ ہی اُن کے ہاتھ میں کوئی ایسا مشترکہ مقصد اور مفاد ہے جس سے قوم کو نئی اُمید دلائی جا سکے یا جس سے تعمیر کی کوئی نئی راہ نظر آئے۔ اپوزیشن کا دامن خیر سے ان دونوں مقاصد سے تہی نظر آرہا ہے۔ پھر یہ کیونکر اور کیسے حکومت کو دباؤ میں لا کر اپنے ڈَھب پر لا سکیں گے۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ وزیر اعظم کے خلاف اپوزیشن کو اکٹھے کرنے اور محاذ بنانے کیلئے ایک ایسا شخص بروئے کار ہے جو قومی اسمبلی کا رکن ہے نہ سینیٹ کا۔ ان صاحب کا نام مولانا فضل الرحمن ہے اور ان کے پیٹ میں اس وقت سب سے بڑا یہ مروڑ اُٹھ رہا ہے کہ یہ انتخابات میں بُری طرح شکست کھا گئے اور اب اسمبلی سے باہر بیٹھ کر اپنی شکست کے زخم چاٹ رہے ہیں۔ ہمیشہ اقتدار میں رہ کر گل چھرے اڑاناان کا مقصدِ اولیٰ رہا ہے۔ وہ برسہا برس سے اقتدار سے لطف اندوز ہوتے آئے ہیں۔ اب اُنہیں اقتدار کے محلات اور ایوانوں سے باہر بیٹھنا پڑ رہا ہے تو دراصل اُن کی روٹی ہضم نہیں ہو رہی ہے۔ بعض اطراف سے یہ مصدقہ اطلاعات بھی آئی ہیں کہ ان مولانا صاحب نے ملتان میں اپنے ایک مدرسے کے باہر سرکاری زمین پر ناجائز قبضہ کرکے درجنوں دکانیں بنا رکھی تھیں۔ کئی برسوں سے ان دکانوں سے اُنہیں ماہانہ لاکھوں روپیہ کرایہ آرہا تھا اور اُن کی موجیں لگی ہُوئی تھیں۔ اب خان صاحب کی حکومت نے اپنے اور پرائے کا امتیازکئے بغیر ملک بھر میں ناجائز تجاوزکنندگان اور لینڈ مافیا کے خلاف آپریشن کا آغاز کیا ہے تو اس کی زَد میں مبینہ طور پر مولانا فضل الرحمن اور اُن کے صاحبزادے کی یہ مذکورہ دکانیں بھی آ گئی ہیں۔ مولانا موصوف کو اس کا بڑا رنج اور قلق ہے۔ لاکھوں کی مفت آمدنی پر عمران خان کی حکومت نے ہونجا پھیر دیا ہے۔ انتخابات میں شرمناک شکست اور ناجائز تعمیر کی گئی دکانوں کی مسماری، ان دونوں غموں نے مل کر مولانا صاحب کو آگ بگولہ کررکھا ہے ؛ چنانچہ اُن کا طیش دیدنی ہے اور وہ دوسرے طریقے سے حکومت کو زِچ کرنے کیلئے عمران خان کے خلاف میدان میں اُترے ہیں۔اور اپنے ساتھ دیگران کو بھی ورغلا لیا ہے۔ اور ”دیگران” کو یہ غم کھائے جارہا ہے کہ اگر خان کی حکومت اپنے پاؤں پر مضبوطی سے کھڑی ہو گئی تو ان کی سیاست کا بستر لپٹ جائے گا۔ اس کے علاوہ عمران خان سابق کرپٹ حکمرانوں کا بے لاگ احتساب کرنے کا وعدہ بھی بار بار دہرا رہے ہیں۔ وہ جوں جوں یہ وعدہ دہراتے ہیں، اُسی شدت سے ”دیگران” کا دل بیٹھ بیٹھ جاتا ہے ؛ چنانچہ حفظِ ماتقدم کے طور پر یہ سب لوگ ایک ٹوکرے میں اکٹھا ہو کر حکومت کی بازی اُلٹنے کا عندیہ دینے لگے ہیں لیکن بخوبی جانتے ہیں کہ یہ محض گیدڑ بھبھکیاں ہیں۔ اس پس منظر میں وزیر اعظم عمران خان نے بجا طور پر کہا ہے کہ ”مَیں ان کی بلیک میلنگ میں نہیں آؤں گا۔”ہم سمجھتے ہیں کہ یہ بیان دے کر وزیر اعظم نے اپوزیشن کی دکھتی رَگ پر بھی ہاتھ رکھا ہے اور اُن کی اوقات بھی یاددلا دی ہے۔ عوام بھی بخوبی سمجھ رہے ہیں کہ اپوزیشن کے کرپٹ عناصر کے پیٹ میں اُٹھا درد اُسی صورت میں ٹھیک ہو سکتا ہے جب عمران خان اپوزیشن کو مکمل ڈھیل دینے کی ڈِیل کر لیں ۔ ایسا ہونا کم از کم اِن حالات میں ممکن نہیں ہے۔ اپوزیشن اور اُن کے گماشتوں نے خان حکومت کے خلاف ڈِس انفرمیشن کا طوفانِ بدتمیزی بھی مچا کر دیکھ لیا ہے۔ سوشل میڈیا پر جھوٹ اور افترا کی داستانیں بھی پھیلا کر آزما لیا گیا ہے لیکن کچھ نہیں بنا ۔ عوام نے اِنہیں پائے استحقار سے ٹھکرا دیا ہے۔ اپوزیشن اور اُن کے حالیوں موالیوں نے حال ہی میں کسی نام نہاد اسرائیلی جہاز کے اسلام آباد میں لینڈ کرنے کی کہانیاں بھی گھڑ کر دیکھ لی ہیں لیکن عوام نے ان سب کو مسترد کر دیا۔ شرمناک بات یہ ہے کہ اسرائیلی جہاز کا ملک دشمن شوشہ ایسے وقت میں چھوڑا گیا جب سارا ملک مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے یومِ سیاہ منا رہا تھا اور ہم سب کشمیر میں بھارتی زیادتیوں اور مظالم کا ذکر کررہے تھے۔ خدا کا شکر ہے کہ یہ خبر سراسر جھوٹی اور بے بنیاد ثابت ہُوئی؛ چنانچہ ناکامی اور شکست پر اپوزیشن پر پاگل پَن کے دَورے پڑ رہے ہیں۔دُنیا حیران ہو رہی ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی یہ کیسی جمہوری حزبِ اختلاف ہے کہ ابھی حکومت کو بنے 100دن بھی نہیں گزرے کہ یہ لوگ حکومت کا شجر کاٹنے کے لئے کلہاڑیاں اور آریاں سونت کر باہر نکل آئے ہیں اور ان کے پیچھے عوام کی اکثریت بھی نہیں ہے۔ گویا اپوزیشن اور خاص طور پر مولوی فضل الرحمن کی وارداتوں کو ہم سراسر ملک دشمن ایجنڈا کہہ سکتے ہیں۔اس شخص نے اپوزیشن کو عمران خان کے خلاف متحد کرکے اپنا اُلّو سیدھا کرنے کی اپنی سی مذموم کوشش تو ضرور کی ہے لیکن منہ کی کھانا پڑی ہے۔ بدلے حالات میں شریف برادران نے مولوی موصوف کا ساتھ دینے اور نام نہاد اے پی سی میں شریک ہونے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ اپنی بجائے اپنا وفد بھیجنے کی البتہ بات ضرور کی اور یہ بات مولانا کو منظور نہیں تھی کہ یوں اُن کا ایجنڈا مکمل نہیں ہو رہا تھا؛ چنانچہ بہ امر مجبوری اے پی سی کا کھڑاگ نہیں ہو سکا ہے۔ اسے موخّر کرنا پڑا ہے ۔ جنہوں نے اس سے بڑی اُمیدیں باندھی تھیں، اُنہیں سخت مایوسی کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ اس شخص کے دل سے احساسِ زیاں بالکل جاتا رہا ہے۔ اور اب وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف آستینیں چڑھا کر اپنے مفادات کی آبیاری کرنے کا عندیہ دے رہے ہیں۔ چونکہ اُن کے بیانات اور سیاسی اعمال میں اخلاص کا عنصر قطعی مفقود ہے ، اسلئے قوم اُن کی آواز پر لبیک کہنے اور عمران خان کے خلاف اُٹھنے کو تیار نہیں ہے۔اے پی سی کی ناکامی بھی دراصل اس امر کی غمازی کرتی ہے۔ پوری قوم ایک بد نیت شخص کی بلیک میلنگ میں آنے کے لئے تیار ہے نہ کبھی اس بلیک میلنگ کا شکار بنے گی۔ قوم اس وقت صرف اور صرف ملک میں امن کا استحکام اور حکومت کی کامیابی چاہتی ہے۔ ملک میں کامل امن ہوگا تو غیر ملکی سرمایہ کاری بھی ممکن ہو سکے گی۔ امن اور سرمایہ کاری کی صورت ہی میں ملکی ترقی کی کشتی خوشحالی کے ساحل پر لگے گی۔ بعض مگر ایسے بد باطن ہماری قومی صفوں میں موجود ہیں جو ملکی امن کے دشمن ہیں۔ یہ کالی بھیڑیں بد امنی کی صورت ہی میں پھلتی پھولتی ہیں۔ یہ جَلد ہی اپنے انجام کو پہنچنے والی ہیں۔ انشاء اللہ !! آج کل تو مولانا فضل الرحمان مسلسل ناکامیوں کے بعد گنگناتے سنے گئے ہیں کہ!

کچھ اشک ہمارے گونگے تھے، کچھ قحط یہاں بینائی کا
اس شہر میں اپنا رونا بھی، یوں سمجھو کہ بیکار گیا

اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ2نومبر کی شام تحریکِ لبیک اور حکومت کے درمیان مفاہمتی معاہدہ طے پا گیا۔ یہ معاہدہ پانچ نکات پر مشتمل ہے ۔ اس پر حکومت کی طرف سے وفاقی وزیر مذہبی امور نور الحق قادری اور پنجاب کے صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت کے دستخط ثبت ہیں اور تحریکِ لبیک کی طرف سے محمد افضل قادری اور محمد وحید انور نے دستخط کئے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس پانچ نکاتی معاہدے کی ڈرافٹنگ اس طرح کی گئی ہے کہ دونوں فریقین خود کواپنی اپنی جگہ ”فاتح” سمجھ رہے ہیں۔ درحقیقت بات فاتح یا مفتوح کی نہیں ہے بلکہ اطمینان بخش بات یہ ہے کہ معاہدے کے بعد پاکستان کے بائیس کروڑ عوام کو تشنّج سے نجات ملی ہے۔ تین دن کی قیامت خد ا خدا کرکے اختتام کو پہنچی ہے۔یہ تو خیر درست ہُوا لیکن اس تین روزہ احتجاج نے اپنے پیچھے بہت سے سوال بھی چھوڑ دئیے ہیں: احتجاج کنندگان کی وجہ سے ملک کو اربوں، کھربوں روپے کا جو نقصان پہنچا ہے، اس کا ذمہ دار کون ہے، یہ نقصان کیا احتجاج کرنے والوں کی قیادت سے پورا کیا جائے گا؟، پورے ملک کی شاہراہوں پر سفر کرنے والوں کو جن مشتعل اور شوریدہ سروں نے بلا وجہ زدو کوب کیا، اُن کا مال لُوٹا، اُن کی توہین کی گئی، اِن سب کا حساب کون دے گا؟ حساب کون لے گا؟ ،ان تین اعصاب شکن ایام کے دوران موٹر وے اور ہائی ویز پر سفر کرنے والوں کی ذاتی کاروں، بسوں،ٹرکوں اور ویگنوں کو جس بے دردی سے جلا کر راکھ کر دیا گیا، اس نقصان کا ازالہ کون کرے گا اور کب کرے گا؟ ، فسادیوں اور بلوہ انگیزوں کی سہولت کیلئے تو لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی وغیرہ ایسے بڑے شہروں میں موبائل سروس بند کر دی گئی تاکہ وہ دل کھول کر ہلّڑ بازی کر سکیںاور اُن کی کوئی شکائت بھی نہ کر سکے، لیکن اس دوران جن کروڑوں شہریوں کو شدید نفسیاتی دباؤ اور خوف کا سامنا کرنا پڑا، کوئی ہے جو اس کی کبھی قیمت ادا کر سکے گا؟اور یہ غیر دانشمندانہ فیصلہ آخر حکومت نے کس لال بجھکڑ مشیر کے کہنے پر کیا؟، ان تین ایام کے دوران جن افراد نے مذہب کی حرمت کے نام پر جو غیر مذہبی حرکات کرکے بے شمار لوگوں کے دل دکھائے ہیں اور ملک کو ہائی جیک کئے رکھا، یہ تحریک برپا کرنے والی قیادت ملک کی اکثریتی عوام کو سمجھا سکے گی کہ آیا ہمارا عظیم الشان دین ایسی حرکات کی اجازت دیتا ہے؟ حقیقت تو یہ کہ ہمارا دین اپنے ہم نفسوں کی عزت کرنے، اُن کی جان مال کا تحفظ کرنے، اُنہیں محبت واحترام دینے، ایثار وقربانی کا درس دیتا ہے لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ان تین ایام کے دوران ایسے درُوس اور دینی تعلیمات کو فراموش کر دیا گیا۔ اس سے غیر مسلم دُنیا کو ہر گز کوئی اچھاپیغام نہیں پہنچا ہے۔ یہ دُنیا اب گلوبل ویلیج بن چکی ہے۔ ہم دُنیا کو کیا منہ دکھا سکیں گے؟ کیا یہ کم نقصان ہے؟
نوٹ: کالم اختتام کے قریب تھا کہ یہ اندوہناک خبر آ گئی کہ وطنِ عزیز کے نامور عالمِ دین ، سابق سینیٹر ، کئی کتابوں کے مصنف اور اکوڑہ خٹک کی عالمی شہرت یافتہ دینی درسگاہ کے مہتممِ اعلیٰ مولانا سمیع الحق شہید کر دئیے گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اُن کی مغفرت فرمائے اور اُن کے درجات بلند کرے ۔ آمین۔ شہید مولانا سمیع الحق نے دینی تعلیم کی اشاعت اور فروغ میں شاندار کر دار ادا کیا۔ افغان جہاد میں بھی اُن کا کردار نمایاں رہا۔ کئی افغان مجاہدین رہنما اُنہی کے شاگرد اور اُنہی کے مدرسے کے فارغ التحصیل تھے۔ اِسی بنیاد پر اُنہیں ”بابائے طالبان” بھی کہا جاتا تھا۔آپ ”متحدہ مجلسِ عمل” اور ”پاکستان دفاعِ کونسل” ایسے دینی اور سیاسی جماعتوں کے بانی اور خالق تھے۔ وہ ملک بھر کی دینی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد اور یکجا کرنے کی ہمیشہ کوششیں کرتے رہے۔ اُن کی یہ مساعیِ جمیلہ یقینا اُن کے لئے اجر کا باعث بنیں گی۔ وہ جمیعتِ علمائے اسلام کے ایک دھڑے کے سربراہ بھی تھے۔ دینی سیاست پر بھی اُن کے گہرے اثرات تا دیر محسوس کئے جاتے رہیں گے۔ اُن کے قاتلوں کا پتہ چلا کر اُنہیں جَلد کیفرِ کردار تک پہنچایا جانا چاہئے۔ یہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا اوّلین فریضہ ہے۔ بلا شبہ مولانا سمیع الحق کی موت ایک قومی سانحہ ہے۔ اللہ کریم اُن کے پسماندگان اور پیروکاروں کو صبر جمیل عطا فرمائے ۔ آمین۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »