Daily Taqat

جناب شہباز شریف کی حکومت ، کمزور معیشت اور ڈالر کی اُڑان : ایک تجزیہ

وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں بنی اتحادی حکومت کو چوتھا ہفتہ گزررہا ہے’ جناب شہباز شریف کے برسر اقتدار آتے ہی ڈالر کی قیمت میں خاصی کمی دیکھنے میں آئی تھی ۔ روپیہ مستحکم ہُوا تھا ۔ چینی کی قیمتوں میں ، فی کلو، نمایاں کمی آئی ۔ اسٹاک ایکسچینج کے پوائنٹس میں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔ تاجروں کی اُمیدیں اور حوصلے بلند ہوئے تھے۔ ان مثبت اشاریوں سے ایک اُمید بندھی تھی ۔ لیکن اب پھر ہماری معیشت کی حالت دگرگوں ہوتی نظر آ رہی ہے’ امریکی ڈالر کی قیمت ، روپے کے مقابلے میں، 187روپے تک پہنچ گئی ہے ۔ ملکی خزانے میں پڑے ڈالروں کی مقدار تیزی سے کم ہو رہی ہے ۔ ہمارے نئے وزیر خزانہ ، مفتاح اسماعیل صاحب ، امریکہ کا دَورہ بھی کر آئے ہیں اور آئی ایم ایف سے بھی مل آئے ہیں ۔ اور ہمارے وزیر اعظم صاحب، جناب شہباز شریف ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے بادشاہوں سے بھی ملاقاتیں کر چکے ہیں ۔ لگتا بظاہر مگر یوں ہے کہ ان دونوں برادر اسلامی ممالک اور امریکی مالیاتی اداروں سے توقع کے مطابق مالی امداد یا مالی سہولتیں فی الحال وصول نہیں ہُوئی ہیں ۔ ہمارے اسٹاک ایکسچینج میں پھر گراوٹ دیکھنے میں آ رہی ہے ۔ آٹے کی قیمت فی تھیلہ بڑھ چکی ہے ( دس کلو کاآٹے کے تھیلے کی قیمت میں 250روپے اضافہ ہو گیا ہے اور یوں 20کلو آٹے کی پرچون قیمت 1300روپے کر دی گئی ہے ) حالانکہ گندم کی نئی فصل بھی بازار میں پہنچ چکی ہے ۔ یہ معاشی حالات پہلے سے بنائے گئے غریبوں کیلئے ہمت شکن ہیں ۔ اطلاعات ہیں کہ نئی گندم کی فصل اسمگل کی جارہی ہے ۔ اسی کی وجہ سے گندم کی عدم دستیابی اور قیمت بڑھ بھی رہی ہے ۔ وزیر اعظم جناب شہباز شریف نے اِسی لئے گندم کی اسمگلنگ روکنے کاحکم بھی دیا ہے ۔ اگر وزیر اعظم صاحب کے اس حکم پر سختی سے عمل نہ کیا گیا تو آٹا ملک بھر میں عنقا بھی ہو جائیگا اور اس کی قیمت بھی مزید بڑھ جائیگی ۔ آٹے کی اسمگلنگ گذشتہ عمران خان کی حکومت کیلئے بھی دردِ سر بنی رہی ۔ لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ شہباز شریف کی نئی حکومت عمران خان کے پے در پے جلسوں اور عمران خان کے پیروکاروں کی سیاسی یلغار کو روکنے میں بُری طرح مگن ہے ۔ اب نون لیگ نے عمران خان کے جلسوں کا توڑ کرنے کے لئے خود بھی جلسے کرنا شروع کر دئیے ہیں ۔ اس سلسلے میں 6 اور 7مئی کو نون لیگ نے فتح جنگ ( اٹک ) اور شانگلہ ہل (کے پی کے) میں بڑے جلسے کئے ہیں ۔ یہ سیاسی و انتخابی اسٹریٹجی اپنی جگہ درست تو ہو سکتی ہے لیکن حکومت کو مہنگائی پر قابو پانے کیلئے مزید محنت کرنا ہوگی ۔ ڈالر کی اونچی اُڑان ، روپے کی گراوٹ اور معیشت کی دگرگوں حالت کے دوران اب خبر آئی ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر (رضا باقر ) کو شہباز شریف کی حکومت نے ایکسٹینشن دینے سے انکار کر دیا ہے اور یوں ان صاحب کی چھٹی کروا دی گئی ہے ۔ سچی بات یہ ہے کہ سابق گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر جب سے سانپ کی طرح اس عہدے پر براجمان کئے گئے ، انہوں نے ملکی معیشت اور روپے کی قیمت کا بیڑا غرق کر دیا ۔ جناب عمران خان نے اس شخص کو اس عہدے پر مسلط کرکے ملک سے دوستی نہیں کی تھی۔ عمران حکومت کی تبدیلی کے ساتھ ہی گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر بھی تبدیل ہوگئے اور یوں بطور گورنر اسٹیٹ بینک ان کی مدتِ ملازمت میں توسیع کی تمام افواہیں بھی دم توڑ گئیں۔گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر کی رخصتی پر وفاقی وزیرِ خزانہ مفتاح اسمٰعیل نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اعلان کرتے ہوئے ان کے لیے نیک خواہشات کا اعلان کیا۔یہ خاصی حیران کن بات سمجھی گئی ۔ لیکن ایسا نہیں ہے کہ رضا باقر کے دَور کو ہم بغیر کسی تجزئیے کے چھوڑ دیں ۔سبکدوش ہونے والے گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر کا دور بہت سے معاملات میں یاد رکھا جائے گا۔ ان کے بعض فیصلوں کی وجہ سے پاکستانی معیشت کو جو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے وہ آنے والے کئی برسوں تک پاکستانی معیشت کو مستحکم نہیں ہونے دے گا۔رضا باقر طویل عرصہ بیرون ملک رہنے کے باوجود سابقہ متعدد گورنر اسٹیٹ بینک کے مقابلے میں قدرے اچھی اردو بولنے پر قدرت رکھتے تھے اور ایسے پروگرامات جہاں تمام لوگ انگریزی میں گفتگو کریں وہاں وہ اردو میں بات چیت کرکے لوگوں کے دل موہ لیتے تھے۔ وہ ابلاغ کے بھی ماہر تھے اور صحافیوں سے رسمی بات چیت سے قبل غیر رسمی انداز میں چائے پر گپ شپ کرتے تھے تاکہ ان صحافیوں کی نشاندہی کرلی جائے جو تندو تیز اور سخت سوالات کرنا چاہتے تھے۔پھر پریس کانفرنس میں ایک ایک صحافی کے سوال کا جواب دینے کے بجائے کئی سوالات کو جمع کرلیتے اور جن سوالات کا جواب نہ دینا ہوتا انہیں چھوڑ دیتے تھے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر سرگرم بعض صحافیوں کی جانب سے رضا باقر کی تعریفیں کی جارہی ہیں۔ گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر کے بہت سے اوصاف میں ایک یہ بھی تھا کہ وہ بہت خوش لباس تھے۔ ایک انٹرویو میں انہیں کوٹ پر کالر وائر لیس مائیک لگاتے ہوئے مائیک کا ایک حصہ ان کے کوٹ کی جیب میں ڈال دیا جس پر رضا باقر بہت غصہ ہوتے ہوئے فرمانے لگے کہ ‘آپ نے میرا کوٹ خراب کردیا ہے ۔’سماجی رابطے کی ویب پر رضا باقر نے بطور گورنر اسٹیٹ بینک اپنی مدت ختم ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ‘الحمدللہ، مرکزی بینک کے گورنر کے طور پر 3 سال کی مدت مکمل ہوئی۔ اللہ کی مہربانی ہے کہ اس نے مجھے اپنے ملک میں عوامی عہدے پر خدمات سرانجام دینے کا موقع دیا۔ میں نے پاکستانیوں اور خصوصاً سمندر پار پاکستانیوں کی خدمت کی۔ بطور گورنر اسٹیٹ بینک بہت قابلِ فخر اقدامات کیے جس میں کورونا وبا کے دنوں میں مالیاتی پیکیج، مقامی اور برآمدی صنعتوں میں توسیع اور نئی صنعتوں کے قیام کیلئے ٹی ای آر ایف، روزگار پے رول قرضہ، اسپتالوں کو فنانس کرنا، روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے ذریعے سمندر پار پاکستانیوں کو مقامی بینکوں سے منسلک کرنا، ڈیجیٹل ادائیگیوں کیلئے راست نظام متعارف کروانا، ڈیجیٹل بینک کیلئے طریقہ کار وضع کرنا اور لائسنس کا اجرا، خواتین کو مالیاتی صنعت تک رسائی، گھروں کی تعمیر یا خریداری کیلئے سستے اور آسان قرضے کی سہولت، اسٹیٹ بینک کو مضبوط بنانے کیلئے تین ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک کی تعیناتی کی ہے’۔گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر کی جانب سے جو بھی اقدامات گنوائے گئے ہیں، وہ سب کے سب ثانوی نوعیت کے تھے۔ اسٹیٹ بینک کا وہ قانون جو خود رضا باقر کی ٹیم نے ڈرافٹ کرکے منظور کروایا ہے اس میں اسٹیٹ بینک کے 3 مرکزی اہداف رکھے گئے ہیں۔ پہلا قیمتوں میں استحکام، دوسرا مالیاتی صنعت کا استحکام اور تیسرا معاشی ترقی۔اب ان تمام اہدف کی روشنی میں اوپر بیان کیے گئے کارناموں پر نظر ڈالی جائے تو صرف مالیاتی صنعت کو استحکام دینے کے علاوہ رضا باقر کی قیادت میں اسٹیٹ بینک اپنا پہلا اور تیسرا ہدف یعنی قیمتوں میں استحکام اور معاشی ترقی کے اہداف حاصل کرنے میں بُری طرح ناکام رہا ہے۔اسٹیٹ بینک کے قانون کے تحت مرکزی بینک کا بنیادی اور سب سے اہم کام قیمتوں میں استحکام پیدا کرنا ہے مگر رضا باقر کی قیادت میں اسٹیٹ بینک قیمتوں میں استحکام پیدا کرنے میں ناکام رہا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ڈالر کی بلند اُڑان کے مقابلے میں روپے کی قدر سے متعلق اسٹیٹ بینک کی شرح مبادلہ کی پالیسی اور مانیٹری پالیسی ایک دوسرے کے متضاد تھی۔رضا باقر نے بطور گورنر اسٹیٹ بینک عہدے کا چارج سنبھالتے ہی روپے کی شرح مبادلہ کی پالیسی کو مارکیٹ بیس کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ روپے کی قدر کا فیصلہ اب اسٹیٹ بینک یا حکومت نہیں بلکہ مارکیٹ فورسز کریں گی۔ جس کے بعد روپے کی قدر تیزی سے گری اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت قائم ہوتے وقت ایک ڈالر تقریباً 122 روپے کا تھا جو حکومت کے خاتمے کے وقت 189 روپے تک پہنچ گیا تھا۔ اس طرح روپے کی قدر میں 67 روپے کی نمایاں گراوٹ دیکھی گئی ہے۔سابقہ گورنر اسٹیٹ بینک شمشاد اختر کا کہنا تھا کہ ‘اگر آپ کی معیشت درآمدات پر انحصار کرتی ہے تو پھر وہ اشیا کے ساتھ ساتھ افراطِ زر کو بھی درآمد کرتی ہے۔ پاکستان میں روپے کی قدر جس قدر کم ہوگی ملک میں افراطِ زر میں بھی اسی قدر اضافہ ہوگا’۔اس حوالے سے ماہر معیشت اشفاق تولا کہتے ہیں کہ ‘پاکستان میں افراطِ زر کی بڑی وجہ روپے کی قدر میں مسلسل گراوٹ ہے۔ روپے کی قدر میں 10 روپے کمی سے افراطِ زر میں 1.2 فیصد اضافہ ہوتا ہے’۔اگر سادہ ترین الفاظ میں کہا جائے تو ڈالر کی اُڑان کے مقابلے میں روپے کی شرح مبادلہ سے متعلق اسٹیٹ بینک کی پالیسی ملک میں مہنگائی کا سبب بن رہی تھی مگر اس کو کنٹرول کرنے کے بجائے رضا باقر نے مانیٹری پالیسی کو سخت کرنے کا فیصلہ کیا اور بنیادی شرح سود میں اضافہ شروع کردیا۔ یوں کورونا سے پہلے بنیادی شرح سود کو 13.25 فیصد تک بڑھا دیا گیا۔ اس کی دلیل یہ دی کہ مانیٹری پالیسی سخت کرنے اور بنیادی شرح سود میں اضافے سے ملک میں مہنگائی کی شرح کم ہوگی۔ مگر ایسا نہیں ہوا کیونکہ اسٹیٹ بینک کی شرح مبادلہ پالیسی کی وجہ سے مہنگائی ہورہی تھی اور یہ مہنگائی روپے کی قدر کو مستحکم کرکے ہی محدود کی جاسکتی تھی نہ کہ بنیادی شرح سود میں اضافہ کرکے، مگر موجودہ وزیرِ خزانہ مفتاح اسمٰعیل کہتے ہیں کہ سابقہ حکومت نے روپے کی شرح مبادلہ مستحکم کرنے کے لیے مکمل طور پر مارکیٹ بیس شرح اپنانے کا دعوٰی تو کیا مگر انہوں نے مارکیٹ میں ڈالر فروخت کیے تاکہ روپے کی قدر مستحکم ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کا ہر مرکزی بینک شرح مبادلہ کو مستحکم رکھنے کے لیے مداخلت کرتا ہے۔اسٹیٹ بینک کی جانب سے بنیادی شرح سود بڑھانے اور افراطِ زر کی بلند سطح کی وجہ سے معاشی سرگرمیوں کو شدید دھچکا لگا اور خود اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2019ء اور 2020ء میں بڑی صنعتوں کی پیداوار منفی رہی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اسٹیٹ بینک اپنے تیسرے ہدف یعنی معاشی ترقی کو بھی حاصل کرنے میں ناکام رہا۔مہنگائی اور بلند شرح سود کی وجہ سے چھوٹے کاروبار کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کا نیٹ ورک چھوٹا ہوتا ہے اور ان میں سرمائے کی قلت ہوتی ہے جبکہ برانڈ بھی مضبوط نہیں ہوتا ہے۔ اگر مہنگائی کی شرح 10 فیصد ہو اور بنیادی شرح سود 13.25 فیصد تو کسی بھی کاروبار کو اپنا کم از کم 23.25 فیصد مارجن تو صرف سود اور مہنگائی کو جذب کرنے کے لیے استعمال کرنا ہوگا جبکہ ان دونوں کو جذب کرنے کے بعد اس سے اوپر جتنا منافع کمایا جائے گا وہی حقیقی منافع ہوگا۔ ایسے میں بڑی کمپنیاں ہی مارکیٹ میں برقرار رہ سکتی ہیں اور چھوٹی کمپنیاں ختم ہوجاتی ہیں۔ اس سے معاشی سست روی کے ساتھ ساتھ بے روزگاری اور غربت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ماہرینِ معیشت اسٹیٹ بینک سے اس بات کا مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی مانیٹری پالیسی کو مرتب کرتے ہوئے اس کے لیبر مارکیٹ پر پڑنے والے اثرات کو بھی مدِنظر رکھے تاکہ مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے ساتھ ساتھ ملازمت کے مواقعوں پر منفی اثرات مرتب نہ ہوں۔سابق گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر اپنے 3 سال کے دور میں معیشت کو مستحکم کرنے، قیمتوں کو کنٹرول کرنے اور معاشی ترقی میں اضافے کے اقدامات کرنے میں ناکام رہے ہیں جس کی وجہ سے معیشت پر پڑنے والے منفی اثرات کو دُور کرنے کے لیے وزیر اعظم شہباز شریف کی موجودہ حکومت اور رضا باقر کے جانشین ( مفتاح اسماعیل)کو محنت کرنا ہوگی۔ انہیں مانیٹری پالیسی اور شرح مبادلہ کی پالیسی کو مربوط بنا کر قیمتوں میں استحکام لانا ہوگا۔اب دیکھنا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت مستقل گورنر اسٹیٹ بینک کے لیے کس فرد کا انتخاب کرتی ہے اور اس فرد کے ماضی کو دیکھتے ہوئے ہی اس بات فیصلہ ہوگا کہ وہ پاکستانی معیشت کو کس سمت میں لے کر جائے گا۔اس سلسلے میں شہباز شریف کی حکومت نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کیلئے ایک نیا مشیر تو مقرر کر دیا ہے لیکن ابھی کسی مستقل گورنر آف اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی تلاش جاری ہے۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »