Daily Taqat

ہم پرورشِ لوح و قلم کرتے رہیں گے

چھبیس مئی 2021ء کو ہمارے اخبارات میں پریس ریلیز کی شکل میں ایک خبر یوں شائع ہُوئی ہے: ” کونسل آف پاکستان نیوز پیپرایڈیٹرز(سی پی این ای) نے میڈیا کو درپیش نئے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے عزم کو دہراتے ہُوئے کہا ہے کہ میڈیا اور آزادیِ صحافت کو درپیش ہر قسم کے سیاسی، ریاستی ، غیر ریاستی اور معاشی دباؤ کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائیگا۔” اس پریس ریلیز میں ”پیمرا” کے کردار بارے بھی کچھ شکایات سامنے لائی گئی ہیں ۔ان الفاظ کے بین السطور میں صاف عیاں ہورہا ہے کہ ہمارے ہاں میڈیا میں مرئی اور غیر مرئی دباؤ کا وجود بروئے کار ضرور ہے ۔ اس دباؤ نے بہت سے اخبار نویسوں کو ملازمتوں سے محروم کر دیاہے ۔ میڈیا کے آؤٹ لیٹس پر معاشی دباؤ بھی ہے۔میڈیا کے کئی وابستگان پر خفی و جلی تشدد بھی ہُوا ہے اور کئی دن دیہاڑے اغوا بھی کئے گئے ہیں اور کئی گولیوں کا نشانہ بنائے گئے ہیں ۔ ان تشدد زدگان اخبار نویسوں کے نام اب پاکستان کے بچے بچے کی زبان پر ہیں۔ صحافیوں پر تشدد کی تازہ ترین واردات اسلام آباد کے ایک صحافی، اسد طور، کی سامنے آئی ہے جنہیں رواں ہفتے ہی اُن کے گھر میں گھس کر تین افراد نے سخت تشدد کا نشانہ بنایا ۔ اس واردات کی باز گشت سارے ملک میں سنائی دی گئی ہے ۔ ہمارے سبھی پریس کلب اور پی ایف یو جے اس سانحہ پر ابھی تک احتجاج کررہے ہیں ۔ لیکن کسی ملزم کو عدالتوں کے رُوبرو پیش نہیں کیا گیا۔ اسد طور پر تشدد کرنے والوں کی تو ویڈیو بھی موجود ہے لیکن ملزمان کے چہرے قوم کے سامنے لائے جارہے ہیں نہ اُن کے خلاف پولیس کوئی کردار ادا کرتی نظر آ رہی ہے ۔یوں لگتا ہے کہ وطنِ عزیز میں آئین کا آرٹیکل 19، جو میڈیا کی آزادی یقینی بناتا ہے، شائد اتنا موثر نہیں رہا۔ شائد اسی پس منظر میں 28مئی2021ء کو اسلام آباد کے نیشنل پریس کلب کے سامنے صحافیوں اور سول سوسائٹی کے نمائندگان نے اسد طور پر تشدد کرنے والوں کے خلاف مظاہرہ کرتے ہُوئے بجا ہی کہا ہے کہ یا تو ملک میں آئین کا آرٹیکل 19ختم کر دیا جائے یا پھر صحافیوں پر آئے روز تشدد کرنے والے اپنی آئین مخالف وارداتوں سے باز آ جائیں ۔افسوس اور دکھ کی بات یہ ہے کہ صحافیوں کے خلاف تشدد کی زیادہ وارداتیں عمران خان کی حکومت میں سامنے آ رہی ہیں اور ان وارداتوں کا مرکز پاکستان کا وفاقی دارالحکومت بنا ہے ۔ اسلام آباد کو سیف سٹی کا نام نہاد نام دیا جاتا ہے لیکن یہ شہر صحافیوں کے لئے بے حد غیر محفوظ بن چکا ہے ۔ حکومت کے کانوں پر بھی جوں تک نہیں رینگ رہی ہے ۔ ان سانحات کی باز گشت عالمی اداروں بھی پہنچ رہی ہے اور یہ تصویر پاکستان اور پاکستان کے ہر قسم کے حکمرانوں کیلئے مفید نہیں ہے ۔ یکم اپریل 2021ء کو Freedom of Expression assesment Index نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ عالمی اظہارِ آزادی کے ”امتحان” میں پاکستان کو صرف 30پوائنٹ ملے ہیں ۔پچھلے دنوں پاکستان کے ایک معزز و محترم فرد نے مبینہ طور پر اپنے سامنے موجود رپورٹرز سے ایک سادہ سا یہ سوال پوچھا: کیا پاکستان میں میڈیا آزاد ہے ؟ ہاتھ کھڑے کرکے جواب دیا جائے ۔ جواب میں کسی ایک صحافی نے بھی ”ہاں” میں ہاتھ کھڑا نہیں کیا تھا۔جس وقت اخبار نویس یہ جواب دے رہے تھے ، اُس وقت مبینہ طور پر وہاں پاکستان کے اٹارنی جنرل بھی موجود تھے۔ اس ایک واقعہ سے ہم بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ پاکستان میں میڈیا کتنا اور کہاں تک آزاد ہے ؟ افسوس یہ ہے کہ ہمارے تبدیلی والے حکمران بھی میڈیا کی آزادی کے حوالے سے اپنے کئے گئے وعدے پورے نہیں کر سکے ہیں ۔ ہماری تبدیلی سرکار تو میڈیا پر کسی دباؤ کے وجود کو تسلیم کرنے ہی سے انکاری ہے ۔ایسے میں وطنِ عزیز کے سوشل میڈیا میں غیر محتاط عنصر بھی بڑھتا ہُوا محسوس ہورہا ہے ۔ یہ عنصر ہماری قومی و سماجی سلامتی کیلئے خطرہ بن سکتا ہے ۔سب سے حیران کن بات یہ سامنے آئی ہے کہ ہمارے وزیر اطلاعات جناب فواد چودھری ، جنہیں صحافیوں کے مفادات کا سب سے بڑا رکھوالا ہونا چاہئے، صحافیوں پر تشدد کی وارداتوں اور صحافت پر پابندیوں کے وجود ہی سے انکاری ہیں ۔ موصوف نے 28مئی کو ایک غیر ملکی میڈیا (بی بی سی کے پروگرام ہارڈ ٹاک) سے مکالمہ کرتے ہُوئے جو گفتگو فرمائی ہے ، اس سے یہی بات سامنے آتی ہے کہ وزیر اطلاعات کو نہ تو پاکستان کے صحافیوں کے حقوق کی کوئی پروا ہے نہ وہ صحافیوں پر تشدد کی وارداتوں کو تسلیم کرنے پر تیار ہیں ۔وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا مذکورہ غیر ملکی میڈیا سے کہنا ہے کہ پاکستان کے خفیہ ادارے پر تنقید کرنا مغربی میڈیا کے لیے ایک فیشن بن چکا ہے اور (ہمارے) لوگ امیگریشن کے لیے بھی ایسا کرتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے پروگرام ‘ہارڈ ٹاک’ میں گفتگو کے دوران اس وقت کیا، جب پروگرام کے میزبان نے ان سے پاکستان میں آزادی صحافت اور حال ہی میں صحافی اسد طور پر ہونے والے حملے کے حوالے سے سوال کیا۔پی ٹی آئی حکومت کی صحافیوں اور آزادی اظہار کی حفاظت میں ناکامی کے حوالے سے سوال پر فواد چوہدری نے کہا: ‘میں اس بیان سے اختلاف کروں گا۔ یہ پاکستان کے آئین کا حصہ ہے۔ پاکستان میں آزاد ترین صحافت ہے۔ 43 بین الاقوامی ٹی وی چینلز، 112 ٹی وی چینلز، 258 ایف ایم چینلز اور ایک ہزار 569 اخبارات خود آپ کے بیان کی نفی کرتے ہیں۔’اسد علی طور پر حملے کے حوالے سے سوال پر وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا: ‘جی ہم نے سی سی فوٹیج لے لی ہیں، پولیس وہاں تحقیق کر رہی ہے، نوٹس لیا جا چکا ہے۔ خفیہ ادارے پر تنقید مغربی میڈیا کے لیے اب فیشن بن چکی ہے اور لوگ امیگریشن کے لیے بھی ایسا کرتے ہیں۔’میزبان کی جانب سے اس سوال پر کہ رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز کے مطابق عمران خان جب سے برسراقتدار آئے ہیں صحافیوں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے اور اس میں بعض اداروں کا نام بھی آتا ہے؟ وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا: ‘جب آپ کسی پاکستانی ایجنسی کے ملوث ہونے کا الزام لگاتے ہیں تو اس کا ثبوت بھی ہونا چاہیے، تحقیقات میں ایسا کچھ نہیں آیا، آپ کس بنیاد پر ریاست اور اداروں کے ملوث ہونے کا الزام لگا رہے ہیں؟’صحافیوں، سیاست دانوں اور ہیومن رائٹ ایکٹوسٹس کے لاپتہ ہونے کے کیسز اور اس میں ایجنسیوں کے نام آنے کے حوالے سے سوال پر فواد چوہدری نے کہا: ‘ ہمارے ادارے انسانی حقوق کا مکمل احترام ہے۔ وہ انتہائی سویلائزڈ اور ذمہ دار ادارے ہیں۔’اس سوال پر کہ صحافیوں پر حملوں اور سینسر شپ کی موجودگی میں بحیثیت وزیر اطلاعات کیا یہ نہیں کہا جا سکتا کہ آپ کے پاس کوئی طاقت نہیںہے؟ فواد چوہدری نے کہا: ‘میں ایک ایسے ملک کا وزیر اطلاعات ہوں جو دنیا کی سات ایٹمی طاقتوں میں سے ایک ہے، جو دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے، کوئی مجھے کم تر سمجھنے کی جرات نہیں کر سکتا، میرے پاس پورا اختیار ہے یہ فیصلہ کرنے کا کہ پاکستان میں کیا ہونا ہے اور کب ہونا ہے۔ سوال کیا گیا کہ پاکستان میں نئے قوانین کے تحت سوشل میڈیا کمپنیوں کو توہین ، نفرت انگیز، دہشت گردی یا قومی سلامتی کے خلاف مواد کی اشاعت پر لاکھوں ڈالر جرمانے کا سامنا ہوگا۔ کیا یہ سب ریاست کو شدید طاقتور بنانے کی کوشش اور آن لائن سنسر نہیں؟ اس سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے کہا: ‘نفرت انگیز تقاریر کی دنیا بھر میں کہیں بھی اجازت نہیں ہے۔ باقی چیزوں کا جہاں تک تعلق ہے، قانون مکمل دیکھ بھال کے بعد بنایا گیا ہے۔ سوشل میڈیا رولز ابھی بھی زیر بحث ہیں۔ ہمیں تمام ٹیکنالوجی کمپنیوں کا احساس ہے، دنیا کی ترقی میں ان کے حصے کا مجھے احترام ہے۔ سینسر شپ یا ایسا کوئی بھی مسئلہ نہیں ہے۔ ہم ان تمام کمپنیوں کو خوش آمدید کہیں گے۔’پروگرام کے دوران وزیراعظم عمران خان کے حوالے سے اس سوال پر کہ وہ غیر سیاسی قوتوں کی باتیں خوشی خوشی مان لیتے ہیں، یہ تاثر کس حد تک ٹھیک ہے؟ فواد چوہدری نے کہا: ‘شاید یہ بھارت سے متاثر کسی تھنک ٹینک کا کہنا ہو۔ عمران خان مکمل خود مختار ہیں، وہ منتخب وزیراعظم ہیں، کابینہ ہر فیصلے میں شامل ہوتی ہے۔ ادروں سے ہمارے تعلقات بہت اچھے ہیں، لیکن فیصلے وزیر اعظم اور کابینہ ہی کرتے ہیں۔ ‘ممکن ہے وزیر اطلاعات کے اس مکالمے کو حکومتی حلقوں میں سراہا گیا ہو لیکن ایک بات واضح ہے کہ موصوف نے پاکستان کے صحافیوں پر چھائے تشدد اور پابندیوں کے بادلوں کو تسلیم کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے ۔ موصوف نے یہ بات سنگین لہجے میں فرمائی ہے کہ پاکستان کے بعض صحافی تشدد کے حوالے سے بعض اداروں کا نام اسلئے بھی لیتے ہیں کہ غیر ممالک میں امیگریشن حاصل کی جائے ۔ اس الزام کو ثابت کرنے کیلئے وزیر اطلاعات صاحب حالیہ ایام میں کوئی مثال پیش نہیں کر سکے ۔ مثال کے طور پر نامور صحافی حامد میر پر گولیاں چلائی گئیں لیکن کیا انہوں نے کسی غیر ملک میں سیاسی پناہ حاصل کی ؟ وہ تو اب بھی الحمد للہ پاکستان ہی میں اپنے صحافتی فرائض ادا کررہے ہیں ۔ عمر چیمہ پر تشدد ہُوا لیکن وہ تو اب بھی پاکستان ہی میں کام کررہے ہیں ۔ مطیع اللہ جان کو دن دیہاڑے اسلام آباد سے اغوا کیا گیا اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا لیکن وہ اب بھی پاکستان ہی میں ہے ۔ معروف صحافی ابصار عالم کو گھر کے سامنے پارک میں سیر کرتے ہُوئے ”نہ معلوم” افراد گولی مار کر فرار ہو گئے لیکن ابصار عالم صاحب نے بھی کسی ملک میں امیگریشن لی ہے نہ کہیں سیاسی پناہ حاصل کی ہے ۔ اور اب اسد طور پر حملہ کیا گیا ہے لیکن وہ تشدد سہہ کر اب بھی پاکستان ہی میں ہیں ۔ ایسا ہی الزام جنرل پرویز مشرف صاحب نے بھی جنوبی پنجاب کی ایک غریب خاتون ، جس پر ہر قسم کے تشدد کی انتہا کر دی گئی تھی ، کے حوالے سے بھی لگایا تھا لیکن وہ خاتون تو اب بھی پاکستان ہی میں کام کررہی ہیں ۔ اس بہادر خاتون نے اب تک کسی غیر ملک میں امیگریشن حاصل کی ہے نہ کہیں سیاسی پناہ لی ہے ۔ البتہ پرویز مشرف صاحب آج اپنے ملک میں نظر نہیں آتے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے سبھی اداروں کو پاکستانی میڈیا کی آزادی کا احترام کرنا چاہئے ، اسلئے کہ پاکستان کے سبھی صحافی اور صحافتی ادارے اپنے تمام اداروں ، خصوصی طور پر سیکورٹی اور حساس اداروں کا بے حد احترام کرتے ہیں ۔ پاکستان کے سبھی صحافی اپنے وطن اور وطن کے تحفظ پر مامور تمام اداروں اور ان سے وابستہ جملہ شخصیات کا بے حد احترام و اکرام کرتے ہیں ۔وطنِ عزیز کے میڈیا نے ہمیشہ اپنے اداروں کے کندھوں کے ساتھ کندھا ملا کر ملک کی خدمت کرنے کی کوشش کی ہے اور آئندہ بھی کریں گے ۔ ہمارے سیکورٹی اداروں میں ہمارے ہی بیٹے اور بھائی ملک کی خدمت کررہے ہیں ۔ اور اپنے بیٹوں اور بھائیوں کے خلاف کردار ادا کرنے بارے سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ صحافیوں پر تشدد کی وارداتوں کا سلسلہ اب ختم ہونا چاہئے ۔ اچھی بات یہ سامنے آئی ہے کہ اپوزیشن نے صحافیوں پر تشدد کی نئی لہر کے خلاف مذمت کے لئے اپنی زبان کھولی ہے ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ جب آج کی اپوزیشن مقتدر ہونے کے بعد حکومت میں آتی ہے تو یہ بھی صحافیوں کے خلاف تشدد کی کارروائیاں کرنا شروع کر دیتی ہے ۔ مثال کے طور پر نون لیگ کے ایک سابقہ دَور میں معروف صحافی نجم سیٹھی کے خلاف مقدمات قائم کئے گئے اور اُن پر تشدد کیا گیا ۔ ہمیں توقع ہے کہ عمران خان کے بقیہ اقتدار کے ایام میں پاکستان کے صحافیوں کے خلاف تشدد کی کارروائیاں نہیں ہوں گی ۔حالات جو بھی رہیں ، صحافی تو بہرحال اپنے قلم اور ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہُوئے وطن اور عوام کی خدمت کرتے رہیں گے ۔ انشاء اللہ ۔ فیض احمد فیض نے بجا کہا تھا:
ہم پرورشِ لوح و قلم کرتے رہیں گے
جو دل پہ گزرتی ہے ، رقم کرتے رہیں گے !!


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »