Daily Taqat

کالعدم ٹی ایل پی کا احتجاج، مہنگائی کی آگ اور بلوچستان اسمبلی کا اونٹ

اسلامی جمہوریہ پاکستان معاشی بد حالی ، سیاسی ابتری اور عالمی تنہائی کے عذابوں میں مبتلا ہے ۔پچھلے ہفتے اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان کے درمیان چند تبادلوں اور تقرروں کی اساس پر جو کشیدگی رہی ، اس عنصر نے الگ پورے ملک میں بے یقینی اور بد اعتمادی کی فضا قائم کئے رکھی ۔ پورا سوشل میڈیا اِسی ایک موضوع کے ارد گرد گھومتا رہا ۔ حکومت سوشل میڈیا پر جاری ان مہمات سے سخت ناراض بھی رہی ۔ اِسی بنیاد پر حکومتی کارندوں اور ایک خاتون اینکر پرسن و کالم نگار کے درمیان ٹھنی بھی رہی ۔ اس خاتون صحافی کا قصور یہ تھا کہ اُنہوں نے بی بی سی اُردو کیلئے ایک ایسا اشاراتی کالم لکھا جس سے حکومت اور اس کے کارندوں نے سخت ناک منہ چڑھائی اور خاتون صحافی کی ٹرولنگ کی جاتی رہی ۔ اس پروپیگنڈہ مہم میں خیرکا عنصر یہ برآمد ہُوا کہ پورے ملک کی اکثریتی صحافی برادری نے خاتون صحافی کا ساتھ دیا۔ خانصاحب کی حکومت کو اس بات کا بھی بے حد قلق رہا ۔ دیکھا جائے تو مجموعی طور پر حکومتی محبوبیت عوام میں اپنی قدر کھو چکی ہے ۔ لگتا ہے حکومت پر عوامی اعتبار اور اعتماد کی ساری چُولیں ہل چکی ہیں اور پوری عمارت لرزہ بر اندام ہے ۔ حکومتی عمارت کو کالعدم جماعت ٹی ایل پی ( تحریک لبیک پاکستان) کے احتجاجی مظاہروں نے سخت نقصان پہنچایا ہے ۔ یہ مظاہرے یوں بھی خونی ثابت ہُوئے ہیں کہ ان میں پنجاب پولیس کے دو اہلکار ( خالد جاوید اور ایوب) فرائض کی انجام دہی کے دوران تصادم کا شکار ہو گئے اور شہادت کی چادر اوڑھ لی ۔ یہ افسوسناک سانحہ تھا۔ اس پر دکھ کا ہی اظہار کیا جا سکتا ہے ۔ کالعدم ٹی ایل پی کے کئی کارکنوں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔ اگر حکومت، کالعدم ٹی ایل پی سے کئے گئے وعدے پورے کر دیتی تو شائد اس خونی تصادم اور احتجاج سے بھی بچا جا سکتا تھا۔ اس احتجاج میں اپوزیشن کے ملک بھر میں حکومت کے خلاف مہنگائی کی بنیاد مظاہروں نے مزید قیامت ڈھائی ہے ۔وزیر اعظم جناب عمران خان کی حکومت متعدد بحرانوں اور گردابوں کے بھنور میں بُری طرح پھنس چکی ہے ۔ نکلنے کی کوئی صورت بظاہر نظر نہیں آ رہی ۔ جان نکال دینے والی مہنگائی ان تمام بحرانوں میں مرکزی نقطہ اور مقام رکھتی ہے ۔ عمران خان کی پیدا کردہ مہنگائی ہمہ جہت ہے ۔ اس نے ہر طرف قیامتیں برپا کررکھی ہیں ۔ پورا ملک اور عوام کی اکثریت وزیر اعظم عمران خان کی حکومت اور پالیسیوں سے عاجز اور تنگ آ چکی ہے ۔زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ ایک طرف مہنگائی نے عوام کا کچومر نکال دیا ہے اور دوسری طرف عمران خان اور اُن کے وزیر مشیر یہ کہہ کر عوام کے زخموں پر نمک پاشی کرتے ہیں کہ ملک میں مہنگائی صرف اپوزیشن کو نظر آ رہی ہے اور یہ کہ پاکستان میں لاتعداد اشیاء دنیا کے کئی دوسرے ممالک سے سستی بھی ہیں اور عوام کی آسان گرفت میں ہیں ۔ مثال کے طور پر حکمران طبقہ عوام کو بے حسی کے ساتھ یہ باور کرواتا نظر آتاہے کہ پاکستان میں پٹرول کی قیمتیں خطے کے کئی ممالک میں پٹرول کی قیمتوں سے کہیں کم ہیں ۔ ایسا کرتے ہُوئے ہمارا یہ بے حس حکمران طبقہ اور حکومتی مراعات یافتہ اشرافیہ یہ بتانے کی تکلیف گوارا نہیں کرتا کہ ان ممالک میں ایک فرد کی آمدنی پاکستان کے مقابلے میں کتنی ہے ؟پاکستان میں مہنگائی اور گرانی کی بازگشت دُنیا کے دوسرے ممالک تک بھی پہنچ گئی ہے ۔ مثال کے طور پر برطانیہ سے شائع ہونے والے معروف ہفت روزہ جریدے ”دی اکانومسٹ” نے 20اکتوبر 2021ء کے شمارے میں یہ حیرت انگیز انکشاف کیا ہے کہ رواں لمحوں میں پاکستان دُنیا کا چوتھا مہنگا ترین ملک ہے ۔ مذکورہ جریدے نے یہ بھی بتایا ہے کہ مہنگائی کے لحاظ سے پاکستان سے اوپر صرف تین ممالک ہیں ۔ اس رپورٹ سے یقیناً ہمارے حکمرانوں کی آنکھیں بھی کھل گئی ہوں گی جو ہمیشہ ہی پاکستان کی مہنگائی کو اپوزیشن کا حکومت کے خلاف پروپیگنڈہ کہتے آ رہے ہیں ۔ اس انکشاف خیز رپورٹ کے باوجود وزیر اطلاعات فواد چودھری نے اگلے روز ”مستقل مزاجی” سے فرما دیا کہ ” پاکستان میں آٹا، چینی، دالوں اور سبزیوں کی قیمتوں میں کمی کا رجحان ہے ۔” یہ غیر حقیقی بیان اور رویہ قابلِ افسوس بھی ہے اور قابلِ گرفت بھی ۔ مگر ایسا بیان دیتے ہُوئے وزیر مذکور اور اُن کے سرپرستوں کو کوئی خیال نہیں ہے اور وہ بدستور عوام کے زخموں پر نمک ملتے جا رہے ہیں ۔ اسے حکمرانوں کی بے حسی نہ کہا جائے تو پھر اس ذہنیت کو کیا عنوان دیا جائے ؟پہلے تو عوام ہی اکیلے مہنگائی کے خلاف صف آرا تھے اور اپوزیشن لیڈر شپ بھی بوجوہ عوام کاساتھ دینے سے عملی طور پر انکار کررہی تھی ۔ اور اب اپوزیشن بھی عوام کی سخت ناراضی کا ہدف بنی ہے تو اپوزیشن کے لیڈروں نے بھی بازاروں اور شہروں میں مہنگائی کے خلاف جلسے جلوس نکالنا اور ان کی قیادت کرنا شروع کر دی ہے ۔یوں عمران خان کی حکومت کے خلاف عوام اور اپوزیشن کا اکٹھا دباؤ بڑھ رہا ہے ۔اِس ضمن میں اپوزیشن یعنی پی ڈی ایم کی زیر قیادت 20اکتوبر کو راولپنڈی میں حکومت کے خلاف جو زبردست احتجاج کیا گیا ہے ، اسے معمولی نہیں کہنا چاہئے ۔ یہ دراصل اپوزیشن کی طرف سے حکومتی بے حسی کے خلاف بارش کا پہلا قطرہ قرار دیا جانا چاہئے ۔ اس جلسے میں اپوزیشن کی جانب سے حکومت اور عمران خان کے خلاف جو نعرے لگائے گئے ہیں ، یقیناً اس کی گونج اور بازگشت عمران خان کے دفتر اور گھر تک پہنچ گئی ہوگی ۔ حکومت جو عوامی جذبات کی توہین کررہی تھی ، اب ان احتجاجی جلسوں اور ان میں لگائے گئے سخت نعروں سے بیدار ہوئی ہے ۔ اب تو حکومت بھی اعلان کرتی نظر آ رہی ہے کہ ” مہنگائی کے خلاف سبسڈی پروگرام لا رہے ہیں ۔” حکومت کی طرف سے غریب اورنادار عوام کو رعائتی پٹرول کی فراہمی کا اعلان بھی کیا گیا ہے ۔ ہمارا خیال یہ ہے کہ یہ اعلان محض گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنے کے مترادف ہے ، اس پر عمل مشکل ہی سے ہوگا۔ یہ بھلا کیسے ممکن ہے کہ ملک بھر میں موٹر سائیکل سواروں اور رکشہ والوں کو تو سستا پٹرول فراہم کیا جائے اور باقی گاڑی والوں کو نظر انداز کر دیا جائے ؟ کیا اس کے لئے پٹرول پمپوں پر علیحدہ سے لائنیں بنوائی جائیں گی یا شہروں میں خاص قسم کے سبسڈی پٹرول اسٹیشنز قائم کئے جائیں گے ؟ اور کیا اس میدان میں بھی کرپشن اپنا راستہ نہیں بنا لے گی ؟ وزیر اعظم عمران خان صاحب کا رویہ بھی خاصا حیران کن ہے ۔ وہ اعتراف تو کرتے ہیں کہ ملک مہنگائی کی چکی میں پِس رہا ہے لیکن اس عوام کو مہنگائی کے عذاب اور جہنم سے نجات دلانے کی بات کرنے سے انکاری ہیں ۔ اُلٹا وہ پی ٹی آئی کے کارکنوں کو اپوزیشن کے خلاف صف آرا کرنے کی منصوبہ بندی کرتے دکھائی دے رہے ہیں ۔ یہ افسوسناک رویہ ہے اور عوام دشمن اقدام بھی ۔حکومت مہنگائی کے خلاف سبسڈی پروگرام لانے کا فیصلہ کررہی ہے لیکن اس پر فی الحال عمل کی کوئی شکل سامنے نہیں آ رہی ْ ۔ عجب تضاد ہے ۔محض مہنگائی ہی وہ واحد عنصر نہیں ہے جس نے عمران خان کی حکومت کی چُولیں ہلا کررکھ دی ہیں ۔ عسکری اداروں سے حکومت کا تصادم اور ڈینگی کی ہمہ دم پھیلتی وبا نے بھی حکومت کی جڑوں کوکمزور کر دیا ہے ۔ ملک میں ڈینگی کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے ۔اور سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کو داخل کرنے سے انکار کیا جارہا ہے ۔ڈینگی وبا کو کنٹرول کرنے میں حکومت کی نااہلیاں تو کھل کر سامنے آ رہی ہیں ۔ یہ نااہلیاں پی ٹی آئی کی حکومت کے لئے بدنامی اور ذلت کا سبب بن رہی ہیں ۔ حکومت سخت دباؤ اور تناؤ کے ماحول میں سانس لے رہی ہے ۔ ان بحرانوں میں بلوچستان کی صوبائی اسمبلی کا بگاڑ عمران خان کی حکومت کئے ایک نیا دباؤ لے کر طلوع ہُوا ہے ۔ یقیناً عمران خان اس بحران کے کارن بھی پریشان ہوں گے ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان ، جام کمال، کے خلاف بلوچستان اسمبلی میں 33ارکانِ اسمبلی نے تحریکِ عدم اعتماد پیش کر دی ہے ۔ ابھی تک مگر معلوم نہیں ہو رہا کہ یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔تحریک عدم اعتماد سردار عبدالرحمٰن کھیتران نے پیش کی۔ اسپیکر نے رولنگ دی کہ تحریک عدم اعتماد کو مطلوبہ ارکان کی حمایت حاصل ہوگئی ہے اور 33 ارکان نے قرارداد کی حمایت کر دی ہے۔بلوچستان عوامی پارٹی کے ترجمان سردار عبدالرحمٰن کھیتران نے اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ” یہ 65 کا ایوان ہے، جام کمال خان ہمارے لیے قابل احترام شخصیت ہیں، یہ ایک قبیلے کے سردار ہیں، ان کو قائد ایوان بھی اکثریت کے بل بوتے پر منتخب کیا گیا تھا اور آج بھی اکثریت کے بل بوتے پر یہ قرارداد آ گئی ہے اور اس ایوان نے فیصلہ کردیا ہے حالانکہ ہمارے اراکین اسمبلی مسنگ پرسن میں آ گئے ہیں۔کسی کا گلا دبا کر کوئی اقتدار میں نہیں رہ سکتا، یہ بلوچستان کی روایت نہیں ہے کہ کسی کو آپ مسنگ اور اغوا کریں اور ایوان کے تقدس کو پامال کریں، کسی کو اس کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اگر لاپتا افراد کو بازیاب نہ کرایا گیا تو یہ ایوان اور پورا بلوچستان احتجاج کرے گا، ہم اس سطح پر نہیں جانا چاہتے، ہمارے لیے ہر ادارہ قابل اعتماد ہے”۔انہوں نے مزید کہا:” جب ایوان کا ایک شخص سے اعتماد اٹھ گیا ہے تو بہتر یہی ہو گا کہ جام کمال خان استعفیٰ دے دیں، اقتدار سے چپکے رہنے کا فائدہ نہیں ہے، آج پانچ لاپتا ہیں، کل مزید پانچ لاپتا کر لیں گے، شاید ان کی کرسی بچ جائے لیکن اب یہ ایوان نہیں چلے گا۔ اخلاقیات اور بلوچستان کی روایت کا تقاضا ہے کہ فوری طور پر جام کمال خان مستعفی ہو جائیں کیونکہ ہم تاریخ میں یہ نہیں لکھوانا چاہتے کہ انہیں وزیراعلیٰ کے منصب سے ہٹایا گیا”۔اس موقع پر قائد حزب اختلاف ملک سکندر ایڈووکیٹ نے ایوان سے خطاب میں پانچ اراکین صوبائی اسمبلی لاپتا ہونے پر احتجاج کرتے ہوئے کہا :” اس طرح سے ایوان نہیں چلے گا اور اس طرح سے آج جو بھی لوگ اپنا آئینی اور جمہوری حق استعمال کررہے ہیں، انہیں گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ اگر پانچ اراکین اسمبلی کو اپنا جمہوری حق استعمال نہ کرنے دیا جائے تو کیا یہ ایوان اور وزیر اعلیٰ اس طرح سے چل سکتے ہیں؟ یہ ناممکن ہے، لہٰذا اسپیکر اراکین اسمبلی کی بازیابی کا حکم دیں۔ اگر ایسا نہ ہوا تو ہم گھر نہیں جائیں گے، یہیں بیٹھ کر سڑکیں بند کریں گے اور اس وقت تک بیٹھیں گے جب تک یہ غیر آئینی، غیر قانونی اور غیر جمہوری عمل ختم نہیں ہوتا”۔اس سے ایک دن قبل بلوچستان عوامی پارٹی(BAP) کے ناراض اراکین اور متحدہ اپوزیشن نے حکومت اور وزیراعلیٰ کو مزید دو اراکین کی حمایت سے محروم کردیا ہے۔ناراض اراکین اور متحدہ اپوزیشن نے ایم پی اے ہاسٹل میں بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی کے رہنما احسان شاہ سے ملاقات کی۔بعدازاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے بلوچستان عوامی پارٹی کے ترجمان سردار عبدالرحمٰن کھیتران نے کہا:” پاکستان عوامی پارٹی کے رہنما احسان شاہ بھی ہمارے قافلے میں شامل ہوگئے ہیں جبکہ نور محمد دمڑ بھی ہمارے کاروان میں شامل ہوگئے ہیں۔ سرادر اختر مینگل سے بھی بات ہوئی ہیں اور انہوں نے بھی حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے جس کے بعد آج ہمارے حمایتی اراکین کی تعداد 42 تک پہنچ گئی ہے”۔دوسری جانب وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان بھی نااُمید نہیں ہیں ۔ وہ آخری دَم تک لڑنے کا عندیہ دے رہے ہیں ۔ اُن کا بھی دعویٰ ہے کہ اکثریتی ارکانِ اسمبلی اُنہی کے ساتھ ہیں ۔اُنہوں نے چار روز قبل بلوچستان اسمبلی کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے پُر اعتماد لہجے میں کہا:” پہلے روز سے کہہ رہا ہوں کہ اتحادی ہمارے ساتھ ہیں اور ہم پُر امید ہیں۔ پہلی مرتبہ اپوزیشن حکمراں جماعت کے ساتھ مل کر کھیل رہی ہے، سیاست میں سب پر اعتماد ہوتے ہیں، یہ کیسے ممکن ہے کہ حکومتی اراکین اپوزیشن کے ساتھ مل کر تحریک لے کر آئیں۔ اگر تحریک عدم اعتماد اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے آتی تو بات بنتی تھی، اپوزیشن نے اتحاد کو نقصان پہنچانے کے لیے ماحول پیدا کیا۔ ہم بلوچ اور پشتون ہیں اور کسی کو دعوتوں میں جانے سے نہیں روکتے، احسان شاہ ہمارے ساتھ ہیں اور امید کرتے ہیں کہ ثنااللہ زہری بھی ہمارا ساتھ دیں گے، 26 اراکین ہمارے ساتھ ہیں جبکہ یار محمد رند بھی ہمارے ساتھ مشاورت میں تھے”۔ ملک کے سیاسی اور معاشی حالات دگرگوں ہیں اور ہمارے سیاستدان بے حسی کے ساتھ اقتدار کی خاطر ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچ رہے ہیں ۔یہ سب کچھ شائد اسلئے ہو رہا ہے کہ حکومت پر وزیر اعظم عمران خان کی گرفت ڈھیلی پڑ رہی ہے ۔ جو بھی ہوگا، کل بروز پیر بتاریخ 25اکتوبر2021ء کو بلوچستان اسمبلی کا بحران یوں حل ہونے کی اُمید ہے کہ گنتی مکمل ہو جائیگی اور یہ عیاں ہو جائے گا کہ تحریکِ عدم اعتماد کامیابی سے ہمکنار ہوتی ہے یا نہیں ۔ جام کمال کے اقتدار کا جام چھلکتا ہے یا بچ جاتا ہے؟؟


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »