Daily Taqat

اسحق ڈار کی واپسی ، مریم نواز کی بریت اور آڈیو لیکس کا طوفان!

جناب محمد نواز شریف کے سمدھی و معتمد خاص اورنون لیگی رہنما ، اسحق ڈار صاحب، خود ساختہ جلاوطنی کے پانچ سال بعد آخر کار لندن سے واپس پاکستان ”تشریف” لے ہی آئے ہیں ۔ ”حُسنِ اتفاق” ہے کہ وہ وزیر اعظم کے جہاز میں پاکستان سے نکلے تھے اور اب وزیر اعظم کے جہاز ہی میں واپس آئے ہیں۔ ڈار صاحب اکتوبر2017ء میں دوشنبے(وسط ایشیا) میں ایک وزارتی کانفر نس میں شرکت کرنے گئے تھے ۔ وہاں سے وہ سعودی عرب چلے گئے اور چند دنوں بعد وہیں سے لندن پہنچ گئے تھے ۔ تب اُن کے وکیل ( خواجہ حارث ) نے ”نیب” کورٹ سے استدعا کی تھی کہ اُن کے موکل کی چونکہ طبیعت”اچانک” خراب ہو گئی ہے اور وہ بغرضِ علاج لندن چلے گئے ہیں، اسلئے اُن کی ذاتی غیر حاضری کو قبول کیا جائے ۔ اب راستے ”ہموار ” ہُوئے ہیں تو اسحاق ڈار واپس وطن آ گئے ہیں ۔ لاہور اور اسلام آباد میں اگرچہ لندن ایسی سہولتیں اور امن کا ماحول تو نہیں ہے لیکن اپنا وطن آخر اپنا وطن ہوتا ہے ۔پاکستان کے اشرافیہ،مقتدر اور انتہائی مراعات یافتہ طبقات کیلئے یہ ملک سیاسی و مالی منفعت کے خوب کام آ رہا ہے ۔ وہ اپنی دولت، سیاسی طاقت اور اقتداری رسوخ کے الٰہ دینی چراغ سے ، پاکستان میں ہر جگہ، جنگل میں منگل پیدا کرنے کی سکت اور طاقت رکھتے ہیں ۔ سو، ہم کہہ سکتے ہیں کہ اسحق ڈار وطن واپسی پر یہاں بھی اپنے لئے لندن ایسی فضائیں پیدا کر سکتے ہیں ۔ اُن کے بعد قائدِ نون لیگ ، قبلہ محمد نواز شریف، بھی ایسی ہی دلنواز فضا میں قدم رنجہ فرمائیں گے ۔ اسحق ڈار نے آتے ہی سینیٹ کی رکنیت کا حلف اٹھایا اور وہ دوسرے روز وفاقی وزیر خزانہ بھی بنا دیئے گئے ۔ حلف اُٹھاتے ہی اُنہوں نے اخبار نویسوں سے جو خطاب کیا، اس میں اُنہوں نے سابق وزیر اعظم عمران خان کے بارے میں ایک ایسا قابلِ گرفت لفظ بھی استعمال کیا جو ہرگز استعمال نہیں کرنا چاہئے تھا۔ ہماری سیاست مگر بد قسمتی سے ایسے موڑ پر آ چکی ہے جہاں سیاستدان اپنے حریفوں اور مخالفوں کو قابلِ گرفت الفاظ سے یاد کررہے ہیں اور کسی کو اس کا ملال بھی نہیں ۔دیکھا جائے تو اس کا آغاز حالیہ ایام میں جناب عمران خان نے کیا تھا۔ اب اسحق ڈار کے خلاف بھی خان صاحب کھل کھلا کر سامنے آئے ہیں ۔ پی ٹی آئی کے چیئرمین ، جناب عمران خان ، بظاہر ، اسحق ڈارایسے اشرافیہ طبقات کے خلاف ہیں ؛ چنانچہ ہم یہ منظر دیکھ چکے ہیں کہ بطورِ وزیر اعظم پاکستان جب خان صاحب نے امریکہ کا پہلا دَورہ کیا تھا تو واشنگٹن کے وسیع اسٹیڈیم میں پاکستانیوں کے زبردست اجتماع سے خطاب کے دوران اُنہوں نے اپنے منہ پر ہاتھ پھیرتے ہُوئے اعلان کیا تھا:” وطن واپس جا کر مَیں دیکھتاہُوں کہ نواز شریف کس طرح جیل میں ائر کنڈیشنرز کے ٹھنڈے ماحول میں رہتے ہیں ۔” لیکن تمام تر طاقت اور اختیارات رکھنے کے باوجود خان صاحب ، میاں محمد نواز شریف کو جیل میں ائر کنڈیشنر کی سہولت سے محروم نہیں کر سکے تھے ۔یہ ہے ہماری اشرافیہ کی طاقت!جناب اسحق ڈار کی وطن واپسی سے قبل اُن کے راستے کے تمام خطرناک کانٹے چُن لئے گئے تھے ۔یوں عمران خان اور اُن کے حواریوں و ہمنواؤں کے خواب دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں ۔ اسحق ڈار لندن میں تھے ، تب بھی خان صاحب کے کچھ ”ٹائیگرز” لندن کی گلیوں اور سڑکوں پر اسحق ڈار کا تعاقب کرتے رہتے تھے ۔ یہ اخلاقیات کے منافی عمل تھا ۔ کسی نے بھی اِسے پسند نہیں کیا ۔ اسحق ڈار نے مگر صبر کیا اور لندن میں آوازے کسنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی کی نہ قابلِ اعتراض زبان استعمال کی ۔ یہ مناظر اب بھی، کسی بھی وقت، ےُو ٹیوب پر ملاحظہ کئے جا سکتے ہیں ۔ ابھی اسحق ڈار صاحب نے پاکستان میں واپسی کا قدم رکھا بھی نہیں تھاکہ اُن کی آمد کی خبر پاتے ہی پی ٹی آئی کے قائدین اور جنگجو، ڈار صاحب کے خلاف متحرک ہو گئے تھے ۔ مثال کے طور پر ڈار صاحب کی آمدے سے تین دن قبل جناب عمران خان نے( 24ستمبر کو) رحیم یار خان کے اپنے پُر ہجوم جلسے میں اسحق ڈار پر جو (پرانے الزامات) دہرائے اور اُن کے خلاف جو سخت زبان استعمال کی، ہم یہ الفاظ یہاں دہرا نہیں سکتے ۔ عمران خان نے یہ بھی کہا تھا:”جو بھی یہ سمجھتا ہے کہ اسحٰق ڈار واپس آ کر ملک کی معیشت ٹھیک کر لے گا، احمقوں کی جنت میں رہتا ہے ۔”یہ کیسے ممکن ہے کہ خانصاحب اپنے کسی مخالف پر الزام عائد کریں اور پی ٹی آئی کے دیگر سینئر ارکان پیچھے رہ جائیں؟ ابھی خان صاحب کے مذکورہ بیان کی سیاہی خشک بھی نہیں ہو پائی تھی کہ پی ٹی آئی کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر، اسد عمر، نے کراچی میں اسحاق ڈار کے خلاف نہائت قابلِ اعتراض الزامات عائد کر دئیے۔لیکن سیاسی مخالفت کی رَو میں بہہ کر شائد سب ”روا” سمجھ لیا گیا ہے ۔ خان صاحب کے سابق وفاقی وزیر، فواد چودھری، تو میڈیا بیانات اور ٹوئٹر پر مسلسل اسحق ڈارپر ”بمباری” کررہے ہیں ۔وفاقی وزیر اطلاعات، محترمہ مریم اورنگزیب، نے فواد چودھری کے ڈار مخالف بیانات پر ردِ عمل دیتے ہُوئے کہا ہے:” عمران خان روئیں، پیٹیں یا چیخیں،اسحق ڈار وطن واپس آ چکے ہیں۔” جناب عمران خان مگر مسلسل اسحق ڈار کے خلاف شعلہ فشانیاں کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں ۔ مثال کے طور پر اُنہوں نے پشاور میں علمائے کرام کے ایک جلسے سے خطاب کرتے ہُوئے کہا ہے کہ ”پاکستان کا قانون اسحق ڈار کو روک سکا ہے نہ پاکستان کی حفاظت کرنے والے ۔ مگر اب مَیں اسحاق ڈار کو روک کر دکھاؤں گا۔” دیکھتے ہیں خان صاحب اب ڈار صاحب کا راستہ کیسے روکتے ہیں؟ ایک بات تو، بہرحال، تسلیم کرنا پڑ ے گی کہ اسحق ڈار کی واپسی وطنِ عزیز کے تمام میڈیا اور سیاستدانوں کے حواس اور اعصاب پر چھائی رہی۔پی ٹی آئی کی طرف سے اسحق ڈار کی مخالفت کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت بھی مگر واضح رہنی چاہئے کہ اسحق ڈار کی وطن واپسی ، بعض درونِ خانہ شناسوں کے نزدیک، دراصل نون لیگ کے اندر پائے جانے والے اُس دھڑے کی پسپائی ہے جو مفتاح اسماعیل کی محبت میں اسحق ڈار کی مخالفت کرتا رہا ہے ۔ اِس دھڑے میں ایک ایسی معروف نون لیگی شخصیت مرکزی کردار ادا کررہی تھی جو مفتاح اسماعیل کی بے دریغ حمائت میں نواز شریف کی پسند ، ناپسند کو بھی خاطر میں نہیں لارہی تھی ۔ نواز شریف اِس شخصیت کو ، پارٹی کے وسیع تر مفادات میں، جھڑک سکتے تھے نہ اُن کی مفتاح اسماعیل بارے اندھی حمائت کو مسترد کر سکتے تھے ۔ نون لیگ کے اندر پایا جانے والا یہ وہی طاقتور دھڑا ہے جس نے پہلے بھی ، شاہد خاقان عباسی کی وزارتِ عظمیٰ کے دوران، مفتاح اسماعیل کوبوجوہ وزیر خزانہ بنا نے میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔اسحق ڈار کی وطن واپسی سے یہ دھڑا نون لیگ کے اندر دوسری صف میں کھڑا ہونے پر مجبور ہو رہا ہے ۔ ایسے دھڑے ہر سیاسی و مقتدر پارٹی میں پائے جاتے ہیں ۔اسلئے یہ کوئی نئی اور انہونی خبر نہیں ہے ۔ ہم مگر یاد رکھیں گے کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی اتحادی حکومت میں بننے والے وزیر خزانہ، مفتاح اسماعیل، کے اقدامات سے غریب عوام کے دل دُکھے رہے ۔اُن کے فیصلوں سے مہنگائی دن دگنی، رات چگنی ”ترقی” کررہی تھی اور مفتاح صاحب پریس کانفرنسوں میں زیر لب مسکرا مسکرا کر عوام کے زخموں پر نمک پاشی کرتے تھے۔مفتاح کے اقدامات سے نون لیگ کی مقبولیت کو بٹّہ لگا ہے ۔ اگرچہ اُنہوں نے ایک بار آنسو بہا کر اپنے اقدامات کا ”کفارہ” بھی ادا کرنے کی کوشش کی ۔لندن میں بھی مبینہ طور پر ، نواز شریف کی موجودگی میں، مفتاح کے فیصلوں کو پسند کی نظر سے نہیں دیکھا گیا۔ اب مستعفی مفتاح اسماعیل ٹوئٹر پر یوں پیغام لکھ رہے ہیں:” اب مَیں کراچی کی جاوید نہاری کھا سکوں گا اور غفار و میرٹھ کبابوںسے لطف اُٹھا سکوں گا۔” اِس پیغام سے لگتا ہے کہ وزارتِ خزانہ سے مستعفی ہو کر وہ خود کو ہلکا پھلکا محسوس کررہے ہیں ۔ معروف جرمن نشریاتی ادارے ، ڈاؤچے ویلے، نے مگر لکھا ہے کہ نون لیگی قیادت نے مفتاح اسماعیل کو قربانی کا بکرا بنایا اور اب پھر اسحق ڈار کو وفاقی وزیر خزانہ بنا کر ثابت کیا ہے کہ نون لیگ میں اقربا پروری کا عنصر موجود ہے۔پی ٹی آئی قیادت کا ڈار صاحب کے خلاف غصہ اپنی جگہ مگر سوچنے والی بات یہ ہے کہ اسحاق ڈار کو چوتھی بار وفاقی وزیر خزانہ کا قلمدان اگر سونپا گیا ہے تو اُن میں کوئی خاص خوبی تو ہوگی جو دوسروں میںنہیں پائی جاتی ! اسحق ڈار کے وزیر خزانہ بنتے ہی اب تک ڈالر کی قیمت میں 10روپے کی کمی ہو چکی ہے ۔ ڈار صاحب نے یکم اکتوبر2022ء کو پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بھی کمی کر دی ہے ۔ یہ فیصلے خوش آئند اور عوام کیلئے حوصلہ افزا ہیں ۔ جناب محمد اسحق ڈار کی واپسی جناب عمران خان کے اعصاب پر بھاری پڑ رہی ہے ۔ ابھی یہ بوجھ کم بھی نہ ہونے پایا تھا کہ خبر آ گئی کہ عمران خان کی سب سے بڑی سیاسی حریف محترمہ مریم نواز شریف اور اُن کے شوہرکیپٹن صفدر کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے مقدمات میں بری کر دیا ہے ۔ دونوں میاں بیوی کے خلاف کیسز اب کالعدم ہو چکے ہیں ۔ شریف خاندان پر خوشیاں برسات بن کر برس رہی ہیں ۔ ہم نے دیکھا کہ مریم نواز کی بریت پر وزیر اعظم جناب محمد شہباز شریف اپنی بھتیجی کو مٹھائی کھلا رہے ہیں ۔ یہ منظر عمران خان اور اُن کے حواریوں اور ساتھیوں کے اعصاب پر بجلی بن کر برس رہے ہوں گے ۔ بریت کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف اور مریم نواز نے اپنے اپنے انداز میں جو پریس کانفرنسیں کی ہیں، ان میں بھی عمران خان کو ہدف بنایا گیا ہے ۔ یہ پریس کانفرنسیں اپنے اسلوب اور مواد میں براہِ راست عمران خان پر حملہ ہیں ۔ مریم نواز نے بریت کے بعد صاف الفاظ میں کہا ہے کہ میری قید اور مقدمات سے صرف اور صرف عمران خان کو سیاسی فائدے پہنچے اور میری بریت دراصل عمران خان اور اُن کے ”کوچ” کی شکست ہے ۔ ہمارے اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا مریم نواز کی مقدمات سے بریت کے حوالے سے گونج رہے ہیں ۔ یہ ایک غیر معمولی صورتحال ہے اور اس بات کا بھی پتہ دیتی ہے کہ مریم نواز شریف واقعی معنوں میں ہماری مستقبل کی سیاست کا روشن ستارہ ہیں ۔ اب مقدمات سے بریت کے بعد وہ انتخابات میں کھل کر حصہ لے سکیں گی اور کامیابی کی صورت میں حکومت بنا کر کسی اعلیٰ عہدے پر متمکن بھی ہو سکیں گی ۔ کئی تجزیہ نگار تو اُن کے مستقبل کے عہدے بارے قبل از وقت پیش گوئیاں بھی کرنے لگے ہیں ۔ یہ پیش گوئیاں سُن کر مریم نواز گہری مسکراہٹ سے طرح دے جاتی ہیں اور تبصرے سے گریز کرتی ہیں ۔احتیاط کا تقاضا بھی یہی ہے ۔ مریم نواز کی بریت پر لندن میں بیٹھے نون لیگ کے اصل قائد میاں محمد نواز شریف بھی خوشی سے نہال ہو رہے ہیں ۔ مریم نواز نے بھی بریت کا فیصلہ سنتے ہی سب سے پہلے یہ خبر اپنے والد صاحب کو سنائی اور اس کا ذکر اپنی پہلی پریس کانفرنس میں بھی کیا ۔ اُنہیں ایسا کرنا بھی چاہئے تھا ۔مریم نواز کی بریت اور اسحق ڈار کی واپسی کی خبر کے بعد جس خبر نے پورے پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے ، وہ تین چار آڈیو لیکس ہیں ۔ پہلی آڈیو لیک میں وزیر اعظم شہباز شریف اور اُن کے کوئی سینئر سرکاری ساتھی مبینہ طور پر مریم نواز کے داماد (راحیل) بارے بھارت سے منگوائی گئی مشینری بارے بات چیت کررہے ہیں ۔لیکن اس میں کوئی قابلِ گرفت بات سامنے نہ آ سکی ۔ شہباز شریف نے بھی اس کا زکر اپنی مفصل پریس کانفرنس میں کیا ہے۔ اس کے باوجود مگر عمران خان اور پی ٹی آئی نے اس لیک بارے میڈیا میں خوب طوفان اُٹھایا ۔ ابھی اس کی باز گشت تھمی بھی نہ تھی کہ عمران خان بارے دو آڈیو لیکس سامنے آگئیں ۔ ان آڈیوز میں عمران خان مبینہ طور پر امریکی خط بارے گفتگو کرتے سنائی دے رہے ہیں اور صاف الفاظ میں یہ کہتے سنائی دے رہے ہیں کہ اب ہم اس خط سے کھیلیں گے لیکن امریکہ کا نام نہیں لیں گے ۔ وہ قریبی سیاسی ساتھیوں کو مبینہ طور پر یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ خبردار اس خط کا ذکر کرتے ہُوئے کسی کی زبان پر امریکہ کا نام نہ آئے ۔ ان دونوں آڈیو لیکس سے عمران خان اور پی ٹی آئی شدید غصے اور الجھن میں ہیں کہ ان آڈیو لیکس نے امریکہ بارے عمران خان کے سارے پروپیگنڈے کی ہوا نکال دی ہے ۔خان صاحب کے پروپیگنڈے کی ہنڈیا عین بیچ چوراہے آکر پھوٹی ہے ۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »