Daily Taqat

عمران خان: نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں؟

فارسی زبان کا ایک محاورہ ہے: کارِ حکومت نہائت دُشوار است! یعنی حکومت چلانا بڑا مشکل کام ہے۔واقعہ بھی یہی ہے کہ اپوزیشن کی صفوں میں بیٹھ کر حکومت پر تنقید کرنا تو سہل اور آسان رہتا ہے لیکن جب اپوزیشن خود حکومتی مناصب سنبھالتی ہے تو آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہو جاتا ہے۔ باہر بیٹھ کر اکھاڑے میں کُشتی کرنے والے پہلوان کو داؤ پیچ بتانا اور نعرے لگانا تو آسان ہوتا ہے لیکن خود اکھاڑے میں اُتر کر مقابل پہلوان کو چِت کرنا مشکل ہوتا ہے۔ پی ٹی آئی اور عمران خان کی حکومت کے ساتھ تقریباً یہی کچھ ہوتا نظر آرہا ہے۔ نتیجہ یہ نکلا ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت سخت دباؤ میں ہے۔ عوام کی طرف سے بھی اور میڈیا کی طرف سے بھی۔ حکومتی میڈیا ذمہ داران کو خود بھی سمجھ نہیں آ رہی ہے کہ نئے اور تنقیدی حالات سے کیسے اور کیونکر نمٹے؟ یوں محسوس ہورہا ہے جیسے مسائل اور تنقید کی یلغار کے سامنے نَو منتخب حکومت کے ہاتھ پاؤں پھول رہے ہیں۔ حتیٰ کہ خود وزیر اعظم جناب عمران خان کو بھی برسرِ مجلس کہنا پڑا ہے کہ (سرکاری) میڈیا ٹیم حالات سے نبرد آزمائی کرنے میں خاطر خواہ کامیاب نہیں ہو رہی ہے۔ابھی تو حکومت کو تشکیل پائے دو مہینے ہی ہُوئے ہیں اور وزیر اعظم کی طرف سے اپنی میڈیا ٹیم کے بارے میں اظہارِ مایوسی کوئی اچھا شگون نہیں ہے۔ ابھی تو آگے پانچ سال پڑے ہیں۔ پی ٹی آئی کو پچھلے ایک عشرے کے دوران بطورِ اپوزیشن جماعت نجی میڈیا کی طرف سے جو پیار محبت اور تعاون ملتا رہا ہے، اب خود حکومت بننے کے بعد وہ اس تعاون سے تقریباً محروم ہو چکی ہے اور یہ عمل فطری ہے۔ اب مقتدر پی ٹی آئی اور عمران خان کی طرف سے عوام کو ڈیلیور کرنے کا وقت ہے ، آزمائش کے لمحے ہیں، وعدے پورے کرنے کا سماں ہے۔اگر ابتدائی دو مہینوں کے دوران ہی عوام نئی حکومت سے بددل ہو جائیں تو حکومت کی اس سے بڑی بد قسمتی اور کوئی نہیں ہو سکتی۔ دوسری جانب مغربی جمہوریت کا یہ اصول ہے کہ اپوزیشن کا مطلب دراصل یہ ہوتا ہے کہ کسی بھی وقت وہ نئی حکومت بنا سکتی ہے؛چنانچہ اپوزیشن کی صفوں میں ہمہ وقت ذہنی طور پر یہ فضا قائم رہتی ہے کہ وہ حکومت سنبھالنے کے لئے خود کو تیاررکھے۔ اس کے لئے وہ اپنے اندر ایسے لوگ تیار رکھتی ہے جو حکومت سنبھالنے کے اہل ہوں۔ جو حکومت کے مختلف شعبوں کو چلانے کی مہارت رکھتے ہوں ۔ جو حکومتی مسائل کا گہرا ادراک اور احساس رکھتے ہوں۔ اس کے لئے اپوزیشن لیڈر اپنے سینئر ساتھیوں میں سے اہل افراد کی ٹیم ہمیشہ تیار رکھتا ہے۔ اِس اصول کی کسوٹی پر جب ہم عمران خان اور پی ٹی آئی کو پرکھتے ہیں تو عجب صورتحال سامنے آتی ہے۔ کم از کم پچھلے نصف عشرے کے دوران توعمران خان کا یہ ادعا اور دعویٰ رہا ہے کہ وہ حکومت سنبھالنے کی سکت رکھتے ہیں، اس کے لئے ذہنی طور پر تیار ہیں اور یہ کہ اُن کے پاس حکومت چلانے کے لئے ہر شعبے کا ماہر موجود ہے۔ خصوصاً مالی معاملات کو احسن اسلوب میںچلانے کے لئے وہ بلند بانگ دعوے کرتے رہے ہیں اور اس حوالے سے اُن کے مقربین بھی اُن کی آواز میں اپنی آوازیں ملاتے رہے ہیں۔ عوام کو اسی حوالے سے باور کرایا اور یقین دلایا گیا تھا۔ اِسی لئے تو پی ٹی آئی کو نون لیگ کے مقابلے میں زیادہ ووٹ ملے۔یہ دراصل عوام کی طرف سے عمران خان کو نواز شریف پر مالی، سیاسی اور حکومتی غلبہ دینے کا عملی مظاہرہ تھا۔ لیکن 25جولائی کے انتخابات میں برتری حاصل کرنے کے بعد جونہی عمران خان نے حکومت کی باگ ڈور اپنے ہاتھوں میں لی ہے، منظر اطمینان بخش سامنے نہیں آ سکے ہیں۔ عوام کے دلوں میں نئی حکومت کے بارے منفی تاثرات کا غبار بڑھا ہے۔ عمران خان نے توقعات کے جو شیش محلات عوام کے دلوں میں تعمیر کئے تھے، تقریباً مسمار ہو گئے ہیں۔ جو خواب دکھائے گئے تھے، اُن کی تعبیر ختم تو نہیں ہُوئی مگر ذرا دھندلی ضرور ہُوئی ہے۔ہم نے تو ہمیشہ ہی عمران خان اور پی ٹی آئی کی حمائت میں اپنے قلم کا بادبان کھولے رکھا ہے، ہم نے پی ٹی آئی کو نون لیگ پر ترجیح دئیے رکھی ہے، اور اِس پاداش میں ہمیں کئی نقصانات بھی اُٹھانے پڑے ہیں۔ لیکن ملک کے بہتر مستقبل کے لئے الحمد للہ ہم نے ہر طرح کا ذاتی اور اخباری خسارہ اور نقصان برداشت کیا۔ اور اگر ہم جیسے لوگ بھی خان کی حکومت بارے مایوسی کا اظہار کرنے لگیں تو اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ عوام میں بددلی کی صورتحال کیا اور کہاں تک ہو گی؟معیشت کو سخت دھچکا لگا ہے۔ توقعات سے کہیں بڑھ کر۔ اور اب ہمارے وزیر خزانہ اسد عمر ہمیں بتا رہے ہیں کہ ملکی اقتصادی حالت اسقدر دگرگوں ہے کہ : نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں۔اور اب حالتِ جبریہ میں ہمارے نئے حکمرانوں کو آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑرہا ہے۔وزیر اعظم نے بھی تیاری کا حکم دے دیا ہے۔ نیا کشکول تیار ہو چکا ہے۔ بظاہر کسی بھی حکومت کی طرف سے عالمی اور مالیاتی سامراجی ادارے آئی ایم ایف کے پاس مالی مدد کے لئے جانا کوئی قباحت نہیں ہے۔ کئی ملک اور حکومتیں بیل آؤٹ کے لئے وہاں پہنچتی ہیں لیکن اس سے قومی حمیت اور غیرت کو بھی دھچکا لگتا ہے۔ ہمارے لئے مگر حیرانی کی بات یہ ہے کہ عمران خان تو ہمیں یہ باور کراتے رہے ہیں کہ وہ خود کشی کرلیں گے لیکن بھیک مانگنے آئی ایم ایف یا ورلڈ بینک نہیں جائیں گے ۔ ظاہر ہے ان دعووں کے بعد معصوم عوام نے بھی اُن کی باتوں پر بجا طور پر یقین کر لیا تھا۔ اسد عمر بھی سابقہ اسمبلی میں آئی ایم ایف نہ جانے کے اعلانات کرتے رہے ہیں۔ عمران خان کو تو رکھئے ایک طر ف کہ وہ معیشت دان نہیں ہیں لیکن ہمیں حیرت اسد عمر پر ہے جو خود کو ماہرِ اقتصادیات کے طور پر پیش کرتے رہے ہیں لیکن کیا وہ دعوے اور وعدے کرتے ہُوئے پاکستان کی حقیقی معاشی صورتحال سے نابلد اور ناآشنا تھے؟اور اگر اُنہیں اصل معاشی حقائق کا علم اور ادراک نہیں تھا تو عوام کے سامنے جھوٹی تسلیوں کے پرچم کیوں بلند کئے گئے؟ اب اُنہیں اگر پرانے دعوے اور اعلانات یاد کروائے جاتے ہیں تو وہ ناراض ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس میں ہمارا کوئی قصور نہیں ہے، سارا کِیا دھرا سابقہ حکومت اور حکمرانوں کا ہے۔ ہم یہ امر تسلیم کرتے ہیں۔ یہ بات بھی مانتے ہیں کہ سابقہ حکمران اور سابقہ مقتدر خانوادہ کرپٹ اور لُٹیرا تھا ۔ ہم یہ بات بھی مانتے ہیں کہ سابقہ مقتدرین نے اپنا ہی پیٹ اور اپنے گھر ہی بھرے اور عوام اور ملک کو کھوکھلا کر دیا۔ سوال مگر یہ ہے کہ اس سب کے باوصف پی ٹی آئی قیادت آخر کیوں اور کس برتے پر آئی ایم ایف کے دروازے پر دستک نہ دینے کے دعوے کرتی رہی؟بیرونِ ملک اُن کے مبینہ دولتمند دوست بھی اب خاموش ہو چکے ہیں۔ وہاں سے ایک دھیلا نہیں آرہا۔ وزیر اعظم کی طرف سے درخواست کی گئی تھی کہ بیرونِ ملک رہنے والے پاکستانی ایک ہزار ڈالر فی کس پاکستان بھجوائیں لیکن شومئی قسمت سے ا س درخواست کو بھی پزیرائی نہیں مل سکی ہے۔ بیرونِ ملک پاکستانیوں نے سرد مہری کا رویہ اختیار کیا ہے۔ یہ ایک حیران کن عمل ہے۔ اصل یہ ہے کہ عمران خان اور اُن کے ساتھیوں نے غیر حقیقی دُنیا بسا رکھی تھی اور کارِ حکومت خواب دیکھنے اور دکھانے سے نہیں چلتے ۔ ہاں عوام کو جھوٹے خواب دکھا کر دھوکہ دیا جا سکتا ہے۔لیکن جھوٹ کی ہنڈیا سرے کبھی نہیں چڑھتی۔اب حکمرانوں کی توقعات کا محل زمین بوس ہُوا ہے تو ڈوبتی معاشی ناؤ کو بچانے کے لئے آئی ایم ایف کی طرف بھاگنا پڑا ہے۔ یوں عوام میں بھی بھگدڑ مچی ہے ۔ ملک کا سرمایہ دار اور سرمایہ کار طبقہ پریشان ہُوا ہے ۔ نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اسٹاک مارکیٹ کریش کر گئی ہے۔ ایک ہی دن میں سٹاک مارکیٹ کے1300پوائنٹ گرنے سے شیئرز کاکاروبار کرنے والوں کے اربوں روپے ڈوب گئے ہیں۔ ا س سے جو قیامت برپا ہُوئی ہے، اس کی کیفیت تو ذرا اُنہی سے پوچھئے جن کی رقوم زیرِ آب چلی گئی ہیں اور وہ اب کبھی بازیاب نہیں ہو سکیں گی۔ صرف سٹاک مارکیٹ ہی زمین بوس نہیں ہُوئی، روپیہ بھی بے قدر ہُوا ہے۔ ڈالر کی قیمت میں بے تحاشہ اضافہ ہُوا ہے تو روپے کی قیمت نہائت نیچے گر گئی ہے ۔ ایک دن میں15فیصد کمی۔ بازار سے ڈالر تقریباً غائب ہو چکا ہے۔ 138روپے میں بھی نہیں مل رہا۔ اس کی وجہ سے ملک کے افراطِ زر میں اضافہ ہُو ا ہے۔ اور جب افراطِ زر میں اضافہ ہوتا ہے تو غربت کی شرح بھی بڑھ جاتی ہے۔ ڈالر کی قدر بڑھنے سے ایک ہی دن میں ملکی قرضوں میں920ارب روپے کا اضافہ ہو گیا ہے۔ اس سے بڑھ کر ہماری اوربدقسمتی کیا ہو سکتی ہے؟ واضح رہے کہ دیامر، بھاشا ڈیم پر 1400ارب روپے خرچ ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے اور یہاں حالت یہ ہے کہ ایک ہی دن میںڈالر کی قیمت بڑھنے سے ملکی قرضوں میں 920ارب روپے کا مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ حیراں ہُوںدل کو روؤں کہ پِیٹوں جگر کو مَیں؟ واقعہ یہ ہے کہ سابقہ کرپٹ مقتدر ٹولے نے اس ملک کے بارے میں اسقدر غیر سنجیدگی دکھائی کہ اُن کے بوئے گئے کانٹے اب موجودہ حکومت کو چُننا پڑ رہے ہیں۔ نااہل اور مجرم نواز شریف اور اُن کا ہمنوا ٹولہ اگر پاکستان کو اپنا ملک سمجھتا تو شائد آج یہ بدقسمت ملک اور اس کے 22کروڑ بد قسمت عوام اس حالتِ بد کا سامنا بھی نہ کررہے ہوتے۔پچھلے سات عشروں کے دوران پاکستان نے ایک درجن مرتبہ آئی ایم ایف سے مالی بیل آؤٹ پیکج لیا ہے لیکن بھارت کبھی آئی ایم ایف کے پاس کشکول لے کر نہیں گیا ہے۔ پاکستان نے آخری بار 6.4ارب ڈالر کا قرض آئی ایم ایف سے لیا تھا اور اس کی مدت اگست2016ء میں ختم ہو گئی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر آج نون لیگ کی حکومت بھی ہوتی تو اُسے بھی آج پھر آئی ایم ایف کے سامنے جھکنا پڑ رہا ہوتا۔ آج پاکستان کو 8ارب ڈالر کی فوری ضرورت ہے ۔ آئی ایم ایف کے چیف اکانومسٹ مورس آبسٹ فیلڈکا کہنا ہے کہ ”ہم پاکستان کی مالی درخواست کو بہت بہت ہمدردی سے دیکھیں گے۔” یہ بیان دراصل ”ہاں” میں ہے۔ آئی ایم ایف کا وفد پاکستان کا دَورہ بھی کر چکا ہے اور کہہ چکا ہے کہ ڈالر تو ملیں گے لیکن پاکستان کو اپنی کرنسی کی قیمت میں مزید کمی کرنا ہو گی اور گیس، پانی ، بجلی اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کرنا ہو گا۔ اِن حالات میں راز دانِ درونِ پردہ کا کہنا ہے کہ پاکستان آٹھ نہیں بلکہ12ارب ڈالر کا قرضہ حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔ گویا آئی ایم ایف کی نئی اور کڑی شرائط ماننے کے بعدملنے والے قرض کے نتیجے میں مہنگائی کا ایک اور طوفان یلغار کرنے والا ہے۔ عوام کو ابھی سے اپنے لنگر لنگوٹ کَس لینے چاہئیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر نئی حکومت نے آتے ہی کسی تھنک ٹینک کا سہارا لیا ہوتا، قبل از وقت معاشی تنگدسیوں کا ادراک و احساس کیا ہوتا تو اس قیامت سے بچا جا سکتا تھا۔ اب آئی ایم ایف کے پاس جانے کا مطلب یہ ہے کہ 100پیاز بھی کھائے اور۔۔۔۔ ۔کاش، اِن اقدامات کے برعکس کوئی کام کیا ہوتا تو ہم کہہ سکتے تھے کہ واقعی معنوں میں تبدیلی کا آغاز ہُوا ہے۔ لیکن یہ ابتری اور کہتری صرف معاشی میدان میں ہی نظر نہیں آرہی ، بلکہ ملک بھر کی وفاقی انتظامیہ میں جو کھیل کھیلا جارہا ہے، یہ ایک الگ تماشہ ہے جس نے عوام اور متعلقہ بیوروکریسی میں بھگدڑ بھی مچا رکھی ہے اور کنفیوژن بھی پھیل رہی ہے۔ اور اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ نَومنتخب حکمرانوں نے مشاورت کا دامن تھامنے سے عملی طور پر انکار کررکھا ہے۔ پہلے تو پاک پتن ڈی پی او سکینڈل نے ملک اور میڈیا کو گرفت میں لئے رکھا، حالانکہ یہ ایک معمولی سا واقعہ تھا جسے صرف پولیس سربراہ آسانی سے ہینڈل کر سکتا تھا لیکن یہاں بھی حکمت اور مشاورت کا دامن چھوڑ دیا گیا ۔ یوں بات کا بتنگڑ بنا اور معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچا اور وزیر اعلیٰ پنجاب اور آئی جی پی کو بھی وہاں جواب دہ ہونا پڑا۔پھر پنجاب کے دو ڈپٹی کمشنروںکا شکائتی واقعہ سامنے آگیا اور کہا گیا کہ پنجاب کی حکومت بیوروکریسی کے معاملات میں مداخلت کررہی ہے، حالانکہ دعویٰ تو یہ کیا گیا تھا کہ تبدیلی والی حکومت نون لیگیوں کی مانند بیوروکریسی کو اپنا غلام بنانے کی روش سے باز رہے گی۔ ابھی اس کی باز گشت تھمی نہیں تھی کہ اب پنجاب پولیس کے سربراہ محمد طاہر کو بلا وجہ فارغ کرکے اُن کی جگہ امجد جاوید سلیمی کو نیا آئی جی پنجاب لگانے کا اقدام کر لیا گیا۔اور اس کی کوئی خاص وجہ بھی نہیں بتائی گئی اور نہ یہ بتانے کا تکلف کیا گیا کہ محمد طاہر نے کہاں حکم عدولی کی؟بس وزیر اطلاعات فواد چودھری کی طرف سے یہ کہا گیا کہ”اُنہیں ( محمد طاہر) اسلئے ہٹایا گیا ہے کیونکہ وہ صوبائی اتھارٹیز کا حکم نہیں مان رہے تھے’ہم نے یہ فیصلہ اسلئے کیا ہے کہ بیوروکریسی کو بتا دیا جائے کہ جو حکومت کا حکم نہیں مانے گا، اپنی جگہ پر نہیں رہے گا۔” وزیر اطلاعات صاحب نے یہ بتانے سے انکار کیا ہے کہ ”صوبائی اتھارٹیز” کا مطلب کیا ہے؟ وزیر اعلیٰ پنجاب یا گورنر پنجاب؟ اس فیصلے سے یقیناً بیوروکریسی میں ایک ہیجان پیدا ہُوا ہے۔ خاص طور پر اسلئے کہ دوماہ کے دوران دو آئی جی پولیس تبدیل کر دئیے گئے ہیں۔ اور محمد طاہر کو تو آئی جی لگے پانچ ہفتے بھی نہیں ہُوئے تھے۔ اور اُن کی جگہ تعینات کئے جانے والے گریڈ 22کے محمد جاوید سلیمی تو ابھی ایک ماہ پہلے ہی سندھ سے ٹرانسفر ہو کر اسلام آباد آئے تھے اور نیشنل پولیس اکیڈمی میں بطور کمانڈنٹ فرائض انجام دے رہے تھے۔ماضی میں ایسا کم کم ہوتا رہا ہے کہ دو ماہ کے دوران دو آئی جی پولیس تبدیل کر دئیے جائیں اور اب ایسا ہُوا ہے تو تھڑ تھلی مچنی ہی تھی۔لوگوں کو باتیں بنانے کا موقع تو ملنا ہی تھا۔معتمد ترین ذرائع کا کہنا ہے کہ پچھلے تین ہفتوں کے دوران آئی جی محمد طاہر اور وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار اور گورنر پنجاب کے درمیان کشمکش چل رہی تھی۔ اعلیٰ سطحی حکام کا اصرار تھا کہ محمد طاہر پنجاب کے پانچ ڈی پی اوز کو فوری طور پر تبدیل کر دیں۔ ان میں تین ڈی پی اوز کا تعلق جنوبی پنجاب سے تھا اور دو کا تعلق وسطی پنجاب سے۔ لیکن آئی جی محمد طاہر کا اصرار تھا : پہلے ٹرانسفر کی وجہ تو بتائی جائے۔ اصل جھگڑا یہی تھا۔ راز دانِ درونِ پردہ کا کہنا ہے کہ خصوصاً گجرات اور ٹوبہ ٹیک سنگھ کے ڈی پی اوز کو تبدیل کرنے کا بہت دباؤ تھا۔ اسلام آباد اور لاہور میں یہ بات زبان زدِ خاص و عام ہے کہ محمد جاوید سلیمی کو آئی جی پنجاب تعینات کرنے میں گورنر پنجاب چودھری محمد سرور گہرے دلچسپی لے رہے تھے۔ مسٹر سلیمی اور گورنر پنجاب دونوں ایک ہی برادری سے تعلق رکھتے ہیں اور دونوں کا آبائی ضلع بھی ایک ہی ہے۔اس پس منظر میں یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ محمد جاوید سلیمی کی تعیناتی میں کسی کے کیا مفادات کارفرما ہیں۔گورنر پنجاب انتظامی معاملات میں دخل اندازیاں کررہے ہیں جو اُن کا استحقاق بنتا ہے نہ اُن کی اتھارٹی ہے۔ اُن کے دخیل ہونے کی بنیاد پر ٹوبہ ٹیک سنگھ انتظامیہ میں بھی مبینہ طور پر بہت مسائل اور شکایات پیدا ہو رہی ہیں ۔ اور یوں یہ صاحب جو برطانیہ سے اُٹھ کر تشریف لائے ہیں ، اپنے اقدامات کی بدولت دراصل عمران خان کی حکومت اور پالیسیوں کے گوڈوں گٹّوں میں بیٹھ رہے ہیں۔چودھری سرور تو ناکام ہو کر اور بوریا بستر سمیٹ کر گلاسگو روانہ ہو جائیں گے لیکن جاتے جاتے خانصاحب کے عوامی اعتبار کو بلڈوز کر جائیں گے۔ انہیں روکا نہ گیا تو یہ پنجاب میں خان کی حکومت کے لئے تباہی کا سبب بھی بن جائیں گے۔افسوس اور دکھ کی بات یہ ہے کہ پنجاب کے گورنر صاحب جس شخص کو آئی جی پنجاب لگانے کے درپے ہیں، یہ وہی شخص ہے کہ جب یہ کئی سال قبل سیالکوٹ میں پولیس افسر تھا تو اس کی ناہلی اور نالائقی کی وجہ سے سیالکوٹ جیل میں قیدیوں نے جج صاحبان شہید کر دئیے تھے۔پھر یہ صاحب کئی برس انکوائریاں بھگتتے رہے تھے۔ اس آدمی کو آئی جی پنجاب تعینات کرکے برادری ازم کا جھنڈا تو بلند کیا جا سکتا ہے، پنجاب کے عوام کا بھلا نہیں کیا جا سکتا۔ محمد جاوید سلیمی کو محمد طاہر کی جگہ تعینات کرنے سے کئی نئے پھڈے پڑے ہیں اور شرمندگی و تنقید وزیر اعظم کے حصے میں آئی ہے۔ پہلا نقصان اور پھڈاتو یہ ہُوا ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے آئی جی محمد طاہر کا تبادلہ روک دیا اور محمد جاوید سلیمی کو نیا آئی جی پولیس لگانے کے احکامات منسوخ کر دئیے، یہ کہہ کر کہ یہ احکامات بنیادی طور پر الیکشن کمیشن کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ 14اکتوبر کو ملک بھر میں36نشستوں پر قومی و صوبائی حلقوں کے لئے ضمنی انتخابات ہو رہے ہیں، اور اس تاریخ سے پہلے کوئی تبادلہ و تعیناتی نہیں ہو سکتی ہے۔ صوبائی اور وفاقی حکومت کو یہ ندامت بھی اسلئے برداشت کرنا پڑی ہے کہ اس نے مشاورت اور اصول کا دامن تھامنے سے انکار کیا ہے ۔ اور اصول کا تقاضا یہ تھا کہ آئی جی پنجاب پولیس محمد طاہر کو عہدے سے فارغ کرنے سے پہلے پنجاب میں پولیس ریفارمز کمیشن کے سربراہ جناب ناصر خان درانی سے مشورہ کیا جاتا لیکن افسوس اُنہیں بائی پاس کرتے ہُوئے یہ قدم اُٹھا لیا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ناصر درانی بھی ناراض ہو کر فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے۔ اُنہیں ایسا کرنا بھی چاہئے تھا کیونکہ درانی صاحب ایک غیرتمند اور صاف ستھرے کردار کے حامل آئی جی رہے ہیں۔ اُنہوں نے تو اپنے کردار کی لاج رکھتے ہُوئے حالیہ نگران دَور میں وزیر اعلیٰ یا وزیر اعظم بھی بننے سے بھی صاف انکار کر دیا تھا۔ یہ وہی ناصر خان درانی ہیں جنہوں نے اپنے زبردست کر دار سے کے پی کے میں پولیس کا ہر قبلہ درست کیا اور کے پی میں عمران خان اور پی ٹی آئی کی حکومت کو عزت، وقار اور اعتبار کے قابل بنایا۔ عمران خان جو دعوے کرتے رہے ہیں کہ ہم نے کے پی کے میں پولیس کو تقریباً تمام برائیوں سے پاک کر دیا ہے اور کے پی پولیس کو صحیح معنوں میں آئیڈیل بنا کرعوام کا خادم بنایا ہے، تو یہ شاندار اور حیرت انگیز کامیابی صرف اور صرف ناصر درانی کی قابلِ فخر پولیس قیادت میںحاصل کی گئی۔ہم کہہ سکتے ہیں کہ عمران خان کو وزیر اعظم بنانے میں ناصر درانی کی محنتوں، کاوشوں ا ور قائدانہ صلاحیتوں کا اساسی کردار ہے۔ آج بھی کے پی کے میں ہر خاص و عام ناصر درانی کے کردار اور صلاحیتوں کا معترف ہے۔ وزیر اعظم بننے کے بعدخود عمران خان نے ناصر درانی صاحب کو درخواست کر کے”پولیس ریفارمز کمیشن” کا سربراہ تعینات کیا تاکہ پنجاب پولیس میں اصلاحات بھی لائی جائیں، پنجاب پولیس کی ہڈیوں میں رچی بسی حرام خوریوں کو بھی نکالا جائے اور صحیح معنوں میں اس پولیس کو پنجاب کے عوام کا خادم بنایا جائے۔ لیکن حیرانی اور افسوس کی بات یہ ہے کہ پنجاب پولیس کے سربراہ کو تبدیل کیا جاتا ہے اور پنجاب میں پولیس ریفارمز کمیشن کے سربراہ کو پوچھا تک نہیں جاتا ۔ یہ دراصل ناصر درانی ایسے جری اور بلند کردار کے حامل شخص کی توہین کے مترادف ہے۔ناصر درانی ایسا شخص کیسے یہ توہین برداشت کر سکتا تھا؟؛ چنانچہ اُن کا فوری مستعفی ہوجانا ایک فطری عمل تھا۔ اب لاہور کے جی او آر وَن میں قائم”پولیس ریفارمز کمیشن” کا مرکزی دفتر ویران ہو چکا ہے اور ناصر درانی اپنے گھر جا چکے ہیں۔ شنید ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے اُنہیں واپس آنے کی درخواست کی ہے لیکن درانی صاحب نے انکار کر دیا ہے۔ پنجاب کے دو سینئر ترین پولیس افسرپنجاب کے لاٹ صاحب کے برادری ازم اور تعصبات کے بھینٹ چڑھ گئے ہیں۔ یہ عمران خان کی بد قسمتی نہیں تو اور کیا ہے؟


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »