عمران خان سے اپوزیشن کا استعفے کا مطالبہ : یہ بازو مرے آزمائے ہوئے

جناب عمران خان کی حکومت متعدد اور متنوع بحرانوں میں گھری نظر آتی ہے ۔ پچھلے دو برسوں سے پی ٹی آئی کی حکومت جس بے طرح معاشی مسائل کے بھنور میں پھنسی ہے ، یہ تو اپنی جگہ ایک گمبھیر مسئلہ تھا ہی لیکن اب پاکستان کی درجن بھر سیاسی جماعتوں نے عمران خان کے خلاف متحدہ جنگ کرنے کا اعلان کرکے ایک نیا کھڑاگ کر دیا ہے ۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان پچھلے دو سال کے دوران جس طر ح کی شدید کشیدگی اور نفرت پائی جا رہی تھی ، اس کا نتیجہ یہی نکلنا تھا ۔افسوس کی بات تو یہ ہے کہ اپوزیشن اور میاں نواز شریف کے بیانات نے اسٹیبلشمنٹ کو بھی ہدف بنا لیا ہے ۔ نواز شریف کا یہ بیان کہ ”ہماری لڑائی عمران خان سے نہیں ، اُن کو لانے والوں کے خلاف ہے ” دراصل ایک خطرناک بیانئے کی نشاندہی کررہی ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان مگر متحدہ اپوزیشن ( PDMیعنی پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ) کے ان اعلانات سے گبھرا رہے ہیں نہ خوف کا شکار ہیں ۔ وہ جرأت سے کہتے سنائی دیتے ہیں کہ ”اگر پی ڈی ایم والوں نے کوئی غیر قانونی حرکت کی تو مَیں سب کو جیلوں میں ڈال دوں گا۔”گویا حکومت اور اپوزیشن میں اب باقاعدہ ٹھن گئی ہے ۔ اب واپسی اور صلح کے سارے راستے مسدود اور معدوم ہو گئے ہیں ۔ ممکن ہے یہ منظر نامہ مجموعی طور پر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے مفادات کے خلاف ہی ہو ۔ فریقین میں سے مگر کوئی بھی ہوش کے ناخن لینے کیلئے تیار نہیں ہے ۔ یہ بات تشویشناک ہے ۔ ایسے میں یہ طے کرنا کہ اس سارے منظر نامے کا اصل ذمہ دار کون ہے ، ایک مشکل امر ہے ۔ حکومت کے خلاف محاز آرائی میں اب لندن میں بیٹھے نواز شریف بھی کھل کر سامنے آ گئے ہیں ۔ اُن کی مبینہ بیماریاں بھی غائب ہو گئی ہیں اور اُن کے پلیٹلٹس بھی اپنی جگہ پر قائم ہو چکے ہیں ۔ پچھلے ایک ہفتے کے دوران وہ تین بار ، بذریعہ سوشل میڈیا، اپنی پارٹی اور اپوزیشن کے متحدہ اجلاسوں سے خطاب کر چکے ہیں ۔ اُن کے ہر خطاب میں کوئی نئی درفنطنی چھوڑی گئی ہے ۔ اور یہ درفنطنیاں سماج ، حکومت اور اسٹیبلشمنٹ میں نئی ہلچل پیدا کر گئی ہیں ۔ اُنہوں نے پاکستان کے ایک خفیہ ادارے کے ایک سابقہ سربراہ پر جس طرح الزام عائد کیاہے ، خاصا تشویشناک ہے ۔ ابھی تک فریقِ ثانی کی طرف سے اس الزام کی تردید بھی نہیں کی گئی ہے ۔ یہ مزید تشویشناک بات ہے ۔ حیرانی کی بات ہے کہ ایک طرف تو نواز شریف اسٹیبلشمنٹ کے خلاف محاز آرائی پر تلے بیٹھے ہیں اور دوسری طرف اُن کے نمائندگان درپردہ مبینہ طور پر آرمی چیف جناب جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملتے رہے اور یہ کوئی پرانی بات نہیں ہے ۔ پچھلے ماہ ستمبر کے اولین ہفتے کی بات ہے ۔ اب یہ راز کھل چکا ہے اور اس ملاقات کی تصدیق فوج کے تعلقاتِ عامہ کے سربراہ بھی اپنے ایک بیان میں کر چکے ہیں ۔ دوسری طرف وزیر اعظم عمران خان بھی کھل کر سامنے آ گئے ہے ۔ اُنہوں نے حالیہ ایام میں اپنے تین انٹرویوز میں صاف الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ ”اپوزیشن والوں کو این آر او نہیں مل رہے ، اسی لئے حکومت کے خلاف اُٹھ کھڑے ہُوئے ہیں ۔ مَیں حکومت چھوڑ سکتا ہُوں لیکن اپوزیشن کو این آر اونہیں دوں گا۔” وہ مزید کہتے ہیں:”اپوزیشن کے چند لوگ اپنا کرپشن کا پیسہ بچانے کیلئے یکجا ہُوئے ہیں ۔ نواز شریف کے بیانات دراصل بھارتی مفادات کی ترجمانی ہے ۔” عمران خان مزید کہتے ہیں:”نواز شریف افواجِ پاکستان کے خلاف بیان دے کر ملک کو کمزور کررہے ہیں ۔یہ ناقابلِ برداشت ہے ۔” عمران خان ببانگِ دہل یہ بھی کہتے سنائی دے رہے ہیں کہ مجھے اپوزیشن کی تحریک سے کوئی خطرہ نہیں ہے ۔ ایسا ہی ایک اعلان اُنہوں نے2اکتوبر 2020ء کو بھی دیا ہے جب وہ اپنے ترجمانوں سے خطاب کررہے تھے۔ اس اعتماد کی داد دینی چاہئے ۔ مگر دوسری طرف اپوزیشن نے مصمم ارادہ کررکھا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کو چلتا کرکے رہیں گے اور یہ کہ اُن سے استعفیٰ لیا جائے گا ۔ ہمیں یہاں یہ جائزہ لینا ہے کہ آیا اپوزیشن عمران خان سے استعفیٰ لینے یا اُن کی حکومت گرانے کی صلاحیت رکھتی بھی ہے؟اپوزیشن کی ”اے پی سی” میں اتنی سکت ہے ؟ 24سال قبل 20 ستمبر (1996ئ) کو محترمہ بے نظیر بھٹو کے سگے بھائی ، میر مرتضیٰ بھٹو، کو قتل کیا گیا تھا اور پاکستان پیپلز پارٹی کے زیر اہتمام،20ستمبر ہی کو، حزبِ اختلاف کی درجن بھر جماعتوں نے حکومت کے خلاف آل پارٹیز کانفرنس (APC)کا انعقاد کیا ۔ بڑے دنوں سے اس کانفرنس کا غلغلہ تھا۔اب یہ شور تھم چکا ہے لیکن”اے پی سی ” کے 26نکاتی اعلامئے کا نیا غلغلہ شروع ہو گیا ہے ۔ ساتھ ہی حکومت مخالف ”پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ” کے نام سے تشکیل شدہ نئے اتحاد کا بھی شور سنائی دے رہا ہے ۔ کہا جا سکتا ہے کہ سابق وزیر اعظم میاں محمدنواز شریف کا خطاب ہی دراصل ”اے پی سی” کا حاصل تھا۔ دو ہفتے گزر چکے ہیں لیکن نواز شریف کی تقریر کے الفاظ ابھی تک فضاؤں میں گونج رہے ہیں ۔ یہ تقریر بلا شبہ نواز شریف اور نون لیگ کے چاہنے والے کروڑوں افراد کی آرزوؤں کا عکس تھی ۔ نواز شریف کا خطاب جتنا پُر زور اور پُر معنی تھا، مفاہمت کا شاہکار شہباز شریف کی تقریر اتنی ہی پھس پھسی اور لا یعنی تھی ۔اُنہیں اب اپنی تقریر کو خواہ مخواہ مقفع اور مسجع بنانے سے باز آ جانا چاہئے ۔ ایسی مفاہمانہ اور غیر مزاحمانہ تقاریر اگر شہباز شریف ہر روز بھی کرتے رہیں تو حکومت کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔مذکورہ ”اے پی سی” سے سابق صدرِ پاکستان ، آصف علی زرداری ، کا خطاب اگرچہ مختصر تھا لیکن نہائت بامعنی ۔ اُنہوں نے نجانے کیوں اپنے بارے میں یہ پیشگوئی کر دی کہ ”اے پی سی” میں تقریرکے بعد وہی سب سے پہلے جیل جائیں گے ۔زرداری صاحب نے اپنی تقریر میں محترمہ مریم نواز شریف کے بارے میں جو الفاظ ادا کئے ، وہ شائد پیپلز پارٹی اور نون لیگ کو مزید قریب لانے کا باعث بنیں گے ۔ اس احساس کو مگر نون لیگ کے خواجہ آصف نے آصف زرداری کے خلاف بیان دے کر بلڈوز کر دیا ہے ۔ اس ”اے پی سی” میں جماعتِ اسلامی دانستہ شریک نہیں ہُوئی ۔ امیر جماعتِ اسلامی جناب سراج الحق نے ”اے پی سی” کے انعقاد سے قبل ہی ، شرکت کیلئے ، اپنی کچھ شرائط کا ذکر فرما دیا تھا۔ ان شرائط کو پورا کرنا اپوزیشن اتحاد کیلئے ممکن نہیں تھا ۔ سراج الحق صاحب یوں تو اپنے ہر چھوٹے بڑے جلسے میں موجودہ حکومت میں خوب برستے ہیں لیکن ”اے پی سی” میںشرکت سے اُن کا گریز حیران کن رہا ۔ یہ کہنا شائد بے جا نہ ہوگا کہ قبلہ سراج الحق کے بیانات اور جناب شہباز شریف کی تقریریں دراصل ایک ہی سکّے کے دورُخ ہیں ۔ اس ”سکّے” سے عمران خان اور اُن کے حواریوں کو قطعی کوئی ڈر نہیں ہے ۔ جماعتِ اسلامی کا تشخص اور پہچان ایک سیاسی جماعت سے زیادہ ایک معروف مذہبی جماعت کی ہے ۔ اتحادی اور مذہبی سیاست ہی سے اس نے ہمیشہ اسمبلیوں میں چند سیٹیں لی ہیں ، بصورتِ دیگر من آنم کہ من دانم ۔ ”اے پی سی” میں جماعتِ اسلامی کی طرح اکوڑہ خٹک کے مشہور مدرسہ سے وابستہ مشہور علمائے کرام بھی شریک نہیں ہُوئے تھے ۔ ان کا تعلق جمیعتِ علمائے اسلام (س) سے ہے ۔ قبلہ مولانا سمیع الحق حیات تھے تو حزبِ اختلاف کے ایسے پُر رونق اجتماعات میں ہر صورت شرکت فرمایا کرتے تھے ۔ اب اُن کے صاحبزادگان کو شائد سیاست اور دُنیا داری سے خاص علاقہ نہیں رہا ہے ۔ ویسے اکوڑہ خٹک مدرسے کی، عمران خان کے اشارے پر، جناب پرویز خٹک خاصی خدمت کرتے رہے ہیں ۔ سوال مگر یہ بھی ہے کہ ”اے پی سی” میں شامل جو مذہبی جماعتیں 20ستمبر2020کی کانفرنس میں شریک ہُوئی ہیں ، ان کی اپنی حیثیت اور وزن کیا ہے ؟بیس ستمبر کی کانفرنس میں پروفیسر ساجد میر ، مولانا ابتسام الٰہی، مولانا شاہ اویس نورانی اور مولانا فضل الرحمن شریک ہُوئے ۔کیا ہماری یہ مذہبی جماعتیں خانصاحب سے استعفیٰ لینے کی کسقدر اہل اور طاقت رکھتی ہیں؟جمیعتِ اہلحدیث دو بڑے حصوں میں تقسیم ہو چکی ہے۔ایک دھڑے کے سربراہ سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے پروفیسر ساجد میر ہیں اور دوسرے کی امامت و سیادت مولانا ابتسام الٰہی کے ہاتھ میں ہے ۔ سینیٹر پروفیسر ساجد میر نون لیگ کے رہبر اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کے معتمدِ خاص ہیں ۔ دونوں ایک دوسرے سے دیرینہ محبت و احترام کا رشتہ رکھتے ہیں ۔ نواز شریف سے یہ محبت وقربت ہی ساجد میر کو کئی بار سینیٹر بنانے کا موجب بنی ہے ، ورنہ اُن کے پاس کوئی انتخابی حلقہ ہے نہ ووٹروں کی بڑی تعداد ۔ شنید ہے کہ ایک دولتمند معروف عرب ملک سے اُن کی خاصی قربت ہے ۔ یہ تعلق نواز شریف کو بھی خاصا عزیز ہے ۔ پروفیسر ساجد میر مگر سیاسی اعتبار سے اتنی طاقت اور عوامی رسوخ کے حامل نہیں ہیں کہ ”اے پی سی” کا رکن بن کر حکومت کو گزند پہنچا سکیں ۔ اہلحدیثوں کے دوسرے بڑے لیڈرپروفیسر حافظ سعید کی پارٹی نے ایک نئی جماعت تشکیل دے کر 2018ء کے انتخابات میں حصہ لے کر دیکھ ہی لیا تھا کہ عوام کے دلوں میں اُن کیلئے کتنی چاہت ہے ؟ حالیہ ”اے پی سی” کانفرنس میں شریک مولانا ابتسام الٰہی ، علامہ احسان الٰہی ظہیر کے صاحبزادے ہیں ۔ سعودیہ کے فارغ التحصیل اور جناح باغ (لاہور) کے سامنے ایک مسجد کے خطیب ۔ اُن سے عقیدت رکھنے والوں کی تعداد خاصی ہوگی لیکن اتنی نہیں کہ وہ براہِ راست اور اپنی سیاست کے بَل پر عمران خان کی حکومت کیلئے کوئی خطرہ بن سکیں ۔اپوزیشن کی حالیہ حکومت مخالف ”اے پی سی” میں مولانا شاہ اویس نورانی بھی اپنی بھاری بھر کم شخصیت کے ساتھ شریک ہُوئے ۔ وہ کسی زمانے میں پاکستان کی ”سوادِ اعظم” (جے یو پی یعنی جمیعتِ علمائے پاکستان ) کے متفقہ لیڈر اور لاکھوں مریدین کے رُوحانی رہنما حضرت مولانا شاہ احمد نورانی مرحوم کے صاحبزادے ہیں ۔ شاہ احمد نورانی صاحب کی حیات ہی میں کئی وجوہ کی بِنا پر ”جے یو پی” دو لخت ہو گئی تھی ۔ایک حصے کے ”مالک” نورانی صاحب بن گئے تھے اور دوسرے دھڑے کے مولانا عبدالستار خان نیازی صاحب ۔ اب یہ دونوں لیڈرزاپنے خالق و مالک کے حضور پہنچ چکے ہیں ۔ اللہ اُن کی مغفرت فرمائے ۔ آمین ۔ ان مخلص رہنماؤں کی رخصت کے بعد اب تو ”جے یوپی” درجن بھر دھڑوں میں منقسم ہو چکی ہے ۔ انہی میں سے ایک نا معلوم دھڑے کے رہبرورہنما حضرت مولانا شاہ اویس نورانی ہیں ۔ نسواری چادر لئے اپنے بھاری جُثے کے ساتھ بھلے لگتے ہیں ۔پورے ملک میں مگر اُن کا کوئی سیاسی اور انتخابی حلقہ نہیں ہے ۔ نہ ہی کوئی پولیٹیکل فالوئنگ؛ چنانچہ یہ حضرت مولانا اویس نوارنی بھی خانصاحب کیلئے کسی بھی طرف سے کوئی خطرہ نہیں بن سکتے ۔ رہ گئے جے یو آئی (ایف) کے معروفِ عالم سربراہ حضرت مولانا فضل الرحمن ، تو اُن کی بھاری بھر کم اور نہائت تجربہ کار سیاسی شخصیت و اہمیت سے کسے انکار ہے ؟ مولانا فضل الرحمن صاحب کی سیاسی اور عددی طاقت بہرحال یہ استطاعت رکھتی ہے کہ وہ حکومت کے بالمقابل کھڑی ہو سکے ۔ وہ پہلے بھی اسلام آباد میں دھرنا دے کر اس طاقت کا اظہار کر چکے ہیں ۔ 20ستمبر کو اسلام آباد میں منعقدہ ”اے پی سی” میں مگر مولانا فضل الرحمن نے پیپلز پارٹی اور دیگران سے جو شکوے کئے ہیں ، اس کے پس منظر میں لگتا نہیں ہے کہ یہ سب لوگ مل کر بھی عمران خان سے استعفیٰ لے سکیں گے ۔نون لیگ ، جے یو آئی ، جمیعتِ اہلحدیث اندرونی طور پر گروہ در گروہ تقسیم ہو چکی ہیں۔ بھلا یہ جماعتیں کیسے اور کیونکر وزیر اعظم پاکستان عمران خان سے استعفیٰ لے سکتی ہیں ؟ ان میں اتنی طاقت ہی نہیں ہے کہ وہ عمران خان کو اقتدار سے ایوانوں سے نکال سکیں ۔ لیکن اس کے باوجودہم کہہ سکتے ہیں: مُنے بھائی ، لگے رہو۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.