Latest news

جینا ذِلّت سے ہو تو (غیرت سے) مرنا اچھا!!

آج یکم ستمبر 2019ء کو جب یہ کالم قارئینِ کرام کی نظروں سے گزررہا ہے ، مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی مسلّط کردہ نئی قیامت کو شروع ہُوئے 26دن گزر گئے ہیں ۔ بھارتی وزیر اعظم ، مقتدر بی جے پی اور انڈین اسٹیبلشمنٹ نے ظالمانہ انداز میں جس طرح بیک جنبشِ قلم مقبوضہ کشمیر کی علیحدہ اور خصوصی حیثیت ختم کر ڈالی ہے، یہ استحصال کی ایک نہائت منفرد مثال ہے ۔ پچھلے تین ہفتوں سے زائد عرصے سے سارا مقبوضہ کشمیر عملی طور پر دُنیا کی سب سے بڑی جیل بن چکا ہے ۔ ہزاروں نوجوان کشمیریوں کو راتوں کے اندھیرے میں گرفتار کرکے مقبوضہ کشمیر سے باہر بھارت کی دُوردراز جیلوں میں بھجوایا جارہا ہے ۔ خبریں آرہی ہیں کہ کشمیریوں کو جیلوں میں ٹھونسنے اور اُن کی آوازیں دبانے کیلئے بھارتی علاقوں میں ”حراستی مراکز” (Concentration Camps) بھی بنائے جا رہے ہیں(ایسے حراستی مراکز جرمنی کے ہٹلر نے یہودیوں کو سزائیں دینے کیلئے بنائے تھے )اس کی باز گشت امریکہ تک بھی پہنچی ہے ؛ چنانچہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی حکومت کی جانب سے بڑے پیمانے پر حراستی مراکز قائم کرنے کے منصوبوں نے امریکی ہاؤس آف ریپرزینٹیٹو (کانگریس) کی واحد بھارتی نژاد امریکی قانون ساز پرامیلا جیاپال کو سخت تشویش میں مبتلا کردیا۔ پرامیلا نے اپنے ایک ٹویٹ میں لکھا ہے:” ‘بھارتی حکومت کی جانب سے 2 ہزار کشمیریوں کو حراست میں لیے جانے کی خبروں سے سخت پریشان ہوں جبکہ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ حکومت کا مسلمانوں کے لیے بڑے پیمانے پر حراستی مراکز بنانے کا منصوبہ ہے۔

کشمیر میں صورتحال خاصی سنگین ہے جہاں ہزاروں شہری دنیا سے کٹ کر اور کسی الزام کے بغیر قید ہیں ۔اختلافِ رائے کو دبانے کے لیے خوف اور حد سے زیادہ حب الوطنی بھارت میں بھی اسی طرح نقصان دہ ہے جس طرح امریکا میں۔جمہوریت میں شفافیت اور آزادی اظہار رائے درکار ہوتی ہے۔ چاہے صورتحال کتنی ہی پیچیدہ کیوں نہ ہو، یہ چیزیں انتہائی اہم ہیں۔”ظلم کی بات یہ بھی ہے کہ مسلمان کشمیری خواتین کو بھی بھارتی درندے فوجی گھسیٹتے ہُوئے اغوا کررہے ہیں ۔ کشمیر کے حریت پسند اور علیحدگی پسند لیڈرز تو گرفتار اور نظر بند ہیں ہی، وہ کشمیری لیڈرز بھی حراست میں ہیں جو مدتوں سے کشمیریوں سے غداری کرکے بھارت اور دہلی کا جھنڈا لہراتے رہے ہیں ۔ اب یہ سب پچھتا رہے ہیں کہ وہ پلیکھے میں مارے گئے ۔ ہمارا سلام اور سیلوٹ ہے مقبوضہ کشمیر کے سارے باسیوں کو جنہوں نے جبرو استحصال کے ستمرانہ بھارتی ہتھکنڈوں کے باوجود بھارت کے سامنے سرنڈر نہیں کیا ہے اور پوری تندہی اور توانائی کے ساتھ ڈٹے ہُوئے ہیں ۔ یہ جرأت و استقلال کی ایک ششدر انگیز داستان ہے ۔بھارت نے سوچا تھا کہ اُس نے کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والی اپنی دونوں آئینی شقوں (پنتیس اے اور تین سو ستر) مٹا بھی ڈالیں تو کشمیری خاموش رہیں گے ۔ ایسی بھارتی توقع مگر پوری نہیں ہُوئی ہے اور اِسی نے بھارتی اسٹیبلشمنٹ کو پریشان کررکھا ہے ۔ سچ یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی روز بروز بگڑتی صورتحال سے جنوبی ایشیا کا امن بربادی کے کنارے تک آ پہنچا ہے ۔

پاکستان اور بھارت اپنے اپنے جوہری ہتھیاروں کے ساتھ آمنے سامنے کھڑے ہیں ، اگرچہ پاکستان کی پالیسی مکالمہ اور امن ہے لیکن بھارت نہ مکالمے کی میز پر بیٹھنے کیلئے تیار ہے اور نہ ہی امن کا پرچم تھامنے پرتیار ۔ ساری دُنیا تشویش میں مبتلا ہے ۔ اِسی لئے ممتاز امرکی تھنک ٹینک” جیو پولیٹیکل انٹیلی جنس اینڈ اسٹریٹ فورم” نے بھی خبردار کیا ہے کہ تنازع کشمیر سے پاک بھارت ایٹمی جنگ کے خطرات بڑھ گئے ہیں ۔اور اگر یہ نوبت آئی تو بقول شیخ رشید، بھارت میں نہ گھنٹیاں بجیں گی نہ گھاس اُگے گی ۔ اس ہیجان خیز ماحول میں مقبوضہ کشمیر کے متفقہ بزرگ اور حریت پسند رہنما سید علی گیلانی نے پاکستان اور مسلم اُمہ کے نام ایک خط بھی لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اب جبکہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو دُنیا کا سب سے بڑا قید خانہ بنا دیا ہے ، لازم ہے کہ پاکستان اور مسلم اُمہ مجبور و مظلوم کشمیریوں کی دستگیری کیلئے فوری امداد کرے ۔ پاکستان نے تو اپنے کشمیری بھائیوں ، بہنوں اور بیٹیوں کی مدد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے لیکن مسلم اُمہ کی اجتماعی خاموشی خاصی مجرمانہ ہے ۔ چند ایک ہی مسلمان ممالک نے کشمیر کے حق میں پاکستان کی ہمنوائی کی ہے ۔ لیکن ان حالات میں بھی کشمیری دلیرانہ اور سرفروشانہ انداز میں بھارتی بالادستی کے خلاف بروئے جنگ ہیں ۔ وہ تو صاف لفظوں میں اعلان کررہے ہیں:بھارت ہمیں مارنے کے لئے تیار ہے تو ہم غیرت کی موت مرنے اور اپنے حق کیلئے جنگ کیلئے تیار ہیں ۔ بات بھی درست ہے ۔ مومن مسلمان کی سب سے بڑی پہچان ہی یہ ہے کہ وہ کفر کی بالادستی کے مقابلے میں عزت کی موت کو زندگی پر ترجیح دیتا ہے ۔ اکبر الہ آبادی نے اِسی جذبے کو ایک شعر کی شکل میں یوں ادا کیا ہے :

اکبر نے سُنا ہے اہلِ غیرت سے یہی
جینا ذلّت سے ہو تو مرنا اچھا!!

حقیقت یہ ہے کہ کشمیریوں نے غاصب اور قابض بھارتیوں کے ہاتھوں ذلت سے موت کو گلے لگانے سے انکار کر دیا ہے ۔ آزادی کی جدوجہد میں یہ بڑی ہی بھاری قیمت ہے جو انہیں ادا کرنی پڑ رہی ہے ۔ ہمیں یقینِ کامل ہے کہ اللہ کریم کشمیریوں کی جدو جہد ثمر آور فرمائے گا۔ کشمیری اللہ کے فضل سے اکیلے اور تنہا نہیں ہیں ۔ کوئی اور مسلمان ملک ساتھ دے نہ دے، پاکستان کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہے ۔ یہی بات وزیر اعظم جناب عمران خان نے 26اگست کے اپنے قومی خطاب میں کہی ہے ۔ یہ خطاب پہلے کردینا چاہئے تھا کہ اس دوران بھارتی وزیر اعظم دو بار اپنی قوم سے کشمیر ہی کے مسئلے پر خطاب کر چکے ہیں اور ہذیان بک چکے ہیں ۔دیر آئید درست آئید کے مصداق وزیر اعظم عمران خان نے بہرحال آتش فشاں بنے مسئلہ کشمیر کے موضوع پر قوم سے دل کی بات کہہ دی ہے ۔ تقریباً نصف گھنٹے کو محیط یہ خطاب اپنی معنویت اور اخلاص میں شاندار کہا جانا چاہئے ۔

وزیر اعظم نے اُمید کا اظہار کیا ہے کہ اگرچہ عالمِ اسلام کے بعض ممالک اپنی کچھ مجبوریوں کی بنا پر ہمارے ساتھ کھڑے نہیں ہیں لیکن جلد ہی اسلامی دُنیا ہمارے ساتھ کھڑی ہو گی ، اسلئے کہ مَیں بذاتِ خود کشمیر کا ساری دُنیا میں سفیر بن چکا ہوں اور مَیں اپنی نجی حیثیت میں بھی دُنیا کو اور عالمِ اسلام کے حکمرانوں کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی زیادتیوں اور مظالم سے آگاہ کروں گا۔ ہمیں اُمید رکھنی چاہئے کہ ہمارے وزیراعظم کی یہ ممکنہ کوششیں کامیابیوں سے ہمکنار ثابت ہوں گی ۔یہ مگر آسان اور سہل کام نہیں ہے ۔ اس کیلئے شدید قسم کی سنجیدگی اور کمٹمنٹ کی ضرورت ہے ۔ عالمِ اسلام کے حکمرانوں کی کشمیریوں بارے وزیر اعظم نے بین السطور اسلئے شکائت کی ہے کہ جس وقت عمران خان قوم سے تازہ خطاب کررہے تھے ، اُس سے ٹھیک دو دن پہلے عالمِ اسلام کے دو بڑے خلیجی ملک ( متحدہ عرب امارات اور بحرین) ظالم نریندر مودی کو اپنے سب سے بڑے سویلین ایوارڈوں سے نواز رہے تھے اور بھارت کے ساتھ تقریباً100ارب ڈالر کی بزنس ڈِیل پر دستخط کررہے تھے ۔ ظاہر ہے اس سے پاکستانیوں اور کشمیریوں میں بددلی اور مایوسی تو پھیلے گی ہی ۔ اسی لئے وزیر اعظم نے بھی کہا ہے کہ اگر آج یہ مسلمان حکمران مسئلہ کشمیر پر ہمارے ساتھ نہیں ہیں تو کل ہمارے ساتھ ہوں گے ۔ اس سلسلے میں اُنہوں نے بوسنیا کی مثال دی کہ جب بوسنیا کے مسلمانوں پر سرب درندے مظالم ڈھا رہے تھے، کوئی مسلمان ملک بوسنیا کے ساتھ نہیں تھا لیکن رفتہ رفتہ فضا تیار ہوتی گئی اور بوسنیا کے موقف کو حمائیت ملتی گئی ۔ حتیٰ کہ عالمی اعانت اور حمائت سے بوسنیا کو آزادی مل گئی ۔

وزیر اعظم کی یہ مثال بالکل درست اور بروقت ہے ، لیکن معاف کیجئے اس مثال کو کشمیریوں کی جدوجہد پر منطبق نہیںکیا جا سکتا ۔ کشمیری تو بیچارے پچھلے 70سالوں سے نہیں بلکہ 1935ء سے اپنی آزادی کیلئے اپنا خون پیش کرتے آ رہے ہیں ۔ہاں وزیر اعظم صاحب نے مشرقی تیمور کی مثال مناسب دی ہے کہ اگر مشرقی تیمور کے مسیحیوں کو اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں انڈونیشیا سے آزادی مل سکتی ہے تو اقوامِ متحدہ کشمیریوں کو بھارت کے استبداد اور ظلم سے نجات دلا کر آزادی دلانے میں معاونت کیوں نہیں کررہا۔ اس ضمن میں سچ کہا ہے جناب وزیر اعظم نے کہ یو این او ہمیشہ طاقتوروں کا ساتھ دیتی آئی ہے لیکن اب اُسے اپنا وطیرہ بدلنا ہوگا۔ہر جمعہ کو مقبوضہ کشمیر کے حقوق کے تحفظ کیلئے پاکستانیوں کو نصف گھنٹے کیلئے احتجاج کرنے کی وزیر اعظم کی تجویز بھی خوب ہے ۔ سوال مگر یہ ہے کہ خود وزیر اعظم اور اُن کے حکومتی ساتھی اس تجویز پر کتنا، کہاں تک اور کسقدر مسلسل عمل کریں گے؟ عوام تو اس سلسلے میں حکمرانوں کا طریقہ اور وطیرہ ملاحظہ کریں گے اور پھر قدم آگے بڑھائیں گے۔

وزیر اعظم عمران خان کے قوم سے تازہ خطاب کے بارے میں عوامی ردِ عمل ملا جلا رہا۔ کسی نے کہا کہ وزیر اعظم صاحب کو مقبوضہ کشمیریوں بارے جتنا مضبوط لہجہ اپنانا چاہئے تھا، وہ مفقود رہا ۔

کسی نے کہا کہ وزیر اعظم کا یہ عزم قابلِ تحسین ہے کہ وہ 26ستمبر کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھی کشمیر کا مسئلہ پوری توانائی سے اٹھائیں گے اور وہاں آئے عالمی لیڈروں سے بات چیت کریں گے ۔ اللہ کرے ایسا ہی ہو لیکن واضح رہنا چاہئے کہ جس روز عمران خان قوم سے خطاب کررہے تھے، اُسی روز جی سیون کے اجلاس میں نریندر مودی امریکی صدر سے ملاقات کے دوران یہ کہہ رہے تھے کہ بھارت مسئلہ کشمیر پر کسی تیسرے فریق کی ثالثی قبول نہیں کرے گا۔ مطلب یہ ہے کہ بھارت کا پرنالہ وہیں کاو ہیں ہے اور اُس نے ایک بار پھر امریکی ثالثی مسترد کر دی ہے ۔ کشمیر کے معاملے پربھارت کی اس ڈھٹائی پر پی ٹی آئی کی حکومت اور عمران خان کو نئے سرے سے اپنی اسٹریٹجی ترتیب دینا ہوگی۔

نئے سرے سے اپنی خارجہ پالیسی کی بساط بچھانا ہوگی ۔مقبوضہ کشمیر پر پی ٹی آئی کی پالیسی ہے کیا، اس کی ایک جھلک تو ہمیں 26اگست کو وزیر اعظم جناب عمران خان کے قوم سے کئے گئے خطاب سے مل ہی گئی ہے لیکن ایک جھلک ہمیں عمران خان کے وزیر داخلہ بریگیڈئر(ر) اعجاز شاہ کے اُس انٹرویو میں بھی ملتی ہے جو اُنہوں نے حال ہی میں ایک نجی ٹی وی کو دیا ہے ۔اس انٹرویو میں اعجاز شاہ نے جہاں جرأت سے یہ کہا ہے کہ نواز شریف اگر (قوم کی لُوٹی گئی) آدھی رقم بھی واپس کر دیں تو مَیں اُن کی ضمانت لینے پر تیار ہُوں، وہاں اُنہوں نے مقبوضہ کشمیر کی آتش فشاں صورتحال کا بھی تذکرہ کیا ۔

کشمیر کے معاملے پر تذکرہ کرتے ہوئے وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے کہا :” اگر میں تاریخ کے ایک طالبعلم کی حیثیت میں تجزیہ کروں تو کہوں گا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کشمیر کی قانونی حیثیت ختم کرنے سے قبل ہی شکست کھاگئے ہیں۔ مودی نے یہ قدم اٹھا کر قائد اعظم محمد علی جناح کے بیانیے کو درست ثابت کردیا جبکہ شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کی نظم کے مطابق ‘سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا’ کی اس سیکولرزم کی دھجیاں بھی اڑادیں۔ مودی نے سیکیولر بھارت کے تابوت میں آخری کیل بھی ٹھونک دی۔ دنیا میں کوئی بھی مسئلہ آج تک طاقت کے ذریعے حل نہیں ہوا۔ جو بھی مسائل حل ہوئے ہیں ، مذاکرات کی میز پر ہی حل ہوئے ہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ مقبوضہ وادی سے کرفیو ختم ہونے کے بعد لوگوں کا رد عمل آئے گا لیکن ایسی اطلاعات ہیں کہ مقبوضہ وادی میں احتجاج شروع ہوچکا ہے۔پاکستان نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد فوری رد عمل دیتے ہوئے عالمی طاقتوں سے رابطے کیے اور مسئلہ کشمیر کو دنیا میں پہنچایا جس کا تمام تر سہرا وزیراعظم اور وزیر خارجہ کو جاتا ہے۔

اب وہ وقت نہیں جب جنگیں فوجیں لڑا کرتی تھیں، اب جنگیں قومیں لڑا کرتی ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے کشمیر کے معاملے پر جو اقدامات کئے ہیں ان کی وجہ سے بھارت دنیا میں تنہا ہوگیا ہے، سلامتی کونسل کے اجلاس میں کشمیر کے مسئلے پر بات چیت ہونا ہی پاکستان کی بڑی کامیابی ہے اور اس سے یہ بات سامنے آئی کہ یہ کشمیر اب عالمی مسئلہ بن چکا ہے۔پہلے ہمیں دنیا کو بتانا پڑے گا کہ انہوں نے کیا کیا ہے اور ہم نے کیا کیا ہے۔ پلوامہ (مقبوضہ کشمیر) حملے کے بعد پاکستانی موقف پر اندرونی طور پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا لیکن عالمی سطح پر پاکستان کو دہشت گرد ریاست کہنے کے بھارتی پروپیگنڈیے میں کافی حد تک تبدیلی آئی۔ کشمیر کی بگڑتی صورتحال کے موقع پر بھی پاکستان دنیا کو یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ پاکستان ایک ذمہ دار ملک جبکہ بھارت ایک دہشت گرد ملک ہے۔

‘اِدھر کا کشمیر اِدھر اور اُدھر کا کشمیر اُدھر’ کا کوئی تصور نہیں ہے، یہ ہماری شہ رگ ہے، ہمیں اس مسئلے کو پر امن طریقے سے حل کرنا ہے۔”23اگست 2019ء کومتحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی جانب سے کشمیر کے معاملے پر بیان اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو اعلیٰ اماراتی حکومتی اعزاز ( آرڈر آف زاید) سے نوازے جانے سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے اعجاز شاہ نے کہا :” یہ ُان کی اپنی پالیسی ہے جس پر میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ چاہے یو اے ای کے حکمران کشمیر کے ساتھ ہوں یا نہ ہوں لیکن وہاں کے عوام کشمیری عوام کے ساتھ ہیں۔”ہم سمجھتے ہیں کہ وزیر داخلہ نے کشمیر بارے جن خیالات کا اظہار کیا ہے ، وہ دراصل وزیر اعظم عمران خان کی وضع کردہ پالیسی اور آہنگ ہی کی باز گشت ہے ۔ یہ مستحسن بات ہے کہ وزیر داخلہ اپنے چیف ایگزیکٹو کی بولی بول رہے ہیں ۔ یوں تضاد نہیں اُبھررہا اور نہ مخالفین کو انگلی اٹھانے کا موقع مل رہا ہے ۔اتحاد کی اس شکل سے دشمنانِ پاکستان کو ایک واضح پیغام پہنچے گا۔ اور یہ امر بھی باعثِ اطمینان ہے کہ جمعہ کے روز (30اگست) پوری پاکستانی قوم نے وزیر اعظم کی اپیل پر کشمیریوں سے یکجہتی کا نئے انداز سے اظہار کیا ہے ، یوں کہ نمازِ جمعہ سے قبل بارہ اور ساڑھے بارہ بجے کے درمیان نصف گھنٹے کیلئے پاکستان کے 22کروڑ عوام نے کشمیری بھائیوں کے ساتھ جینے اور ساتھ مرنے کا ایمان افروز مظاہرہ کیا ہے ۔ یہ مظاہرہ ”کشمیر بنے گا پاکستان ” کی عملی تصویر بھی تھااور ”کشمیر آور” کے ساتھ ہم آہنگی بھی ۔ افواجِ پاکستان نے بھی الحمد للہ اس ”کشمیر آور” میں یوں حصہ ڈالا ہے کہ دوپہر بارہ بجے پورے ملک میں سائرن بجائے گئے اور پاکستان کا قومی اور کشمیر کے ترانہ،دونوں ساتھ ساتھ اور ہم آہنگ ہو کر بجائے گئے ۔

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے بھی فوج کی اس دلکش شرکت کی تصدیق کی ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستانیوں کا یہ پُرعزم مظاہرہ ہمارے دشمن بھارت تک بھی بھرپور اسلوب میں پیغام بن کر پہنچ گیا ہوگا۔ اس پیغام کا ایک مطلب تو نہائت واضح ہے کہ پاکستان کسی بھی صورت میں مقبوضہ کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ نہیں بننے دے گا۔ حیرت کی بات مگر یہ دیکھی گئی ہے کہ کشمیر کی تازہ ترین صورتحال کے پیشِ نظر پاکستان کی نوبل انعام یافتہ نوجوان خاتون ملالہ یوسفزئی نے ابھی تک مظلوم کشمیریوں کے حق میں اور ظالم بھارت کے خلاف ایک بھی لفظ زبان سے نہیں نکالا ہے ۔ ملالہ صاحبہ کے اس افسوسناک کردار نے پاکستانیوں کی نظر میں اُنہیں مزید مشکوک بنا دیا ہے ۔ اُنہیں امن کا نوبل انعام ملا تھا لیکن دکھ کی بات یہ ہے کہ اُنہیں مقبوضہ کشمیر میں بدامنی پیدا کرنے والی واحد قوت بھارت کی زیادتیاں نظر نہیں آ رہی ہیں ۔ اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی ہمارے مشاہدے میں آئی ہے کہ جب سے مقبوضہ کشمیر میں نئے انداز سے بھارت نے مظالم کی نئی اور خونی داستانیں رقم کرنا شروع کی ہیں ، نون لیگ، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی ایف کی قیادت کو جس شدت اور حدت سے ان مظالم کی مذمت کرنی چاہئے تھی ، وہ جذبہ مفقود نظر آ رہا ہے ۔

افسوس کی بات یہ بھی ہے کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے محترمہ مریم نواز شریف کی گرفتاری پر تو بہت تڑپ کر بیان داغا تھا لیکن وہ بھارتیوں کے ہاتھوں مقبوضہ کشمیر کی ساری حریت پسند قیادت اور ہزاروں معصوم کشمیری نوجوانوں کی گرفتاری پر مہر بہ لب ہیں ۔ اس خاموشی کو ہم بے حسی بھی کہیں گے اور مجرمانہ اقدام بھی ۔ پوری پاکستانی قوم اس ناپسندیدہ عمل پر میاں شہباز شریف، بلاول بھٹو ، آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمن سے سخت ناراض اور نالاں ہے ۔ یہ بات یاد رکھ لی جائے!!


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.