Latest news

کہاں لے آئے ہو اے رہبرو تم، یہاں تو کربلا ہی کربلا ہے

ہمیشہ سے یہ اصول چلا آ رہا ہے کہ دُنیا میں وہی اقوام اور ممالک خوشحال ، دولتمند اور طاقتور رہتے ہیں جن کی برآمدات کی مقدار درآمدات سے بڑھ کر ہوں ۔

جونہی کسی ملک کی امپورٹس بڑھتی اور ایکسپورٹس گھٹتی ہیں ، ملک کا معاشی توازن بگڑ جاتا ہے۔یوں غربت میں اضافہ ہوجاتا ہے اور ملکی قرضے بڑھ جاتے ہیں ۔ اِسی توازن کو برقرار رکھنے کیلئے برطانیہ نے ایسٹ انڈیا کمپنی کی بنیادیں رکھیں تاکہ تجارت کے بہانے مغلوں کے ہندوستان پر قبضہ کیا جا سکے ۔مغل انڈیا ”سونے کی چڑیا” کہلاتا تھا ۔متحدہ ہندوستان پر کامل قبضہ کرنے کے بعدسامراج اور قابض انگریزوں نے یہاں کی مقامی صنعتیں برباد کر دیں اور برطانیہ کا مال ہندوستان میں فروخت کرنے لگے ۔ جونہی برطانوی ایکسپورٹس میں اضافہ ہُوا ، برطانیہ کی دولت، خوشحالی اور طاقت میں بے تحاشہ اضافہ ہونے لگا۔

آج امریکہ اور چین کے باہمی تصادم کی بنیادی وجہ ہی یہ ہے کہ یہ دونوں ممالک اپنی اپنی درآمدات میں کمی اور برآمدات میں اضافہ کرنے کے خواہشمند ہیں ۔وطنِ عزیز کی بھی سب سے بڑی بد بختی یہی ہے کہ ہمارا امپورٹ بِل ہمارے ایکسپورٹ بِل سے کئی گنا بڑھ چکا ہے ۔ یعنی سادہ لفظوں میں یہ کہ ہماری ایکسپورٹس تقریباً صفر کے ہندسے کو چھو رہی ہیں اور ہماری امپورٹس نے قوم اور ملک کا کچومر نکال دیا ہے ؛ چنانچہ اس سے جو تجارتی خسارے کی گہری خلیج پیدا ہُوئی ہے ، اس نے قوم کا دیوالیہ نکال دیا ہے ۔کوشش تو یہ ہونی چاہئے تھی کہ ہماری ایکسپورٹس کی مقدار اور تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا چلا جاتا لیکن ایسا نہیں ہو سکا ہے ۔ ہمارے سابقہ حکمرانوں کی غفلتوں ، عیاشیوں اور بد عنوانیوں نے آج ہمیں یہ روزِ بد دکھایا ہے ۔کسی نے مگر کسی کا حساب لینے اور اس مجرمانہ غفلت بارے کسی کی باز پرس ہی نہ کی ۔ اب باز پرس کرنے اور حساب لینے کا وقت آیا چاہتا ہے ۔ کسی کو تو آغاز کرنا ہے ۔

:شائد شاعر نے کسی ایسے ہی احساس تلے کہا تھا
کہاں لے آئے ہو اے رہبرو تم
یہاں تو کربلا ہی کربلا ہے

پاکستانی بر آمدات یعنی ایکسپورٹس بڑھانے کیلئے بہت سی رکاوٹیں سامنے آ رہی ہیں ۔ چین ہمارا بڑا سہارا تھا لیکن اُس نے بھی اس سلسلے میں پاکستان کی دستگیری کرنے اور پاکستانی مال قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے ۔ وطنِ عزیز کو رواں لمحات میں ڈالروں کی شکل میں زرِ مبادلہ کی جتنی شدید ضرورت ہے ، یہ بات ہر شخص پر اظہر من الشمس ہے ؛ چنانچہ اِسی پس منظر میں وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت جناب عبد الرزاق داؤد نے چین سے رابطہ کیا اور یہ پیشکش کہ اس پُر آزمائش وقت میں پاکستان چین کو گندم اور چاول ایکسپورٹ کرنا چاہتا ہے لیکن چین نے پاکستانی چاول اور گندم لینے سے صاف انکار کر دیا ۔

یہ ایک ایسا تازہ دھچکا ہے جس نے پاکستان کو ہلا کر رکھ دیا ؛ چنانچہ اسی عالمِ پریشانی میں داؤد رزاق نے اس چینی انکار کا معاملہ پارلیمنٹ کی کمیٹی برائے تجارت کے سامنے پیش کیا ۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین سید نوید قمر ہیں اور یہ بریفنگ بھی اُنہی کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں پیش کی گئی ۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ داؤد رزاق کی بریفنگ کے بعد کمیٹی کے سبھی ارکان کو چپ سی لگ گئی جس کا صاف مطلب یہ تھا کہ اگر ان کڑے ایام میں چین بھی پاکستان کی مالی دستگیری کرنے سے دستکش ہو رہا ہے اور پاکستانی ایکسپورٹس میں اعانت فراہم کرنے سے انکاری ہے تو پھر باقیوں سے کیا اُمید رکھی جائے ؟ یہ ہے چین کی اُس دوستی کا اصل احوال جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ہمالیہ سے بلند ، سمندروں سے گہری اور شہد سے زیادہ شیریں ہے ۔پاکستان کو اب نئی پریشانی یہ ہے کہ اُس کے پاس پڑی 45ملین ٹن کی اضافی گندم کا کیا کِیا جائے ؟ اوپر سے نئی گندم کی فصل بھی گوداموں میں آنے والی ہے۔ پاک چین برآمدات کا ذکر کیا جائے تو یہ تلخ حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ اس تجارت میں بھی پلڑا چین کی طرف جھکا ہُوا ہے ۔

پاکستان اگر چین کو ایک سو روپے کی شئے ایکسپورٹ کرتا ہے تو چین پاکستان کو دو ہزار روپے کی اشیاء فروخت کرتا ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ پاکستانی مارکیٹیں ہر قسم کے چینی مال سے لدی پھندی نظر آتی ہیں ۔ پاکستانی تاجر اور پاکستانی کارخانہ دار تو اس دوستی کے ہاتھوں پِس کر رہ گئے ہیں ۔پاکستانی گندم، پاکستانی آٹے اور لائیو اسٹاک کی ایکسپورٹ افغانستان بھی ہوتی تھی ۔

سالانہ تین ارب ڈالر پاکستان کو اس مَد سے ملتا رہا ہے ۔جب سے افغانستان میں بھارت نے قدم جمائے ہیں ، اس ایکسپورٹ میں بھی زوال آ چکا ہے ۔

یہ زوال دراصل پاکستانی برآمدات کے خلاف بھی دہشت گردی ہے ۔ اور اس میں افغانستان ، بھارت اور ایران نے مل کر یکساں طور پر پاکستان کے خلاف کردار ادا کیا ہے ۔ ایرانی بندرگاہ (چا بہار)اس سلسلے میں پاکستان کے خلاف مرکزی کردار ادا کررہی ہے ۔ بھارتی آٹا ، گندم ، دالیں ، لائیو اسٹاک ، سیمنٹ وغیرہ چا بہار کی بندرگاہ پر اُترتا ہے اور وہاں سے سڑک کے راستے ایران سے ہوتا ہُوا افغانستان پہنچ جاتا ہے ۔ پہلے یہ سارا سامان پاکستان سے افغانستان ایکسپورٹ ہوتا تھا۔ اب ایران اور بھارت برابر فائدے اُٹھا رہے ہیں ۔ پاکستانی گندم اور پاکستانی آٹے کی افغانستان کی جانب ایکسپورٹ کمترین سطح پر ہونے کے کارن صوبہ خیبر پختونخوا کی تجارت اور تاجروں کو خاص طور پر سخت نقصان اور خسارہ اُٹھانا پڑ رہا ہے ۔کئی فلور ملز بند ہو چکی ہیں ۔بھارت اور امریکہ کی شہ پر افغانستان نے دانستہ پاکستان سے اشیاء منگوانی بند کر دی ہیں ۔ پاکستان اگرچہ ہر سطح پر افغانستان اور امریکہ سے تعاون کررہا ہے لیکن اس تعاون اور بھائی چارے کے باوجود پاکستان کی ایکسپورٹ میں اضافہ نہیں ہو رہا ۔ خود امریکہ کیلئے پاکستان کی ایکسپورٹ میں 80فیصد کمی آ چکی ہے ۔ پاکستان میں بجلی کے شدید بحرانوں نے بھی امریکہ کیلئے پاکستانی ایکسپورٹ پر منفی اثرات مرتب کئے ہیں ۔

یوں وطنِ عزیز کے زرِ مبادلہ میں بھی گراوٹ آئی ہے ۔سری لنکا وہ ملک ہے جس کے ساتھ پاکستان کی ایکسپورٹ بڑے اچھے اسلوب میں جاری تھی ۔ پچھلے سال پاکستان نے سری لنکا کو دو ارب ڈالر کا سامان فروخت کیا ۔ لیکن اب بدقسمتی سے اس ایکسپورٹ پر بھی زوال کے سائے پڑ گئے ہیں ۔سری لنکا میں ہونے والے حالیہ خود کش دھماکے ( اپریل 2019ء کے آخری ہفتے میں) ہماری ایکسپورٹ پر بھی سیاہ سائے ڈال گئے ہیں ۔ سری لنکا کی ایک جہادی اور داعشی تنظیم ( نیشنل توحید جماعت) نے مبینہ طور پر یہ 9 خود کش دھماکے سری لنکا کے گرجا گھروں اور ہوٹلوں پر کئے جن میں ڈھائی سو سے زائد بے گناہ مسیحی عبادت کرتے ہُوئے قتل کر دئیے گئے ۔مرنے والوں میں پانچ درجن کے قریب غیر ملکی سیاح بھی شامل تھے۔ پانچ سو سے زائد زخمی ہُوئے ۔ سری لنکا کی جہادی تنظیم کے سربراہ( مولانا ظہران ہاشم) ، اُس کے خاندان اور درجنوں ساتھیوں نے مبینہ طور پر یہ خونی کام انجام دیا ۔

یہ بھی معلوم ہُوا ہے کہ اس تنظیم نے بھارتی علاقے ” تامل ناڈو” سے بھی ٹریننگ لی تھی ۔پاکستان سری لنکا کو چاول ، آلو،ٹیکسٹائل اور پھل برآمد کرتا تھا۔

اب ان خود کش دھماکوں کی بنیاد پر یہ برآمدات نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہیں ۔22مئی2019ء کو پاکستان کی وزارتِ خارجہ اور وزارتِ تجارت نے تصدیق کر دی ہے کہ سری لنکا نے فی الحال پاکستانی مال لینا بند کر دیا ہے ۔” پاکستان سری لنکا بزنس فورم ” کے چیئرمین اسلم پکھالی نے بھی آن دی ریکارڈ بتایا ہے کہ سری لنکا نے پاکستانی برآمدات پر پابندی عائد کر دی ہے اور کہا ہے کہ جب تک سری لنکا میں لا اینڈ آرڈر بحال نہیں ہوتا اور کرفیو کے گھنٹوں میں کمی نہیں آتی ، پاکستانی مال سری لنکا نہیں جا سکتا ۔

سری لنکا کے وہ تاجر حضرات جو پاکستان سے چاول ، ٹیکسٹائل ، آلو اور پھل منگواتے تھے ، اُن میں سے اکثریت سری لنکا کے مسلمانوں کی تھی ۔ سری لنکا کے مسیحیوں پر خود کش حملوں کے بعد سری لنکا کی مسلمان بزنس کمیونٹی پر مسلسل حملے ہو رہے ہیں ۔

اُن کے گھر اور دکانیں لوٹی جارہی ہیں ۔ ایسے میں پاکستان سے سری لنکا مال جائے تو کیونکر؟ اور ان خونی اور مخدوش حالات میں یہ مال خریدے گا کون؟ یوں ایک امن دشمن اور انسانیت کے معاندین جہادی عناصر کی غلیظ حرکت کے سبب پاکستان کی ایکسپورٹ بھی زَد میں آ چکی ہے ۔ پاکستان نے پہلے بھی سری لنکا میں امنِ عامہ بحال کرنے اورسری لنکن دہشت گردوں ( جو بھارت سے دہشت گردی کی تربیت لیا کرتے تھے اور جنہیں بھارت کی پشت پناہی بھی حاصل تھی) کی گردن مروڑنے میں سری لنکن حکومت کی دل و جان سے مدد کی تھی ، اب بھی کررہا ہے ۔ اُمیدِ واثق ہے کہ پاکستان کی یہ مستحسن کوششیں ثمر آور ثابت ہوں گی اور سری لنکا کیلئے پاکستانی ایکسپورٹ کا سلسلہ پھر سے چالو ہو جائے گا۔ انشاء اللہ ۔ فی الحال مگر ایک بڑے بحران کا سامنا تو کرنا پڑ رہا ہے ۔وزیر اعظم کے مشیر تجارت داؤد رزاق اپنی اور اپنے صاحبزادے کی تعمیری فرموں( مثلاً مہمند ڈیم بنانے والی فرم) کی بڑھوتری اور مفادات کیلئے تو خاصے سرگرم نظر آتے ہیں لیکن کیا یہ بدقسمتی نہیں ہے کہ وہ پاکستانی برآمدات کیلئے نئے نئے ایونیوز اور راستے تلاش کرنے کی کوئی کوشش کرتے نظر نہیں آ رہے ۔ اُنہوں نے آتے ہی پاک چین تعلقات ( سی پیک) بارے ایک برطانوی اخبار کو انٹرویو دیتے ہُوئے جو کچھ کہا تھا، ابھی تک پاکستان اُس کا نقصان پورا نہیں کر سکا ہے ۔

حیرت ہوتی ہے کہ ہمارے وزیر اعظم صاحب بھی کیسے کیسے نابغے اپنی کابینہ میں اکٹھے کر چکے ہیں ۔ اگر پاکستانی برآمدات کیلئے ایک دَر بند ہُوا ہے تو داؤد رزاق نے کوئی دوسرا دَر کھولنے، کوئی دوسرا یا تیسرا راستہ تلاش کرنے کی کوئی ایک بھی کوشش نہیں کی ہے ۔ آخر کیوں؟ اس کیوں کا جواب دینے کیلئے کوئی تیار نہیں ہے ۔

یوں لگتا ہے جیسے اسلامی جمہوریہ پاکستان کی سنجیدگی اور فہمیدگی کے ساتھ ذمہ داریاں اُٹھانے اور نبھانے کیلئے کوئی بھی تیار نہیں ہے ۔اس ملک میں تازہ سانحہ یہ بھی ہُوا ہے کہ زندگی بچانے والی ادویات میں بغیر کسی معقول وجہ کے 400فیصد اضافہ کر دیا جاتا ہے اور متعلقہ وزیر کو بعد ازاں وزارت سے فارغ بھی کر دیا جاتا ہے لیکن آج تک بے زبان اور مظلوم عوام کو یہ نہیں بتایا گیا کہ برطرف شدہ وزیر نے اصل جرم کیا کِیا تھا؟ اُس پر عائد کئے جانے والے سنگین الزامات میں کتنی اور کہاں تک حقیقت ہے ؟ پی ٹی آئی حکومت کی بے حسی تو یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ ہمارے انگریزی اخبار ”بزنس ورلڈ” میں پورے ثبوتوں کے ساتھ وفاقی وزیر فیصل واوڈا کی کرپشن بارے مفصل رپورٹ شائع ہُوئی ہے لیکن نہ تو حکومت حرکت میں آئی ہے اور نہ ہی ”نیب” نے اس رپورٹ کی اساس پر مذکورہ وزیر کو پرسش کیلئے اپنے دفتر بلانے کا تکلّف گوارا کیا ہے ۔ تو کیا اپوزیشن کا یہ شکوہ بجا ہے کہ ”نیب” جانبداری کامظاہرہ کررہا ہے ؟اِنہی مبینہ شکووں کی بنیاد پر تو اپوزیشن نے زرداری ہاؤس میں روزہ افطاری کے بہانے اجتماع اور اکٹھ کیا ہے ۔ ایک درجن کے قریب اپوزیشن لیڈرز اس افطار ڈنر میں شریک ہُوئے ہیں ۔

راج دلاری اور مجرم مریم نواز شریف بھی شریک ہُوئیں ۔ شکست خوردہ مولانا فضل الرحمن بھی تھوڑی سی دانستہ تاخیر سے وہاں پہنچ گئے تھے ۔ اس گٹھ بندھن میں بڑی پارٹیاں تو دو ہی تھیں : نون لیگ اور پیپلز پارٹی ۔

دونوں ہی لُوٹ مار اور کرپشن کے الزامات کی غلاظت میں لتھڑی پڑی ہیں ۔ دونوں ہی درجنوں مقدمات میں ”نیب” کو مطلوب ہیں ۔ نون لیگ کے قائد صاحب تو عدالت سے مجرم بھی گردانے جا چکے ہیں اور اب بھی جیل میں بند ہیں ۔ حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ ضمانت پر رہا ہونے والی مجرمہ مریم نواز شریف بھی حکومت کے خلاف بروئے کار آنے والے اس اجتماع میں دھڑلے سے شریک ہُوئیں اور سیاسی سرگرمیوں میں بھی حصہ لے رہی ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ جس عدالت نے مہربانی کرتے ہُوئے مجرم مریم کو ضمانت عنائت فرمائی تھی ، کیااُس کی نظر میں یہ سیاسی سرگرمیاں عین قانونی ہے؟ ملزم آصف زرداری بھی وہیں تھے ۔ دُنیا یہ تماشہ دیکھ کر ہمارا تمسخر اُڑا رہی ہے کہ مجرمہ مریم اور ملزم بلاول زرداری ، دونوں کے ابو جان کرپشن کی دلدل میں سر تا پیر دھنسے ہُوئے ہیں اور یہ ڈھٹائی سے حکومت مخالف تحریک کی بنیاد بھی رکھ رہے ہیں۔ چہ عجب!! ہم سمجھتے ہیں کہ اگر احتسابی ادارے بد قماشوں اور بد عنوانوں کے خلاف سرعت سے کام لیتے تو حکومت کو آج یہ دن بھی دیکھنا نصیب نہ ہوتے ۔پھر نہ زرداری کو احتسابی اداروں کے خلاف زبان درازی کا موقع ملتا اور نہ ہی شاہد خاقان عباسی کو ”نیب” چیئرمین کے خلاف یوں منہ کھولنے کی جسارت ہوتی ۔ عجب بات یہ بھی ہے کہ حکومت ہاتھ پر ہاتھ دھرے اپنا تماشہ خود لگا رہی ہے ۔

ہم سب جانتے ہیں کہ اس اجتماع کے عقب میں کیا نیت کارفرما ہے؟ شائد اِسی لئے یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اپوزیشن کا یہ اکٹھ اور اُن کا یہ عہد کہ عید کے بعد حکومت کے خلاف تحریک چلائیں گے ، دراصل ”ابو بچاؤ” اور ” لُوٹ کاپیسہ بچاؤ” تحریک ہے ۔عوام اور ملک سے ان میں سے کسی ایک بھی نام نہاد لیڈر کو کوئی دلچسپی نہیں ہے اور نہ ہی عوامی دکھوں کا مداوا کرنا چاہتے ہیں ۔ اسلام آباد میں قائم کروڑوں روپے مالیت کے زرداری ہاؤس میں اپوزیشن کے اس تازہ اجتماع کا ایک مطلب یہ ہے کہ ان درجن بھر شرکت کنندگان کو ملکی مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔ اُن کی آنکھ میں عمران خان کا وجود کانٹے کی طرح کھٹک رہا ہے ؛ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ملزم زرداری اور مجرم مریم نواز شریف کے اشارے سے مبینہ تحریک کی باگ ڈور جس اسلوب میں مولانا فضل الرحمن کے ہاتھ میں دی گئی ہے، اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ خانصاحب سے دلی نفرت کرنے والے ایک شخص کو آگے لایا گیا ہے تاکہ وہ” صحیح انداز” میں حکومت اور وزیر اعظم کے خلاف اپنے خبثِ باطن کا مظاہرہ کر سکے ۔ فضل الرحمن وہ ” عظیم ہستی” ہیں جو اوّل روز سے عمران خان کی حکومت کے خلاف بروئے کار ہیں ۔

وہ تو قومی اسمبلی کے پہلے اجلاس سے بھی پہلے عمران خان کی حکومت کو چلتا کرنے کے منصوبے بنا رہے تھے ، شہ بھی دے رہے تھے کہ کوئی حلف اُٹھانے نہ جائے لیکن اُن کی بات پر کسی نے کان نہیں دھرے۔ یہ لوگ اب پھر حکومت کے خلاف نقب اور داؤ لگانے آ گئے ہیں ۔وہ حکومت کو گرانے کے دعویدار ہیں لیکن یہ محض ڈرانے کے ہتھکنڈے ہیں ۔یہ دراصل بد نیت ٹولے کا نیا اجتماع ہے ۔ اور بد نیتوں کے کسی عمل میں تو اللہ تعالیٰ نے بھی کوئی برکت نہیں رکھی ہے ۔ ہمیں قوی یقین اور اُمید ہے کہ عمران خان اور اُن کی حکومت کے خلاف یلغار کرنے کی نیتِ بد رکھنے والے یہ منافق جتھہ دار منہ کے بَل گریں گے ۔ انشاء اللہ ۔ان کی سازشوں کے جال کبھی اپنے شکار کو گھیر نہیں پائیں گے ، اسلئے کہ جسے وہ شکار کرنا چاہتے ہیں ، اُس جوانمرد نے بزدلوں کے سامنے کبھی ہار نہیں مانی ہے ۔

:شہزاد احمد نے کہا تھا
دل سا وحشی کبھی قابو میں نہ آیا یارو
ہار کر بیٹھ گئے جال بچھانے والے

پاکستان اس وقت بدترین معاشی بحران کا شکار ہے اور اس مشکل وقت میں ڈالر کی خرید و فروخت صرف اور صرف وہ لوگ کر رہے ہیں جو ڈالر کو بیچ کر کاروبار کی غرض سے منافع کما رہے ہیں۔ اس مشکل وقت میں ایسا کرنا پیارے وطن پاکستان سے غداری کے مترادف ہے۔ محب وطن پاکستانیوں سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ ہم سب کو اپنا اپنا کردار اداکرنا ہے۔

پاکستانی روپے کی ویلیو کو بڑھانا ہے اور ڈالر کو ٹکے ٹوکری کرنا ہے۔ قومیں مشکل وقت میں ملک کے ساتھ ڈھال بن کر کھڑی ہوتی ہیں۔

حکومتِ پاکستان کو چاہئے کہ وہ تمام اخبارات اور چینل کو اعتماد میں لیں۔ 92 نیوز کی طرح ڈالر کے خلاف مہم چلائیں ہم تو 92 نیوز کی حب الوطنی کو سلام پیش کرتے ہیں اور جنہوں نے ڈالر کو ٹکے ٹوکری کرنے کے لئے بھرپور مہم کا آغاز کیا ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت منی ایکس چینجر کو فوری بین کرے اور ان کے مالکان کا بھی گھیرا تنگ کرے اور جو بھی ڈالر کی ذخیرہ اندوزی کی نشاندہی کرے اسے بھی انعام دیا جائے۔ جن سے ڈالر برآمد ہوں ان کو عبرت کا نشان بنایا جائے۔ اور ان کی تمام جائیداد ضبط کر لی جائے۔ اس سے ڈالر کو پاکستان میں جگہ نہیں ملے گی ڈالر ہماری کرنسی کے برابر آ جائے گا۔
وطنِ عزیز میں مجرمانہ ذہنیت رکھنے والوں اور مستند لٹیروں کو کیفرِ کردار تک پہنچانا کوئی آسان اور سہل کام نہیں ہے ۔

یہ ایسی مشکل اور دُو بھر مہم ہے جس کی منزل ِ مقصود تک پہنچنے کیلئے پتّہ پانی ہو جاتا ہے ۔ ویسے بھی شیطانی قوتیں (بظاہر) ہمیشہ زیادہ طاقتور ہوتی ہیں۔ یہ بھیس بدل بدل کر نیکو کاروں اور احتسابی قوتوں پر حملہ آور ہوتی ہیں اور محتسبوں کا راستہ کاٹنے کی کوشش کرتی ہیں، لیکن کوئی مردِ مومن آجائے تو سب شریر اور شیطانی طاقتیں تارِ عنکبوت ثابت ہوتی ہیں ۔خوشی اور اطمینان کی بات یہ ہے کہ پاکستان میں عوام کی اکثریت احتسابی قوتوں کے ساتھ ہے ۔ ہم سب چاہتے ہیں کہ جنہوں نے ملک لُوٹا، عوام کا مال اپنی حکومتی طاقت سے غصب کیا اور جنہوں نے اپنے سرکاری اختیارات کا بے جا اور ناجائز استعمال کرتے ہُوئے ملکی وسائل پر ڈاکہ زنی کی ، فوری طور پر ان سب مجرموں کی گردن ناپی جانی چاہئے ۔

سارا ملک لٹیروں اور بد عنوانوں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے دیکھنے کا متمنی ہے ۔ ”نیب” کے چیئرمین جناب جسٹس (ر) جاوید اقبال پاکستانیوں کی اکثریت کے آدرشوں اور دئیے گئے قانونی اختیارات کے سائے میں لٹیروں کا حساب کررہے ہیں ۔ لٹیرے چونکہ بے تحاشہ دولتمند اور باوسائل ہیں ، اسلئے وہ احتساب اور سزا کے ڈر سے بار بار ، بھیس بدل بدل کر نیب کے چیئرمین پر حملہ آور ہو رہے ہیں ۔ سب سے کارگر حملہ یہ ہوتا ہے کہ محتسب کو بدنام کر دیا جائے تاکہ وہ سماج میں اعتبار اور اعتماد کھو دے ۔

اس گھناؤنے کام کیلئے خاص ذرائع سے احتساب کرنے والی اصل شخصیت کی کردار کشی کی جاتی ہے ۔ اس کردار کشی کیلئے میڈیا کے مختلف ذرائع بروئے کار لائے جاتے ہیں تاکہ عوام تک آواز پہنچ جائے ۔ ایسی ہی گھناؤنی اور گھٹیا حرکتیں حال ہی میں نیب کے چیئرمین کے خلاف بھی دیکھنے میں آئی ہیں ۔ سب سے پہلے تو اپنی غربت مٹانے میں پی ایچ ڈی کرنے والے کالم نویس کے سہارے نیب چیئرمین کے خلاف مہم چلائی گئی ۔ ایک غلط سلط اور بے بنیاد کالم لکھا گیا اور اس کے مندرجات کو جسٹس جاوید اقبال سے منسوب کیا گیا ۔

یہ دراصل سائنسی انداز میں ایسی باریک مہم تھی جس کا براہِ راست ہدف نیب چیئرمین تھے ۔ اس نام نہاد اور جھوٹے انٹرویو نما کالم کی ”نیب” کی طرف سے دوبار تردید آ چکی ہے اور متعلقہ کالم نگار جھوٹا اور کذب گو ثابت کیا جا چکا ہے ۔ اس نام نہاد انٹرویو کی اساس پر پیپلز پارٹی اور نون لیگ کی ملزم اور مجرم قیادت نے جس شدت سے واویلہ مچایا ، اُسی سے صاف عیاں ہو گیا تھا کہ اس انٹرویو کے عقب میں اصل مقاصد کیا کارفرما تھے ۔ہمیں مگر حیرانی اس با ت کی ہے کہ ابھی تک مذکورہ شخص کے خلاف کوئی بھی محکمہ جاتی کارروائی عمل میں نہیں لائی جا سکی ہے ۔

ابھی اس رذیل اور غلیظ انٹرویو کے مندرجات کی باز گشت کم نہیں ہونے پائی تھی کہ ایک نجی نیوز ٹی وی چینل” نیوز وَن” کی طرف سے نیب چیئرمین کے بارے میں ایک اور گندی، جھوٹی اور قابلِ گرفت خبر نشر کر دی گئی ۔ اس خبر نے بھی براہِ راست جسٹس ( ر) جاوید اقبال کی ذات کو نشانہ بنایا ہے ۔

اس خبر پر عوامی ردِ عمل فوری طور پر یہ سامنے آیا ہے کہ پاکستان کا ڈاکو اور لٹیرا مافیا پوری وحشت سے نیب چیئرمین کے خلاف حرکت میں آ گیا ہے ۔ اس مافیا میں مجرم نواز شریف اور اُن کی مجرمہ بیٹی اور اُن کا مفرور سمدھی ،ملزم شہباز شریف ، اُن کے دونوں مفرور ملزم بیٹے ، اُن کا مفرور داماد ، ملزم آصف علی زرداری ، اُن کی ملزمہ ہمشیرہ اور اُن کے ملزم کاروباری لوگ( اومنی وغیرہ) شامل ہو سکتے ہیں ۔

ان سب کی شدید خواہش ہے کہ نیب کے سربراہ راستے سے اگر ہٹا دئیے جائیں تو اُن پر پڑی سخت احتسابی گرفت کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے ؛ چنانچہ اس ملزم اور مجرم گروہ نے ممکن ہے ”نیوز وَن” ٹی وی کا سہارا لے کر نیب چیئرمین کے خلاف یہ گندی اور غلیظ مہم چلائی ہو ۔ ”نیب ” کی طرف سے اگرچہ سختی سے اس غلیظ خبر کی تردید آ چکی ہے ، متعلقہ ٹی وی چینل بھی تردید کرتے ہُوئے معافی مانگ چکا ہے لیکن ہمارا مطالبہ کچھ اور بھی ہے ۔

 

ہمیں تو اس امر پر بھی حیرت ہے کہ ”نیوز وَن” کا مالک اور پروپرائیٹر شخص ( طاہر اے خان) وزیر اعظم جناب عمران خان کا میڈیا ایڈوائزر ہے ۔ گویا اُس نے وزیر اعظم کی جھولی میں بیٹھ کر وزیر اعظم ، حکومت اور نیب کی داڑھی نوچی ہے ۔

وزیر اعظم اگرچہ اب اس مشیر کو برطرف کر چکے ہیں لیکن یہ کافی نہیں ہے ۔ اس شخص کا جرم اتنا گھٹیا اور گھناؤنا ہے کہ ہمارے ساتھ ملک بھر کے عوام کا مطالبہ ہے کہ متعلقہ خبر کی آڈیو آواز کا فوری طور پر کسی عالمی شہرت کی حامل فورینزک لیبارٹری سے ٹیسٹ کروایا جائے اور دیکھا جائے کہ کہیں یہ آواز جعلی طور پر جاوید اقبال صاحب سے تو منسوب نہیں کی گئی ہے؟ ہمیں یقینِ کامل ہے کہ یہ سراسر جعل سازی ہی ثابت ہوگی ۔ ہمارا یہ بھی مطالبہ ہے کہ جس نجی ٹی وی نے یہ شیطانی اور ملک دشمن حرکت کی ہے ، اُس کا لائسنس تحقیقات مکمل ہونے تک معطل کیا جائے ۔”پیمرا” کو اس جانب فوری اقدام کرنا ہوگا، وگرنہ دوسروں کو بھی کذب گوئی اور کردار کشی کرنے کی شہ ملتی رہے گی ۔ ہمیں یہ بھی یقین ہے کہ پاکستان کا وہ لٹیرا اور ڈاکو مافیا جو رواں لمحات میں ”نیب” کے شکنجے میں کسا جا چکا ہے ، اِسی نے ”نیوز وَن” کو نیب چیئرمین کی کردار کشی کیلئے استعمال کیا ہو گا۔ ہماری آواز ”نیب” اور اس کے دیانتدار چیئرمین جناب جاوید اقبال کے ساتھ ہے ۔

ملک بھر کی عوام کے ساتھ ہم بھی یہی چاہتے ہیں کہ ”نیب” چیئرمین کو پوری طاقت اور دیانتداری کے ساتھ اس لوٹ مار اور ڈاکو مافیا کے سامنے کھڑا رہنا چاہئے اور ان سب کو سرعت کے ساتھ کیفرِ کردار تک پہنچا کر ہی دَم لینا چاہئے ۔

ہم اُن کی استقامت کیلئے دعا گو ہیں اور اُنہیں یہ بھی بتانا چاہتے ہیں کہ پاکستان کے 22کروڑ عوام کی محبتیں ، احترام اور دعائیں اُن کے ہمرکاب ہیں ۔ گزارش ہماری بس یہی ہے کہ اُن کے شکنجے میں آیا کوئی شخص بچ نہ پائے ۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.