Daily Taqat

احتساب بلا امتیاز سب کیلئے ہوگا تو عمران خان کامیاب ہونگے!

 

یہ مناظر ہم سب ملاحظہ کررہے ہیں کہ سابق صدرِ پاکستان آصف علی زرداری اور اُن کی ہمشیرہ فریال تالپور مبینہ35ارب روپے کی منی لانڈرنگ کے سلسلے میں ایف آئی اے اور عدالتوں کے دفاتر کے چکر پہ چکر لگا رہے ہیں۔ مہنگے وکیلوں سے آئے روز اُن کے مشورے بھی جاری ہیں۔ دونوں بہن بھائی جنہوں نے اقتدار اور دولت کے خوب مزے لُوٹے ہیں، ابھی مزید چند دنوں کے لئے ضمانتوں پر ہیں۔یہ مناظر آصف زرداری اور اُن کے وابستگان کے لئے شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہیں کہ پاکستان کے سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین، بے نظیر بھٹو کے شوہر اور ذوالفقار علی بھٹو کے داماد ”صاحب” کرپشن اور منی لانڈرنگ کے الزامات میں تھانوں کچہریوں میں خجل خوار ہورہے ہیں۔سپریم کورٹ کی طرف سے آصف زرداری کے پیش کردہ حلفیہ بیان کو غیر واضح اور مشکوک قرار دینا اہم پیش رفت ہے۔ زرداری نے جب عدالت کے رُوبرو یہ کہا کہ اُن کی بیرونِ ملک کوئی منقولہ یا غیر منقولہ جائداد اور روپیہ پیسہ نہیں ہے تو ہمارے معزز ججوں کا ماتھا ٹھنکنا لازم تھا۔ اس بیان سے تو پاکستانی عوام بھی ششدر رہ گئے ہیں۔آصف زرداری اور بیرونِ ملک کوئی جائیداد نہ ہو؟ ناممکن !! پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ کی طرف سے سابق صدرِ پاکستان کو یہ حکم دینا کہ وہ پچھلے ایک عشرے کے دوران بنائے گئے اپنے تمام اثاثوں (منقولہ اور غیر منقولہ)کی تفصیلات (معہ سوئس اکاؤنٹس)تین ہفتوں کے اندر اندر عدالت میں پیش کریں، ایک شاندار اقدام ہے۔ ہماری معزز ترین عدالت کا یہ حکم صادر کرنا کہ آصف زرداری اپنی مرحومہ اہلیہ اور اپنی اولاد کے نام ہر قسم کی جائیداد کی تفصیلات بھی عدالت میں پیش کریں،دراصل ایسا اقدام ہے جس نے ایک نئی مثال قائم کی ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ ان اقدامات کا اَنت کیا ہوگا لیکن فی الحال ہمارے سمیت ساری پاکستانی قوم نے عدالتِ عظمیٰ کے عزت مآب ججوں کے اِن احکامات سے گہرا اطمینان محسوس کیا ہے۔ اُمید کا ایک چراغ پھر سے عوام کے دلوں میں جل اُٹھا ہے کہ ہمارے ملک کے کچھ ”بڑے” بھی درست ترین احتساب کے شکنجے میں جکڑے جانے والے ہیں۔ ممکن ہے اِسی طرح پاکستان کا لُوٹا اربوں کھربوں کا مال واپس پاکستان لایا جا سکے ۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ ایسا کارنامہ ہوگا جس کا ذکر احتساب کی عالمی تاریخ میں سنہرے حروف میں لکھا جائے گا۔یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ آصف زرداری کی تازہ ترین منی لانڈرنگ کیس میں پندرہ مزید مشتبہ اکاؤنٹس سامنے آئے ہیں۔ یا خدایا، اس ملک کو کس کس انداز میں لُوٹا گیا ہے۔ دیکھا جائے تو پچھلے کئی برسوں سے آصف زرداری اِنہی چکروں میں ہیں لیکن اُن کی مستقل مزاجی دیکھئے کہ کرپشن کرنے سے وہ پھر بھی باز نہیں آئے۔ اُنہی کے کارن پورا سندھ مالی اور انتظامی اعتبار سے کامل بربادی اور تباہی کے کنارے پہنچ چکا ہے ( تازہ رپورٹ یہ بھی آئی ہے کہ سندھ حکومت نے پچھلے مالی سال میں صوبے کی کمائی سے 42ارب روپے زیادہ خرچ کر ڈالے)قیامت کا منظر یہ بھی ہے کہ آصف زرداری کا سب سے بڑا فرنٹ مَین انور مجید بھی دھرلیا گیا ہے اور اُس کے ”صاحبزادگان” بھی۔ شنید ہے وہ بہت کچھ اُگل رہے ہیںجن کی بنیاد پر زرداری کے خلاف کیس مضبوط سے مضبوط تر ہوتا جارہا ہے۔ ویسے تو زرداری کے خلاف مبینہ طور پر درجنوں بیگناہوں کے قاتل عزیر بلوچ نے بھی بہت کچھ اُگلا تھا لیکن اس کے باوجود بڑے ملزم کا بال بھی بیکا نہ کیا جا سکا۔ تو کیا اِس بار بھی قوم کو پھر مایوس کیا جائے گا؟ احتساب کے نام پر یہ سارا تام جھام آخر میں ڈرامہ ہی ثابت ہوگا؟ ایسے خدشات جڑ پکڑ رہے ہیں۔مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ عمران خان کے وزیر اعظم بننے کے بعد یہ احساس نمایاں ہورہا ہے کہ کرپٹ افراد کے خلاف احتساب کا شکنجہ سخت سے سخت ہوتا جارہا ہے۔ گذشتہ روز وزیر اعظم عمران خان اور چیئرمین ”نیب” کے درمیان جو پہلی وَن آن وَن ملاقات ہُوئی ہے، اس میں بھی وزیر اعظم نے ایک بار پھر اپنے اس عہد کو تازہ کیا ہے، یہ کہہ کر کہ بِلا تفریق و امتیاز احتساب حکومت کی اولین ترجیح ہے۔یہ ایک خوش کن اعلان ہے۔ قوم شدت سے کرپٹ افراد کو سزائیں ملنے کی منتظر ہیں۔کرپشن کے حوالے سے تازہ مثال پی آئی اے کے ایک بڑے ملزم کی سامنے آئی ہے۔ خبر ہے کہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) نے پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) مشرف رسول کو فوری طور پر نکال باہر کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ ثقہ ذرائع کی طرف سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ اُن کی تعیناتی irregular favourتھی۔ رپورٹ کے مطابق، اے جی پی آفس کی طرف سے اس امر کی بھی منظوری دی گئی ہے کہ مذکورہ سی ای او نے جو تنخواہیں وصول کیں، جو مراعات حاصل کیں اور جو ٹکٹ استعمال کئے ، موصوف سے سب کچھ واپس لیا جائے اور اِس بات کی بھی تحقیق کی جائے کہ آیا سابق وزیر اعظم پاکستان کے مشیر( سردار مہتاب عباسی) بھی مشرف رسول کی اپوائنٹمنٹ میں شریک تھے؟یہ بھی کہا گیا ہے کہ مشرف رسول کی ملازمت کے دوران پی آئی اے کے ایچ آر ڈی میں کئی سنگین بے قاعدگیاں پائی گئیں۔ رپورٹ کے تیار کنندہ کا دعویٰ ہے کہ اس عہدے کے لئے مشرف رسول کی درخواستِ ملازمت قوانین کے مطابق بورڈ آف ڈائریکٹرز کی طرف سے شارٹ لسٹ بھی نہیں کی گئی تھی۔موصوف کو سابقہ حکومت کے دوران اسلئے متذکرہ اعلیٰ ترین عہد ے پرفائز کردیا گیا تھا کہ وہ کے پی کے میں ایک اہم ترین سیاسی عہدے پر بروئے کار سردار مہتاب عباسی کے ساتھ کام کرتے رہے تھے ، اسلئے اُنہیں مبینہ طور پر اشتہار میں دئیے گئے مطلوبہ تجربہ و قابلیت نہ رکھنے کے باوجود رکھ لیاگیا۔ اُن کی تاریخِ پیدائش بھی مبینہ طور پر غلط پائی گئی ہے ۔ اُن کے قومی شناختی کارڈ میں اُن کی تاریخ پیدائش4نومبر1967ء لکھی گئی ہے جبکہ اُن کے میٹرک کی سند پر تاریخ پیدائش12مارچ1967ء درج ہے۔گذشتہ برسوں کے دوران اِسی طرح کی غلط بیانی پر پی آئی اے کے کئی ملازمین فارغ کر دئیے گئے تھے لیکن مشرف رسول پُراسرار ہاتھوں کی طاقت سے بچ رہے ہیں۔رپور ٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سپیشل گورنمنٹ پے سکیل کے مطابق گریڈ ایم وَن کی تنخواہ زیادہ سے زیادہ پانچ لاکھ روپے ماہانہ بنتی ہے لیکن یہ صاحب20 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ وصول کرتے رہے(پندرہ لاکھ روپے بیسک پے، یوٹیلیٹی الاؤنس ڈیڑھ لاکھ روپے، ہاؤس رینٹ الاؤنس دو لاکھ روپے، انٹرٹینمنٹ الاؤنس ایک لاکھ روپے، فیول الاؤنس پچاس ہزار روپے ماہانہ کے حساب سے) اِس کے علاوہ اُنہیں یہ اختیار تھا کہ وہ سالانہ35ہوائی ٹکٹیں استعمال کرسکتے تھے جبکہ مشرف رسول نے 66ٹکٹیں استعمال کر ڈالیں ۔ کیا قوم و ملک کے سرمائے کو شیرِ مادر سمجھ کر ہضم کرجانے والے ایسے اعلیٰ عہدیداران کا حساب کتاب بھی ہوگا؟وزیر اعظم جناب عمران خان کا بچتی نعرہ اور کفایت شعاری اختیار کرنے کا عہد سارے ملک میں پسند کیا گیا ہے۔ اُنہوں نے 25 اگست2018ء کو سینیٹ سے اپنا جو پہلا خطاب کیا ہے، اس میں بھی بچت اور کفایت شعاری اختیار کرنے پر زور دیا ہے۔ یہ باتیں مستحسن اور قابلِ تعریف ہیں ۔ ان پر عمل کرنے کے لئے نئی حکومت کو وقت اور موقع بھی فراہم کیا جانا چاہئے۔ فوری طور پر تنقید اور تنقیص سے پرہیز بھی از حد ضروری ہے لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ مشرف رسول ایسے عناصر کا فوری احتساب کب کیا جائے گا؟ یہ احتساب کون کرے گا؟قوم اس بات کا بھی شد ت سے انتظار کررہی ہے۔ احتساب کی بنیادی شرائط پوری کرنے کے لئے یہ بھی ضروری ہی تھا کہ کرپٹ عناصر کے نام ای سی ایل پر ڈالے جائیں۔ احتساب بلاکسی امتیاز کے اور بغیر کسی تاخیر کے سامنے آنا چاہئے ۔ یا درکھا جائے احتساب وہی قابلِ اعتبار ہوتا ہے جو کسی امتیاز اور تعصب کے کیا جائے ۔ اور یہ بھی یا درکھا جائے کہ دُنیا میں ہمیشہ وہی قومیں ، نسلیں اور ملک کامیاب و کامران رہتے ہیں جو ہروقت اپنے اعمال کا حساب اور احتساب کرتے رہتے ہیں۔ بلا رنگ و نسل اور سیاسی امتیاز کے بغیر احتساب کرنا دراصل انصاف کی ایک ایسی تلوار ہے جس سے معاشروں اور حکومتوں کی برائیوں اور غلطیوں کا سر قلم کیا جاتا ہے ۔ حضرت علامہ اقبال نے اِسی لئے تو فرمایا تھا:” صورتِ شمشیر ہے دستِ قضا میں وہ قوم/کرتی ہے ہر زماں جو اپنے عمل کا حساب۔” اِس کڑے احتساب کا یہ بھی تقاضا ہے کہ پی ٹی آئی کے سینیٹر اعظم خان سواتی کی رپورٹ پر بھی فوری عملدرآمد کیا جائے۔ اعظم سواتی کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنائی گئی تھی جس کے ذمہ یہ لگایا گیا تھا کہ وہ تحقیق کرکے اس بات کا سراغ لگائے کہ 25جولائی کے انتخابات میں آر ٹی ایس( رزلٹ ٹرانسمشن سسٹم) کا بھٹہ کیوں بیٹھا تھا؟ اس بحران اور سیکنڈل کے پیچھے کس کا ہاتھ تھا؟ آر ٹی ایس کے بارے میں اپوزیشن نے دانستہ بڑے بڑے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ یہ بھی مگر کہا گیا ہے کہ آر ٹی ایس کے بیٹھنے سے اصل نقصان تو پی ٹی آئی کو پہنچا ہے کہ سارا وسطی پنجاب پی ٹی آئی کے ہاتھوں سے نکل گیا۔ اگر آر ٹی ایس کی کارکردگی توقعات کے مطابق ہوتی تو پی ٹی آئی کی نشستوں میں اضافہ ہو سکتا تھا لیکن سابقہ حکومت کے تنخواہ دار کارندوں نے مبینہ طور پر وفا نبھائی اور کئی حلقوں کے نتائج پی ٹی آئی کے مخالفین کے حق میں نکل آئے۔مذکورہ تحقیقاتی و انکوائری کمیٹی میں اعظم سواتی کے ساتھ آئی ٹی کے کئی ماہرین بھی شامل تھے۔ اعظم سواتی نے 26اگست کو اپنی یہ تفتیشی اور تحقیقی رپورٹ وزیر اعظم جناب عمران خان کی خدمت میں پیش کر دی ہے۔ انتہائی باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ اعظم خان سواتی کی اِس کمیٹی نے”نادرا” کے کئی اعلیٰ ترین حکام کو ”آر ٹی ایس” کی ناکامی اور بیٹھنے کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔اِن میں ”نادرا” کے سربراہ عثمان یوسف مبین بھی ذمہ دار اور مجرم قرار دئیے گئے ہیں ۔ کمیٹی مذکور نے وزیر اعظم کو تجویز کیا ہے کہ عثمان یوسف مبین سمیت ”نادرا” کے ڈی جی پراجیکٹس ذوالفقار علی اور ڈی جی سوفٹ ویئر ڈویلپمنٹ احمرین احمد کو ملازمتوں سے بیک بینی و دو گوش فارغ کر دیا جائے ۔احمرین احمد کے بارے میں یہ بھی معلوم ہُوا ہے کہ وہ ”نادرا” چیئرمین کے نہائیت قریبی رشتہ دار ہیں۔ چاہے کوئی بھی ہو ،انصاف اور احتساب کا تقاضا ہے کہ انکوائری کمیٹی میں ذمہ دار قرار دئیے جانے والوں کو فوری سزائیں دی جائیں ۔ ابھی تو تین درجن سے زائد حلقوں میں ضمنی انتخابات(جن کا انعقاد 14اکتوبر2018ء کوہونا ہے) کا میدان لگنا ہے۔ اگر اعظم سواتی کی کمیٹی کے تحت آر ٹی ایس کے بحران کے حوالے سے ذمہ دار قرار دئیے جانے والے افراد کو سزائیں نہ دی گئیں تو ( ١) اپوزیشن کو حکومت کے خلاف مزید پروپیگنڈہ کرنے کے مزید مواقع ملیں گے(٢) ضمنی انتخابات میںپی ٹی آئی کو ایک بار پھر سیاسی وانتخابی نقصانات پہنچنے کے اندیشے بڑھ جائیں گے(٣) خان کی حکومت کے بارے کہا جائے گا کہ یہ فیصلوں پر تنفیذ کی ہمت و استطاعت ہی نہیں رکھتی۔عمران خان کی حکومت پر بد قسمتی سے بعض اطراف سے ابھی سے شدید تنقید کے تیروتفنگ برسنے لگے ہیں،حالانکہ اُنہیں اقتدار میں آئے ابھی تو دو ہفتے بھی نہیں ہُوئے ہیں۔ یہ صورتحال غیر متوقع نہیں ہے۔ ایسا ہونا ہی تھا۔ وجہ یہ ہے کہ جن کے ہاتھوں سے حکومت گئی ہے ، وہ خود اور اپنے چیلوں چانٹوں کی وساطت سے عمران کے خلاف خاموش اور چین سے ہر گز نہیں بیٹھیں گے۔ یہی وہ مفسد عناصر ہیںجنہوں نے خان کے حلف اٹھاتے ہُوئے ایک لفظ کی ادائیگی پر خواہ مخواہ اعتراض اُٹھا دئیے، جنہوں نے کے پی کے اور پنجاب میں نامزد کئے جانے والے وزرائے اعلیٰ صاحبان کے ناموں پر بھی اعتراض کئے ہیں، یہ وہی شرارتی لوگ ہیں جو خارجہ محاذ پر بھارت اور امریکہ کے حوالے سے دو معمولی واقعات کو بانس پر چڑھانے کی ناکام کوششیں کررہے ہیں، انہوں نے پنجاب پولیس کے ایک نامعقول افسر کی ایک نامعقول اور غیر پیشہ وارانہ حرکت کو بات کا بتنگڑ بنا کر خان کی خانگی زندگی کو ہدف بنانے کی قابلِ مذمت جسارت کی ہے اور یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے وزیر اعظم کے پہلے سینیٹ خطاب کو مذاق بنانے کی کوششِ ناتمام کی ہے لیکن قوم کے بیشتر حصے نے ان کوششوں کی طرف آنکھ بھی اُٹھا کر نہیں دیکھا، اسلئے پی ٹی آئی کی حکومت کو کمر باندھ کر قوم وملک کے دشمنوں اور لُٹیروں کو احتساب کے کٹہرے میں ہر صورت لانا ہوگا۔ عمران خان نے اس کے لئے ایک ٹاسک فورس بھی قائم کی ہے جس کے ایک سربراہ مرزا شہزاد اکبر ہیں۔ شہزاد اکبر احتساب کے معاملات میں وزیر اعظم کے سپیشل اسسٹنٹ بھی ہیں۔ اُن کے ذمے کام ہی یہ ہے کہ لُوٹا ہُوا مال برآمد کرنا ہے۔ 29اگست کو اُنہوں نے اس سلسلے کی پہلی بھاری میٹنگ بلائی ہے۔ اس میں نیب، وزارتِ خزانہ، سٹیٹ بینک، وزارتِ خارجہ، اے جی پی، ایف آئی اے ، ایس ای سی پی، وزارت ِقانون اور ایف بی آر کے سینئر نمائندگان نے شرکت کی ۔ مشورہ یہی کیا گیا ہے کہ ملک کے اندر اور ملک سے باہر جو مال ہمارے سیاستدانوں ، سابق حکمرانوں اور طاقتور بیوروکریٹوں نے لُوٹا ہے، اُسے کیسے اور کب تک واپس لا کر ملکی خزانے میں جمع کروانا ہے۔ اس سلسلے میں کئی رکاوٹوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ مثال کے طور پر پاکستان نے ابھی تک عالمی”ایم ایل ایس”( میوچل لیگل سسٹم) پر دستخط نہیں کئے ہیں۔ یہ دستخط نہ کرنے کی وجہ سے وزیر اعظم عمران خان کو امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، عرب امارات، ملائشیا میں رکھا گیا لُٹیرے پاکستانیوں کا سرمایہ واپس لینے میں ممکنہ دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ہمارا ذاتی خیال یہ ہے کہ سابقہ کرپٹ حکومتوں کے برعکس ، اگر عمران خان اپنی ذاتی نگرانی میں مذکورہ ممالک کے حکمرانوں اور حکومتوں سے رابطے کریں تو یہ ناممکن الحصول کام ممکن بن سکتا ہے۔ سابقہ حکمرانوں نے تو جان بوجھ کر اس معاہدے(ایم ایل ایس) پر دستخط ثبت نہیں کئے تھے کیونکہ اُنہیں بخوبی علم تھا کہ اگر دستخط کریں گے تو اُن کا لُوٹا مال بھی کبھی واپس لایا جا سکتا ہے۔ ہماری یہ بھی تجویز ہے کہ خان کی حکومت کو فوری طور پر”ایم ایل ایس” معاہدے پر دستخط کرنے کی راہ ہموار کرنی چاہئے۔ تازہ ترین اطلاع یہ ہے کہ انٹر پول حکام نے پرویز مشرف کو پاکستان کے حوالے کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ یہ ہمارے لئے ندامت کا باعث ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو کل کلاں پاکستانی قوم کے تین بڑے مفرور ملزمان( حسن نواز، حسین نواز، اسحق ڈار)کو واپس پاکستان لانا بھی دشوار ہو جائے گا اور احتساب کی منتظر پاکستانی قوم منہ دیکھتی رہ جائے گی۔حقیقت یہ ہے کہ نواز شریف کے بھگوڑے بیٹوں ، اسحق ڈار اور مشرف کو واپس پاکستان لانا ہماری نئی حکومت کے لئے بڑے چیلنج ہیں۔ یہ بات بہرحال اطمینانِ قلب کا باعث بنی ہے کہ لندن میں گئے صدرِ مملکت جناب ممنون حسین نے صاف الفاظ میں کہا ہے کہ وہ نواز شریف کی رہائی میں کوئی کردار ادا نہیں کر سکتے۔ قوم و ملک کے خیر خواہ اور انصاف پسند صدر کو ایسا ہی بیان دینا چاہئے تھا۔اِس سے پہلے بھی وہ بین السطور کرپشن کے حوالے سے نواز شریف کے خلاف بیان دے کر اپنی غیر جانبداری اور انصاف پسندی کا جھنڈا بلند کر چکے ہیں۔ قوم نے بہر حال صدرِ پاکستان جناب ممنون کا یہ انداز پسند نہیں کیا ہے کہ اُنہوں نے لندن میں مفرور نواز شریف کے بیٹوں سے معانقہ کیا ہے۔ اوررہی بات اپوزیشن کی طرف سے عمران خان کے خلاف ہر بات میں مخالفت کی تو ان سے نمٹنا کوئی مشکل نہیں ہے۔ ساری اپوزیشن نئے صدر کے انتخاب کے لئے اپنے اپنے مفادات میں جس طرح پارہ پارہ ہُوئی ہے، وزیر اعظم اور پی ٹی آئی کو تو اِسے اللہ کی طرف سے غیبی امداد سمجھنا چاہئے۔مولانا فضل الرحمن کے لالچی کردار نے پاکستان تحریکِ انصاف کی کئی مشکلات سہل کر دی ہیں۔ اپوزیشن کی یہ پھوٹ پی ٹی آئی کے صدارتی اُمیدوار 69سالہ ڈاکٹر عارف الرحمن علوی کے لئے صدارت کی راہ ہموار کرے گی۔ انشاء اللہ۔ ڈاکٹر علوی پی ٹی آئی کے مخلص ، کمٹڈاور بانی ارکان میں سے ہیں۔ شائستہ مزاج اورخوشگوار طبیعت کے حامل ڈاکٹر علوی پاکستان ، پی ٹی آئی اور پاکستانی عوام کے لئے مفید ثابت ہوں گے۔اُن کے بطورِ صدرِ پاکستان منتخب ہونے سے پاکستان کے چاروں صوبوں کو اقتدار میں مساوی حق مل جائے گا: صدر سندھ سے، سینیٹ کے چیئرمین بلوچستان سے، قومی اسمبلی کے سپیکر خیبر پختونخوا سے اور وزیر اعظم پنجاب سے۔یہ دراصل پی ٹی آئی کی ایک بے مثال کامیابی ہے۔ اس پر عمران خان اور اُن کے ساتھیوں کو اللہ تعالیٰ کی کرم نوازیوں اور مہربانیوں کا شکر ادا کرنا چاہئے۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »