Daily Taqat

جناب عمران خان کے 2تازہ ترین خطابات اور ان کے اثرات

پاکستان کے سیاسی اور سماجی حالات تیزی سے موڑ مُڑ رہے ہیں ۔ رویوں میں تبدیلی آ رہی ہے اور اسٹیبلشمنٹ اپنے معاملات کو اپنے مفاد میں رکھنے کی سبیلیں کررہی ہے ۔ افغانستان کے پس منظر میں عالمی حالات ہمارے لئے معاون اور مناسب نہیں ہیں ۔ ہمارے وزیر اعظم صاحب اپنی شخصیت کے امیج کو بہتر بنانے کیلئے پاکستان کی ہندو برادری کو ”دیوالی” پر مبارکبادیں دیتے ہُوئے دکھائی اور سنائی دے رہے ہیں ۔ ٹی ایل پی اور حکومت کے درمیان مبینہ صلح ہو چکی ہے لیکن یہ کیسی صلح اور معاہدہ ہُوا ہے کہ اس بارے میں وزیر اعظم صاحب اور اُن کے وزیر مشیر کوئی بات کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں ۔ ایک خبر کے مطابق وزیر اعظم صاحب نے اپنے وزیروں اور مشیروں کو ٹی ایل پی اور حکومت کے درمیان ہونے والے معاہدے بارے لب کشائی کرنے سے منع فرما دیا ہے ۔ مگر کیوں ؟ اس کا جواب نہیں دیا جارہا ۔ وزیر اعظم صاحب نے 3نومبر کو قوم سے اپنے تازہ مفصل خطاب میں بھی اس معاہدے بارے ایک لفظ تک نہ کہا ۔ اور یوں یہ معاہدہ اسرار کی تہوں میں لپٹ سا گیا ہے ۔اس ہفتے وزیر اعظم جناب عمران خان کے دو اہم ترین خطبوں کی باز گشت پورے ملک میں سنائی دیتی رہی ہے ۔ اپنے دوسرے خطبے میں وزیر اعظم نے واضح الفاظ میں قوم کو بتایا ہے کہ آخر مَیں نواز شریف اور آصف علی زرداری سے مکالمہ کیوں نہیں کررہا ؟ یہ تقریر وزیر اعظم صاحب نے اسلام آباد میں بروئے کار ایک ادبی ادارے ( اکادمی ادبیات) کے سامنے کی ہے ۔ اس میں جناب نے ایک بار پھر اسلامی تاریخ سے کئی واقعات کو دہرایا ہے اور قوم کے نوجوانوں کو اسلامی تاریخ کی روشنی میں زندگیاں گزارنے کی نصیحت کی ہے ۔ سوال یہ ہے کہ آیا کوئی نوجوان اُن کی باتوں کو قابلِ توجہ سمجھتا بھی ہے ؟ پورے ملک میں معاشی بدحالی کے سائے اتنے گہرے اور گمبھیر ہو چکے ہیں کہ نوجوان وزیر اعظم صاحب کی باتوں پر کان دھرنے کیلئے تیار ہی نہیں ہیں۔ اپنے اولین خطاب میں وزیر اعظم صاحب نے 3نومبر کو قوم سے براہِ راست مکالمہ کیا ہے ۔ اس خطاب میں اُنہوں نے بھوک، بدحالی ، بد امنی اور بے روزگاری کی ماری قوم کو چھ مہینے کیلئے کچھ مالی سہارا دینے کیلئے 120ارب روپے کی سبسڈی دینے کا اعلان کیا ہے ۔ مبینہ طور پر اس سبسڈی سے ملک کے دو کروڑ خاندانوں کو کچھ اشیائے خورو نوش پر30فیصد سبسڈی فراہم کی جائے گی ۔اس سبسڈی اور اعلان کے بارے میں قوم میں عجب عجب تبصرے ہو رہے ہیں ۔ کچھ کہہ رہے ہیں کہ یہ ریلیف پیکیج دراصل حکومت کی طرف سے اگلے انتخابات میں اپنی راہیں ہموار کرنے کی نیت سے عوام کو لولی پاپ دینے کی کوشش کی گئی ہے ۔ ہم یہاں ملک کے ممتاز ماہرِ معاشیات جناب خرم حسین کا تجزیہ پیش کرنے کی جسارت کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ ہمارے ماہرینِ معیشت وزیر اعظم کے اعلان کردہ معروف ریلیف پیکیج اور اس کے ممکنہ اثرات کو کن زاویوں سے دیکھ رہے ہیں ۔ جناب خرم حسین لکھتے ہیں:”اب تو معاملات لطیفوں اور ناامیدی تک محدود ہوکر رہ گئے ہیں۔ کل کے روز ہم نے ان دونوں ہی چیزوں کی مثال دیکھی۔یہ ایک لطیفہ ہی تھا جب قومی احتساب بیورو (نیب) نے سینیٹ کی ایک کمیٹی کو بتایا کہ نیب نے ‘اپنے قیام سے اب تک’ تقریباً 8 کھرب 21 ارب 50 کروڑ روپے واگزار کروائے ہیں۔ لیکن اسی نشست میں وزارتِ خزانہ نے کمیٹی کو بتایا کہ واگزار کروائی گئی رقم جمع کرنے کے لیے موجود خصوصی اکاؤنٹ میں تو صرف 6 ارب 50 کروڑ جمع کروائے گئے ہیں۔یوں فوراً ہی اس سوال نے جنم لیا کہ نیب جس رقم کا دعویٰ کر رہا ہے وہ کہاں گئی؟ اسی دن یہ سوال پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) میں اٹھایا گیا جہاں آڈیٹر جنرل (اے جی) نے بتایا کہ نیب کی جانب سے واگزار کروائی گئی رقوم کا باقاعدگی سے آڈٹ نہیں کیا جاتا اور نہ ہی نیب کی جانب سے جن کنسلٹنٹ اور وکیلوں کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں ان کا آڈٹ کیا جاتا ہے۔یہ سب کچھ غیر ملکی کنسلٹنٹ کے حوالے سے سامنے آنے والے براڈ شیٹ اسکینڈل کے بعد ہورہا ہے۔ اس اسکینڈل کے نتیجے میں پاکستانی ٹیکس دہندگان کے تقریباً 4 ارب 59 کروڑ روپے ایک برطانوی ادارے کو جرمانے کے طور پر ادا کیے گئے تھے۔ اس کے بعد بھی کسی نے نیب کے آڈٹ پر توجہ نہیں دی جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ براڈ شیٹ اسکینڈل سے سامنے آنے والی چیزیں کہیں اب بھی تو موجود نہیں؟اب پی اے سی نے آڈیٹر جنرل کو دو آڈٹ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ان میں ایک آڈٹ تو نیب کی جانب سے واگزار کروائی گئی تمام رقم کا ہوگا جبکہ دوسرا آڈٹ پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض سے واگزار ہونے والے 19 کروڑ پاؤنڈ کے حوالے سے ہوگا۔یہ رقم نیشنل کرائم ایجنسی نے برطانیہ میں ان کی وہ جائیداد ضبط کرکے حاصل کی تھی جس کی خریداری سے متعلق ملک ریاض وضاحت نہیں کرسکے تھے۔ وہ رقم دسمبر 2019ء میں سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں آئی لیکن اس کے بعد سے اس کی کوئی خبر نہیں ہے۔ پی اے سی کی ہدایات کے مطابق پہلا آڈٹ ایک ماہ میں مکمل ہوگا جبکہ دوسرا آڈٹ ایک ہفتے میں۔ تو ابھی مزید لطیفے سامنے آنے والے ہیں۔اگر مایوسی اور ناامیدی کی بات کی جائے تو اس کی جھلک ہمیں گزشتہ روز وزیرِاعظم کے قوم سے خطاب میں نظر آئی۔ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے پس منظر میں وزیرِاعظم قوم کے سامنے آئے اور ریلیف پیکیج کا اعلان کیا۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ ‘ملکی تاریخ کا سب سے بڑا ریلیف پیکج’ ہوگا۔ انہوں نے آٹے، گھی اور دالوں کی قیمتوں میں کمی کے لیے 120 ارب روپے کی سبسڈی کا اعلان کیا تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ اس کا اطلاق کیسے ہوگا۔ کیا اس کا اطلاق یوٹیلٹی اسٹورز کے ذریعے ہوگا کہ جہاں مالی مشکلات کے باعث ان اشیا کی قیمتوں میں جولائی میں اضافہ ہوچکا ہے۔ اور پھر اس سبسڈی کے لیے رقم کہاں سے آئے گی کیونکہ وزیرِاعظم کے اپنے مشیر خزانہ کے مطابق یہ حکومت آئی ایم ایف پروگرام ختم کرنے کی طرف جارہی ہے۔یہ سوالات تو اس مبالغے کے علاوہ ہیں جس کے تحت 3 غذائی اشیا پر اس 120 ارب روپے کی سبسڈی کو ‘ملکی تاریخ کا سب سے بڑا ویلفیئر پیکج’ کہا جارہا ہے۔ اس خطاب میں زیادہ توجہ اس بات پر دی جانی چاہیے جس کا وزیرِاعظم تیزی سے ذکر کرگئے۔ وہ بات یہ تھی کہ پیٹرول کی قیمتوں میں ایک بار پھر ‘معمولی اضافہ’ کرنا ہوگا۔ یاد کیجیے کہ گزشتہ اتوار ہی وزیرِاعظم آفس اور وزارتِ خزانہ نے بیان جاری کیا تھا کہ ‘عوامی مفاد’ میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔وزارتِ خزانہ کے بیان میں کہا گیا تھا کہ ‘اگر قیمتوں میں فرق آتا ہے تو اسے حکومت برداشت کرے گی اور آئل مارکٹنگ کمپنیز (او ایم سیز) اور ریفائنریز دونوں کی تلافی کرے گی’۔اس بیان میں مزید کہا گیا کہ حکومت ‘عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے’۔ 4 دن بعد ہی حکومت اپنے ارادے سے پیچھے ہٹتی نظر آرہی ہے۔ یہ ایک ایسی عادت ہے جس کی وضاحت کے لیے یوٹرن کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔سولہ اکتوبر کی قیمتوں کے پیچھے اصل وجہ رسد کی لاگت میں ہونے والا 10 روپے کا اضافہ تھا۔ اس اضافے کی ایک وجہ تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ اور دوسری وجہ روپے کی گرتی ہوئی قدر تھی۔اکتوبر کے مہینے میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور یہ قیمت 80 سے 85 ڈالر کے درمیان رہی اور پھر نیچے آنے لگی۔ یہ ستمبر کے مہینے کی قیمتوں کی نسبت تو اضافہ ضرور تھا لیکن کوئی تاریخی اضافہ نہیں تھا۔ درحقیقت 2010ء سے 2014ء کے درمیان تقریباً 4 سال تک خام تیل کی قیمت 80 ڈالر سے زیادہ ہی رہی ہے اور طویل دورانیے کے لیے 100 ڈالر سے اوپر بھی گئی ہے۔ تاہم ماضی میں کبھی بھی پیٹرول پمپ پر پیٹرول کی قیمت آج کی طرح 137 روپے نہیں ہوئی، پھر عمران خان خود اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس وقت پیٹرول کی قیمت میں ٹیکسوں کا حصہ آج کے مقابلے کہیں زیادہ تھا۔تو پھر آج یہ 80 ڈالر کا تیل پیٹرول پمپ پر 137 روپے کا کیوں ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس عرصے میں ڈالر 88 روپے سے بڑھ کر 98 روپے کا ہوا تھا جو اس کی قدر میں 11 فیصد کمی تھی۔ اس کے برعکس 2018ء میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر 109 سے بڑھ کر آج 170 تک آپہنچی ہے۔ یہ 3 سال میں روپے کی قدر میں 55 فیصد کمی بنتی ہے۔ آج سے 10 سال پہلے ایک روپے میں جتنا پیٹرول آتا تھا آج اس کے مقابلے بہت ہی کم آتا ہے جبکہ اس دوران ڈالر میں تیل کی قیمت تقریباً برابر ہی رہی ہے۔ یہ وہ وجہ ہے جس کے سبب ملک میں رسد کی قیمت میں اضافہ ہورہا ہے اور ملک میں مہنگائی بھی بڑھ رہی ہے۔اب ان کے سامنے ایک اور یوٹرن ہے اور وہ پیٹرول پر عائد ٹیکسوں کے حوالے سے ہے۔ اس وقت پیٹرول پر 6.6 فیصد جی ایس ٹی اور 5.6 فیصد پیٹرولیم لیوی ہے۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں ٹی وی پر نشر ہونے والی اپنی تقریر میں وزیرِاعظم نے پیٹرول کی قیمتوں میں ‘معمولی اضافے’ کی خبر اس وجہ سے دی ہے کیونکہ آئی ایم ایف کی جانب سے پیٹرول اور ڈیزل پر جی ایس ٹی اور لیوی دونوں میں اضافے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ اس کے نتیجے میں ایندھن کی قیمتوں میں یقیناً اضافہ ہوگا اور اسے نیب کی جانب سے واگزار کروائی گئی رقم کی طرح چھپایا نہیں جاسکے گا۔ملک میں مہنگائی کے ساتھ اس ناامیدی اور ہمارے سامنے ہونے والے لطیفوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ حالات اب پیچیدہ ہوتے جارہے ہیں۔ جنوری 2022ء تک انتظار کریں اور دیکھیں کہ اس وقت تک حالات کیا صورت اختیار کرتے ہیں”۔لیکن سچی بات یہ ہے کہ ہمیں اس ضمن میں زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا ہے ۔ وزیر اعظم کے قوم سے تازہ ترین خطاب کے دوسرے دن ہی پٹرول کی قیمت میں 8روپے فی لٹر کا اضافہ کر دیا گیا ۔ اور یوں اس پٹرول بم کے گرائے جانے سے ملک بھر میں پٹرول کی قیمت 145روپے فی لٹر ہو گئی ۔ سارے ملک میں اس اضافے پر کراہیں بلند ہو رہی ہیں لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ عمران خان اور ان کے وزیر مشیر یہ کہہ کر عوام کے زخموں پر مزید نمک چھڑک رہے ہیں کہ ”ابھی تو پاکستان میں پٹرول کی قیمتیں خطے کے ممالک سے کہیں کم ہیں۔” اس بے حسی کے عالم میں وزیر اعظم عمران خان نے 6نومبر2021ء کو اٹک میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہُوئے فرمایا کہ ”پٹرول اب بھی پاکستان میں سستا ہے ۔” یہ بیان سُن کر عوام پر تو ایک سناٹے کی کیفیت طاری ہے ۔ عوام بجا طور پر محسوس کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ اس سے بڑھ کر کسی حکمران کی مزید بے حسی اور شقی القلبی کیا ہو سکتی ہے ؟ حکمرانوں کی بے حسی ابھی تھمی ہوئی نہیں ہے ۔ ان سطور کے لکھتے وقت ملک بھر میں چینی کی قیمتیں 150روپے فی کلو گرام تک پہنچ گئی ہیں اور ساتھ ہی بجلی کی قیمتوں میں ایک روپے68پیسے فی یونٹ کا اضافہ کر دیا گیا ہے ۔ لیکن حکمرانوں کے کانوں پر جُوں تک نہیں رینگ رہی ہے ۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ آج کے حکمرانوں کو عوام کے احساسات و جذبات کی کوئی پروا نہیں رہی ۔ عمران خان اور اُن کے سرپرست عوامی مصائب و مسائل سے لاپروا ہو کر اپنی عیاشیوں اور مراعات سے لطف اندوز ہو رہے ہیں؛چنانچہ لوگ اب بجا طور پر نواز شریف کی وزارتِ عظمیٰ کے ایام کو یاد کررہے ہیں ۔ اس احساس نے نون لیگ کے ووٹ بینک میں مزید اضافہ کیا ہے ۔ عوام کے یہ حساسات ملک کے اُن طاقتور طبقات کے اعصاب پر بم بن کر گرتے ہیں جو تبدیلی والے حکمرانوں کو ہم پر مسلّط کرنے کے اساسی طور پر ذمہ دار ہیں ۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »