Daily Taqat

کراچی میں حکمران پارٹی کی شکست ، نون لیگ کا غصہ اور کورونا کی یلغار

وطنِ عزیز پاکستان ایسے پسماندہ اور غریب ترین ملک میں مسائل اسقدر زیادہ ہیں کہ کالم لکھنے کیلئے موضوعات کی کمی ہے نہ مواد کی ۔ ہماری سیاست اور ہمارے ہر قسم کے حکمرانوں کا آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے ۔ موضوعات اور مسائل کا ایک انبار ہے کہ سمجھ ہی نہیں آتا کہ کسے نوکِ قلم پر لایا جائے اور کسے چھوڑ دیا جائے ، حالانکہ ہر موضوع ہی اہم اور دلگداز ہے ۔ یہ موضوعات دراصل عوام کے مصائب ہیں اور کالم نگار عوامی مسائل اور مصائب پر نہ لکھے تو یہ دراصل اپنے قارئینِ کرام سے بددیانتی کے مترادف ہو سکتا ہے ۔ ہمارے ہر قسم کے حکمرانوں نے عوامی مسائل حل کرنے میں دانستہ اتنا تساہل برتا ہے کہ ہمارے قارئین بجا طور پر شکوہ کرتے ہیں کہ کالم نگاروں نے اگر حکمرانوں ہی کی مدح سرائی کرنی ہے تو پھر کوئی کالم کیوں پڑھا جائے؟ بات تو بجا ہے ۔ ہمارے پہلے حکمرانوں نے پہلے بھی عوام کو اپنے اقتدار کی خاطر عوام سے دھوکہ دہی کی لیکن موجودہ حکمرانوں نے جس سفاکی اور بیدردی کے ساتھ عوام سے کئے گئے اپنے وعدے توڑے ہیں، اس وعدہ شکنی کی سزا بھی اب عوام نے ترنت حکمرانوں کو دے ڈالی ہے ۔اس کا تازہ ترین مظاہرہ کراچی میں ہونے والا حالیہ ضمنی انتخاب ہے ۔ یہ ضمنی الیکشن کراچی کے حلقہ این اے 249میں ہُوا ہے ۔ یہاں کی سیٹ پی ٹی آئی کے ایم این اے فیصل واوڈا نے خالی کی تھی کہ وہ اپنی سیٹ چھوڑ کر سینیٹر بننے چلے گئے تھے اور پی ٹی آئی نے اُنہیں کامیاب بھی کروا دیا کہ وہ پی ٹی آئی کے چیئرمین جناب عمران خان کے چہیتوں میں شامل اور شمار کئے جاتے ہیں ۔ یہ حلقہ چونکہ پی ٹی آئی کے کامیاب ایم این اے نے خالی کیا تھا، اسلئے اصولی طور پر یہاں سے پی ٹی آئی ہی کے اُمیدوار کو کامیاب ہونا چاہئے تھا ۔ افسوس مگر یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے اُمیدوار کو کراچی کے مذکورہ ضمنی انتخاب میں زبردست شکست کاسامنا کرنا پڑا ہے ۔ موصوف کو کراچی کے ووٹروں نے دھکیل کر بہت پیچھے (پانچویں نمبر پر) پھینک دیا ۔ اس حلقہ سے پیپلز پارٹی کے امیدوار( قادر خان مندوخیل) جیتے ہیں جبکہ نون لیگ کے امیدوار ( مفتاح اسماعیل) دوسرے اور کالعدم تحریکِ لبیک پاکستان کے اُمیدوار (مفتی نذیر احمد کمالوی ) تیسرے نمبر پر آئے ہیں ۔ ایک عام آدمی بھی زبانِ حال سے کہہ اُٹھا ہے کہ کراچی کے ضمنی انتخاب میں پی ٹی آئی کے اُمیدوار کی عبرتناک شکست دراصل حکمران پارٹی اور عمران خان کی براہِ راست شکست ہے ۔ کراچی کے ووٹروں نے پی ٹی آئی کے امیدوار کو شکست دے کر درحقیقت وزیر اعظم عمران خان اور مقتدر پارٹی پی ٹی آئی کو عدم اعتماد کا پیغام دیا ہے ۔ اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بالفرض اگر آج ہی قومی انتخابات کا میدان سج جائے تو پی ٹی آئی کا وجود کہاں ہو گا؟یہ عبرتناک منظر مقتدر جماعت پی ٹی آئی کیلئے زبردست لمحہ فکریہ ہے ۔ حیرانی کی بات ہے کہ نون لیگ واویلا مچا رہی ہے کہ کراچی کے ضمنی انتخاب میں اُس کا امیدوار جیتا ہُوا ہے لیکن دھاندلی اور جھرلو سے اُسے شکست دی گئی ہے اور یہ کہ ہم اس شکست کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے ۔ اس سے اندازہ لگانے میں آسانی رہے گی کہ آئندہ ایام کے دوران پی ڈی ایم میں نون لیگ اور پیپلز پارٹی میں کشیدگی کیا شکل اختیار کر جائے گی ۔ نون لیگ ویسے پہلے بھی سینیٹ میں شکست کے بعد پیپلز پارٹی سے نالاں اور ناراض ہے ۔اور اب تازہ شکست نے اُسے پیپلز پارٹی سے مزید دُور کر دیا ہے ۔ قومی اسمبلی میں نون لیگ اور اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر کے درمیان جو تلخ کلامی ہُوئی ہے ، اس کی بازگشت ابھی تھمی نہیں ہے ۔ اس پیش منظر میں ہمیں سابقہ مشرقی پاکستان کی یاد آتی ہے ۔ کبھی مشرقی پاکستان ہمارے قومی وجود کا حصہ ہُوا کرتا تھا۔یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پاکستان بنانے والی جماعت ( مسلم لیگ) کے بانی بھی مشرقی پاکستان کے عظیم و مخلص بنگالی تھے اور قرار دادِ پاکستان بھی اسی سرزمین کے ایک عظیم باسی ( مولوی فضل الحق) نے پیش کی تھی۔اور جب اجنبیت ، ناراضی اور غصے کی لہروں نے سراُٹھایا تو یہی مولوی فضل الحق صاحب مشرقی پاکستان کو مغربی پاکستان سے علیحدہ کرنے والوں میں پیش پیش تھے ۔اگر ہم میجر(ر) ایس جی جیلانی کی معرکہ آرا کتاب کا مطالعہ کریں تو ہم پر منکشف ہوتا ہے کہ مشرقی پاکستان کے ہمارے بھائی غصے سے مغلوب ہو کر ہم سے علیحدہ ہونے پر آخر کیوں تُل گئے تھے۔یہ کتاب پڑھتے ہُوئے کئی زخم پھر سے ہرے ہو جاتے ہیں ۔جیلانی صاحب اسی کتاب میں ہمیں وہ دلخراش منظر بھی دکھاتے ہیں جب مشرقی پاکستان اسمبلی( ڈھاکہ) میں ڈپٹی اسپیکر ، شاہد علی پٹواری، کو ساتھی ارکانِ اسمبلی نے اتنا مارا تھا کہ اُنکی موت ہو گئی تھی ۔ اس خون کے دھبے ابھی تک تاریخِ پاکستان کے صفحات سے دھوئے نہیں جا سکے ۔ شاہد علی پٹواری، جو ”عوامی لیگ” کے رکن اسمبلی تھے، کا قصور محض یہ تھا کہ وہ اسمبلی کے اسپیکر صاحب سے اپنی ایک گزارش کرنا چاہتے تھے مگر اسپیکر صاحب اُنہیں وقت اور موقع دینے پر تیار نہیں تھے ۔ اس پر تکرار اتنی بڑھی کہ اسمبلی کے ایوان میں غصیلے ارکان ایک دوسرے کا گلہ کاٹنے پر اُتر آئے ۔ اس مارکٹائی میں ڈپٹی اسپیکر شاہد علی کی جان چلی گئی ۔ یہ سانحہ ستمبر1958ء کو پیش آیا تھا۔کہا تو یہ جاتا ہے کہ تاریخ سے سبق سیکھنا چاہئے لیکن انسانی عمل بتاتا ہے کہ تاریخ کا سبق یہ ہے کہ اس سے کوئی سبق نہ سیکھا جائے ۔ غصے سے مغلوب ہو کر جو سانحہ آج سے 62سال قبل مشرقی پاکستان کی اسمبلی میں پیش آیا تھا، حالات آج بھی ہماری اسمبلیوںکے مختلف نہیں ہیں ۔ ٹالرنس کا عنصر مفقود نظر آتا ہے ۔ بعض اوقات اسپیکر اسمبلی محض برسرِ اقتدار پارٹی کا نمائندہ نظر آتا ہے حالانکہ اسپیکر صاحب تو غیر جانبدار ہو کر سبھی ارکانِ اسمبلی کو محبوب و مرغوب ہونے چاہئیں ۔افسوس ہماری اسمبلیوں کے حالات آئیڈیل نہیں ہیں ۔چند دن پہلے قومی اسمبلی کے اندر ایم این اے شاہد خاقان عباسی نے اسپیکر اسمبلی اسد قیصر کے ساتھ جو قابلِ افسوس مکالمہ کیاہے ، اس نے شاہد علی کے سانحہ کی پرانی یادیں تازہ کر دی ہیں ۔ جو منظر نظر آرہا تھا، اُس میں شاہد خاقان عباسی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے ایک پرائیویٹ ممبر کی طرف سے پیش کردہ ایک قرار داد پر بات کرنے کیلئے اسپیکر صاحب سے اجازت لے رہے تھے ۔ اور جب اُنہیں مبینہ طور پر وقت اور موقع فراہم نہیں کیا گیا تو وہ طیش سے مغلوب ہو کر اسد قیصر کے سامنے چلے گئے اور غصیلے لہجے میں وہ الفاظ کہہ دئیے جو اُنہیں زیب نہیں دیتے۔ سب دیکھنے سُننے والے ششدررہ گئے ۔ اسمبلی کا ایوان بھی سناٹے میں تھا۔ ایک سینئر رکن ِپارلیمان کے منہ سے ایسے غیر پارلیمانی الفاظ کی ادائی پر سب پریشان ہیں ۔ شکر ہے کہ اسپیکر اسمبلی جناب اسد قیصر نے اپنے جذبات پر قابو پائے رکھا اوراُنہیں جواباً یہ کہتے ہُوئے سنا گیا:”عباسی صاحب، آپ اپنی حد سے تجاوز کررہے ہیں۔” اسد قیصر کے صبر اور تحمل کی تحسین کی جانی چاہئے ۔اس واقعہ بلکہ سانحہ کوایک ہفتہ گزر گیا ہے لیکن شاہد خاقان عباسی نے ابھی تک اسپیکر قومی اسمبلی سے معذرت نہیں کی ہے ۔ معذرت کر لی جاتی تو یہ اُن کے کردار کی بلندی کہی جاتی ۔ شاہد خاقان عباسی کے اس غصہ بھرے روئیے کا تجزیہ کیا جانا چاہئے کہ آخر موصوف یہ رویہ اختیار کرنے پر کیوں مجبور ہُوئے ؟ شاہد خاقان عباسی نے جو الفاظ ادا کئے ، سُن اور دیکھ کر لوگوں کو زیادہ افسوس اسلئے بھی ہُوا ہے کہ وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سابق وزیر اعظم ہیں اور عمومی طور پر وہ شائستہ اندازو اطوار کے حامل سیاستدان سمجھے جاتے ہیں ۔ حکومتی جماعت کے اکثر ارکان کی طرف سے مسلسل مطالبہ کیا جارہا ہے کہ شاہد خاقان عباسی اسپیکر سے معذرت کریں لیکن عباسی صاحب اس ڈھب پر آنے کیلئے تیار نہیں ہیں ۔یہ واقعہ زبانِ حال سے پورے پاکستان کے 23کروڑ عوام کو بتا رہا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کشیدگی کس انتہا کو پہنچ چکی ہے ۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ حکومت نے پچھلے ڈھائی تین برسوں کے پی ٹی آئی اقتدار کے دوران اپوزیشن بالخصوص نون لیگ اور پیپلز پارٹی کی ناک اس شدت سے رگڑی ہے کہ اس کا نتیجہ شاہد خاقان عباسی کے روئیے کی شکل میں نکلا ہے ۔ حتیٰ کہ پیپلز پارٹی کے نوجوان چیئرمین ، بلاول بھٹو زرداری، بھی کہہ اُٹھے ہیں کہ ”اسد قیصر پر جانبداری کا اہم سوال اُٹھ چکا ہے ۔”لیکن ضروری نہیں کہ بلاول بھٹو کے اس بیان سے اتفاق بھی کیا جائے ۔فریقین کے اپنی اپنی جگہ پر اپنے اپنے گلے شکوے ہیںاور عوام ہیں کہ ٹک ٹک یہ تماشہ دیکھ رہی ہے ۔ عوام کا ویسے بھی تماشہ بنا کررکھ دیا گیا ہے ۔ 21اپریل کو قومی اسمبلی کے اسپیکر ، اسد قیصر، کی طرف سے شاہد خاقان عباسی سے خط کے زریعے مطالبہ کیا گیا کہ وہ سات روز کے اندر اندر معافی مانگیں ۔سات دن بھی گزر چکے ہیں لیکن ابھی تک مگر معافی نہیں مانگی گئی ہے ۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ”مَیں معافی نہیں مانگوں گا۔ آپ نے جو کرنا ہے، کرلیں۔” وہ یہ بھی کہتے ہُوئے سنائی دئیے ہیں:” مَیں اسمبلی میں ناموسِ رسالت کی قرار داد پر بات کرنا چاہتا ہُوں اور اگر اسپیکر صاحب مجھے بات نہیں کرنے دیں گے تو بات آگے بڑھ جائیگی۔” یہ رویہ اور جواب مناسب نہیں ہے ۔ حیرت ہے کہ پنجاب میں نون لیگ کے صوبائی صدر، رانا ثناء اللہ، اس سے بھی آگے بڑھ گئے ۔ اُنہوں نے اِسی ضمن میں ایک اینکر پرسن کے سوال کے جواب میں جو کہا ہے ، وہ عباسی صاحب سے بھی دوہاتھ آگے ہے۔ اور اگر شاہد خاقان عباسی نے اسد قیصر سے معافی نہ مانگی تواسپیکر قومی اسمبلی کیا کارروائی کر سکتے ہیں؟ یہی سوال جب ایک صحافی نے ایک وفاقی وزیر سے پوچھا تو اُنہوں نے کہا:” پنجاب اسمبلی کے اسپیکر (چودھری پرویز الٰہی) نے کم از کم پانچ چھ ارکانِ اسمبلی کو (ایسے کنڈکٹ پر) کئی کئی دنوں تک بلکہ پورے پورے سیشن میں اسمبلی میں داخل نہیں ہونے دیا۔ اسد قیصر صاحب اچھے دل کے آدمی ہیں ۔ وہ شائد ایسی Extremeپوزیشن نہ لیں لیکن اگر مَیں اسد قیصر صاحب کی جگہ ہوتا تو شائد کوئی اور قدم اٹھاتا۔” قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ، شہباز شریف، ضمانت پا کر جیل سے رہا ہو چکے ہیں لیکن حالات پھر بھی سخت کشیدہ اور گرم ہیں ۔ وزیر اعظم صاحب بھی اس صورتحال کو ٹھنڈا کرنے کیلئے کوئی کردار ادا کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں ۔ ایسے میں اُلجھی ڈور سلجھے تو کیونکر ؟؟ہمیں اُس صورتحال سے اعراض کرنا چاہئے جس صورتحال سے شاہد علی پٹواری ڈھاکہ اسمبلی میں دوچار ہُوئے تھے ۔ بہرحال نئے امکانات بھی ”روشن” ہورہے ہیں۔ میاں شہباز شریف کی ضمانتی رہائی کے بعد نون لیگ میں جو ٹھنڈ پروگرام شروع ہُوا ہے، شائد اب شاہد خاقان عباسی کا اسد قیصر کے خلاف غصہ بھی ٹھنڈا پڑ چکا ہواور اسد قیصر کا مطالبہ بھی ختم ہو چکا ہو۔پاکستان کے عوام مگر حیران ہیں کہ پورا ملک کورونا کی ہلاکت خیز وبا کی گرفت میں کراہ رہا ہے اور ہمارے یہ سیاستدان اور حکمران کونسا کھیل کھیل رہے ہیں ؟ ہمارے وزیر اعظم صاحب کچھ من پسند اینکروں کو افطار ڈنر پر بلا کر بین السطور ”کسی” سے اپنے شکوے شکایات کرتے سنائی دے رہے ہیں ، ایک اعلیٰ ترین سرکاری مگر غیر سیاسی شخصیت مبینہ طور پر اپنے ہاں اخبار نویسوں کو مدعو کرکے اپنی حیرت خیز داستانیں سنا رہی ہے اور ایف آئی اے کے سابق ڈی جی ( بشیر میمن) میڈیا میں چند حکومتی شخصیات کے خلاف انکشافات کے بم پھوڑ رہے ہیں۔ یہ سب کیا کہانی ہے ؟کیا کسی کو مہلک کورونا کی قیامت کو روکنے کی فکر بھی ہے؟ ابھی تک عطیات میں دی گئی کورونا پر گزارا کیوں کیا جارہا ہے؟ گذشتہ ہفتے کے دوران کئی سو بد قسمت پاکستانی کورونا کے کارن اپنے اللہ کے پاس چلے گئے ہیں۔ حکومت کی طرف سے کہا جارہا ہے کہ اس وبا میں ابھی مزید شدت پیدا ہوگی ۔ شائد اسی لئے عید الفطر کے موقع پر سرکار نے ایک ہفتہ کی چھٹیوں کا اعلان کر دیا ہے ۔ ہماری دعا ہے : یارب کریم، ہم پاکستانی قوم کے غریبوں اور بے بسوں پر رحم فرمااور ہمیں کووِڈ 19کی ہلاکتوں سے محفوظ فرما۔ آمین۔ثم آمین۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »