Daily Taqat

کابل ہلاکتیں، جنرل بابر افتخار کی پریس کانفرنس اور حکومت کے تین سال

افغانستان سے امریکی اور اس کے اتحادیوں کی افواج کے نکلنے کے بعد ویسے ہی افغانستان کے حالات بدتر اور دگرگوں تھے اور اوپر سے 26اگست 2021ء کو افغانستان کے دارالحکومت کابل میں بم کے دو دھماکوں نے ایک بار پھر افغانستان کے ساتھ ساتھ ساری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے ۔ ابتری اور فساد کے حالات کا دائرہ مزید پھیلا ہے ۔ افغان عوام پر مایوسی اور خوف کے سائے پھر سے غالب آ گئے ہیں ۔ داعش (یاISIS,K) یعنی ”داعش خراسان ولائت ”کی طرف سے اس خونریز اور خونی دھماکے کی ذمہ داری قبول کی جا چکی ہے ۔ یہ لمحات بڑے ہی مشکل اور حوصلہ شکن ہیں ۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ دونوں دھماکے خود کش حملے تھے ۔ اور ہدف کے اعتبار سے دونوں دھماکے ہی بے پناہ تباہی کا باعث بن گئے کہ پُر ہجوم لوگوں کو ہدف بنایا گیا ؛ چنانچہ جانی نقصان بھی بے حد ہُوا ہے ۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ان دھماکوں نے 170 بے گناہ افراد کی جانیں ہڑپ کر لی ہیں ۔ ان میں بچے بھی تھے ، خواتین بھی تھیں اور کابل ائر پورٹ پر متعین امریکی فوجی بھی تھے ۔ ان خود کش دھماکوں میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد13بتائی جارہی ہے ۔ کابل میں اس دھماکے کے کارن کہرام تو مچا ہی ہے، واشنگٹن بھی دہل کر رہ گیا ہے ۔ ہم نے دیکھا ہے کہ ان دھماکوں کے بعد امریکی صدر جو بائیڈن نے وائیٹ ہاؤس میں امریکی صحافیوں کے سامنے جو گفتگو کی، اس میں اُن کے چہرے کی رونق بھی غائب تھی اور اُن کے لہجے میں دَم بھی نہیں تھا۔ اگرچہ امریکی صدر نے بڑے یقین اور دھڑلّے کے ساتھ امریکی عوام کو بتایا کہ ہم اس بزدلانہ حملے کا بدلہ اپنی مرضی کے مطابق فوری ہی داعش سے لیں گے اور ذمہ داران کو سبق سکھا دیں گے ۔ لوگ حیران ہیں کہ اب جبکہ امریکی فوجیں افغانستان میں شکست کھا چکی ہیں اور افغانستان میں اُن کا کوئی ڈیرہ بھی نہیں رہا، وہ داعش سے کیسے اور کیونکر بدلہ لے سکتا ہے ؟ یہ سوال امریکی میڈیا سمیت ساری دنیا کے میڈیا میں سنائی دیا ہے ۔ سچ یہ ہے کہ امریکی صدر پر 26اگست کے اس دھماکے نے سخت دباؤ ڈالا ہے ۔ یہاں تک کہا جارہا ہے کہ جو بائیڈن کا مواخذہ (Impeachment) کیا جائے ۔ ایسا شائد نہ کیا جا سکے لیکن سچی بات یہ ہے کہ افغانستان سے کسی منصوبے اور تنظیم کے بغیر نکلنے اور اب تازہ ترین کابلی خود کش دھماکے نے امریکی صدر کی مقبولیت کا گراف بڑی حد تک نیچے گرا دیا ہے ۔امریکی صدر پر بڑھتے بے پناہ دباؤ ہی کا یہ اثر تھا کہ امریکی محکمہ دفاع نے اب اعلان کیا ہے کہ ہمارے ڈرون نے افغان صوبے ننگر ہار میں چھپے داعش کے اُس منصوبہ ساز کو حملے میں ہلاک کر دیا ہے جس نے کابل ائر پورٹ پر حملہ کروایا تھا۔ لیکن اس امریکی دعوے پر عوام کم کم ہی یقین کرنے کو تیار ہے، اسلئے کہ امریکہ بُری طرح اپنا اعتبار کھو چکا ہے ۔اس صورتحال پر سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بڑے خوش ہیں اور جو بائیڈن اور اُن کی انتظامیہ پر تاک تاک کر حملے کررہے ہیں ۔کابل پر داعش کے حملے نے پاکستان کو بھی یکساں متاثر کیا ہے ۔ یوں کہ نئے افغان مہاجرین کے ریلے پاکستان کی جانب چل پڑے ہیں ۔ ہماری مغربی سرحدوں پر اس بارے میں خاصا دباؤ محسوس کیا جارہا ہے لیکن حیرانی کی بات یہ ہے کہ عمران خان صاحب کی حکومت اور اُن کے وزرا کہہ رہے ہیں کہ کوئی بھی افغان مہاجر ریلہ پاکستان کی جانب آیا ہے نہ نئے افغان مہاجرین پاکستان میں داخل ہُوئے ہیں اور نہ ہی پاکستان نئے افغان مہاجرین کو خوش دلی سے قبول کرے گا۔ یہ پالیسی مبہم سی ہے اور پاکستانی عوام کی سمجھ سے بالا تر ہے ۔ وزیر داخلہ شیخ رشید بھی نئے افغان مہاجرین کی آمد سے انکاری ہیں اور وزیر اعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی معید یوسف بھی ۔ اس ابہام کے دوران اور کابل ائر پورٹ پر داعش کے ظالمانہ اور دہشت گرادانہ حملے کے بعد افواجِ پاکستان کے ترجمان ( ڈی جی آئی ایس پی آر) میجر جنرل بابر افتخار نے اخبار نویسوں کو تفصیلی پریس بریفنگ دی ہے ۔ اس پریس کانفرنس کی ضرورت بھی تھی اور اس میں کئی موضوعات اور مضامین سمٹ آئے ہیں ۔ جنرل بابر افتخار صاحب نے 27 اگست 2021ء کو اپنی پریس کانفرنس میں کہا:”افغان امن عمل میں پاکستان کے کردار کے حوالے سے سب کو معلوم ہے، امریکا اور نیٹو افواج کا انخلا پہلے سے طے شدہ تھا، پاکستان نے پہلے ہی افغانستان کے ساتھ سرحد کے تحفظ کے لیے اقدامات کردیے تھے۔پاکستان کی سرحد محفوظ اور مستحکم ہونے کے مثبت اثرات پڑوسی ملک پر بھی ہوں گے۔ 15 اگست سے قبل افغان نیشنل آرمی سے تعلق رکھنے والے کئی فوجی دو سے زائد مواقع پر پاکستان میں محفوظ راستے کی تلاش میں داخل ہوئے کیونکہ وہ خوف زدہ تھے کہ ان کی پوسٹوں پر طالبان حملہ کر سکتے ہیں۔انہیں قبول کیا گیا اور فوجی اصولوں کے تحت محفوظ راستہ دیا گیا۔پاکستان کی مسلح افواج نے اندازہ لگایا تھا کہ حالات کس طرح بدلنے جا رہے ہیں اور عدم استحکام کا امکان ہے جس کی وجہ سے کنٹرول کو یقینی بنانے کے لیے فوجیوں کو اہم سرحدی گزرگاہوں پر منتقل کردیا گیا تھا۔78 میں سے 17 سرحدی گزرگاہوں کو (مزید تعیناتی کے لیے) نوٹیفائی کیا گیا تھا اور تمام غیر قانونی تجاوزات کو بند کر دیا گیا تھا، 15 اگست کے بعد ٹرمینلز اور سرحدی گزرگاہیں کھلی رکھی گئیں، قافلے بھی دونوں اطراف سے مسلسل آ اور جارہے ہیں۔افغانستان سے غیر ملکیوں کو نکالنے کے لیے دوسرا سب سے بڑا مقام پاکستان ہے۔اب تک 113 پروازیں فوجی اور تجارتی دونوں افغانستان سے پاکستان پہنچ چکی ہیں، پاکـافغان سرحد پر حالات معمول پر ہیں اور کوئی ناخوش گوار واقعہ نہیں ہوا ہے۔افغانوں کے علاوہ اس تنازع کے ‘سب سے زیادہ متاثرین’ پاکستانی ہیں۔سوویت یونین کے حملے کے بعد سے ہمیں خانہ جنگی کا سامنا کرنا پڑا ہے، معاشی نقصانات کے علاوہ 86 ہزار سے زائد جانیں ضائع ہو چکی ہیں”۔ ڈی جی آئی ایس پی آرنے مزید کہا:”جہاں ہم گزشتہ دو دہائیوں کے دوران دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں شامل تھے، مشرقی سرحد پر بھی ہم نے تین مرتبہ بڑی کشیدگی کا سامنا کیا، پاکستان میں ایک سال میں 90 سے زائد دہشت گردی کے واقعات بھی رونما ہوئے ہیں۔اس کے علاوہ 2014 ء کے بعد سے پاکستان کی مشرقی سرحد پر 12 ہزار 312 جنگ بندی کی خلاف ورزیاں ہوئیں۔مسلح افواج نے 1237 بڑے اور معمولی آپریشن کیے اور مغربی سرحد کے ساتھ 46 ہزار مربع کلومیٹر سے زیادہ علاقہ دہشت گردوں سے پاک کیا۔ہماری عظیم قوم اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے ہماری مسلح افواج دہشت گردی کی لہر کو موڑنے میں کامیاب ہوئیں۔پاکستان، افغان حکومت سے بارڈر کنٹرول میکانزم کو باضابطہ بنانے کے لیے رابطہ کر رہا ہے تاکہ پاکـافغان سرحد پر ‘عدم استحکام’ سے نمٹا جا سکے۔پاکستان نے انٹیلی جنس شیئرنگ کا طریقہ کار بھی تجویز کیا تاہم ان اقدامات پر ‘بہتر جواب نہیں ملا ہے۔ پاکستان فوجی سطح پر بھی افغانستان سے رابطہ کر رہا ہے، ‘پاکستان کی عسکری قیادت کی طرف سے کئی اعلیٰ سطحی دورے ہوئے جن میں چیف آف آرمی اسٹاف کے چار دورے بھی شامل تھے۔ہم نے کئی بار افغانستان کو (ٹریننگ) کی پیش کش کی لیکن صرف 6 کیڈٹ آئے تاہم سینکڑوں اور ہزاروں افغان آرمی کے سپاہی بھارت میں ٹریننگ کے لیے گئے اور بھارتی افواج کی کئی تربیتی ٹیمیں افواج کی تربیت کے لیے افغانستان میں بھی گئیں۔یہ پیش کش کرنے کی وجہ یہ تھی کہ ہمیں یقین ہے کہ افغانستان میں امن پاکستان میں امن سے براہ راست جڑا ہوا ہے”۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے نشاندہی کی کہ پاکستان افغانستان میں بگاڑ پیدا کرنے والوں کے منفی کردار کے بارے میں دنیا کو بار بار خبردار کر رہا ہے جو کہ مسلسل ایسا کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا :” جب پاکستان کی مسلح افواج اپنی مغربی سرحد پر آپریشن کر رہے تھے، اس کی مشرقی سرحد پر جنگ بندی کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزیاں ہو رہی تھیں۔2017ء میں بڑے پیمانے پر صلاحیت بڑھانے کے اقدامات کیے گئے تھے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے مغربی سرحدوں کو جامع طور پر محفوظ بنانے کا وژن پیش کیا، ہم نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں فرنٹیئر کور کے لیے 60 سے زائد نئے ونگز بنائے۔اس کے ساتھ پاکستان نے اپنی سرحد کو محفوظ بنانے کے لیے دیگر اقدامات کیے، بشمول ٹیکنالوجی اور نگرانی کو اپ گریڈ کرنا، سینکڑوں سرحدی واچ ٹاور تعمیر کرنا اور سرحد پر باڑ لگانا جس پر 90 فیصد سے زائد کام ہوچکا ہے۔دو دہائیوں کے بعد ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے پوری قوم کے نقطہ نظر سے دہشت گردی کی لعنت کا اچھی طرح مقابلہ کیا ہے، یہ تمام کارروائیاں ناقابل تسخیر جذبے اور پوری قوم کی کوششوں کی عظیم قربانی کا مظہر ہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ یہ کہا ہے کہ افغانستان میں ٹی ٹی پی کی پناہ گاہیں موجود ہیں۔ طالبان افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے اور ہمیں ان کی بات پر یقین کرنا ہوگا”۔پاکستان کے حالات معمول پر آنے کی توقع کے حوالے سے سوال پر میجر جنرل بابرافتخار نے کہا:” ہم بہتری کی امید کر رہے ہیں اور ہم نے اقدامات کیے ہیں۔پاکستان حکومتی سطح پر خوش گوار تعلقات کی توقع رکھتا ہے اس حوالے سے پُراُ مید ہونے کی وجوہات ہیں۔ابھی دیگر ممالک کے ساتھ فوج سے فوج کا رابطہ نہیں ہے، تاہم بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر حملہ اور نگرانی کے لیے جنگلی جانوروں کے استعمال کی اطلاعات ‘تشویش ناک’ تھیں۔بھارتی اقدامات کے بارے میں ان کا کہنا تھا :” مجھے امید ہے کہ دنیا ان کو اتنا نیچے گرنے کا ذمہ دار ٹھہرائے گی، ہم نگرانی کے ان ذرائع سے آگاہ ہیں اور اس کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی طرف سے اقدامات کر رہے ہیں”۔میجر جنرل بابر افتخار نے بڑی وضاحت اور صراحت کے ساتھ پاکستان کو درپیش معاملات پر بات کر دی ہے ۔ بہت سے سوالات کے بغیر کسی ابہام کے جواب دئیے گئے ہیں ۔ ہمیں اُمید ہے کہ یہ بات پوری دنیا پر بھی عیاں ہو چکی ہوگی کہ افواجِ پاکستان کس فراخ دل کے ساتھ افغانستان کی مدد کرنا چاہتی ہے ۔ ہم جنرل بابر افتخار کے شکر گزار ہیں کہ اُن کے توسط سے دنیا پر پاکستان کی جملہ پالیسیاںعیاں ہو کر سامنے آئی ہیں ۔ اس پریس کانفرنس سے بہت سے ابہامات اور اشکالات دور ہو جانے چاہئیں ۔ میجر جنرل بابر افتخار نے نہائت احسن اور مہذب انداز میں پاکستان کا پیغام ساری دنیا کے سامنے پیش کر دیا ہے ۔ سچی بات تو یہ ہے کہ پاکستان اور افواجِ پاکستان دل و جان سے افغانستان میں پائیدار اور مستقل امن کیلئے ہمیشہ کوشاں رہے ہیں ۔ بد قسمتی سے یہ بھارت ہے جو نہائت مکاری کے ساتھ افغانستان میں پاکستان کی امن کی کوششوں اور تعمیر سازی کی مساعی کو بلڈوز کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے ۔ طالبان کی آمد پر بھارت کا چہرہ بھی پوری طرح ننگا ہو گیا ہے ۔ ان نازک حالات میں جناب عمران خان کی حکومت اپنے تین سال ”کامیابی” کے ساتھ پورے کرنے پر جشن منا رہی ہے اور ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے بھی ڈال رہی ہے ۔ ممکن ہے وہ اپنی جگہ پر ٹھیک ہی ہوں لیکن کسی بھی حکومت کی اصل کامیابی تو یہ ہوتی ہے کہ اُس حکومت میں غریب اور متوسط طبقہ کتنا خوشحال اور خوش ہُوا ہے ، غریب عوام کی آمدن میں کتنا اضافہ ہُوا ہے اور یہ کہ ملک میں غربت کی لکیر کے نیچے بسنے والوں کی تعداد میں کمی آئی ہے یا اضافہ ہُوا ہے ، روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت بڑھی ہے یا کم ہُوئی ہے ، بنیادی خوردنی اشیا کی قیمتوں میں کمی آئی ہے یا ان میں بے تحاشہ اضافہ ہُوا ہے ؟؟؟ اگر موجودہ حکومت کے تین سال اس پیمانے پر پورا اُترتے ہیں تو ہماری طرف سے جناب عمران خان کو مبارکباد


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »