Latest news

کیا کسی کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ہے ؟

نہیں معلوم اللہ تعالیٰ کو وطنِ عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان سے کیا منظور و مطلوب ہے ! معاشی اور عالمی سفارتی محازوں پر پاکستان کو لاتعداد اور اَن گنت آزمائشوں اور امتحانوں کا سامنا ہے ۔ داخلی محاز پر بھی پاکستان اور موجودہ حکومت کو کم امتحانوں اور محازوں کا سامنا نہیں کرنا پڑ رہا۔ مولانا فضل الرحمن صاحب کسی اتحادی اور ساتھی کی پروا کئے بغیر اسلام آباد پر چڑھائی کرنے کے ارادے رکھتے ہیں ۔ وہ اکتوبر کی کسی تاریخ کو یلغار کرنا چاہتے ہیں ۔ ظاہر ہے یہ یلغار کسی بھی اعتبار سے پاکستان کی سلامتی اور استحکام کے منافی ہوگی ۔

شنید ہے کئی ملکی اورغیر ملکی دوست مولانا موصوف کو اس یلغار سے گریز پا رہنے کا مشورہ دے رہے ہیں لیکن قبلہ مولانا صاحب مان کر نہیں دے رہے ۔مقبوضہ کشمیر کی ہمہ دَم بدلتی اور کشیدہ صورتحال کے باوجود جے یو آئی (ایف) کے سربراہ اپنی ہٹ پر قائم ہیں ۔ پاکستان کی ایک این جی او کی سربراہ اور مشکوک پی ٹی ایم کی رکن گلالئی اسماعیل پُر اسرار حالات میں پاکستان سے فرار ہو کرامریکہ پہنچ گئی ہیں ۔ پی ٹی ایم کے کردار سے کون واقف نہیں؟ امریکہ میں گلالئی اسماعیل کی موجودگی پاکستانی مفادات کے منافی ہوگی ۔ حال ہی میں پی ٹی ایم کے دو مرکزی قائدین( علی وزیر اور محسن داوڑ) کوپشاور ہائیکورٹ کے بنوں بنچ کی طرف سے ضمانت پررہا کیا گیا ہے ۔ دونوں سابق ”فاٹا” کے علاقوں سے رکن اسمبلی ہیں اور اُن پر سنگین پر الزامات عائد ہیں ۔ ضمانت پر رہا کئے جانے کے بعد اُن کے انتخابی و قبائلی حلقوں میں جس طرح استقبال کیا گیا ہے، یہ کم تشویش کی بات نہیں ہے کہ یہ استقبال دراصل مشکوک اور مشتبہ ”پی ٹی ایم” کی پذیرائی کے مترادف ہے ۔ بھارتی آرمی چیف بپن راوت اور بھارتی حکومت نے چند دن پہلے پاکستان پر جو نئے الزامات عائد کئے ہیں ، یہ الگ تشویشناک ہیں ۔ پاکستان نے اگرچہ ترنت ان کی تردید بھی کی ہے اور ان کا سختی سے جواب بھی دیا ہے لیکن بھارتی عزائم پاکستان کے لئے کم پریشانی کا باعث نہیں ہیں ۔ اس کامطلب ہے کہ مقبوضہ کشمیر کو پانچ اگست سے اپنے اندر ضَم کئے جانے کے غیر انسانی ، غیر قانونی اور غیر اخلاقی اقدام کے بعد بھی بھارت اپنی غلیظ حرکتوں سے باز نہیں آرہا۔ ظاہر ہے پاکستان کو ان سب سنگین اور حساس معاملات کی طرف کھلی آنکھوں سے دیکھنا پڑرہا ہے اور کسی بھی پاکستان مخالف اور ممکنہ بھارتی ایڈونچر کے مقابلے کیلئے خود کو تیار بھی رکھنا ہے ۔افغانستان کی طرف سے آئے روز سرحد پر کھڑے ہمارے فوجی جوانوں پر حملے ہو رہے ہیں ۔ ان حملوں میں ہمارے کئی فوجی افسر اور جوان شہید بھی ہو رہے ہیں ۔ ابھی حال ہی میں میجر عدیل کی شہادت تازہ سانحہ ہے ۔

ایران ، سعودی کشمکش بھی پاکستان کیلئے کم باعثِ تشویش نہیں ہے ۔ گویا پاکستان چاروں اطراف سے خطرات اور تشویشات میں بُری طرح گھرا ہے ۔ ایسے میں ایک نئی آزمائش اور افتاد نے پاکستان کو آ گھیرا ہے ۔ 24ستمبر کو آزاد کشمیر میں آنے والے شدید زلزلے نے پاکستان ، پی ٹی آئی اور عمران خان کو ایک نئی آزمائش میں مبتلا کر دیا ہے ۔ رکٹر اسکیل پر اس زلزلے کی شدت 5.8تھی اور دورانیہ آٹھ سے دس سیکنڈ تھا۔ یہ مہلک زلزلہ اُس وقت آیا جب وزیر اعظم خانصاحب نیویارک میں تھے ۔ وزیر اعظم صاحب نے فوری طور پر ٹویٹ کے زریعے زلزلے میں جاں بحق اور زخمی ہونے والوں سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا ہے ۔آمدہ اطلاعات کے مطابق، تین درجن کے قریب آزاد کشمیری جاں بحق اور 500کے قریب زخمی ہُوئے ہیں ۔ کئی عمارتیں ، پُل اور سڑکیں تباہ ہو چکی ہیں ۔ مواصلاتی نظام کی تباہی بھی ہُوئی ہے اور نہر اپر جہلم میں شگاف بھی پڑا ہے لیکن اس شگاف کو پُر کیا جا چکا ہے ۔ یوں کئی دیہاتوں کو زیر آب آنے سے بچا لیا گیا ہے ۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس زلزلہ زدہ علاقے میں واقع منگلا ڈیم محفوظ اور مامون ہے اور اس کا پورا انفراسٹرکچر بھی ۔ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اگر یہ ڈیم بھی زلزلے کی شدت کی زَد میں آجاتا تو ؟ ہمیں اجتماعی حیثیت میں اپنے رَب کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ اُس نے ہمیں ایک بڑے نقصان سے بچا لیا ہے ۔این ڈی ایم اے کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل نے کہا ہے کہ حالات ہمارے قابو میں ہیں اور زلزلہ زدگان کی اعانت اور امداد کے لئے مطلوبہ سامان بھی میسر ہے ۔ یہ بیان باعثِ اطمینان ہے ۔ فوج کے جواں ہمت دستے زلزلہ زدگان کی امداد اور ریسکیو میں جُٹے ہیں ۔ ٹوٹے پُل اور برباد ہونے والی سڑکوں کی بحالی اور تعمیرِ نَو کاکام تیزی سے بروئے کار ہے ۔ ابھی تو 8اکتوبر2005ء کے ہلاکت خیز زلزلے کی تلخ یادیں بھی محو نہیں ہُوئی تھیں کہ اب یہ سانحہ ظہور پذیر ہو گیا ہے ۔ ٹھیک 14سال پہلے آزاد کشمیر میں آنے والے زلزلے میں ایک لاکھ کے قریب افراد جاں بحق ہُوئے تھے ۔

آزاد کشمیر کے باسی پہلے ہی اس زلزلے سے ڈرے ہُوئے تھے کہ اب ایک اور ہیبت ناک زلزلے نے اُنہیں آلیا ہے ۔پہلے بھی پاکستان نے اپنے کشمیری متاثرہ بھائیوں کی مدد کی تھی اور اب پھر کرے گا۔ انشاء اللہ ۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ 2005ء میں آنے والے زلزلہ زدگان کیلئے آنے والی عالمی امداد میں ہمارے (سابقہ) حکمرانوں نے مبینہ طور پر خرد برد کی تھی ۔ جولائی 2019ء کے وسط میں برطانیہ کے معروف اخبار ”دی میل” نے یہ تہلکہ خیز الزاماتی خبر شائع کی کہ شہباز شریف نے اپنے خاندان کے دیگر افراد سے مل کر زلزلہ زدگان کے لئے برطانیہ سے آنے والی 500ملین پونڈزکی امدادی رقم میں خرد برد کی تھی اور منی لانڈرنگ بھی کی ۔ اخبار مذکور نے اس حوالے سے خبر کی جو سرخی جمائی تھی ، اُس کے الفاظ یوں تھے :Did the family of Pakistani politician who has become the poster boy for British overseas aid steal funds meant for earth quake victims? اس خبر کی اشاعت سے پاکستان اور شہباز شریف کی خاصی ندامت ہُوئی ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ شہباز شریف نے اخبار مذکور کے خلاف ہتک عزت اور ہر جانے کا دعویٰ بھی کیا ہے لیکن ابھی تک اس کا کوئی نتیجہ سامنے نہیں آ سکا ہے ۔ ابہام کے پردے میں سب کچھ لپٹا پڑا ہے ۔ ہمارے لئے تشویش اور پریشانی کی بات یہ ہے کہ اگراب تازہ زلزلہ زدگان کے لئے پاکستان کو اعانت کی ضرورت پڑی تو عالمی سطح پر کون پاکستان کی دستگیری کرے گا؟ اعتماد کو اگر ایک بار دھچکا لگ جائے تو دوبارہ اعتماد حاصل کرنے کیلئے بڑے لمبے وقت اور تگ و دَو کی ضرورت پڑتی ہے ۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ شریف خاندان نے ملک اور قوم کی پروا کئے بغیر محض اپنے مالی مفادات کے تحفظ اور حصول کیلئے قومی اعتماد کو ڈائنامائیٹ کر کے رکھ دیا ہے ۔ اور اب ان سے باز پرس کی جاتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ ”یہ سیاسی انتقام ہے ۔” پاکستان سے منی لانڈرنگ کی بازگشت وزیر اعظم عمران خان کے جنرل اسمبلی کے خطاب میں بھی سنائی دی گئی ہے ۔ واقعہ یہ ہے کہ شریف خاندان کے ایک سابق مقتدر فرد کی زلزلہ زدگان کیلئے آئی رقم میں کی گئی مبینہ خرد برد سے وطنِ عزیز کی توہین ہی ہُوئی ہے ، لیکن اسے تسلیم کرنے سے انکار کیا جا رہا ہے ۔ آزاد کشمیر کے زلزلے میں ایک بار پھر پاک فوج نے ریسکیو اور دستگیری کی نئی ، شاندار اور قابلِ فخر مثالیں قائم کی ہیں ۔ پاک فوج کے جوان اور افسر زلزلے کی وجہ سے تباہ ہونے والے پُل بھی تیزی سے دوبارہ بنا رہے ہیں اور تباہ شدہ سڑکوں کی بھی ازسرِ نو تعمیر کی جارہی ہے ۔

چاہئے تو یہ تھا کہ سویلین ایڈمنسٹریشن اس سلسلے میں فوری طور پر آگے بڑھتی اور زلزلہ متاثرین کی اعانت و امداد کرتی لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ایک بار پھر سویلین انتظامیہ عوامی اعتماد پر پوری نہیں اُتر سکی ہے ۔ ایسے میں بجا طور پر سوال اُٹھتا ہے کہ پھر ہمارے سیاستدانوں کو ووٹ دینے کا فائدہ کیا ہے اگر انہوں نے آزمائش کی گھڑیوں میں عوام کی دستگیری نہیں کرنی ؟ باعثِ مسرت بات یہ بھی ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ہیلی کاپٹر پر سوار ہو کر متاثرین کا جائزہ لیا ہے اور متاثرہ مقامات اور متاثرین کی بحالی کے احکامات بھی دئیے ہیں ۔ یہ سب معاملات عین اُس وقت بروئے کار آ رہے تھے جب وزیر اعظم عمران خان امریکہ میں تھے لیکن وہ پاکستان کے معاملات سے بحرحال بے خبر نہیں تھے ۔ وزیر اعظم اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کے سلسلے میں پورا ایک ہفتہ امریکہ میں قیام پذیر رہے ہیں ۔ اس دوران بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی بھی امریکہ میں ہی تھے ۔ امریکی ریاست ٹیکساس کے مشہور شہر ہیوسٹن میں مودی نے مبینہ طور پر 50ہزار کے مجمعے سے خطاب کیا ہے ۔ یہ خطاب ہیوسٹن کے مشہور فٹ بال اسٹیڈیم ( این آر جی) میں کیا گیا ۔

کہا گیا ہے کہ امریکہ میں مقیم دولتمند ہندوؤں نے اس جلسے پر زرِ کثیر خرچ کیا ہے ۔ اس جلسے کی نمایاں ترین خصوصیت یہ رہی کہ اس میں امریکی صدر اور امریکی کانگرس کے کئی ارکان بطورِ مہمانانانِ خصوصی مدعو تھے ۔ مودی سے پہلے ڈونلڈ ٹرمپ نے اس مجمعے سے خطاب کیا اور بھارتی وزیر اعظم کی بہت تعریف کی ۔ ہم سب پاکستانیوں کو یہ تعریف اچھی تو نہیں لگی لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ امریکی صدر کا بھارت اور بھارتی وزیر اعظم کی کھلی تعریف کرنا دراصل امریکہ میں بھارتی سفارتخانے اور بھارتی وزارتِ خارجہ کی کامیابی ہے ۔ اس کامیابی کی ایک شکل یوں بھی سامنے آئی ہے کہ اِسی امریکی دورے کے دوران نریندر مودی نے امریکی کانگرس سے خطا ب بھی کیا ۔ افسوس کی بات مگر یہ ہے کہ ہیوسٹن کے بھرے پُرے جلسے میں( امریکی صدر کی موجودگی میں ) مودی نے اشاروں کنایوں میں پاکستان پر سنگین الزامات عائد کئے لیکن ٹرمپ صاحب منہ میں گھنگنیاں ڈالے بالکل خاموش رہے ۔ تو کیا یہ خاموشی دراصل امریکہ کی طرف سے پاکستان کے خلاف بھارتی وزیر اعظم کے لگائے گئے بے بنیاد الزامات کو سچ تسلیم کئے جانے کے مترادف تھی ؟ خاص طور پر مودی کا پاکستان پر یہ طنز کرنا کہ ہمارا ہمسایہ ملک اپنے معاملات تو سنبھال نہیں سکتا اور ہمیں ڈکٹیشن دینے کی کوشش کرتا ہے ۔مزید افسوس اور دکھ کی بات یہ ہے کہ کشمیر پر بھارتی مظالم اور صریح زیادتیوں کے باوصف امریکہ کے سب سے بڑے فلنھتروپسٹ بل گیٹس نے اپنے ادارے( گیٹس اینڈ میلنڈا فاؤنڈیشن) کا سب سے بڑا ایوارڈ بھی مودی کے گلے میں ڈال دیا ۔

پاکستان سمیت دُنیا بھر کی اہم شخصیات نے مودی کو ایوارڈ دینے کی مخالفت کی تھی ۔ امن کا نوبل انعام لینے والی تین عالمی شخصیات نے بل گیٹس کو خط بھی لکھا کہ مودی چونکہ کشمیریوں پر مظالم ڈھا رہا ہے اور اس کا ماضی بھی بھارتی مسلمانوں کے خون سے رنگا ہے ، اسلئے مودی کو یہ ایوارڈ نہ دیا جائے ۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ ان مخالفتوں کے باوجود مودی کو بل گیٹس کے ادارے کی طرف سے ایوارڈ دے دیا گیا ۔ مزید ظلم اور بدقسمتی یہ بھی ہے کہ ایوارڈ دئیے جانے کے بعد بل گیٹس نے ہمارے وزیر اعظم عمران خان سے بھی ملاقات کی ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ خانصاحب کو اس موقع پر بل گیٹس سے ملاقات نہیں کرنی چاہئے تھی کہ اس ملاقات سے اُن شخصیات کو دھچکا پہنچا ہوگا جو محض کشمیری مسلمانوں کی حمائت میں بل گیٹس کی مخالفت کررہے تھے ۔حیرانی کی بات یہ بھی ہے کہ ہنوز حکومتِ پاکستان نے وضاحت نہیں کی ہے کہ وہ کونسی مجبوری تھی جس کے تحت عمران خان کو بل گیٹس سے ملنا پڑا؟ہم سمجھتے ہیں کہ بل گیٹس سے ملاقات کرنا پاکستان کی شوبھا میں اضافہ نہیں ہُوا ہے ۔ ایسے ہنگامہ خیز پس منظر میں وزیر اعظم عمران خان نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب فرمایا ہے ، جس کیلئے پاکستان کی ساری قوم انتظار کررہی تھی ۔ 27ستمبر کی شام ، جبکہ نیویارک میں ابھی دوپہر طلوع ہو رہی تھی،عمران خان کا خطاب سامنے آیا (اُن سے پہلے نریندر مودی خطاب کر چکے تھے)عمران خان کا یہ خطاب بھی حسبِ معمول فی البدیہہ ہی تھا، حالانکہ اکثر پاکستانیوں نے اُنہیں مشورہ دیا تھا کہ اُنہیں احتیاط سے لکھی گئی تقریر پڑھنی چاہئے کہ یہ عالمی فورم بڑا حساس ہے ۔ یہاں ادا کیا گیا کوئی بھی غیر محتاط لفظ بہت سے معاملات کے بگاڑ کا سبب بن سکتا ہے ۔ خانصاحب کا یہ خطاب پاکستان سمیت ساری دُنیا میں سنا گیا ہے ۔ لاریب وزیر اعظم پاکستان کی یہ تقریر بہت مضبوط، منظم اور مربوط تھی جسے نہائت اعلیٰ اعتماد کے ساتھ جنرل اسمبلی کے فلور پر پیش کیا گیا ۔ یہ خطاب تقریباً ایک گھنٹے کو محیط تھا ۔

اس کے چار نکات تھے :(١) عالمی ماحولیات کے مسائل( ٢) منی لانڈرنگ (٣) اسلاموفوبیا (٤) مسئلہ کشمیر اور مقبوضہ کشمیر پر بھارت کے تازہ مظالم !!اوّلین تینوں نکات پر وہ نصف گھنٹہ بولے اور آخری الذکر پر نصف گھنٹہ ۔ خانصاحب نے درست کہا ہے کہ پاکستان اس وقت دُنیا کے اُن اولین دس ممالک میں شامل ہے جنہیں ماحولیات کے حوالے سے سب سے زیادہ چیلنجوں اور خطرات کا سامنا ہے ۔

ان خطرات میں سرِ فہرست گلیشئروں کا تیزی سے پگھلنا ہے کہ پاکستان ایسے زرعی ملک کا سب سے بڑا انحصار اِنہی گلیشئروں سے آنے والے پانیوں پر ہے ۔ اور اگر اس پانی کے ماخذ اور ذرائع ہی خشک ہو گئے تو پاکستان کی اصل معیشت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے گا ۔ اُنہوں نے درست کہا کہ اس سلسلے میں بھی امریکہ ہی خطرات میں کمی لانے کیلئے عالمی سطح پر ہراول دستے کی قیادت کا کردار ادا کر سکتا ہے ۔ جناب عمران خان نے اقوامِ عالم کے سامنے ترقی پذیر ممالک کے حکمرانوں اور مراعات یافتہ طبقات کی طرف سے منی لانڈرنگ کی لعنت کا ذکر بھی کیا ۔

ان ممالک میں پاکستان بھی شامل ہے ۔ اُنہوں نے درست نشاندہی کی ہے کہ پاکستان ایسے ملک سے منی لانڈرنگ کے کارن ہماری غربت اور غیر ملکی قرضوں میں روز بروز اضافہ ہُوا ہے لیکن مغربی ممالک اس منی لانڈرنگ کو روکنے اور ہمارے عوام کے لُوٹے پیسے واپس کرنے میں کوئی تعاون اور اعانت نہیں کر رہے ہیں ۔ جس درد مندی سے عمران خان صاحب نے جنرل اسمبلی میں منی لانڈرنگ کی لعنتوں کا ذکر کیاہے ، اب دیکھنا یہ ہے کہ مغربی ممالک پاکستان کی کس طرح اور کب مدد کرتے ہیں تاکہ ہماری اشرافیہ نے اربوں ڈالر کی جو رقوم غصب کرکے باہر بھجوا رکھی ہیں، واپس پاکستان کے حوالے کی جائیں ۔ اگر ایسا جلد ہو جائے تو پاکستان کی معیشت بہتر بھی ہو جائے گی اور ہمارے غیر ملکی قرضوں میں بھی خاطر خواہ کمی آجائے گی ۔ جناب عمران خان نے جنرل اسمبلی کے اس خطاب میں اقوامِ عالم کی توجہ اسلامو فوبیا کی طرف بھی دلوائی اور بجا کہا ہے کہ مغربی ممالک میں آزادی اظہار کے نام سے جب اسلام کی توہین کی جاتی ہے تو پھر ردِ عمل میں مسلمانوں میں ریڈیکلزم پیدا ہوتا ہے ۔ اُنہوں نے مغربی ممالک اور امریکہ میں بسنے والوں سے اپیل کی ہے کہ مسلمانوں کے جذبات کا خیال رکھا جائے اور مسلمانوں کی مذہبی دل آزاری کرنے سے باز رہا جائے ۔ وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان نے اپنے خطاب کے آخری حصے میں صراحت اور وضاحت کے ساتھ اقوامِ عالم کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی زیادتیوں سے آگاہ کیا ہے ۔ اُن کے خطاب کا یہ حصہ واقعتاً بڑا ہی پاور فُل تھا۔اُن کے ایک ایک لفظ نے ثابت کیا ہے کہ فی الحقیقت اُنہوں نے سفیرِ کشمیر کا حق ادا کر دیا ۔ اُنہوں نے اس ضمن میں جو دعوے کئے تھے، ان پر پورے اُترے ہیں ۔ عمران خان نے بھارتی وزیر اعظم مودی کی آر ایس ایس ایسی دہشت گرد پارٹی سے تعلق کو جس طرح بے نقاب کیا ہے ، اُمید رکھنی چاہئے کہ بھارت کی طرف دُنیا کی بند نظریں کھل جائیں گی اور خوابیدہ ضمیر بیدار ہو جائیں گے ۔سچی بات تو یہ ہے کہ خانصاحب کے خطاب پر پاکستان کا ہر فرد فخر کر سکتا ہے ۔ اُن کے خطاب کی بنیاد صرف اور صرف اسلام اور اسلام ہی رہا ۔ اُنہوں نے کلمہ شریف پڑھ کر جس طرح اقوامِ عالم اور خصوصاً بھارت کو للکارا ہے ، ہمیں اس موقع پر شاعرِ مشرق حضرت علامہ اقبال کا ایک شعر شدت سے یاد آیا ہے :
آگ ہے ، اولادِ ابراہیم ہے ، نمرود ہے
کیا کسی کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ہے ؟؟


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.