Latest news

جنابِ وزیر اعظم کی خواہش : ہر خواہش پہ دَم نکلے !

ماشاء اللہ ، وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان کا یہ دَورئہ چین بھی کامیابی اور کامرانی سے ہمکنار ہُوا ہے۔ وہ آٹھ تا نو اکتوبر2019ء کو دوروزہ سرکاری دَورے پر چین کے دارالحکومت، بیجنگ، میں تھے ۔ ابھی وہ امریکہ کے سات روزہ دَورے سے واپس آئے ہی تھے کہ چین کے دَورے پر روانہ ہو گئے ۔ نیویارک میں عمران خان کے گزرے روز و شب سے بلا شبہ پاکستان کو مسئلہ کشمیر کے حوالے سے کئی فائدے پہنچے ہیں ۔ یہ سات روزہ ٹور خالصتاً مسئلہ کشمیر کو اقوامِ عالم کے سامنے رکھنے ، مظلوم کشمیریوں کے مسائل کے حوالے سے دُنیا کی بند آنکھیں کھولنے اور بھارتی مظالم کی قلعی کھولنے کے بلند مقاصد پر مشتمل تھا ۔ عمران خان سابقہ حکمرانوں کی طرح نیویارک میں برگر کھاتے نہیں پائے گئے بلکہ وہ تعمیری کاموں میں مصروف رہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کے خطاب اور انٹرویوز سے آج کئی امریکی سینیٹرز اور مقتدرین اور اہلِ دانش مقبوضہ کشمیر کے حق میں آوازیں بلند کرتے پائے جارہے ہیں ۔

ان سینیٹرز میں لنڈسے گراہم، مارگریٹ ہاسن اورکرس وین ہولین سرِ فہرست ہیں ۔ ان امریکی سینیٹروں نے وزیر اعظم پاکستان اور آرمی چیف سے بھی حال ہی میں ملاقات کی ہے ۔امریکی ریاست ( میری لینڈ) سے منتخب ہونے والے سینیٹر کرس وین ہولین نے 6اکتوبر2019ء کو سرینگر میں خود داخل ہوکر حالات کا جائزہ لینے کی کوشش کی تو بھارتی حکومت نے اُنہیں مقبوضہ کشمیر میں داخل ہونے سے روک دیا ۔اس اقدام سے جہاں بھارت کی عالمی سطح پر خاصی بے عزتی ہُوئی ہے، وہاں یہ پاکستان کی سفارتی کامیابی بھی ہے ۔

امریکی سینیٹر کو مقبوضہ کشمیر میں داخل نہ ہونے سے کئی باتیں سامنے آئی ہیں:(١) یہ کہ عمران خان نے 27ستمبر کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کرتے ہُوئے بھارت بارے جو کچھ کہا تھا، سچ ثابت ہو گیا ہے (٢) یہ کہ بھارت کا یہ کہنا غلط ہے کہ مسئلہ کشمیر اُس کا اندرونی معاملہ ہے (٣) یہ کہ کشمیر کے حالات بارے بھارت ساری دُنیا سے جھوٹ بول رہا ہے ۔ اور اگر وہ اپنے فیصلے میں سچا ہے تو پھر سینیٹر کرس وین ہولین ایسے معتدل شخص کو سرینگر جانے سے کیوں روکا گیا ؟ ۔۔۔

سچی بات تو یہ ہے کہ عمران خان کی کامیاب ڈپلومیسی سے ملائشیا اور ترکی نے مسئلہ کشمیر بارے جو موقف اختیار کیا ہے ، اس سے پاکستان کو شاندار کامیابی ملی ہے ۔ یہاں تک کہ مقبوضہ کشمیر کے باسیوں پر ڈھائے جانے والے بھارتی مظالم کے پس منظر میں ملائشین وزیر اعظم جناب مہاتیر محمد کے دئیے گئے بیان سے بھارت خاصا چیں بہ جبیں ہُوا ہے ۔ بھارت نے لابنگ کرتے ہُوئے مہاتیر محمد پر دباؤ بھی ڈالا ہے کہ وہ اپنا یہ مبینہ بیان واپس لے لیں لیکن مہاتیر صاحب نے صاف انکار کر دیا ہے ۔ یہ انکار بھی دراصل پاکستان اور وزیر اعظم عمران خان کی سفارتی کامیابی ہے ۔ اِن حالات میں وزیر اعظم جناب عمران خان نے چین کا تازہ دَورہ کیا ہے ۔ اُن کے ساتھ سپہ سالارِ پاکستان جنرل قمر جاوید باجوہ بھی تھے ۔

دونوں صاحبان کا ساتھ ساتھ چین پدھارنا درحقیقت افواجِ پاکستان اور سویلین حکومت کا ایک پیج پر ہونے کا ایک اور شاندار اور مستحسن ثبوت ہے ۔جنرل باجوہ کی چینی فوجی قیادت سے ملاقاتیں ہُوئی ہیں اور مبینہ طور پر چینی فوجی قیادت کی طرف سے کشمیر پر پاکستانی موقف کی حمائت کی گئی ہے ۔ قیامِ امن کی خاطر اور دہشت گردی کے خلاف افواجِ پاکستان نے جو شاندار کردار ادا کیا ہے ، چینی فوجی قائدین نے اس پر بھی جنرل باجوہ کی تحسین کی ہے ۔یہ تحسین و تعریف پاکستان کا اصل سرمایہ ہے ۔وزیر اعظم عمران خان نے بھی اعلیٰ چینی قیادت سے ملاقاتیں کی ہیں ۔

وہ چینی ہم منصب سے بھی ملے ہیں اور چینی صدر سے بھی ۔چین کے بڑے بڑے تجارتی و صنعتی اداروں کے سربراہوں نے بھی اُن سے چینی دارالحکومت میں ملاقاتیں کی ہیں ۔یہ ملاقاتیں آنے والے ایام میں پاکستان میں مزید چینی سرمایہ کاری کی شکل میں ثمر بن کر سامنے آئیں گی ۔ انشاء اللہ ۔ پاکستان کو اس وقت غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری کی اشد ضرورت ہے ۔

جناب عمران خان کا چین کے اس دورے میں بھی کرپشن کے خلاف بیانئے میں کمی نہیں آئی ۔ وہ چین پہنچ کر بھی کرپشن کے خلاف گرجتے برستے پائے گئے اور ساتھ ہی ساتھ اپنی مجبوریاں بھی بیان کرتے رہے ۔ پاکستان کے کرپٹ افراد کے خلاف کارروائی میں وہ چین کو ماڈل کہتے ہیں ۔ اس دَورے میں اُنہوں نے کہا:” کرپشن ملکوں کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔ ہم کرپشن ختم کرنے کے لئے چین سے سیکھنا چاہتے ہیں ۔

چین نے کرپشن کے خاتمے میں وزیر عہدہ کے 400افراد کو جیلوں میں ڈالا ۔ کاش، مَیں بھی 500 ( کرپٹ)افراد کو جیل میں ڈال سکتا۔ ہم بدعنوان افراد کے خلاف ایسی ہی کارروائی کرنا چاہتے ہیں لیکن ہمارا نظام سست ہے ۔”وزیر اعظم صاحب کی یہ خواہش تو خوب ہے لیکن کیا اُن کی ہر خواہش پوری ہو بھی سکتی ہے ؟

اُردو زبان کے ایک نہائت بلندپایہ شاعر اسداللہ خان غالب نے کبھی کہا تھا:
ہزاروں خوہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دَم نکلے
بہت نکلے مرے ارماںلیکن پھر بھی کم نکلے !!

وزیر اعظم بننے کی سب سے بڑی خواہش تو عمران خان پوری کر چکے ہیں ۔اب وہ ملک کے بااختیارچیف ایگزیکٹو ہیں ۔ پانچ سو کی تعداد میں کرپٹ افراد کو جیلوں میں ڈالتے ہُوئے اُنہیں کسی رکاوٹ کا اظہار نہیں کرنا چاہئے ۔ اُن کی راہ میں ”نظام کی سستی” حائل ہورہی ہے تو اسے فوری طور پر دُور کرنا اُن کے اولین فرائض میں شامل ہونا چاہئے تھا۔ وہ اقتدار اور اختیار میں ہوتے ہُوئے اس مبینہ سستی کو چستی میں تبدیل کرسکتے تھے ۔

ایسا مگر ہو نہیں سکا ہے ۔ پاکستان کے ایک سابق آمر جنرل ضیاء الحق بھی ملک و قوم کی گردن پر گیارہ سال سوار رہنے کے بعد جب عوام کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہو گئے تھے تو اُنہوں نے بھی آخر میں ملک کے ”سست نظام” ہی کو موردِ الزام ٹھہرایا تھا ۔ جنرل ضیاء تو مگر ایک غیر منتخب حاکم تھے ۔ ملک و قوم پر زبردستی مسلّط ہُوئے تھے ۔ وہ عوام کے نمائندہ نہیں تھے ۔ عوام اور سیاستدانوں نے اگر اُن سے تعاون نہیں کیا تھا تو بجا بھی تھا۔ عمران خان تو ماشاء اللہ ملک اور قوم کے منتخب حکمران ہیں ۔ وہ عوام کے کروڑوں ووٹ لے کر حاکم بنے ہیں ۔

اُنہیں نظام کی سستی کا واویلا نہیں کرنا چاہئے ۔ بس کرپٹ افراد اور ملک کی کالی بھیڑوں پر مضبوطی سے ہاتھ ڈالنا چاہئے ۔ اور جو مبینہ کرپٹ افراد جیلوں میں ٹھونسے جا چکے ہیں ، اُن سے اب تک لُوٹی دولت نکال لینی چاہئے تھی ۔

ایسا مگر کچھ بھی نہیں ہو سکا ہے ۔ نون لیگ اور پیپلز پارٹی کے جن متعدد افراد کو کرپشن کے متعدد الزامات کے تحت حراست میں لیا گیا اور جنہیں عدالت کی طرف سے سزائیں بھی مل چکی ہیں ، اُن سے اب تک ایک دھیلا بھی وصول نہیں کیا جا سکا ہے ۔ دعوے تو یہ تھے کہ امریکہ ، برطانیہ اور دبئی میں ان ملزمان اور مجرمان نے اربوں ڈالر چھپا رکھے ہیں ۔ عمران خان کی حکومت کو14ماہ گزر چکے ہیں لیکن عمران خان ان مبینہ ملزم افراد سے ایک پائی بھی نہیں نکلوا سکے ہیں ۔ ہم اسے کیا نام دیں؟ اب ملک کے 22کروڑ عوام بجا طور پر پی ٹی آئی کی حکومت سے استفسار کررہے ہیں کہ لُوٹی دولت ابھی تک برآمد کیوں نہیں کی جا سکی ہے تو خان صاحب اور اُن کے حکومتی حامیان عوام سے ناراض ہوتے ہیں ۔ ہمیں صبرکرنے کی تلقین کی جاتی ہے ۔ افسوسناک حیرانی تو یہ ہے کہ خانصاحب کی حکومت اپنے دعووں اور وعدوں کے مطابق ملک میں کوئی مثبت تبدیلی بھی نہیں لا سکے ۔

عوام جب اس تبدیلی بارے پوچھتے ہیں تو خود وزیر اعظم صاحب ناراض ہوتے ہیں اور غصے میں عوام کو طعن کرتے ہُوئے فرماتے ہیں:”عوام بے صبرے ہیں ۔ تیرہ مہینوں کے بعد ہی مجھ سے پوچھ رہے ہیں کہ کہاں ہے تبدیلی ؟ ”۔ محترم وزیر اعظم صاحب پر واضح رہنا چاہئے کہ عوام نے اُن کے اس لہجے اور اسلوب کو پسند نہیں کیا ہے ۔ کیا آج تک کسی پاکستان کے حکمران نے اس لہجے اور اسلوب میں عوام کو ”بے صبرے” قرار دیا ہے ؟ اور کیا خان صاحب کو یہ اندازِ گفتگو زیب دیتا ہے؟ اور کیا مسائل ، مصائب ، کمرشکن مہنگائی، شدید بے روزگاری اور ہر روز بڑھتی منہ زور گرانی پر عوام بے چارے لب کشائی بھی نہ کریں ؟ کیا وہ عوام کا حقِ احتجاج بھی سلب کر لینا چاہتے ہیں؟ کیا پاکستان کے 22کروڑ عوام کو محض چند ایک سرکاری و نیم سرکاری لنگر خانوں کی فراہم کردہ روٹی سے مطمئن کیا جا سکتا ہے ؟ اگر لنگر کھولنا ہی حکومت کا مقصود اور مطمحِ نظر ہے تو یہ کام تو ملک بھر کے ہر علاقے میں موجود مزار شریف بھی پہلے ہی سے بحسن و خوبی کررہے ہیں ۔ کیا ہمارے وزیر اعظم صاحب لاہور کے حضور داتا گنج بخش ، اسلام آباد کے امام بری ، ملتان کے بہاء الدین زکریا، کراچی کے عبداللہ شاہ غازی ایسے مزاروں کے جاری لنگر خانوں بارے بھول گئے جو صدیوں سے بھوکے عوام کا تینوں وقت پیٹ بھررہے ہیں ۔ اللہ کے فضل سے ان مزاروں کے لنگر کبھی بند نہیں ہُوئے ۔ اور اگر یہی کام حکومت بھی کرنا چاہتی ہے تو پھر کار سرکار کسے کہتے ہیں؟ چنانچہ امیر جماعتِ اسلامی سراج الحق ٹھیک ہی تو کہتے ہیں کہ پاکستان کو لنگر خانوں کی نہیں ، کارخانوں کی ضرورت ہے ۔

عوام کو بھیک کی روٹی نہیں ، اپنی محنت کی کمائی گئی روٹی چاہئے ۔پاکستان سمیت کسی بھی ملک کی معیشت مرغیاں اور کٹّے پالنے سے آگے نہیں بڑھتی ۔ اور آج ہماری معیشت بند گلی میں آ کر پھنس چکی ہے اور حکومت لوگوں کو طعنے دے رہی ہے کہ ”عوام بے صبرے ہیں۔”عوام کا پیمانہ صبر واقعی لبریز ہو چکا ہے ۔ بین لاقوامی ادارے Consumer Confidence Surveyکی تازہ رپورٹ میں تو پاکستانی معیشت بارے اور بھی ہوشربا انکشافات کئے گئے ہیں ۔اس رپورٹ کے مطابق:”رواں لمحوں میں پاکستان کا نمبر ایک مسئلہ بے روزگاری کا عفریت ہے جس نے ملک کے ہر شخص کو پریشان کررکھا ہے ۔ تعلیم یافتہ نوجوان خاص طور پر پریشان حال ہیں ۔دہشت گردی پاکستان کا چھٹا اور کرپشن نواں بڑا مسئلہ ہے ۔ پاکستان کے 79فیصد عوام سمجھتے ہیں کہ ملک غلط سمت کی جانب بڑھ رہا ہے جبکہ صرف 21فیصد نے یہ رائے دی ہے کہ ملک صحیح سمت میں آگے بڑھ رہا ہے ۔”اس رپورٹ پر یقیناً پی ٹی آئی کی حکومت ناراضی کا اظہار کررہی ہے لیکن واقعہ یہ ہے کہ اُسے اس سروے کے مندرجات پر ٹھنڈے دل سے غور ضرور کرنا چاہئے ، خاص طور پر اس انکشاف پر کہ ” پاکستان کے 79فیصد عوام سمجھتے ہیں کہ یہ حکومت غلط سمت کی جانب بڑھ رہی ہے ۔”یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے ۔ جاننا چاہئے کہ آخر صرف 14مہینوں ہی میں عوام کیوں خانصاحب کی حکومت کے بارے میں ایسے خیالات کے اظہار پر اُتر آئی ہے ؟ سچ تو یہ ہے کہ عوام صرف اُن وعدوں کی تکمیل چاہتے ہیں جو حکومت میں آنے سے پہلے پی ٹی آئی اور اس کے چیئرمین نے بلند آہنگی سے عوام سے کئے تھے اور ان وعدوں کی بنیاد پر نواز شریف اور آصف زرداری کی حکومتوں کو رگیدا اور مطعون کیا جاتا تھا ۔ جنابِ والا، ان وعدوں کی تکمیل کیجئے ۔ بس۔ شائد اپوزیشن بھی ان وعدوں میں حکومتی ناکامی کے کارن شیر ہورہی ہے اور حکومت کے خلاف اسلام آباد میں دھرنا دینے کے پروگرامات ترتیب دیتی نظر آ رہی ہے ۔ مولانا فضل ا لرحمن کے موعودہ دھرنے سے پہلے9اکتوبر کو اسلام آباد میں تاجروں نے یکجہتی کا اظہار کرتے ہُوئے ایف بی آر کے ہیڈ کوارٹر کے سامنے جو زبردست مظاہرہ کیا ہے ، اس پر بھی حکمرانوں کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں ۔ حیرانی اور ہٹ دھرمی کی بات یہ بھی ہے کہ حکومت اب تک تاجروں کے جائز مسائل اور مطالبات بھی پورے نہیں کر سکی ۔ نتیجہ یہ نکلا ہے کہ تاجروں کو اپنے مسائل کے حل کیلئے آرمی چیف سے رجوع کرنا پڑا ہے ۔ دُنیا بھر میں اس عمل پر ہمارا مذاق اڑایا گیا ہے ۔ کیا کسی ملک میں تاجر برادری اپنے مسائل حل کرنے کے لئے اپنے ملک کے سپہ سالار کے سامنے دکھڑے روتی دکھائی دی ہے ؟ وطنِ عزیز میں مگر ایسا ہو چکا ہے اور پچھلے ہفتے ہی ایسا ہُوا ہے ۔ ہم نے اس پر بھی پچھلے ہفتے مختصراً اظہارِ خیال کیا تھا۔ ابھی ملک کے وفاقی دارالحکومت میں تاجروں کا دھرنا ختم ہُوا ہی ہے تو اب جماعتِ اسلامی16اکتوبر کو اسلام آباد میں حکومت کے خلاف دھرنا دینے کا عندیہ دیتی نظر آ رہی ہے ۔ہم حیران ہیں کہ یہ دھرنے ملک کو کہاں لے جائیں گے ؟ ملک پہلے ہی معاشی اعتبار سے زوال کے گڑھے کے کنارے کھڑا ہے ۔

ایسے میں اپوزیشن اور تاجروں کے احتجاجی جلوس کہیں خدانخواستہ ملک ہی کا جلوس نہ نکال دیں! جماعتِ اسلامی کے بعد مولانا فضل الرحمن کی ”جے یو آئی ایف” بھی حکومت کے خلاف مورچہ زَن ہو کر اسلام آباد کا گھیراؤ کرنا چاہتی ہے ۔ اُن کے اعلانات حکومت کے کندھوں اور اعصاب پر بوجھ بن گئے ہیں ؛ چنانچہ چاہئے تو یہ تھا کہ حکومت خود صلح صفائی کیلئے اور ملک کے وسیع تر مفاد میں اپوزیشن کے پاس چل کر پہنچتی ۔ ایسا مگر اب تک نہیں ہو سکا ہے ۔ عمران خان نے اگر اسے اپنی ناک کا مسئلہ بنا رکھا ہے تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اُن کی انا ملکی مفاد سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے ؟ ہمارا خیال ہے کہ ملکی استحکام اور مفاد میں اُنہیں ”نادان” اپوزیشن ، خاص طور پر مولانا فضل الرحمن ، سے براہِ راست ملاقات کرنی چاہئے ۔ ممکن ہے اللہ کریم اس ملاقات سے درمیان کی کوئی راہ نکال دے ۔لیکن حکومت اس طرف سوچنا بھی گوارا نہیں کررہی ۔ یہ اندازِ فکر خود ملک کیلئے نہائت نقصان کا باعث بن سکتا ہے ۔ بہرحال خدا کا شکر ہے کہ مولانا فضل الرحمن نے 27اکتوبر کی بجائے اب 31اکتوبر کو اسلام آباد میں دھرنا جمانے کی بات کی ہے ۔ اُن سے پہلے ایک پریس کانفرنس میں وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ صاحب بڑے تیقن کے ساتھ کہہ رہے تھے کہ 27اکتوبر کو مولانا فضل الرحمن اسلام آباد میں داخل نہیں ہوں گے ۔

اُن کا کہا سچ ثابت ہُوا ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بریگیڈئر(ر) اعجاز شاہ صاحب کی معلومات سب سے زیادہ معتبر تھیں ۔ اس سے یار لوگوں نے یہ مطلب بھی اخذ کیا ہے کہ مولانا موصوف اندر خانے اسٹیبلشمنٹ سے ہنوز تعلقات استوار کئے ہُوئے ہیں ۔ سچ کہا جاتا ہے کہ پاکستان کی مذہبی اور سیاسی جماعتیں کسی اشارے کے بغیر حکومتِ وقت کے خلاف ایک قدم بھی نہیں اُٹھا سکتیں !!


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.