Daily Taqat

کراچی دھماکہ ، او آئی سی کانفرنس اورپاکستان کی مستحسن کوششیں

یہ ہماری بد قسمتی ہے کہ جونہی پاکستان میں کوئی اہم ترین پیش رفت ہو رہی ہوتی ہے ، کوئی نہ کوئی افتاد پڑ جاتی ہے ۔ ابھی سیالکوٹ کے سانحہ کی بازگشت تھمی بھی نہیں تھی کہ اب کراچی کاسانحہ پیش آگیا ہے ۔ سیالکوٹ کے سانحہ سے یقیناً پاکستان کی ساری دُنیا میں توہین ہوئی ہے ۔ پاکستان نے نہائت اعلیٰ سطح پر اس سانحہ کی مذمت بھی کی ہے اور ملزمان کو گرفتار بھی کیا ہے ۔ حراست میں لئے جانے والوں کے خلاف مقدمات شروع ہو چکے ہیں ۔ ہم سب اُمید رکھ سکتے ہیں کہ ان سب کوقرار واقعی سزا بھی مل کررہے گی ۔اور اب جب کہ پاکستان کے دارالحکومت میں او آئی سی کانفرنس کا انعقاد ہو رہا ہے اور اس کانفرنس میں او آئی سی ممالک کے اہم ترین وزرائے خارجہ شریک ہو رہے ہیں، کراچی میں اچانک ایک زور دار دھماکہ ہو گیا ہے ۔ اس میں مبینہ طور پر کئی جانیں ضائع ہو گئی ہیں ۔ یہ دھماکہ بروز ہفتہ بتاریخ 18دسمبر2021ء کو ہُوا ہے ۔ اور اس کی بازگشت سارے پاکستان میں سنائی دی گئی ہے ۔ او آئی سی وزرائے خارجہ کی یہ کانفرنس خالصتاً افغانستان کے مسائل حل کرنے کی غرض سے پاکستان کے وفاقی دارالحکومت میں ہو رہی ہے ۔اور اس سے بڑی اُمیدیں وابستہ ہیں ۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق: کراچی کے علاقے شیر شاہ کے” پراچا چوک” پر نجی بینک کی عمارت میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں ایک محتاط اندازے کے مطابق، ایک درجن سے زائد افراد جاں بحق اور 13 زخمی ہوگئے ہیں۔دھماکے کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ عمارت کے پلرز اکھڑ گئے اور بینک کی عمارت تقریباً مکمل تباہ ہوگئی۔ زوردار دھماکے سے قریبی واقع پیٹرول پمپ کے علاوہ متعدد گاڑیوں اور موٹر سائیکلز کو بھی نقصان پہنچا۔ترجمان کراچی پولیس کے مطابق: نالے پر قائم نجی بینک میں دھماکا گیس لیکیج سے ہوا، بم ڈسپوزل اسکواڈ کی جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دھماکا گیس بھر جانے کے باعث ہوا۔ترجمان نے مزید بتایا کہ واقعے میں دہشت گردی سمیت کسی قسم کی تخریب کاری کے شواہد ابھی تک نہیں ملے ہیں۔قبل ازیں ڈاکٹر رُتھ فاؤ سول ہسپتال برنس سینٹر کے میڈیکل سرجن (ایم ایس) ڈاکٹر صابر میمن نے بتایا تھا کہ ہسپتال میں 8 افراد کی لاشیں لائی گئی ہیں۔علاقے کے اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) ظفر علی شاہ نے بتایا کہ بینک کی عمارت نالے پر تعمیر تھی جسے کچھ عرصے قبل نوٹس دیا گیا تھا کہ نالے کی صفائی کے لیے بینک کو خالی کردیں۔دھماکے کے فوری بعد علاقہ مکین اور ریسکیو ٹیمز جائے وقوع پر پہنچ گئے اور زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے لیے قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا۔ترجمان رینجرز کے مطابق ،جوانوں نے موقع پر پہنچ کر علاقے کا گھیراؤ کرلیا اور وہ امدادی کاموں میں مصروف ہوگئے۔گورنر سندھ عمران اسمعیل اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واقعے کی رپورٹ فوری طلب کرلی ہے۔مراد علی شاہ نے دھماکے میں جانی نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے سیکریٹری صحت کو ہدایات جاری کی ہیں کہ زخمیوں کو ہر ممکن فوری طبی امداد فراہم کرنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔انہوں نے کمشنر کراچی کو واقعے کی تفصیلی انکوائری کرنے کا حکم دیتے ہوئے ہدایت دی کہ تفتیش میں پولیس کا ایک افسر بھی شامل کیا جائے تاکہ ہر پہلو سے چھان بین ہوسکے۔کہا تو یہی جارہا ہے کہ دھماکہ مذکورہ گیس بھرنے سے ہُوا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ آیا گیس اتنی زیادہ بھر گئی تھی کہ اس نے بے قابو ہو کر درجن سے زائد افراد کی جانیں ہی لے لیں؟ کئی ذہنوں میں کئی سوالات یلغار کررہے ہیں لیکن کسی ایک سوال کا بھی حکومت کی طرف سے تسلّی بخش جواب نہیں مل رہا ۔ اللہ کرے کہ یہ دھماکہ کسی دہشت گردی سے جڑا ہُوا نہ ہو۔اس بم دھماکہ بارے مختلف خبری اداروں نے مختلف انداز سے رپورٹنگ کی ہے اور جانی نقصان بھی مختلف ہی بتایا ہے ۔ مثال کے طور پر ہفت روزہ ”انڈی پینڈنٹ” نے اس کی رپورٹنگ کرتے ہُو ئے یوں لکھا: کراچی میں شیر شاہ کے قریب18دسمبر کو ہونے والے دھماکے میں 15 افراد ہلاک اور گیارہ زخمی ہو گئے۔صوبہ سندھ کی وزارت صحت نے دھماکے میں 15 ہلاکتوں کی تصدیق کر دی ہے۔ دھماکے سے نجی بنک کی عمارت کو بھی شدید نقصان پہنچا۔کراچی پولیس کے مطابق یہ دھماکہ حبیب بینک پراچہ چوک شیرشاہ کے قریب سوئی گیس لائن میں ہوا۔ پولیس حکام کا کہنا تھا کہ عمارت نالے پر قائم تھی، خدشہ ہے کہ نالے میں گیسز جمع ہوجانے کی وجہ سے دھماکہ ہوا تاہم حتمی وجہ کا اندازہ لگانے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔چھیپا فاؤنڈیشن کے مطابق :دھماکے میں گیارہ افراد زخمی بھی ہوئے جنہیں قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔دھماکے کے فوری بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار جائے وقوع پر پہنچ گئے اور زخمیوں کی عیادت کے لیے ٹراما سینٹر آمد کے موقع پر وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا پیچوہو کا میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ‘یہ ایک بڑا سانحہ ہوا ہے۔’ان کے مطابق 12 ہلاک شدگان کی لاشیں ٹراما سینٹر لائی جا چکی ہیں جب کہ 11 لاشوں کی شناخت کی جا چکی ہے۔ حادثے میں زخمی ہونے والا ایک شخص اس وقت وینٹی لیٹر پر ہے جب کہ دو زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے۔’انہوں نے زخمیوں کو بہترین طبی امداد فراہم کرنے پر ڈاکٹرز کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔دوسری جانب ترجمان سندھ رینجرز کے مطابق: دھماکے کی نوعیت کا تعین کیا جا رہاہے۔اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دھماکے کی جگہ امدادی سرگرمیاں تیز کی جائیں، عوام دھماکے کی جگہ سے دور رہیں اور ریسکیو کے اداروں کے ساتھ تعاون کیا جائے۔حلیم عادل شیخ کا مزید کہنا تھا کہ قریبی اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کرکے زخمیوں کو فوری طبعی سہولیات مہیا کی جائیں نیز تحریک انصاف کے کارکنان امدادی کاموں میں حصہ لیں۔شیرشاہ سانحے میں کراچی کے ایم این اے عالمگیر خان کے والد دلاور خان انتقال کرگئے ہیں، پی ٹی آئی کراچی کے صدر خرم شیرزمان نے سانحے کی تصدیق کی ہے۔ ابھی چونکہ حادثہ تازہ بہ تازہ ہے ، اسلئے دھماکے کی تفصیلات ابھی آ رہی ہیں ۔ ان سطور کی اشاعت تک منظر صاف ہو جائیگا تو سانحہ کی اصل وجوہات بھی سامنے آ جائیں گی ۔ ہماری تو دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ جاں بحق ہونے والوں کی بخشش فرمائے اور جو زخمی ہو گئے ہیں ، اُنہیں جلد از جلد صحتِ کاملہ سے نوازے ، آمین ۔یہ دھماکہ عین اُس وقت ہُوا ہے جب اسلام آباد میں او آئی سی کے وزرائے خارجہ افغانستان کے دگرگوں معاملات سنبھالنے کیلئے اکٹھے ہو رہے ہیں ۔ اس دھماکے سے کوئی منفی اثرات سامنے نہیں آنے چاہئیں ۔ وگرنہ کانفرنس پر منفی اثرات بھی پڑ سکتے ہیں اور اس کا صاف اور سیدھا نقصان افغانستان اورافغانستان کی طالبان حکومت کو ہو سکتا ہے۔ افغانستان کے ساتھ ساتھ اس کا نقصان پاکستان کو بھی پہنچنے کا احتمال ہو سکتا ہے ۔ افغانستان کی حکومت بہرحال پاکستان کی شکر گزار ہے کہ افغانستان کے سنگین مسائل حل کرنے کیلئے پاکستان نے او آئی سی کے پرچم تلے ڈول ڈالنے کی کوشش تو کی ہے ۔ اس سلسلے میں پاکستان میں ہونے والی او آئی سی وزارئے خارجہ کانفرنس میں شرکت کے لیے اسلام آباد پہنچنے والے افغانستان کے قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی کا کہنا ہے :’ ‘پاکستان نے اس کانفرنس کے لیے بھرپور تیاری کی ہے اور اس کی میزبانی کر رہا ہے۔ یہ قدر کے لائق ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب دونوں نے کانفرنس کے انعقاد کے حوالے سے جو خدمت کی ہے ہم ان کے شکر گزار ہیں۔ہماری توقع یہ ہے کہ رسمی تعلقات میں ترقی آئے گی۔ سردیوں کی آمد کی وجہ سے افغانستان کو امداد کی ضرورت ہے۔ خصوصاً صحت کے حوالے سے اور کرونا دیگر قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے افغانستان کی مدد کی جائے گی۔اس کانفرنس کے بعد کابل میں سیاسی اور دیگر دفاتر کھولے جائیں گے۔ اور یہ ہماری اور دیگر ممالک کے درمیان رابطے کا سبب ہو گا۔ ہماری توقع ہے کہ کانفرنس کے نتائج بہتر ہوں گے۔پاکستان نے اس کانفرنس کے لیے بھرپور تیاری کی ہے اور اس کی میزبانی کر رہا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب دونوں نے کانفرنس کے انعقاد کے حوالے سے جو خدمت کی ہے ہم ان کے شکر گزار ہیں۔”وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے ہفتے کو اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان سے متعلق غفلت جنگ زدہ ملک میں بحران کو جنم دے سکتی ہے، جس سے نہ صرف یہ خطہ بلکہ پورا یورپ متاثر ہو گا۔ اُنہوں نے مزید کہا:”بھوک، افلاس اور خراب معیشت کی وجہ سے افغانستان سے معاشی پناہ گزینوں کا انخلا ہو سکتا ہے، اس لیے دنیا کو صحیح قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔ افغانستان بہت نازک صورت حال سے گزر رہا ہے اور کسی قسم کی غیر ذمہ داری جنگ زدہ ملک میں حالات کو مزید خرابی کی طرف لے جائے گی”۔ یاد رہے کہ مذکورہ اجلاس میں اسلامی ممالک کے وزرا خارجہ کے علاوہ، امریکہ، چین، روس، برطانیہ، فرانس، جرمنی، یورپی یونین، بین الاقوامی مالیاتی اور امدادی اداروں کے نمائندے شرکت کر رہے ہیں۔شاہ محمود قریشی نے بتایا ہے کہ” کانفرنس میں شرکت کے لیے 437 ڈیلیگیٹس رجسٹریشن کروا چکے ہیں جبکہ اسلامی ممالک کے سینیئر حکام اتوار کو ہونے والے وزرائے خارجہ کے اجلاس کا ایجنڈا طے کریں گے۔ اسلام آباد ہمیشہ سے دنیا کو افغانستان کی صورت حال سے متعلق یاد دہانی کرواتا رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ آج دنیا میں سوچ بدل رہی ہے اور امریکہ اور یورپی یونین کے اندر سے آوازیں اٹھ رہی ہیں۔امریکی سفارت کاروں نے بھی اپنی حکومت کو افغانستان سے متعلق واشنگٹن کی پالیسی کا نئے سرے سے جائزہ لینے کا کہا ہے۔ افغانستان کی 38 ملین آبادی کی زندگی بہتر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنے ملک میں خوشحال زندگی گزار سکیں”۔ پاکستانی وزیر خارجہ کا کہنا ہے :”ہم چاہتے ہیں کہ افغان پناہ گزین باعزت طریقے سے واپس اپنے ملک جائیں اور یہ اسی صورت ممکن ہے جب افغانستان کی معیشت بہتر ہو، عوام کی صلاحیت بڑھائی جائے اور روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں۔افغانستان تاریخ کے ایک دہانے پر کھڑا ہے اور دنیا کو اس سلسلے میں صحیح اقدامات اٹھانا ہوں گے بصورت دیگر صورت حال بگڑ سکتی ہے اور جنگ زدہ ملک ایک بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔ پاکستان اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان افغانستان سے متعلق اتفاق قائم کرنے میں کامیاب ہو گا، اور کل کے غیر معمولی اجلاس کے نتیجے میں دنیا افغان عوام کی مشکلات حل کرنے کے لیے سوچ میں تبدیلی لائے گی”۔امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق پاکستان اسلام آباد میں مسلم ممالک کو اکٹھا کر رہا ہے تاکہ افغانستان کو معاشی اور انسانی تباہی سے بچایا جا سکے اور ساتھ ہی وہ ہمسایہ ملک افغانستان کے نئے طالبان حکمرانوں سے کہہ رہا ہے کہ وہ بیرون ملک اپنی ساکھ بہتر بنائیں۔اگست2021ء کے وسط میں طالبان کے کابل پر کنٹرول کے بعد عالمی برادری نے کابل انتظامیہ پر پابندیاں عائد کر دی تھیں۔شاہ محمود قریشی کا ایک علیحدہ بیان میں کہنا ہے کہ اسلامی وزرائے خارجہ کے اجلاس کا مطلب طالبان انتظامیہ کو سرکاری طور پر تسلیم کرنا نہیں۔انہوں نے آج اتوار کو اجلاس کے لیے اپنے ایک پیغام میں کہا کہ وہ کسی مخصوص گروپ کی بات نہیں کر رہے بلکہ وہ افغان عوام کی بات کر رہے ہیں۔واشنگٹن میں قائم ولسن سینٹر کے ایشیا پروگرام کے ڈپٹی ڈائریکٹر مائیکل کگلمین کے مطابق او آئی سی ممالک اس سے زیادہ کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس وقت مغربی ملکوں کا طالبان کے ساتھ رابطہ مشکل ہے۔ اس قسم کے رابطے کا مطلب 20 سالہ جنگ میں شکست تسلیم کرنا ہو گا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ طالبان کے لیے یہ’فاتح کی حیثیت سے رابطے کے لیے اہل ہونے کے حوالے سے حتمی اطمینان ہو گا۔’کگلمین کے مطابق:’ ‘طالبان نے مغرب اور اس کی طاقت ور افواج کو شکست دی اوران کے افراتفری کے شکار اور ذلت آمیز حتمی انخلا کے ذریعے انہیں نقصان پہنچایا”۔ہم سمجھتے ہیں کہ اب جبکہ افغانستان کو دُنیا بھر کی امداد کی ضرورت ہے، اس قسم کی باتیں کرنا لایعنی بات ہوگی ۔ اس وقت تو ضرورت اس امر کی ہے کہ او آئی سی کے جھنڈے تلے اکٹھے ہونے والے وزرائے خارجہ یکمشت ہو کر افغانستان کیلئے زیادہ سے زیادہ عالمی حمائت حاصل کر سکیں ۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »