Daily Taqat

عمران کہتے ہیں کسی ڈاکو یا مجرم کو این آر او نہیں ملے گا …اللہ کرے ایسا ہی ہو!

بیشک اللہ کریم ہی کے ہاتھ میں انسانوں کی عزت اور ذلّت ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے عزتوں سے سرفراز فرماتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلیل و خوار کر کے رکھ دیتا ہے۔ دونوں صورتوں میں انسانوں کے لئے آزمائشیں ہیں۔ عام انسان چونکہ بنیادی طور پر بے صبرے ہوتے ہیں ، اسلئے اقتدار میں آکر متکبّر ہوجاتے ہیں اور اقتدار سے محروم ہو کر واہی تباہی بکنے لگتے ہیں۔بیشک یہ بھی درست ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی انسان کی محنت کبھی ضائع نہیں کرتا ۔ اللہ تعالیٰ سب سے بڑا منصف ہے۔ اور یہ اللہ ہی ہے جو انسانوں کے درمیان اقتدار کے دن پھیر پھیر کر لاتا ہے۔عمران خان عام انتخابات میں اپنے سیاسی حریفوں پر برتری حاصل کرکے پاکستان کے وزیر اعظم بنے ہیں تو ایک بار پھراللہ تعالیٰ پر ہمارا یقین اور ایمان مزید پختہ ہوگیا ہے کہ یہ اللہ ہی ہے جو انسانوں کو عزت اور ذلّت دیتا ہے۔ جو اقتدار بخشنے والا بھی ہے اور اقتدار چھیننے والا بھی۔ شائد شریفوں کو بھی یقین آ گیا ہو کہ اللہ تعالیٰ کو نہ غرور پسند ہے اور نہ ہی تکبّر۔ اب اللہ تعالیٰ اُن کو دیا گیا اقتدار چھین چکا ہے۔ افسوس تو یہ ہے کہ اقتدار کے ایام میں شریف خاندان اللہ کے شکر گزار بندے کبھی نہ بنے۔ یہ اطمینان بخش بات ہے کہ عمران خان نے قومی اسمبلی سے وزیر اعظم کا ووٹ لیتے ہی سب سے پہلے اللہ کا شکر ادا کیا اور پھر اپنے ووٹروں کا۔ ہمیں یہ دیکھ اور سُن کر بھی مسرت ہُوئی ہے کہ عمران خان نے وزیر اعظم بن کر اسمبلی میں جو پہلا خطاب کیا ہے، اس میں احتساب کا ذکر بلند اور صاف الفاظ میں کیا گیا ہے۔ اُنہوں نے ایک بار پھر منتخب نمائندگان کے ہاؤس کے فلور پر کھڑے ہو کر بہادری سے اعلان کیا ہے کہ وہ کرپٹ افراد کو چھوڑیں گے نہیں اور یہ کہ کسی لُٹیرے کو این آر او نہیں لینے دیںگے ۔ یہ اعلان کرکے اُنہوں نے پاکستان بھر کے شہریوں کا ایک بار پھر دل موہ لیا ہے جو کرپشن کرنے والوں کو سخت سزائیں دئیے جانے کے بیقراری سے منتظر ہیں۔این آر او نہ دئیے جانے کا اعلان کرنا اسلئے بھی ضروری تھا کہ فضا میں یہ بُو گردش میں ہے کہ سابق نااہل اور مجرم وزیر اعظم نواز شریف اور اُن کی راج دلاری ”کسی” سے این آر او لینے کے چکر میں ہیں۔ عمران خان نے وزیر اعظم بن کر ان افواہوں یا منصوبہ سازوں کے راستے مسدود کر دئیے ہیں۔ عمران خان جس قطع کے سیاستدان ہیں، ہمیں ہی نہیں بلکہ سارے پاکستانیوں کو قوی اُمید ہے کہ اب وہ پاکستانیوں کا لُوٹا گیا پیسہ واپس پاکستان لائیں گے کہ پاکستان کو اِس وقت فنڈز کی بھی فوری اور اشد ضرورت ہے۔ یہ پاکستانیوں کا پیسہ ہے، واپس پاکستان کے خزانے میں آنا چاہئے۔ اور یہ منظر دیکھ کر افسوس اور دکھ ہُوا ہے کہ وزیر اعظم منتخب ہوتے ہی عمران خان کی قومی اسمبلی میں مختصر سی تقریر کے دوران نون لیگیوں نے اُن کے سامنے آ کر طوفانِ بدتمیزی بھی کیا اور دھما چوکڑی بھی مچائی ۔حالانکہ پی ٹی آئی نے شاہ محمود قریشی کی قیادت میں شہباز شریف سے گزارش بھی کی تھی کہ عمران خان کے خطاب کے دوران شورو غوغا سے باز رہا جائے ۔ شہباز شریف مان بھی گئے تھے لیکن جونہی عمران خان نے تقریر شروع کی، نون لیگی اپنے وعدے سے پھر گئے اور متواتر عمران خان کے سامنے بیہودگی اور بد تہذیبی کا مظاہرہ کرتے رہے۔ پاکستان کے بائیس کروڑ عوام نے ہلّڑ بازی کے اس منظر کی مذمت کی ہے۔پی ٹی آئی کے منتخب ارکان نے پچھلی اسمبلی کے دوران نہ تو کبھی قومی اسمبلی میں نواز شریف کے سامنے ایسی بیہودگی کی تھی اور نہ ہی بعد ازاں شاہد خاقان عباسی کے وزیر اعظم بننے پر۔ ہم بھی نون لیگیوں کی اس بد اخلاقی کی بھرپور الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔کہنے کو تو نون لیگیوں نے اپنا ”آئینی حق” استعمال کیا ہے لیکن اساسی طور پر نہ تو یہ آئینی حق تھا اور نہ ہی جمہوری رویہ۔ اب جبکہ عوام نے نون لیگ اور نون لیگی قیادت کو بُری طرح مسترد کر دیا ہے، اَنہیں آئین بھی یاد آنے لگا ہے ۔ یہ وہی آئینِ پاکستان ہے جس کی بے حرمتی کرتے ہُوئے یہ پچھلے کئی برسوں سے پاکستان اور پاکستانیوں کو لُوٹتے، نوچتے اور کھسوٹتے رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ہمارے آئین اور قانون میں تمام شہریوں اور عدالتوں سے سزائیں پانے والے مجرموں کے برابر کے حقوق ہیں۔ قیدی بڑے ہوں یا چھوٹے، قانون کی نظر میں یکساں سلوک کے مستحق قرار دئیے جاتے ہیں۔ ہمارا دین بھی برابری اور مساوات کا درس دیتا ہے۔ شاعر بھی کہتے ہیں:”ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمودو ایاز/نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز۔” یعنی ہماری اسلامی اخلاقیات میں بھی مساوات پر زور دیا گیا ہے۔ اللہ کے فضل و کرم سے پاکستانی معاشرہ اور سماج کوئی ہندووانہ سوسائٹی نہیں ہے جہاں برہمنوں کے حقوق زیادہ ہوتے ہیں اور شودروں کے کمتر۔ہمارا معاشرہ اونچ نیچ کو تسلیم نہیں کرتا۔ ہمارے سامنے مگر عملی سطح پر جو مظاہر سامنے آرہے ہیں ، وہ مساوات کے دروس اور لیکچروں کے بالکل اُلٹ اور منافی ہیں۔ غریب اور کم مراعات یافتہ طبقات یہ مناظر دیکھتے ہیں تو اُن کا دل کُڑھتا بھی ہے ۔ وہ غصے اور طیش میں مُٹھیاں بھینچ لیتے ہیں۔ دانت کچکچا کر رہ جاتے ہیں۔ یہ مناظر اپنے عمل کی زبان سے بتاتے ہیں کہ ہمارے سماج میں برابری ہے نہ مساوات ۔ یہ بس کہنے اور دل کو لُبھانے کی کھوکھلی باتیں ہیں۔چند دن پہلے سابق نااہل اور عدالت کی طرف سے باقاعدہ مجرم قرار دئیے جانے والے نواز شریف کو جدید ترین اور انتہائی آرام دِہ ائر کنڈیشنڈ لینڈ کروزر میں اڈیالہ جیل سے ”نیب”عدالت کے رُوبرو پیش کیا گیا۔ پاکستان کے بائیس کروڑ عوام نے یہ منظر دیکھا ہے تو حیران رہ گئے ہیں۔ ہر پاکستانی شہری کی زبان پر ہے کہ کیا مجرموں کو اِسی اسلوب میں لینڈ کروزروں میں سوار کرکے عدالت میں پیشیوں کے لئے لایا جا سکتا ہے؟کیا اڈیالہ جیل میں دیگر سزا یافتہ سینکڑوں قیدیوں کو بھی اِسی طرح کی عیاشیاں اور مراعات میسر ہیں؟ کیا دُنیا بھر سے کوئی ایسی مثال سامنے لائی جا سکتی ہے کہ سزا یافتہ قیدی کو اگر دوسرے مقدمات کا بھی سامنا ہو تو اُسے یونہی لینڈ کروزر ایسی آرام دِہ گاڑیاں فراہم کی جاتی ہیں؟ کیا پاکستان کے پہلے منتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو ہائیکورٹ سے سزا پانے کے بعد جب سپریم کورٹ میں مزید پیشیوں کے لئے لایا جاتا تھا، اُنہیں ایسی سہولیات اور گاڑیاں فراہم کی جاتی تھیں؟ اگر یہ کہا گیا ہے کہ مجرم نواز شریف نے لینڈ کروزر کا بندوبست اپنی ذاتی جیب سے کیا تھا تو کیا بھٹو ایسا بڑا جاگیردار ایسی سہولت نہیں خرید سکتا تھا؟ کیا بے نظیر بھٹو اور اُن کے شوہر کو عدالتوں اور جیلوں کی طرف سے کبھی ایسی مراعات اور سہولیات فراہم کی گئی تھیں؟ کیا ملائشیا کے سابق ملزم وزیر اعظم نجیب رزاق کو اپنے ملک میں ایسی شاندار سہولتیںدی جارہی ہیں؟نجیب رزاق بھی وزیر اعظم رہے ہیں لیکن اُن پر مجرم نواز شریف کی مانند آجکل اربوں ڈالر کی کرپشن اور منی لانڈرنگ کے مقدمات چل رہے ہیں۔ اُن کی اہلیہ بھی زیر حراست اور زیر تفتیش ہیں۔ نواز شریف کی راج دلاری کی طرح۔ پاکستان کے سابق وزیر اعظم کی بیٹی اپنے مقتدر والد کے ساتھ کرپشن میں برابر کی شریک رہی ہے اور ملائشیا میں سابق وزیر اعظم کی اہلیہ لالچ میں مبتلا ہو کر اپنے مقتدر شوہر کے ساتھ کرپشن کا کھیل کھیلتی رہی ہے۔لیکن جو مراعات اور سہولتوں بھری جیل کی زندگی راج دلاری کو حاصل ہے ، ملائشیا کے سابق وزیر اعظم نجیب رزاق کی بیوی تو اِس کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتی ۔ قانون ، روائیت اور آئین سے ماورا یہ عیاشیاں صرف پاکستان ہی میں میسر ہیںجہاں مقتدر طبقات ہر جگہ اپنے پروردہ عناصر کی بدولت اور اپنی ناجائز دولت کے بَل پر کوئی نہ کوئی راہ نکال ہی لیتے ہیں۔ مجرم اور نااہل نواز شریف نے بھی یہ راستہ تلاش کر ہی لیا ہے۔ اُنہیں لینڈ کروزریں بھی دستیاب ہیں اور جیل میں ائر کنڈیشنرز بھی۔اِن مناظر کی سُن گُن پاکر ساری غریب قوم شرمندہ بھی ہے اور غصے میں بھی۔جس تادیب اور سزا کے لئے شریفوں کو کرپشن کی بنیاد پر جیل بھیجا گیا تھا، مذکورہ سہولتیں پیشِ نظر رکھی جائیں تو کہا جا سکتا ہے کہ اُنہیں تادیب اور سزا تو کوئی مل نہیں رہی ہے۔یہ بھی ممکن ہے کہ اڈیالہ جیل کے تمام قیدی اِس امتیازی سلوک کی خبر پا کر کہیں خدانخواستہ جیل انتظامیہ کے خلاف عَلمِ بغاوت ہی نہ بلند کر دیں!مجرم نواز شریف کو جن مزید دو مقدمات کا سامنا ہے، یہ بھگتنے کے لئے ابتدا میں اُنہیں بکتر بند گاڑی میں ”نیب” عدالت لایا جاتا تھا۔نون لیگ نے اِس پر شور مچایا کہ پاکستان کے تین باروزیر اعظم منتخب ہونے والے شخص سے یہ ”بہیمانہ” سلوک ناقابلِ قبول ہے۔ شہباز شریف نے کہا کہ ”بھائی جان کو اِس حالت میں دیکھ کر دل کو بڑی تکلیف پہنچی ہے۔ اِس انداز میںتو دہشتگردوں کو بھی عدالت میں نہیں لایا جاتا۔” لگتا ہے کہ شہباز شریف اور اُن کے حواریوں نے کبھی دہشت گردوں کو عدالتوں میں لائے جانے کے خوفناک مناظر نہیں دیکھے ہیں۔ اگر دیکھے اور ملاحظہ کئے ہوتے تو ایسا گلہ کرنے کی جرأت اور جسارت نہ کرتے، بلکہ تقابل کرتے ہُوئے اللہ اور حکومت کا شکر ادا کررہے ہوتے۔ سابق خادمِ اعلیٰ پنجاب کے برعکس، پاکستانی عوام کا بیک زبان کہنا ہے کہ اگر مجرم نواز شریف کو بکتر بند گاڑی میں اڈیالہ جیل سے ”نیب” عدالت میں پیش نہیں کرنا ہے تو کیا اُسے کندھوں پر سوار کرکے احتسا ب عدالت میں پیش کیا جائے ؟ مجرم نواز شریف ایسے سابق حکمرانوں کی کرپشنوں اور بدعنوانیوں کے ستائے مظلوم پاکستانی عوام کا یہ بھی کہنا ہے کہ شہباز شریف کا دل اگر اِن مناظر سے دُکھا ہے تو اُن کے بڑے بھائی صاحب نے پاکستان اور پاکستانیوں کی دولت اور وسائل لُوٹنے کی غلیظ حرکتیں کیوں کی تھیں؟ اپنی آل اولاد کو ناجائز دولت کے لاتعداد انباروں پر بٹھاکر پوری قوم کے بچوں کو غربت، عسرت اور تنگدستی کی ذلتوں کے گڑھوں میں کیوں گرایا؟اب ذرا سی سزا ملی ہے تو چند ہفتوں ہی میں ان کی چیخیں نکل گئی ہیں۔حقیقت میں مجرم نواز شریف اور اُن کی راج دلاری کے پاکستان ، پاکستانی عوام اور پاکستانی اداروں کے خلاف اتنے گھناؤنے جرائم ہیں کہ اِن کی سزا میں اِن کی چیخیں تو اڈیالہ جیل سے باہر سارے پاکستان میں سنائی دینی چاہئیں۔لیکن محسوس یہ ہورہا ہے کہ ابھی حال ہی میں سابق ہونے والی نگران حکومت، نگران وزیر اعظم اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ نون لیگیوں کے شوروغوغا اور مجرم نواز شریف کی دولت وثروت کے سامنے جھک گئے ہیں۔ مبینہ طور پر سب سے گھناؤنا کردار نگران وزیر قانون اور وزیر اطلاعات سید علی ظفر نے ادا کیا ہے۔ ہم اِس حوالے سے اس شک کا اظہار بھی کرتے ہیں کہ چونکہ علی ظفر کے والد ایس ایم ظفر نے ساری عمر مجرم نواز شریف کے اقتدار سے مختلف شکلوں میں فائدے اُٹھائے ہیں، اسلئے ان احسانوں کا بدلہ چکانے کے لئے علی ظفر مختلف طریقوں اور ہتھکنڈوں سے مجرم قیدی نواز شریف کو سہولیات بہم پہنچانے کی بین السطور کوششیں کرتے رہے۔ تاڑنے والے بھی مگر قیامت کی نظر رکھتے ہیں۔مجرم نواز شریف کو بکتر بند گاڑی کی بجائے ائر کنڈیشنڈ لینڈ کروزرمیں اڈیالہ جیل سے ”نیب” عدالت میں لانا بھی اِسی کا شاخسانہ ہے۔ دونوں بڑے مجرموں کو وی وی آئی پی سہولتیں فراہم کی جارہی ہیں۔ جیل سے ”نیب” عدالت لانے اور ”نیب” عدالت سے اڈیالہ جیل پہنچانے کے لئے کئی گاڑیوں پر مشتمل شاندار پروٹوکول کوئی اور ہی داستان سنا رہی ہے۔ اس منظر سے نگرانوں اور مقتدر قوتوں نے پاکستان کے بائیس کروڑ عوام کا دل دکھایا ہے اور ثابت کیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں قانون اُسی کا ہے جس کے پاس دولت ہے، اثر ورسوخ ہے ، جو اسٹیبلشمنٹ میں اپنے مہرے رکھتا ہے، جو ہار کر بھی جیتتا ہے ، جو مجرم قرار دئیے جانے کے باوجود زندان خانوں میں شہزادوں کی طرح زندگیاں گزارتے ہیں۔ پھر کہاں کا انصاف کا بول بالا؟ کہاں کی برابری اور مساوات ؟ کہاں کی سزائیں اور تادیب؟وہ قوتیں جن کے اشارے پر نااہل اور مجرم نواز شریف کو ”آؤٹ آف دی وے” لینڈ کروزر کی شاندار اور غیر معمولی سہولت فراہم کی گئی ہے، شائد اُنہی کا اشارہ اور کنایہ پا کر شہباز شریف نے یہ کہا ہے کہ ”نواز شریف اور مریم نواز شریف انشاء اللہ عید الاضحیٰ اپنے گھر میں کریں گے۔” جس نے بھی یہ بھاشن سُنا ہے، ششدر ہی تو رہ گیا ہے۔ کیا ناممکن ، ممکن ہونے والا ہے؟ بڑا مجرم اور راج دلاری کی سزائیں اچانک معطل ہو رہی ہیں؟کیا عدالتیں اور مقتدر قوتیں مجرم نواز شریف اور راج دلاری سے خوف کھا رہی ہیں؟ اگر ایسا ہی ہے تو اتنے بڑے پیمانے پر پنگا لینے کی ضرورت ہی کیا تھی؟ ساری قوم کو بلند خواب دکھانے کی جسارت کیوں کی گئی؟ اگر مجرم اور کرپٹ حکمرانوں کو اِسی اسلوب میں معاف کئے جانے کا ڈول ڈالنا ہے تو پانامہ مقدمات کا پنڈورا کھولنے اور ان مقدمات پر قوم و ملک کا اربوں روپیہ ضائع کرنے کے کھڑاگ کی آخر ضرورت ہی کیا تھی؟ اسلام آباد کے بعض اداروں میں بیٹھے بعض معزز حضرات کی طرف سے بھی ایسی آوازیں اُٹھ رہی ہیں جن کا عوام الناس یہ ”ترجمہ” کرتے دکھائی اور سنائی دے رہے ہیں کہ ایون فیلڈ لندن کے فلیٹس کے حوالے سے سنائی جانی والی سزائیں بادی النظر میں بے بنیاد تھیں۔ مجرم نواز شریف اور راج دلاری کو کرپشن کی اساس پر سنائی جانی والی دس اور سات سال کی سزائیں اور100لاکھ پونڈز کے جرمانے مبینہ طور پر معاف کی جانے والی ہیں۔ اِس حوالے سے تبصروں اورقیافوں کی دُنیا سرگرم ہے۔ ہمیں نہیں معلوم ان میں کتنی سچائی ہے اور کتنا پروپیگنڈا۔ ایسا مگر کچھ ہے جس کی بنیاد پر ”دھواں” سا اُٹھتا ہُوا محسوس ہو رہا ہے۔ کسی مبینہ مُک مکا کی بازگشت بھی فضا میں ہے۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ حکومتی وکلا مجرم نواز شریف کے خلاف تیاری کرکے عدالت میں نہیں جارہے۔یہ مایوس کن اور دلشکنی کی باتیں ہیں۔ اگر اِس میں رتّی بھر بھی سچائی ہے تو یہ قوم سے دھوکہ دہی کے مترادف ہوگا۔ہمارا تو ہمیشہ ہی سے یہ موقف رہا ہے کہ مجرم و نااہل نواز شریف اور راج دلاری کو کل ہی چھوڑ دیا جائے لیکن پہلے اُن سے وہ تمام پیسے نکلوائے اور اُگلوائے جائیں جو انہوں نے پاکستان سے لُوٹے ہیں اور منی لانڈرنگ سے غیر ممالک میں لے گئے ہیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے اور سارا لُوٹا گیا پیسہ واپس پاکستان کے قومی خزانے میں جمع کروادیا جاتا ہے تو ایسے بہادر افراد اور اداروں کو ہمارا سیلوٹ اور سلام ہو گا۔پھر اس کے بعد ان کرپٹ اور مجرم باپ بیٹی کے وجود سے وطنِ عزیز کو پاک کیا جانا چاہئے، یوں کہ اُنہیں ملک سے نکال باہر کیا جائے۔ پھر یہ لوگ جہاں چاہیں، چلیں جائیں۔ ہمیں ان سے کوئی سروکار نہیں ہو گا۔ یاد رکھا جائے اگر ایسا نہیں ہوتا اور انہیں پُراسرار انداز میں رہائی مل جاتی ہے تو عمران خان کا اقتدار بھی اُن کے ریلے میں بہہ جائے گا۔ پی ٹی آئی کی چھت پر بیٹھے کئی فتحیاب پرندے بھی اُڑ کر نون لیگ کی چھت پر آ بیٹھیں گے۔ مقتدر قوتوں کو ایک نئے اور مہلک بیانئے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ہماری سیاسی تاریخ نئے انداز سے رقم کی جائے گی۔ نواز شریف اور راج دلاری کے غیض و غضب سے کم ہی ادارے محفوظ رہ سکیں گے۔”ووٹ کو عزت دو” کا نعرہ انتقام اور خونریزی کا موجب بن جائے گا۔ کیا مقتدر قوتیں اس سب کے لئے تیار ہیں؟اگر مجرم اور نااہل نواز شریف اور راج دلاری کو آخر کاررہا کرنا ہی مطلوب ومقصود ہے تو ہماری پاکستان کی سب سے بڑی عدالت کے عزت مآب جج صاحب سے دست بستہ گزارش یہ ہے کہ پھر پاکستان کی تمام جیلوں میں فراڈ ، لُوٹ ماراور کرپشن کے کیسوں میں سزائیں کاٹنے والے تمام مجرموں کو بھی رہائی کے پروانے عطا فرمائے جائیںتاکہ ملک میں کہیں تو مساوات کا پرچم لہرا سکے۔اگر نااہل اور مجرم نواز شریف اور راج دلاری ایسے سزا یافتہ مجرموں کو رہا ہی کرنا ہے تو پھر مبینہ جعلی بینک اکاؤنٹوں کی بنیاد پر آصف زرداری اور فریال تالپور وغیرہ کے خلاف 35ارب روپے کی منی لانڈرنگ کا شور چہ معنی دارد؟ پھر ان الزامات کی بنیاد پر آئے روز مذکورہ دونوں ملزمان کے خلاف وارنٹ کیوں نکالے جارہے ہیں؟ آخر کیوں پھر زرداری کے مبینہ فرنٹ مَین انور مجید پر عدالتِ عظمیٰ نے ہاتھ ڈالا ہے؟ اگر ان ملزمان کو بھی آخر میں چھوڑنا ہی ہے تو پھر 35ارب روپے کے سیکنڈل کے بڑے ملزم انور مجید اور اُس کے بیٹے عبدالغنی انور کو احاطہ عدالت سے گرفتار کرنے کی وجہ؟ اگر ایسے ہی حالات کا چلن عام رہا تو پھر ”ووٹ کو عزت دو” کے نعرہ زَن جیت جائیں گے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اجتماعی طور پر یہ ہمارے ملک کے لئے نقصان دِہ ہوگا۔ اور یہ ” ووٹ کو عزت دو ” کا نون لیگی نعرہ بھی عجب تماشہ اور دھوکہ ہے۔یہ دراصل قوم سے بھی مذاق ہے اور ووٹروں سے بھی۔ یہ نااہل نواز شریف اور شہباز شریف کی طرف سے دوغلے اور دہرے کردار کا مظاہرہ ہے۔ اس دوغلے پَن میں نون لیگ کے ساتھ مولوی فضل الرحمن ایسا لالچی اور اقتدار کا بھوکا بھی برابر کا شریک ہے۔ مثال کے طور پر نون لیگ اور جے یو آئی (ایف) کے جو اُمیدوار جیت کر قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے رکن بن گئے، وہاں تو اُن کے نزدیک دھاندلی نہیں ہُوئی اور وہاں ووٹ کو عزت بھی ملی ہے ۔ مگر وہ حلقے جہاں نون لیگی اور اُن کے ہمنوا بُری طرح شکست کھا گئے ہیں، وہاں ان کے نزدیک ووٹ کو عزت نہیں ملی ہے۔ ہماری بھی کیا قسمت ہے کہ ہمیں قومی سطح پر مولوی فضل الرحمن ایسا سیاستدان ملا ہے جس نے ہمیشہ اقتدار کی خاطر قوم کو دھوکہ اور فریب ہی دیا ہے۔ یہ وہ شخص ہے جس نے حالیہ ایام میں محض اپنے لالچ میں منتخب ارکانِ اسمبلی کو یہ ”قیمتی” مشورہ دیا تھا کہ حلف نہ اُٹھائے جائیں۔ اگر اس بدباطن شخص کی بات مان لی جاتی تو ملک بھر میں زبردست آئینی بحران پیدا ہو جاتا۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس بیہودہ شخص کے مشورے کو سب نے مسترد کر دیا۔ تو کیا عزت رہ گئی اس آدمی کی جس نے دین کے نام پر ملک وقوم کو ایک بار پھر فریب دینے کی ناکام کوشش کی ؟حتیٰ کہ اس کا اپنا بیٹا اسعد محمود بھی رکنِ اسمبلی بن گیااور حلف بھی اُٹھا لیا۔ اُس نے تو باپ سے سرکشی کرکے قومی اسمبلی میں ڈپٹی سپیکر کا انتخاب بھی لڑامگر ہار گیا۔ ایسا کرتے ہُوئے اُسے بھی شرم نہیں آئی۔ تو مولوی فضل الرحمن کے اس دعوے میں کیا صداقت رہ گئی ہے کہ انتخابات میں دھاندلی ہُوئی ہے؟ کیا اس شخص کا اپنا بیٹا بھی دھاندلی سے جیت کر رکنِ اسمبلی بنا ہے؟ اس کا شافی جواب دینے کے لئے مولوی فسادی تیار نہیں ہے۔ اگر واقعی معنوں میں دھاندلی ہُوئی ہے تو اس کا اپنا بیٹا اور اپنی جماعت کے منتخب شدہ لوگ استعفے دے کر اسمبلیوں سے باہر کیوں نہیں آجاتے؟ ایسا کرنے کے لئے مگر یہ منافق گروہ تیار ہے نہ اس کی جرأت ہی رکھتا ہے۔کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے۔ہم اللہ کے شکر گزار ہیں کہ مولوی فضل الرحمن ایسے مفسدین اور منافقین کی موجودگی کے باوصف قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے سپیکرز اور ڈپٹی سپیکرز کا انتخاب انتہائی خوش اسلوبی سے تکمیل کو پہنچ گیا ہے۔ سندھ اور خیبر پختونخوا میں تو وزرائے اعلیٰ کا انتخاب بھی عمل میں آگیا ہے۔ الحمد للہ۔ کہیں بھی کوئی قابلِ ذکر ناخوشگوار سانحہ یاواقعہ رُونما نہیں ہُوا ہے۔عمران خان نے وزیر اعظم منتخب ہوتے ہی پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے نام کا بھی اعلان کر دیا ہے۔ سردار عثمان بزدار جنوبی پنجاب کے دُور افتادہ اور پسماندہ ترین علاقے”تونسہ شریف” سے ہے۔ عثمان بزدار اگرچہ پی ٹی آئی میں نَووارد ہیں لیکن پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر اُن کا رکنِ صوبائی اسمبلی منتخب ہونا اِس امر کا اظہار ہے کہ عمران کی پارٹی سے تعلق مضبوط بھی ہے اور وہ اپنے علاقے میں اجنبی بھی نہیں ہیں۔ اگرچہ سردار عثمان بزدار کو وزیر اعلیٰ پنجاب نامزد کرکے پی ٹی آئی کے چیئرمین نے کئی دیگر اُمیدواروں کی اُمیدوں پر پانی پھیر دیا ہے لیکن سچی بات تو یہ ہے کہ اِس انتخاب کا براہِ راست مطلب یہ ہے کہ عمران خان جنوبی پنجاب کی پسماندگی، عسرت اور غربت کا عملی خاتمہ چاہتے ہیں۔ایسا فیصلہ کرکے اُنہوں نے کم ازکم ابتدائی ایام ہی میں اپنا ایک وعدہ ایفا کر دیا ہے، یوں کہ عمران خان نے ہمیشہ اپنے چاہنے والوں سے یہی کہا تھا کہ وہ غریب طبقات کو اوپر لائیں گے اور پنجاب کے اقتدار کو تختِ لاہور سے نجات دلائیں گے۔یہ اقدام قائد اعظم کے آدرشوں کے ارشادات کے عین مطابق ہے کہ پاکستان کی آزادی کا مطلب ہی یہ تھا کہ پاکستان کے تمام شہریوں اور علاقوں کو مساوی حقوق میسر رہیں۔ غالباً پہلی بار جنوبی پنجاب کے پسماندہ ترین علاقے سے کوئی سیاستدان منتخب ہو کر پنجاب کا وزیر اعلیٰ بنا ہے۔عمران کا یہ فیصلہ میرٹ کی بلندی بھی ہے۔ یومِ آزادی کے آس پاس کیا گیا یہ فیصلہ مستحسن ہے۔ اس کی تعریف کی جانی چاہئے۔ یہ دراصل مولوی فضل الرحمن ایسے لوگوں کے نظریات اور نیتوں کی بھی شکستِ فاش ہے جو پاکستان کا یومِ آزادی منانے کی بھی مخالفت کرتے ہیں۔اب یہ لوگ بمعہ نااہل نواز شریف اور شہباز شریف اگلے پانچ برسوں کے لئے اپنے زخم چاٹتے رہیں گے۔ انشاء اللہ !!


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »