Daily Taqat

عمران خان کا یو این جی اے سے خطاب اور نواز شریف کے ہنگامی اجلاس

چوبیس ستمبر2021ء کی شب وزیر اعظم جناب عمران خان کا اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے، بذریعہ ویڈیو لنک، ولولہ انگیز خطاب پاکستانیوں کے ساتھ ساتھ ساری دُنیا نے بھی سُنا۔ جنرل اسمبلی (یو این جی اے) سے جناب عمران خان کا یہ تیسرا خطاب تھا۔ یہ تازہ خطاب تقریباً نصف گھنٹے کو محیط تھا۔ حسبِ سابق وزیر اعظم صاحب نے اپنی تقریر میں کئی موضوعات کا احاطہ کیا ۔ ان موضوعات میں مسئلہ کشمیر اور طالبان کے نئے افغانستان کا بحران سر فہرست تھے۔ جس وقت عمران خان یو این جی اے سے خطاب کررہے تھے، اُس وقت تک پاکستان سمیت دُنیا کے کسی ایک ملک نے بھی افغانستان کو تسلیم کیا تھا نہ یو این جی اے میں افغان طالبان کی شرکت ممکن تھی ۔ ویسے افغان مقتدر طالبان کا یہ بنیادی حق تھا کہ اُن کا مستقل مندوب یو این جی اے سے خطاب کرتا لیکن بد قسمتی سے عالمی بیوروکریسی نے افغان طالبان کا یہ خواب شرمندئہ تعبیر نہ ہونے دیا ، حالانکہ افغان طالبان نے محمد سہیل شاہین کو یو این او میں اپنا مستقل مندوب مقرر بھی کر دیا تھا ۔ اس کے علاوہ طالبان حکومت کی وزارتِ خارجہ اور وزیر خارجہ کی طرف سے یو این او کے سیکرٹری جنرل کو اِسی ضمن میں دو چٹھیاں بھی لکھی گئی تھیں لیکن بے سُود۔اس پس منظر میں وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان نے یو این جی اے سے خطاب کیا ہے ۔ اُنہوں نے اپنے خطاب میں پُر زور اسلوب میں اقوامِ عالم سے گزارش کی ہے کہ افغان طالبان کی حکومت کو مستحکم کیا جائے ، اُن کی اور افغان عوام کی فوری امداد کی جائے ۔ خانصاحب نے اقوامِ عالم کو خبردار کرتے ہُوئے یہ بھی کہا ہے کہ اگر افغانستان کے ہاتھ مضبوط نہ کئے گئے تو دہشت گردوں کو وہاں پنپنے سے نہیں روکا جا سکے گا اور یوں یہ مہیب مسئلہ ساری دُنیا کیلئے سنگین معاملہ بن جائیگا۔ خاص طور پر افغانستان کے سارے ہمسایہ ممالک اس بحران سے فوری طور پر اور شدت سے متاثر ہوں گے ۔ خانصاحب نے یہ بھی کہا کہ اگر افغانستان اور تیسری غریب دُنیا کی امیر ممالک نے مالی اور سماجی دستگیری نہ کی تو بہتر معاش کیلئے ہجرت کرنے والوں کے راستے میں ان امیر ممالک کو اونچی دیواریں تعمیر کرنا پڑیں گی ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ خانصاحب کی یہ وارننگ بے وقت اور بے بنیاد نہیں ہے ۔ اس پر امیر ممالک کو سنجیدگی اور فہمیدگی سے عمل اور غور کرنا چاہئے ۔ خانصاحب نے بجا طور پر اور کھلے الفاظ میں اقوامِ عالم کے طاقتور ممالک سے گلہ کیا کہ افغانستان کے بحران کو حل کرنے اور وہاں قیامِ امن کیلئے پاکستان نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں لیکن مغربی ممالک اور امریکہ نے پاکستان کی ستائش کرنے کی بجائے پاکستان پر متعدد الزامات عائد کر دئیے ۔ اور یہ انتہائی افسوس اور دکھ کی بات ہے ۔ جناب عمران خان نے یو این جی اے سے خطاب کرتے ہُوئے مقبوضہ کشمیر کے باسیوں اور مسئلہ کشمیر پر بھی بات کی ۔ اُنہوں نے مقبوضہ کشمیر پر بھارتی مظالم کا مفصل ذکر کرکے بھارتی وزیر اعظم اور بھارتی اسٹیبلشمنٹ کا وحشی چہرہ ساری دُنیا کے سامنے برہنہ کر دیا ہے ۔ خانصاحب نے بجا طور پر کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اس حد تک پہنچ گئے ہیں کہ نامور کشمیری حریت پسند رہنما جناب سید علی گیلانی کا انتقال ہُوا تو اُن کی میت کے ساتھ بھارتی فوج نے نا مناسب سلوک کیا اور گیلانی صاحب مرحوم کو اُن کی وصیت کے مطابق اُن کی نشان زد جگہ پر دفن کرنے سے بھی انکار کر دیا ۔ خانصاحب نے عالمی برادری سے یہ بھی اپیل کی ہے کہ وہ مستقبل میں پاکستان اور بھارت میں کسی ممکنہ جنگی تصادم کو روکنے کی بھی عملی کوشش کرے اور بھارت کو پاکستان سے مکالمہ کرنے پر آمادہ بھی کرے ۔ جناب عمران خان نے غریب ممالک کے کرپٹ حکمرانوں اور بدعنوان اشرافیہ کا ذکر بھی کیا اور اقوامِ عالم سے اپیل کی کہ ان لوگوں نے ناجائز منی لانڈرنگ سے جو دولت غیر ممالک میں محفوظ کررکھی ہے، وہ سب واپس کی جائے ۔ بحثیتِ مجموعی وزیر اعظم کا یو این جی اے سے خطاب شاندار اور پُر شکوہ بھی تھا اور چشم کشا بھی ۔وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان کا بذریعہ ویڈیو لنک اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے ولولہ انگیز خطاب تو ہم سب نے24ستمبر کو سُن لیا ہے ۔ اور اِدھر عمران خان کے سب سے بڑے حریف میاں محمد نواز شریف حکومت اور اس کے سرپرستوں اور خیر خواہوں کو ٹف ٹائم دینے کیلئے گرم اور ہنگامی اجلاس منعقد کررہے ہیں۔ شہباز شریف کا لہجہ بھی بدلا بدلا سا لگ رہا ہے ۔ پاکستان مسلم لیگ نون آج کل روزانہ کی بنیاد پر جس طرح پارٹی اجلاس منعقد کر رہی ہے، اسے معمولی خیال نہیں کرنا چاہئے۔ پنجاب کے مختلف ڈویژنوں کے منتخب نمائندوں اور ٹکٹ ہولڈرز سے ان کی رائے لی جا رہی ہے۔ نوازشریف اجلاس میں موجود ہوتے ہیں اور نہایت صبر کے ساتھ اپنے ساتھیوں کی بات سنتے ہیں۔ یہ ساتھی انہیں بتاتے ہیں کہ میاں صاحب آجاؤ، اب دل نہیں لگ رہا، یا پھر دوسری رائے دی جاتی ہے کہ نہ آنا، زمانہ خراب ہے۔نوازشریف کا اسٹائل یہ ہے کہ وہ فیصلہ خود کرتے ہیں لیکن اس کے اعلان کے لیے ماحول ایسا بناتے ہیں کہ ہر بندہ سمجھتا ہے کہ یہ اصل میں اس کے کہنے پر ہوا ہے۔میڈیا میں ان اجلاسوں کے حوالے سے جو خبریں آرہی ہیں، وہ اس قسم کی ہیں کہ مفاہمت گروپ کی فاختائیں انقلابی عقابوں سے جا ٹکرائی ہیں اور میاں صاحب بیچ بچاؤ کروانے میں مصروف ہیں۔ سویر شام ہمیں بتایا جاتا ہے کہ اب مفاہمتی گروپ جیت گیا اور ووٹ کو عزت دو والے اس ووٹ کی ہلکی پھلکی ‘بزتی’ ہوتے رہنے پر بھی راضی ہوگئے ہیں۔اگر اس کے علاوہ آپ کو مسلم لیگ (ن) کے اجلاسوں کی کچھ سمجھ آرہی ہے تو بتائیں؟یہاں اہم بات یہ ہے کہ یہ جماعت دنیا بھر کی ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے ایک کام بہت جی جان سے کرتی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کو بہت سیریس نہیں لینا۔ بس اتنا سمجھنا ہے کہ اس کام پر یہ پیسے لگاتے نہیں گھبراتے اور وہ کام ہے الیکشن لڑنا۔ دنیا کی اچھی سروے فرم ہائر کی جاتی ہیں، ایک ایک حلقے کا جائزہ لیا جاتا ہے اور اس حلقے میں جو جیت سکتا ہو، اُسے گھیر گھار کر پارٹی میں لایا جاتا ہے۔توجہ طلب معاملہ یہ ہے کہ چونکہ نون لیگ کا مرکز پنجاب میں ہے، اس لیے ہر ایک سیٹ اس کے لیے اہم ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں جنوبی پنجاب کا کردار انتہائی اہم تصور کیا جاتا ہے جہاں 94 صوبائی سیٹیں ہیں۔اگر 2018ء کے انتخابات کا ذکر کریں تو مسلم لیگ (ن) نے ان 94 سیٹوں میں سے صرف 32 پر کامیابی حاصل کی تھی، اور سچ پوچھیے تو اسی کی وجہ سے صوبائی حکومت نون لیگ کے ہاتھ سے نکل گئی تھی۔اب جب حکومت ہی نہیں رہی تو بھلا اس پارٹی میں رہ کر لوگوں کو کیا فائدہ ہونا تھا، لہٰذا ان 32 میں سے بھی کچھ لوگ حکومت کی طرف لڑھک گئے۔ پنجاب کی حکومت جب بھی لینی ہو تو ان 94 سیٹوں کا کچھ کرنا ہوگا اور وہی کچھ کرنے کو نون لیگ کے ہنگامی اجلاس ہو رہے ہیں۔ممکنہ طور پر پنجاب کی حکومت لینے کے لیے نواز شریف کی موجودگی میں طویل پارٹی اجلاس کیے جارہے ہیں۔سمجھنے کی بات یہ ہے کہ آخر ایسا کیا ہوگیا ہے کہ اچانک یہ سوچنا اور سمجھنا شروع کردیا گیا ہے کہ الیکشن قریب ہیں؟معاملہ یہ ہے کہ شوکت ترین نے وزیرِ خزانہ کا حلف رواں برس 17 اپریل کو اٹھایا تھا۔ یہ پی ٹی آئی حکومت کے چوتھے وزیرِ خزانہ تھے، جو پارلیمنٹ کے رکن نہیں ہیں۔ قانون کہتا ہے کہ ایسی صورت میں یا تو وزیر کو 6 ماہ میں عہدے سے ہٹا دیا جائے، اور اگر انہیں برقرار رکھنا ہے تو پھر 6 ماہ کے اندر اندر سینیٹ یا قومی اسمبلی کا ممبر بنوا لیا جائے، اور یہاں یہ بات یاد رہے کہ شوکت ترین کے 6 ماہ ایک ہفتے بعد اکتوبر میں پورے ہورہے ہیں۔ لہٰذا اب یہ امکانات بڑھ چکے ہیں کہ شوکت ترین اپنا عہدہ چھوڑ دیں گے کیونکہ انتخابات کروانے کا وقت تقریباً گزر ہی گیا ہے۔ایسی صورت میں اب ہمیں پانچویں وزیرِ خزانہ سے دل اور امید دونوں لگانے ہوں گے۔ پچھلے سال دسمبر میں ہم نے سعودی عرب کو 2 ارب ڈالر چین سے لے کر واپس کیے تھے۔ اب ہمیں چین سے یا تو پھر ترلا کرنا ہے کہ بس ایک سال اور، یا پھر یہ رقم واپس کرنی ہوگی۔ ہمارے ایک ارب ڈالر کے یورو بانڈ کی ادائیگی کا وقت بھی آ رہا ہے۔ منافع سمیت یہ ادائیگی بھی کرنی ہے۔ اس کے لیے ہم یا تو کسی سے پھر پیسے مانگیں گے یا نئے اور پہلے سے زیادہ مہنگے بانڈ جاری کریں گے۔کچھ دن پہلے سینیٹ کی پلاننگ ڈیولپمنٹ کمیٹی کے اجلاس کی رپورٹ شائع ہوئی ہے۔ کمیٹی کے چیئرمین سلیم مانڈوی والا نے بتایا کہ کیسے چینی سفیر سی پیک سے متعلق پریشان نظر آئے۔ تاہم سی پیک کے حوالے سے وزیرِاعظم کے مشیر اس بات کی تردید کرتے پائے گئے۔ اس کے فوری بعد خبریں آئیں کہ چینی کمپنیوں کو ایک ارب ڈالر سے زیادہ منافع ادا کیا جانا ہے جو جزوی طور پر ادا کردیا جائے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ چینی کمپنیوں کو یہ پیسے دیے جائیں گے تو چین سے لیا ادھار بھی ری شیڈول ہوجائے گا۔ایف اے ٹی ایف کا اجلاس بھی سر پر آیا کھڑا ہے۔ آئی ایم ایف کا جائزہ اجلاس بھی ہونا ہے۔ نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کی کرکٹ ٹیموں کا دورے ملتوی ہوگئے ہیںاور یہ کارنامہ فائیو آئیز کی انٹیلی جنس شیئرنگ پر ہوا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ دنیا ہمیں ابھی دہشت گردی کے مسئلے سے الگ کرکے نہیں دیکھنا یا دکھانا چاہتی۔امریکا افغانستان سے چلا گیا ہے۔ جو بائیڈن کی جتنی ہونی تھی، ہوچکی۔ اب طالبان کی ہونی شروع ہوگی اور ہو رہی ہے۔ اسلامی افغانستان میں تنخواہوں کا مسئلہ ہے، لوگوں کو روٹی کھلانی ہے، وہ اب تک جن سے لڑ رہے تھے ،ان سے ہی سویر شام اپیل کر رہے ہیں کہ ہمیں امداد دو۔ زکوٰة، خیرات، صدقات سب چلے گا۔ رہا پاکستان تو ہم دنیا کی چھٹی بڑی فوجی طاقت ہیں لیکن پیسوں سے البتہ ہمارا ہاتھ تنگ رہتا ہے تو افغانستان میں فتح کے بعد ہم امداد کے نام پر بس ہنس کر ہی دکھا سکتے ہیں۔ہمارا سارا ریجن اوپر نیچے ہو رہا ہے۔ امریکا نے آسٹریلیا کو ایٹمی آبدوز بیچنے کا معاہدہ کرکے فرانس کو ناراض کرلیا ہے۔ امریکی افغانستان کے علاوہ خلیج سے بھی رخصت باندھتے دکھائی دے رہے ہیں۔ امریکی اب اپنے توانائی کے ذرائع پر انحصار کر رہے ہیں۔ سعودی، اماراتی، قطری سب اب تیل بیچنے کے لیے مشرق کی طرف جاپان، چین اور انڈیا کو دیکھ رہے ہیں۔ جن راستوں سے یہ تیل جانا ہے، ان راستوں پر امریکیوں نے ایک اور اتحادی ڈھونڈ لیا ہے۔یہ ساری تبدیلی اتنی تیزی سے ہو رہی ہے کہ کسی کو کچھ سمجھ نہیں آرہا۔ سعودی وزیرِ خارجہ افغانستان پر بات کرنے دہلی پہنچ جاتے ہیں، متحدہ عرب امارات چین اور امریکا میں توازن رکھنے کی کوشش کر رہا ہے اور ایران ایٹمی معاہدے پر کچھ نرم پڑتا دکھائی دے رہا ہے۔اس ساری تبدیلی میں ہماری بہت اہمیت ہے۔ ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں، اس لیے جو پیسوں کا آسرا کرواتا ہے، اس کے ساتھ ہم دو قدم چل لیتے ہیں۔ لیکن تیسرے قدم پر ہمیں جھجھک ہوتی ہے تو اگلے تپ جاتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ ہمارے ساتھ ہو یا خلاف؟ تو بس نوازشریف اسی دن کا انتظار کر رہے ہیں جب انہیں تبدیلی کے ساتھ آزادی سے کھیلنے کا موقع دے دیا جائے۔ پھر وہ آجائیں گے۔ یہ دن 2023ء میں بھی آیا تو بھی ان کا کوئی نقصان نہیں۔ حالات ایسے ہیں اور حکومت ایسی ہے کہ سب ہاتھ کھڑے کرسکتے ہیں اور بات نئے الیکشن کی طرف جاسکتی ہے۔ اسی کا اندازہ لگاتے ہوئے نواز شریف اب پارٹی کے لمبے لمبے اجلاس کر رہے ہیںاور حکومت اور اُس کے سرپرست ششدر ہیں کہ یہ نواز شریف اور اُن کے برادرِ خورد کو اچانک کیا ہو گیا ہے ؟ برادرِ خورد تو قابو آسانی سے کئے جا سکتے ہیں لیکن نواز شریف کو قابو کرنا زرا مشکل ہو رہا ہے ۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »